aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "la.D"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
جو زندگی کے نئے سفر میںتجھے کسی وقت یاد آئیںتو ایک اک حرف جی اٹھے گاپہن کے انفاس کی قبائیںاداس تنہائیوں کے لمحوںمیں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیںمجھے ترے درد کے علاوہ بھیاور دکھ تھے یہ مانتا ہوںہزار غم تھے جو زندگی کیتلاش میں تھے یہ جانتا ہوںمجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میںدرد کی ریت چھانتا ہوںمگر ہر اک بار تجھ کو چھو کریہ ریت رنگ حنا بنی ہےیہ زخم گلزار بن گئے ہیںیہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہےیہ درد موج صبا ہوا ہےیہ آگ دل کی صدا بنی ہےاور اب یہ ساری متاع ہستییہ پھول یہ زخم سب ترے ہیںیہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمےجو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیںجو تیری قربت تری جدائیمیں کٹ گئے روز و شب ترے ہیںوہ تیرا شاعر ترا مغنیوہ جس کی باتیں عجیب سی تھیںوہ جس کے انداز خسروانہ تھےاور ادائیں غریب سی تھیںوہ جس کے جینے کی خواہشیں بھیخود اس کے اپنے نصیب سی تھیںنہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہبہت دنوں کا اجڑ چکا ہےوہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکنکڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہےوہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہاسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے ماراقزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقاراکیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گونیں پلا سر بھاراکیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگاراسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
یہ ساغر شیشے لعل و گہرسالم ہوں تو قیمت پاتے ہیںیوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں تو فقطچبھتے ہیں لہو رلواتے ہیں
حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرحضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیںحضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیںحضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوںحضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوںحضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہےحضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہےحضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پرحضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پرحضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئےحضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئےحضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوںحضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوںحضور چھوڑیئے ہمیں ہزار اور روگ ہیںحضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں
لد گیا اب تو وہ انڈوں کا زمانہ صاحبہو چکا اب تو طریقہ یہ پرانا صاحب
گل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہوکپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہومنہ لال، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہواس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہو
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریموہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خموہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تروہ تثلیث کی دختر نیک اختروہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیےمداوائے درد جگر جس کو کہیےجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھیہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھیوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہمری حکمرانی ہے اہل زمیں پریہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پرسفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کروہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویاکہ انداز تھا اس میں جبریل کا ساوہ اک مرمریں حور خلد بریں کیوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کیوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھینگار شفق تھی جمال نظر تھیوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتوسلیماں کی وہ اک کنیز سبک روکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھیکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخیگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیںسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیںعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتینظر مجھ کو آتی محبت کی دیویوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتیتخیل کی پرواز سے دور ہوتیہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کودوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتیاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتیسرہانے مرے ایک دن سر جھکائےوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائےخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سینہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سیجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیںجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیںوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سےوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سےلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہنظر عارفانہ ادا راہبانہمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھیمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھیمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھیجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھیذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لیلب لعل افشاں سے اک شے چرا لیوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیےبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیےشراب محبت کا اک جام رنگیںسبو زار فطرت کا اک جام رنگیںمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالمجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالمادھر دل میں اک شور محشر بپا تھامگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھاہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کرکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کرنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثرکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر
ایک پشیمانی رہتی ہےالجھن اور گرانی بھیآؤ پھر سے لڑ کر دیکھیںشاید اس سے بہتر کوئی اور سبب مل جائے ہم کوپھر سے الگ ہو جانے کا
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشاتابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتابچاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیےاس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتابمادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیمتاس کیپٹال ہے یا زیست کا لب لبابپڑھ کے جس کے ہو گئیں ہشیار اقوام غلاماشتراکی فلسفہ کا کھل گیا ہر دل میں بابکتنے دوزخ اس کے اک منشور سے جنت بنےکتنے صحراؤں کو جس نے کر دیا شہر گلابمارکس نے سائنس و انساں کو کیا ہے ہمکنارذہن کو بخشا شعور زندگانی کا نصاباس کی بینش اس کی وجدانی نگاہ حق شناسکر گئی جو چہرۂ افلاس زر کو بے نقاب''غصب اجرت'' کو دیا ''سرمایہ'' کا جس نے لقببے حساب اس کی بصیرت اس کی منطق لا جوابآفتاب تازہ کی اس نے بشارت دی ہمیںاس کی ہر پشین گوئی ہے برافگندہ نقابکوئی قوت اس کی سد راہ بن سکتی نہیںوقت کا فرمان جب آتا ہے بن کر انقلاباہل دانش کا رجز اور سینۂ دہقاں کی ڈھاللشکر مزدور کے ہیں ہم صفیر و ہم رکابکاٹتی ہے سحر سلطانی کو جب موسیٰ کی ضربسطوت فرعون ہو جاتی ہے از خود غرق آبآج کی فرعونیت بھی کچھ اسی انداز سےرفتہ رفتہ ہوتی جائے گی شکار انقلابلڑ رہا ہے جنگ آخر کیسۂ سرمایہ دارجوہری ہتھیار سے کرتا نہیں جو اجتناباپنے مستقبل سے طاغوتی تمدن کو ہے یاسدیدنی ہے دشمن انسانیت کا اضطرابحضرت اقبالؔ کا ابلیس کوچک خوف سےلرزہ بر اندام یوں شیطاں سے کرتا ہے خطابپنڈت و ملا و راہب بے ضرر ٹھہرے مگرٹوٹنے والا ہے تجھ پر اک یہودی کا عتابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
معلوم ہے مجھ کو یہ دنیاکس طرح وجود میں آئی ہےکس طرح فنا ہوگی اک دنمعلوم ہے مجھ کو انساں نےکس طرح سے کی تخلیق خداکس طرح بتوں کو پیدا کیامعلوم ہے مجھ کو میں کیا ہوںکس واسطے اب تک زندہ ہوںاک اس کے جواب کا علم نہیںیہ تیس برس کیسے کاٹےہاں یاد ہے اتنا میں اک دنٹافی کے لیے رویا تھا بہتاماں نے مجھے پیٹا تھا بہتہاں یاد ہے اتنا میں اک دنتتلی کا تعاقب کرتے ہوئےاک پیڑ سے جا ٹکرایا تھاہاں اتنا یاد ہے میں اک دننیندوں کے دیار میں سپنوں کیپریوں سے لپٹ کر سویا تھاہاں اتنا یاد ہے میں اک دنگھر والوں سے اپنے لڑ بھڑ کےتوڑ آیا تھا سب رشتے ناطےہاں اتنا یاد ہے میں اک دنجب بہت دکھی تھا تنہا تھااک جسم کی آگ میں پگھلا تھا
مسلسل ٹکڑوں میں جی کرمسلسل مر رہی ہوں میںہے سب سے اتفاق اپناکہ خود سے لڑ رہی ہوں میں
نہ زمانہ کا ڈروہ تھی بے فکراب زنجیریں اس پے لاد دیسو چیزیں دماغ میں ڈال دیذمہ داری کے نام پرآزادی اس کی مار دیآنسو اس کی کمزوری تھےپر کمزوری سے وہ زار تھیاس لئے تو انہی کی آڑ میں سب نےجیت اس سے چھین لیہر دم اس کو ہار دی
ہم جنگ نہ ہونے دیںوشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گےکبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گیکھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گیآسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گاایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گایدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گےجنگ نہ ہونے دیں گےہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرامنہ میں شانتی بغل میں بم دھوکے کا پھیراکفن بیچنے والوں سے کہہ دو چلا کردنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرہکامیاب ہو ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گےجنگ نہ ہونے دیں گےہمیں چاہیے شانتی زندگی ہم کو پیاریہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاریہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سےآگے آ کر ہاتھ بٹائے دنیا ساریہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گےجنگ نہ ہونے دیں گےبھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہےپیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہےتین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سوداروسی بم ہو یا امریکی خون ایک بہنا ہےجو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گےجنگ نہ ہونے دیں گے
لاڈ اٹھانے والی ماں ہےاپنی ماں ہے اپنی ماں ہے
بیت جائیں گی کئی پیڑھیاںبھول جائیں گی کارن آپسی لڑائی کادھرم گرو پھر اٹھیں گےسیکھ دیں گے دھرم رکشا کاکہیں گے لڑ مرواپنے دھرم کے لیےلیکنکبھی سیوم دھرم کی رکشا کے لئے لڑنے نا آئیں گے
شیر جنگل میں ہے اداس بہتجانور کم ہیں اور گھاس بہتسوچتا ہے کہ کیا کریں اب ہمکر لیا غور اور قیاس بہتما بدولت کا ہو گیا پڑاتھی کبھی اپنی دھونس دھانس بہتسب رعایا چلی گئی زو میںنوکری آئی سب کو راس بہتسب کے جنگل کو چھوڑ جانے سےہو گیا ہے ہمارا لاس بہتکھانے پینے کے پڑ گئے لالےچاہیے فیملی کو ماس بہتبچے ادھم مچائے رکھتے ہیںان کو لگتی ہے بھوک پیاس بہتشيرنی نے بھی روز لڑ لڑ کرکر دیا ہے ہمارا ناس بہتوہ سمجھتی ہے آج بھی ہے گامال و دولت ہمارے پاس بہتروز میک اپ کا چاہیے ساماںاور درکار ہیں لباس بہتاس سے شکوے شکایتیں سن کرطعنے دیتی ہے ہم کو ساس بہتجی میں آتا ہے خود کشی کر لیںزندگانی سے ہیں نراس بہتپر کبھی سوچتے ہیں شہر چلیںسونگھ لی جنگلوں کی باس بہتجا کے سرکس میں نوکری کر لیںگر ملیں تو ہیں سو پچاس بہت
فرض کرو کہ سارے جانور بات بھی کرتے ہم سےان کے جو جی میں آ جاتا کہہ دیتے ایک دم سےدروازے پر کتا کہتا بھوکے ہیں دو دن کےکوئی دوا بھی دے دو دیکھو مکھی زخم پہ بھنکےباورچی خانے میں چیونٹی شکر مانگتی رہتیبس دو دانے بس دو دانے ہر پھیرے پر کہتیچڑیا اڑتے پھرتے کھڑکی پر آواز لگاتیبچوں کے کمرے میں چھپ کر دال کے دانے کھاتیگئے بیل سبزی کے ٹھیلے والوں سے لڑ جاتےڈنڈے کھا کر گالیاں بکتے دل کی آگ بجھاتےبلی دودھ کا پیالہ پکڑے گوشت مانگتی رہتیدن بھر لیٹی دادی جیسی اپنی بات ہی کہتیبکرے کی قربانی پر کچھ بکرے ماتم کرتےمرغے بھی اس مجلس میں منہ لٹکا کر غم کرتےساس بہو کے جھگڑے کی چھپکلیاں شاہد ہوتیںشوہر کی آمد پر سارا قصہ وہ ہی روتیںغرض کے ساری دنیا میں اک شور سا برپا رہتاچپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ سارا عالم کہتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books