aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kushaada"
گلابی لب، مسکراتے عارض، جبیں کشادہ، بلند قامتنگاہ میں بجلیوں کی جھل مل، اداؤں میں شبنمی لطافتدھڑکتا سینہ، مہکتی سانسیں، نوا میں رس، انکھڑیوں میں امرتہمہ حلاوت، ہمہ ملاحت، ہمہ ترنم، ہمہ نزاکتلچک لچک گنگنا رہی ہویہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرابڑی جناب تری فیض عام ہے تیراستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائمنظام مہر کی صورت نظام ہے تیراتری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کیمسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرانہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبیبڑی ہے شان بڑا احترام ہے تیرااگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توامدگر کشادہ جبینم گل بہار توامچمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گلہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کوچلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سےشراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کونظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوںکیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کوفلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میںتری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کومقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگےکہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کومری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھےکسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کودلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثرتری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کوبنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نےچمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کوپھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیںکیا جنہوں نے محبت کا راز داں مجھ کووہ شمع بارگہہ خاندان مرتضویرہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کونفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلیبنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کودعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیںکرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کووہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشقہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کوجلا کے جس کی محبت نے دفتر من و توہوائے عیش میں پالا کیا جواں مجھ کوریاض دہر میں مانند گل رہے خنداںکہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کوشگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائےیہ التجائے مسافر قبول ہو جائے
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرایہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھلیہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہےیہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیںلہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہےیہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سیگلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہےیہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہمرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہےمری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیںبس اب تو سرکا دو رخ پہ چادردیے بجھا دو
میرا آنگنکتنا کشادہ کتنا بڑا تھاجس میںمیرے سارے کھیلسما جاتے تھےاور آنگن کے آگے تھا وہ پیڑ کہ جو مجھ سے کافی اونچا تھالیکنمجھ کو اس کا یقیں تھاجب میں بڑا ہو جاؤں گااس پیڑ کی پھنگی بھی چھو لوں گابرسوں بعدمیں گھر لوٹا ہوںدیکھ رہا ہوںیہ آنگنکتنا چھوٹا ہےپیڑ مگر پہلے سے بھی تھوڑا اونچا ہے
ہمیں بھی رو لے ہجوم گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسمہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیںجو آفتابوں کی بستیوں سے سراغ لائے تھے ان سویروں کا جن کو شبنم کے پہلے قطروں نے غسل بخشاسفید رنگوں سے نور معنی نکال لیتے تھے اور چاندی اجالتے تھےشفق پہ ٹھہرے سنہرے بادل سے زرد سونے کو ڈھالتے تھےخنک ہواؤں میں خوشبوؤں کو ملا کے ان کو اڑانے والےصبا کی پرتوں پہ شعر لکھ کر عدم کی شکلیں بنانے والےدماغ رکھتے تھے لفظ و معنی کا اور دست ہنر کے مالکوقار نور چراغ ہم تھےہمیں بھی رو لے ہجوم گریہہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیںجو تیز آندھی میں صاف چہروں کو دیکھ لیتے تھے اور سانسوں کو بھانپتے تھےفلک نشینوں سے گفتگوئیں تھیں اور پریوں سے کھیلتے تھےکریم لوگوں کی صحبتوں میں کشادہ کوئے سخا کو دیکھاکبھی نہ روکا تھا ہم کو سورج کے چوبداروں نے قصر بیضا کے داخلے سےوہی تو ہم ہیںوہی تو ہم ہیں جو لٹ چکے ہیں حفیظ راہوں پہ لٹنے والےاسی فلک کی سیہ زمیں پر جہاں پہ لرزاں ہیں شور نالہ سے عادلوں کی سنہری کڑیاںہمیں بھی رو لے ہجوم گریہہمیں بھی رو لے کہ ان دنوں میں ہماری پشتوں پہ بار ہوتا ہے زخم تازہ کے سرخ پھولوں کا اور گردن میں سرد آہن کی کہنہ لڑیاںہماری ضد میں سفید ناخن قلم بنانے میں دست قاتل کا ساتھ دیتے ہیں اور نیزے اچھالتے ہیںہوا کی لہروں نے ریگ صحرا کی تیز دھاروں سے رشتے جوڑےشریر ہاتھوں سے کنکروں کی سیاہ بارش کے رابطے ہیںہماری ضد میں ہی ملکوں ملکوں کے شہریاروں نے عہد باندھےیہی کہ ہم کو دھوئیں سے باندھیں اور اب دھوئیں سے بندھے ہوئے ہیںسو ہم پہ رونے کے نوحہ کرنے کے دن یہی ہیں ہجوم گریہکہ مستعد ہیں ہمارے ماتم کو گہرے سایوں کی سرد شامیںخزاں رسیدہ طویل شامیںہمیں بھی رو لے ہجوم گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم
کیا اب رات ایسے ہیگزر جائے گییہ رات ہی تو ہےجو تحلیل ہو جاتی ہے ایک نقطے میںاور گھومتی ہےمیرے گرد کالے بھنبھناتے ہوئےبھونرے کی طرحوہ میرے کانوں مری آنکھوںمیری گردن اور میرے روئیں روئیں میںبھنبھناتی ہےمیری بغلوں کے بالوں سے الجھتی ہوئیمیرے جسم کے کونے کھدروں میںگدگداتی ہوئییہ رات میرے اوپر پھیل جاتی ہےاچانکاوڑھ لیتی ہے مجھےمیرے جسم کی پور پور میںایک جل ترنگ چھیڑ دیتی ہےمیں نیند میں اٹھتی ہوںمرا حلق خشک ہو رہا ہےپانی کا ایک گلاس ٹھنڈا یخمیرے ہونٹوں میرے حلق میرے سینےکو تر کرتا ہوامیرے جسم کی جل ترنگ میں مل جاتا ہےمیں دروازے پر دستک دیتی ہوںتم سن رہے ہورات کی جل ترنگ میرے جسم سےپھوٹ رہی ہےدروازہ کھلتا ہےمیں تمہارے آدھے ننگے بدن کودبوچ لیتی ہوںتمہاری ناف کے گڑھے میںناک کی نوک گھسیڑتی ہوںتم مسکرا رہے ہورات کی شرارت میرے جسم پرپھیلے ہوئے دیکھ کرتم ہنستےرات کونوں کھدروں میں پھیل رہی ہےمیں تمہارے کپڑے اتار دیتی ہوںاور وہ کھیل کھیلتی ہوںجو رات میرے ساتھ کھیل رہی تھیمیں تمہارے جسم کے گرداپنی زبان اپنے دانتوں اور ناخنوں کے ساتھبھنبھنانے لگتی ہوںتم مسکرا رہے ہوتمہاری مسکراہٹمیرے جسم کی پوروں کو اور کھول رہی ہےمیں زخمی کر دیتی ہوں تمہیںتم ہنس رہے ہورات کے پروں پہ سوار بھونرے کی طرحمجھے بھنبھناتے دیکھ کرتمہاری کشادہ آنکھوں کے کونےپھیلنے لگتے ہیںتمہارا جسم اکڑ جاتا ہےنہیں آج تمتم کھلکھلاتے ہومیں تمہارے اکڑے ہوئے جسم پراپنی کھلی ہوئی پوروں کو رکھ دیتی ہوںتمہارا جسم رات کے جھاگ سے بھر جاتا ہےتم ہنستے ہوہنستے ہی رہتے ہو
شہر کے ایک کشادہ گھر میںاپنے اپنے کام سنبھالےمیں اور ایک مری تنہائیہم دونوں مل کر رہتے ہیںباتیں کرتے روتے ہنستےہر دکھ سکھ سہتے رہتے ہیں
تماشا گہہ لالہ زارمگر نوحہ خوانی کی یہ سرگرانی کہاں تک؟کہ منزل ہے دشوار غم سے غم جاوداں تک!وہ سب تھے کشادہ دل و ہوش مند و پرستار رب کریموہ سب خیر کے راہ داں راہ شناسہمیں آج محسن کش و نا سپاسوہ شاہنشہان عظیموہ پندار رفتہ کا جاہ و جلال قدیمہماری ہزیمت کے سب بے بہا تار و پو تھےفنا ان کی تقدیر ہم ان کی تقدیر کے نوحہ گر ہیںاسی کی تمنا میں پھر سوگوارتماشا گہہ لالہ زار!
صحن گلشن میں کسی کام کو آئے کوئیجائے گا بوئے ربا سے معطر ہو کرحیدرآباد بھی اک باغ ہے ماشاء اللہہے جہاں فیض کا دروازہ کشادہ سب پر
موت کی خوشبو تمہاری آنکھوں میں جمع ہو جاتی ہےاور تم مجھے دیکھتے ہوئےاپنی پلکوں کے سائے گہرے کر دیتی ہومحبت کی خوشبو ان آنکھوں میں پھیلنے لگتی ہےجو پلکوں کو جھپک لینے کے بعدکشادہ ہونے لگتی ہیں
دہن کشادہ ہیں چوٹوں کے گھاؤ کیا معلومیہ کب حمیت حب وطن کو للکاریں
میں نے اپنی تازہ نظمصندل کی چھال پر لکھ کراسے ہدیہ کیمیری نظم کے آخری مصرع تک آتے آتےاس کا دلآنکھوں سے بہہ نکلااس نے ہاتھ بڑھا کررقص کرتے پیڑ کاسب سے خوش گلو پرندہ توڑ کرمیری ہتھیلی پر رکھاتو اس کے پہلو میںٹھاٹھیں مارتا جواہرات کا دریامیرے کشادہ دامن میں بہنے لگا
جب یوں نہ ہو سکا تو یہ تاریخ ہے گواہاٹھے عصا بدست غلامان کج کلاہزیر زمیں کشادہ ہوئی زندگی کی راہاور کچھ نہ کر سکی کسی فرعون کی سپاہ
ملو اک دن کسی گمنام ساحل پرسمندر کے کشادہ دل میں سورج ڈوبتا ہے جبسمے جس دم گلے مل کر سیندوری شام کرتا ہےشفق کے ہاتھ تیزی سےافق میں رنگ بھرتے ہیںموجوں کو کناروں پر صبا مہمیز کرتی ہےفضا گل ریز کرتی ہےکہاں تک روک سکتے ہیںخوابوں کی اڑانوں کویہ لہریں دل میں رکھتی ہیںبہت سی داستانوں کو
ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہنہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادایوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروشبے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیایہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہورانتقامانہ تحکم کی نموداس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہےیوں ہی یوں ہی سہیاک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہےچاک تو کرتا ہوں میں اپنا گریباں ہی سہیکلبلاتی ہوئی مخلوق کی اس دلدل میںسینہ تانے ہوئے کچھ لوگ بڑھے جاتے ہیںخوب پھنکارتے پھن پھیلائےلوگ وہ لوگ نہیںجن کو ٹھکراتے ہوئے جاتے ہیںیہ لوگ بڑے صاحب لوگیہ جو حکام ہمارے ہیں یہ حکام نہیںجو ہمیں سے ہیں مگر ہم میں نہیںیہ جو بندوں کے ہیں آقا مگر آقا کے غلامبا وفا ہوں تو ہوں بے دام نہیںتو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھاان پہ دنیا کی ہر اک راہ کشادہ ہے مگرآج اک سنگ راں حائل ہےکہ اٹھائے نہ اٹھے اور ہلائے نہ ہلےدوسرے درجے کے دروازے میںان کے آقاؤں کا اک فرد فرنگی گوراباہیں پھیلائے ہوئے راستہ روکے ہے کھڑاکون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشقسیٹیاں بجنے لگیں خدمت سرکار بجا لانا ہےاور سرکار ہی خود سنگ رہ منزل ہےزندگی آ گئی دوراہے پردیر کیوں کرتے ہو بھاگو بھاگودوڑ کر تھرڈ کے ڈربے میں گھسواپنے ہم جنس غلاموں میں ملوزندگی آ گئی دوراہے پر
وہ سب پرندے جو اڑ کے جاتے ہیں فاصلوں میںکہیں بہت دور فاصلوں میںسو ان کے بارے میں یہ تو سب جانتے ہیں، آخر کہیں کوئی ایک یادوسری جگہ ایسی آ ہی جاتی ہے، وہ جہاں تھک کے بیٹھ جائیںوہ کوئی مستول یا کوئی بنجر چٹان ہوتی ہے جس کو پا کر وہ سوچتے ہیںکہ یہ بھی کچھ کم نہیں بہت ہے،مگر بھلا کون اس حقیقت کو جان کر یہ گماں کرے گا کہ ان سے آگےوہاں کشادہ فضا نہیں، یا وہ ایک ایسا مقام ہے، جس سے آگےپرواز کا کسی طرح کوئی امکان ہی نہیں ہےہمارے سارے عظیم استاد اور سب پیش رو بھی آخر کہیں پہنچ کرٹھہر گئے تھے
بہت چھوٹی سی اک تقریب رکھی ہےیہ دنیا ہےلہٰذا حسب خواہش کچھ یہاں ہو کر نہیں دیتاسو یہ تقریب جانے ہو نہ ہوپر تم ضرور آناتم آناآرزو کی بات ہوگیزندگی پر تبصرے ہوں گےوہاں رکناجہاں پھولوں کی سنگت میں روش پر دل دھرے ہوں گےقبائے چاک پہنے کچھ کشادہ ظرف استقبال کو باہر کھڑے ہوں گےتمہیں جو رنگ بھی بھائے پہن آناتمہیں جو بھیس خوش آئےدبے پاؤںہوا کے دوش پریا چاند کی کرنوں پہ چل کرپا پیادہ حرف ہاتھوں میں اٹھائے یا تہی داماںکسی صورت بھی آنابس چلے آنابہت چھوٹی سی اک تقریب رکھی ہےنہ اب شب زادگی سے کوئی شکوہنہ زمانے کے تغافل سے شکایت ہےضرور آنا مرے غم کی نہایت ہے
اے میرے پیارے وطن واسیو خدا کے لئےدل و دماغ تم اپنا ذرا کشادہ کرواجالا کہنے سے پہلے تم اس کو دیکھ تو لودیوں میں آگ لگا دی گئی ہے بے خبرو
دنیا کی الا بلا ٹھسی پڑی ہے مجھ میںہاں کچھ کام کی چیزیں بھی ہیں اس کباڑ خانے میںالہامی کتابوں سے لے کر فلسفہ ادب اور شاعری تک کیلائبریریاں بھری پڑی ہیں دماغ میںآنکھوں میں اتر کر دیکھیں تو حسن دو عالم پائیں گے جلوہ افروزپورے پورے نگار خانے میرے بھی صنم خانے تیرے بھی صنم خانےکانوں میں بیٹھوؤں سے لے کر کوپ لینڈ کی سمفنیاںاور تان سین کی بندشوں سے روشن آرا بیگم کی گائیکی تک محفوظ ہے آج بھیلیکن گند تو مچا رکھا ہے میرے جسم نےاور اس کے اندر دھڑکتے دل نےگندگی کا ڈپو ہے میرا یہ جسمبلکہ کارخانہ ہے گندگی کااچھی سے اچھی چیز ڈالیں آپ اس میںبول و براز بنا کر رکھ دیتا ہے اسےڈال کر دیکھیں ہاں ہاں یہ پھل ڈالیں یہ مٹھائییہ تکے اور کباب ڈالیں اس میںاور پھر ناک پر رومال رکھ کر دیکھیں کہ بنتا کیا ہے ان کاخیر جہاں کارخانے ہوں وہاں گندگی تو ہوتی ہے لازماًگندگی نہ ہو تو آلودگی سہیعید قربان پر شہر کا چکر تو لگیا ہی ہوگا آپ نےعزیز و اقارب سے ملنے کے لیےجو کچھ سڑکوں اور گلیوں میں نظر آتا ہے اوجھڑیوں اور آنتوں سے ابلتا ہواوہی کچھ ہے میرے اندر بھییہ تو میری کھال کا کمال ہے جو آپ نے پاس بٹھا رکھا ہے مجھےاور اگر آپ میں جھانکنے کی ہمت ہو میرے دل میںتو شاید ابھی اٹھا دیں اپنے پاس سے مجھےکردہ گناہوں کی نہیں ناکردہ گناہوں کی بات کر رہا ہوں میںخواہشوں اور حسرتوں کے جنازے پڑے ہیںمیرے دل میں قطار اندر قطارمیں نے تشبیہ دی تھی کباڑ خانے سے اپنے آپ کواصل میں تو ایک بہت بڑا مردہ خانہ ہوں میںفسادات میں قتل عام دیکھا ہو شاید آپ نےزلزلے میں مارے جانے والوں کی لاشیں نکالتے تو دیکھا ہوگا لوگوں کویا پھر ٹیلی ویژن پر بوسنیا اور کوسوو میں اجتماعی قبروں کی کھدائی کے مناظرجب لواحقین کوشش کر رہے ہوتے ہیں لاشوں کو پہچاننے کیاور ناک پھٹ رہے ہوتے ہیں ان کے سڑاند سےجلد از جلد دوبارہ دفنا دی جاتی ہیں یہ لاشیںلیکن میرے دل میں خواہشوں اور حسرتوں کی لاشیں گل سڑ گئی ہیں پڑے پڑےاور میں پھر بھی دفن نہیں کرتا انہیںدفن کرنا چاہتا ہی نہیںاور چاہوں بھی تو کہاں کروں دفن انہیںدماغ میںدماغ میں کلبلاتا حافظہ کہاں مہلت دیتا ہے اس کیدل ہی تو ہے جس میں دفنا سکتا ہوں انہیںانہی مردہ خواہشوں اور حسرتوں کو دیکھ دیکھ کر تو جیتا ہوں میںیہ تو دفن ہوں گی میرے ساتھ ہیاور اب سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں بنائی جاتی ہیں بڑی بڑی قبریںبادشاہ لوگ تو مرنے سے پہلے ہی بنوا لیا کرتے تھے اپنے مقبرے اور احراممجھے گھن آتی تھی بڑی بڑی قبروں سےمیں کہا کرتا تھا دیکھو ان مال زادوں کوزندگی میں بھی گھیرے رکھتے تھے ضرورت سے زیادہ زمیناور مر کر بھی اتنی جگہ گھیر لیتے ہیں کہ خدا کی زندہ مخلوق کو میسر نہیں سر چھپانے کومر کر بھی نہیں مٹتی زمین کی حرص ان کیمگر اب سوچتا ہوں شاید انہیں واقعی ضرورت ہو بڑی قبروں کیشاید ان کے اندر پڑے ہوں مجھ سے بھی زیادہ جنازےخواہشوں اور حسرتوں کےشاید ان کی اوجھڑیوں اور آنتوں میں غلاظت ہو مجھ سے بھی زیادہویسے کہیں میں بھی تو جواز نہیں ڈھونڈھ رہا اپنے لیے کشادہ قبر کا
میں بھیڑوں کو دوہ لوںکئی ماؤں کی چھاتیاںچھپکلی کی طرحسوکھے سینے کی چھت سےاک عرصے سے لٹکی ہوئی ہیںانہیں جا کے موہ لوںکئی فاختائیںجو نکلی تھیں کہہ کرکہ آئیں گی واپسچمکتی دوپہروں سے پہلےوہ مرگ آسا اندھے خلاؤں میںبھٹکی ہوئی ہیںگدھے والابے وزن روئی کو لادے ہوئےشہر سے لوٹ آیا ہےہلکی تھی روئیبہت بھاری دن تھاطلا دوز تاجر نے موتی بھیلانے کا اس سے کہا تھاجو رنگیں عروسانہ جوڑے میں جڑنے ہیںناداںدلہن کو بھی معلوم ہےتیز بارش تو ہونی ہےاولے تو پڑنے ہیںنازک سی ٹہنی پہ جھولا ہےجھولے کی رسی ہے نازکسو رسی میں بل آخر کار پڑے ہیںاندھراتا بڑھنے لگا ہےمچھیرے کو دریا سے واپس بھی آنا ہےتنور میں گیلی شاخیں جلانی ہیںتنور کی طرحخوابوں بھری جل رہی ہےاسے بھی کشادہ بھرے بازوؤں میں تو آنا ہے!!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books