aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "light"
پاپاتم مر جاؤ نہ پاپامیں تم سے نفرت کرتا ہوںکش تم لیتے ہو کھانسی مجھ کو آتی ہےدل کے دورے تمہیں نہیںمجھ کو پڑتے ہیںآخر کب تکرات میں اٹھ کرلائٹ جلا کردیکھوں گا میں سانس تمہاریکب تک میری ٹیچرمجھ کو ٹوکے گیگم صم رہنے پرکیسے بتلاؤںمیں کتنا ڈر جاتا ہوںجب میری رکشا مڑتی ہےگھر والے رستے پرآج بھی کم بے چین نہیں میںموڑ وہ بس آنے والا ہےچین پڑ گیاآج بھی میرے گھر کے آگے بھیڑ نہیں ہےیعنیآج بھی شاید سب کچھ ٹھیک ہے گھر میںیعنی تم زندہ ہو پاپا
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
چاند نے مجھ سے کہا اے شاعر فکر ازلمیرے بارے میں بھی لکھ دے کوئی سنجیدہ غزلہر تعلق توڑ رکھا ہے ہلال عید سےتجھ کو فرصت ہی نہیں ہے مہ وشوں کی دید سےرسم دیدار ہلال عید افسانہ ہوئیبام پر اس دم چڑھے، جس وقت فرزانہ ہوئیلے کے نذرانہ کمیٹی نے اجالا ہے مجھےگر نہیں نکلا، زبردستی نکالا ہے مجھےمیں جو بے مرضی نکل آیا تو ڈانٹا ہے بہتمولوی نے مختلف خانوں میں بانٹا ہے بہتاس کو مت فالو کرو، اس کی طریقت ماند ہےتم بریلی کے ہو اور یہ دیوبندی چاند ہےیہ جو خوں آلود ہے، افغانیوں کا چاند ہےمختلف ٹکڑوں میں پاکستانیوں کا چاند ہےاک کراچی سے ہے نکلا اک پس لاہور ہےسندھ کا چاند اور ہے پنجاب کا چاند اور ہےوہ جو ہمسائے کی بیوی ہے غزالہ چاند ہےاور اس کے ساتھ جو رہتا ہے کالا چاند ہےشاعروں نے اپنے شعروں میں بہت پیلا مجھےمیرؔ و غالبؔ نے بھی سمجھا خاک کا ڈھیلا مجھےشعر میں، رشک قمر لیلیٰ کو فرمانے لگےٹیوب لائٹ کو ہلال عید بتلانے لگےاپنی بیوی سے کہا انتیسویں کا چاند ہواور پڑوسن سے کہا تم چودھویں کا چاند ہوعام سی عورت کو مہ پارہ بنا کر رکھ دیاچاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا کر رکھ دیاچاند پر جس دن سے انساں کے قدم پڑنے لگےچاندنی جن سے ہو ایسے بلب کم پڑنے لگےمیں زمیں سے دور ہوں لیکن بہت نزدیک ہوںاے زمیں والو میں تم سے دور رہ کر ٹھیک ہوںمیں زمیں پر آ گیا تو ہر بشر لے جائے گاسب سے پہلے ٹین پرسینٹ اپنے گھر لے جائے گا
ہے بھوتک شاستر میں اک چیز لائٹکریں گر تجربہ جاتی ہے سائٹعجب ہوتی ہے کچھ رنگوں میں فائٹکہ مل کر سات ہو جاتے ہیں وائٹ
اور نہ ہی میری محبوبہان محبوباؤں میں سے ہےجو اپنے عاشقوں کی یاد میںکسی جزیرے پر کوئی لائٹ ہاؤسیا سفیدے کے درختوں میں گھراکوئی چرچ تعمیر کرواتی ہیں
ایک کشمکش سی چلتی ہےلہروں کے ساتھ مچلتی ہےکبھی ساحل سے ٹکراتی ہیںکبھی سمٹ سی جاتی ہیںاوس کی بوندیں اوشن میںطوفانوں میں غراتی ہیںپھر موجوں سنگ گنگناتی ہیںاٹکھیلیاں وہ کرتی ہیںساگر دھارا سنگ گزرتی ہیںاوس کی بوندیں اوشن میںکبھی ہائی ٹائیڈ کبھی لو ٹائیڈ میںاکثر یوں ہی فل مون لائٹ میںآسماں کی جانب اچھلتی ہیںگرتی اور سنبھلتی ہیںاوس کی بوندیں اوشن میںآفتاب کہتا ہے آ جافضا کہتی سما جاساگر کہتا ہے نہ جازمیں بھی جکڑے جاتی ہےایسے ہی لہراتی ہیںبہتی چلی جاتی ہیںاوس کی بوندیں اوشن میں
کوئی بھی سڑک کوئی بھی موڑکسی بھی سمت کسی بھی اورمیں جہاں بھی جاؤں مجھ سے قدم سے قدم ملا رہا ہےپر جانے کیوںیہ مجھ سے جیتنے کے لیے نہیں دوڑتا کہمیں جب رکوں یہ رکتا ہےمیں جب چلوں یا چلتا ہےگاڑی رفتار پکڑے چاند بھی رفتار پکڑتا ہےگاڑی ریڈ لائٹ پر رکے چاند بھی رکتا ہے
ہمیں بتایا گیا ہےسرد قہقہوں کے آہنی جمود سےشمالی مریخ پر نئے ساحل بنائے جائیں گےنسبتاً کم سنجیدہ لڑکیاںہماری محبوبائیں نہیں بن سکتیںالبرٹا کے لینڈسکیپ میںونڈ ملز کے چکراتے سائےٹیولپس کی آنکھوں سے برف ہٹائیں گےعبادت گاہ کی دیواروں پر کندہخدا کے فرمان پر پھول رکھنے کے عوضوہ ہم سے بد ظن نہیں ہوگاڈیفوڈلز کے ہاتھ اکارڈین بجائیں گےجن سے پھوٹتی تھکی ہاری موسیقیتسٹریٹ لائٹ کی بوڑھی روشنی تان کر سو جائے گیواشنگٹن ڈی سی میں چیری کے درختوں پرنئے سال کے خواب اگائے جائیں گےساگانو کے سبز بانسوں سےوائلن کے تار بنائے جائیں گے جن پرریڈ انڈین ماؤں کے سینوں سے پگھلتینیلی بد دعائیں بجائی جائیں گیجواں مرگ حسیناؤں کی گول سسکیاںشکستہ پیانو کی دراڑوں سےمردہ گیتوں کے فنگرپرنٹس ادھیڑ لیں گیزنگ آلود کھڑکی کے میلے شیشوں سےکانپتی انگلیوں کی نقرئی الجھنیںادھوری نظموں کے لاشے کھرچ لیں گیاس سے پہلے کہ ہم خوف زدہ ہوںہم سے پہلے تخلیق کی جانے والیہماری محبوباؤں کے جسمانی ارتقا سےجسم ہونٹوں پر تقسیم کئے جائیں گےبرف زدہ پرندے ہمیں دیکھ پائیں گےہمارے گناہ مقدس ہیںانجان دوشیزہ کی فرمائش پر لکھے گئے ناول کی طرح
سیرالیون کے سمگلرزہیروں کی سمگلنگ پر باتیں کر رہے ہیںشمالی بلغاریہ کے علاقوں سےعمدہ قسم کا تمباکو آنے والا ہےلائٹ ٹاور کی سیڑھیوں کے نیچےجینز کی نیکر میں کوکین کی تھیلیاں چھپا کرمیڈونا واپس جا چکی ہےبوڑھا لینوس بیٹھا ہےفوگ لائٹ کی پیلی روشنی میںلمحہ داڑھی کھجا رہا ہےساحل کی ہتھیلی پرریت کی انگلیوں میں لپٹیبرہنہ سانسوں کی الجھن پررات کا خون سرکتا ہےنڈھال جسموں کی رومانیت میںلمس کا سیلن زدہ شور گرتا ہےسمندر برف کی جھیل میںتبدیل ہو سکتا ہےسگریٹ جلانے کا آلاگیلا پڑ گیا ہےبائیتھوسلائٹر ملے گااوہ شکریہ
چار برس کےمیلے کچلےدبلے پتلے لڑکے میں تھیغضب کی پھرتیچوراہے پر ایک طرف کی ہری لائٹ سےدوسری سمت کی لال لائٹ تکبجلی کی تیزی سے وہ آتا جاتا تھاجو مل جائے اس کے آگےپھیلاتا تھا اپنی ہتھیلیجس میںخوشحالی اور لمبے جیون کیریکھائیں تھیںچوراہے تک ہی محدود تھی اس کی دنیاجس کو اس نے نہیں چنا تھاٹریفک لائٹ کے ارد گرد تھا اس کا جیونوہ بھی اس نے نہیں چنا تھاٹوٹے پل کے نیچے اس کا جنم ہوا تھاوہ بھی اس نے نہیں چنا تھاکل شبٹریفک لائٹ کو توڑنے والے ٹرک سے دب کرموت ہو گئی اس کیوہ بھی اس نے نہیں چنی تھی
اب ہم جان گئے ہیں کہ اندھیرے ہمارا مقدر نہیں تھےبلکہ تم نے شہر کی تمام اسٹریٹ لائٹس بجھا دی تھیںہمارا فرسٹریشن تمہاری مکاری ہے کہ ہم سے محبت اور جنس کیسچی مسرتیں چھین کر تم نے ہمیں بلیو فلم کا عادی بنا دیاہمارے حشیش بھرے سگریٹوں کا دھواں تمہاری مشینوں کے عذاباور ملوں کی چمنیوں سے نکلنے والے زہر کا نتیجہ ہےلیکن اب زہر تمہارا مقدر ہوگا کہ ہم توانائی کے ساتھ زندہ رہنے کا گر جان گئے ہیںاب ہم کانٹنٹ کے خونخوار بھیڑیوں اور سائیبیریا کےبرفانی ریچھوں سے نہیں ڈرتے جنہوں نے پوری دنیا کو نازی کیمپ بنا دیا تھااب ہمیں ان مسخرے طوطوں کی دانشوری نہیں چاہئے جو ہزاروںسال کی رٹی رٹائی باتیں دہرا کر ہمیں علم کے نام پر بے وقوف بنا رہے تھےپلیٹو بہت بڑا آدمی تھا پھر بھی اپنے دور کی ریپبلکن ہم خود لکھیں گےہم معصوم بچے ہیں مگر ہمارے کھلونے توڑ کر تم نے ہمیں گالیاں دینے پر مجبور کر دیاکل ہم پکنک مناتے مناتے مگرمچھ کے منہ میں چلے گئے تھےلیکن آج پانیوں پر آگ لگا کر تیرتے رہنے کا فن سیکھ چکے ہیںکل ہم تم سے بات کرتے ڈرتے تھے لیکن آجخدا سے ہاٹ لائن پر گفتگو کر رہے ہیںاگر تم راکٹوں پر بیٹھ کر بھگوڑوں کی طرح چاند اور مریخ کی طرفجانا چاہتے ہو تو جاؤ ہمیں ہماری زمین اور آنے والا زمانہ چاہئےرات فاحشہ عورت تھی جو تمہارے ساتھ سوئی رہیلیکن اب دن نکل چکا ہے اور اس کا روشن سورجاندھیروں بلیک آؤٹ اور فاحشہ عورتوں کے لئے موت کی علامت ہے
ان کو نہ لفٹ شعر کی دیوی نے دی کبھیملنے گئے جو یہ تو وہ پردے میں جا چھپیاللہ رے ان کی دست درازی کی برہمیساڑی ادب کی سات جگہ سے ہے پھاڑ دینقاد ان کو کہتے ہیں یہ بھی ہیں آدمی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books