aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ma.arka"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ!ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیںیہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ ہوائیںتھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ!سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!ناپید ترے بحر تخیل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارےتعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میںآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میںجنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میںاے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سےتو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سےہے راکب تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ!
گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیارہپکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چاراکبھی گھورا کبھی تاڑا تو کبھی للکاراکبھی سب وے سے اٹھایا کبھی چھاپہ مارا
رات بھر جاگیں گے وہ جو سال بھر سوتے رہےکاٹنے جاتے ہیں گندم گرچہ جو بوتے رہےکیا توقع ان سے رکھیں فیل جو ہوتے رہےنقل کر کے داغ کو دامن سے جو دھوتے رہےنقش فریادی ہے ان کی شوخی تحریر کامعرکہ ہوتا ہے اب تدبیر کا تقدیر کا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرےبول زباں اب تک تیری ہےدیکھ کہ تیرے ارض وطن میںقصبہ قصبہ قریہ قریہآج یہ کیسا حشر بپا ہےشہروں شہروں گاؤں گاؤںموڑ موڑ پر گلی گلی میںلاشوں کا انبار سجا ہےقدم قدم پردست ستم میں تیغ جفا ہےمعرکہ ہائے جرم و سزا ہے
بادلوں کی طرح غم برستا رہاچار جانب یہاں آگ ہی آگ ہےاے مبارز طلب زندگیپیار کے پھول لےدرد کی دھول لےمیرے ہونے کے سب خواب لوٹا مجھےآخری شام ہےآخری معرکہ ہےکہ پھر اس کے بعد
معرکہ سرد ہے سویا ہے وطن کا سردارطنطنہ شیر کا باقی نہیں سونا ہے کچھار
نظم جو مرنے والوں کے غم میں لکھیںاس کو ہم اے میاں مرثیہ ہی کہیںمرثیے لکھنؤ میں لکھے جاتے تھےاور محرم میں بچو پڑھے جاتے تھےجل اٹھے یوں خیال و نظر کے دیےشاعروں نے لکھے کتنے ہی مرثیےمرثیوں میں ملے منظر کربلاجھوٹ اور سچ کا ہے بچو اک معرکہمرثیے کے ہیں شاعر انیسؔ و دبیرؔمرثیے میں نہیں ان کی کوئی نظیرمرثیے میں ہے جذبات کی انتہاہے یہ رونے رلانے کا اک سلسلہاونچی اک تان سے اپنے ایمان سےمرثیہ تم بھی حافظؔ کہو شان سے
بڑا عجیب تھا منظرعجیب رات تھی وہہوائیں سہمی ہوئی تھیں چراغ چپ چپ تھےہر ایک سمت وہی بے کراں سی خاموشیفضا اداسوہی نیم جاں سی خاموشیسکوت شب میں بھی آہٹ تھی انقلابوں کیسجی تھی بزم وہاں آسماں جنابوں کیبہت سی باتیں تھیں اور کوئی بات تھی ہی نہیںپھر اس کے بعد کوئی راترات تھی ہی نہیںوہ رات جب بھی کبھی یاد آنے لگتی ہےتو روشنی ہمیں رستہ دکھانے لگتی ہےاس ایک شب میں مرتب ہوا نصاب وفالکھی گئی تھی اسی رات میں کتاب وفااس ایک رات کو تحریر کوئی کیسے کرےخیال و فکر کو زنجیر کوئی کیسے کرےلہو کے خواب کی تعبیر کوئی کیسے کرےسفر تھا کیسا وہ کیسی مسافت شب تھیکوئی بتائے توکیسی وہ ساعت شب تھیمطالبات شریعت بہت زیادہ تھےاور اس کے پاس فقط ایک شب کی مہلت تھیاس ایک شب میں اسے کتنے کام کرنے تھےاسے سکھانا تھا انساں کو بندگی کا شعورتلاوتوں کا قرینہ سخنوری کا شعوروہ ایک رات تھی ایسیکہ قدر و اسریٰ نےنظر جو اپنی جمائی تو پھر ہٹائی نہیںوہ ریگزار کے سینے پہ نسب اک خیمہلہو سے صبر کی تاریخ لکھنے والا تھابجھا بجھا سا کھڑا تھا وہ پاسبان چراغمگر درون میں اس کے بہت اجالا تھاوہ جانتا تھا وفادار ہیں سبھی ناصروہ سر کٹائیں گے لیکن نہ ساتھ چھوڑیں گےچراغ خیمہ بجھانے کا یہ نہ تھا مقصدکہ اس کو یاور انصار کو پرکھنا تھاوہ روشنی میں انہیں لانا چاہتا تھا فقطسمجھ رہا تھا وہ قدرت کے ہر اشارے کوصدائیں دیتی رہی اس کو دولت دنیاکہاں وہ صبر کہاں جبر و شوکت دنیامگر وہ ایک صداآسماں سے آتی ہوئیبتا رہی تھیکہ کیا آسمان چاہتا ہےخدائے پاک کوئی امتحان چاہتا ہےاسی لئے کوئی صحرا کی سمت بڑھتا رہالہو لہو کسی دریا کی سمت بڑھتا رہاوہ روشنی کی علامتوہ بانیان چراغسمجھ رہا تھا بجھے گا یہ خاندان چراغعجیب لوگ تھے وہ خاندان نور کے لوگتھے سب کے ایک سے لہجےکلام یکساں تھےخلاف ظلم سبھی کے پیام یکساں تھےبہت ہی غور سے ہر چہرہ پڑھ رہے تھے حسینکہ آنے والا ہر اک لمحہ پڑھ رہے تھے حسینوہ ایک رات بھی دیکھو گزر ہی جاتی ہےسویرے معرکہ ہوتا ہے حق و باطل میںعجیب جوش ہے جذبہ ہے جاں نثاروں میںوقار تشنہ لبی کو گلے لگائے ہوئےگزر رہا ہے قبیلہ لہو کے دریا سےبوقت عصر اذاں گونجتی ہے صحرا میںنماز خود ہی مصلیٰ بچھانے آئی ہےسر حسین ادا کر رہا ہے سجدۂ شکرگلوئے خشک پہ خنجر کی دھار چلتی ہےپڑھا تھا جس نے کبھیکل من علیھا فانلہو سے اس نے لکھالا الہ الا اللہ
چارہ گر آئے بہت کوئی مسیحا نہ ہواسینۂ ارض کے زخموں کا مداوا نہ ہواکربلا آج بھی برپا ہے بہ انداز دگردشت میں رقص شہیداں کا تماشہ نہ ہوابند ہے آج بھی کتنوں کے لئے نہر فراتمعرکہ کوئی بظاہر لب دریا نہ ہوازینبیں اپنے گھروں میں ہیں ردا سے محرومدشت و کہسار میں خیمہ کہیں برپا نہ ہوارات پیتی ہی رہی چاند ستاروں کا لہووقت کی تیرہ فضاؤں میں اجالا نہ ہواکون سا وقت ہے پھر روح کی بیداری کازخم احساس اگر آج بھی تازا نہ ہوا
پانچ دس کاچھوٹا کمرہدودروازےایک میں گندہ پردہدوجے میں وہ بھی نہیںبند کھڑکیپیوند زدہ مچھر دانیڈولتا پلنگبیٹھو تو تحت الثریٰ ہل جائےایک عورتعالم سپردگی میںپانچ دس کے نوٹکھونٹی پہ ٹنگا اوورکوٹلام سے بے نیل و مرام واپسپسپائیمعرکہ آرائیجنگ سے ہاتا پائیسوچو تو سدر المنتہیٰ ہل جائے
نکلا ہوں خود کو ڈھونڈنے اس کا مگر ہے مجھ کو غمراہ جنوں دراز ہے میرا سفر قدم قدممجھ کو خبر نہیں کہ یاں کتنے لٹے ہیں کارواںکتنی گری ہیں بجلیاں کتنے جلے ہیں آشیاںچاک ہے پردۂ وجود پھر بھی کوئی مرا نہیںکون ہے جس کے واسطے حکم سزا جزا نہیںعالم آب و خاک میں میرا ظہور بھی حجابحشر میں سب کے سامنے میرا عمل ہے بے نقابمیری تمام زندگی معرکہ ہائے خیر و شرمیری نگاہ عرش پر میں کف خاک و خود نگرمیرے لیے ہیں دو جہاں میں ہوں خدا کے واسطےمیرا وجود آئنہ اہل صفا کے واسطےجس میں کہ خوب و زشت کا مد و جزر ہے صاف صافمنظر دوزخ و بہشت پیش نظر ہے صاف صافراہ بد و راہ نجات ہیں میرے اختیار میںغم ہیں مگر یہ راستے رنگ برنگ غبار میںحرص و ہوا کی ڈھیر پر اپنے قدم جما کے رکھتیغ زمانہ تیز ہے سر کو بچا بچا کے رکھکار گہہ حیات میں رکھ لے خود اپنی آبروتیرا مقام بندگی کام ہے تیرا آرزوخود دل و جگر سے کر جذب دروں کی پرورشکرتے رہیں ضمیر کو عشق کے نغمے مرتعشسن لے مرے ندیمؔ سن اقبالؔ کے تھا درد لبعشق تمام مصطفیٰ عقل تمام بو لہبحاصل عشق مصطفیٰ ان سے نظام کائناتان کے بغیر شرع و دین بت کدۂ تصوراتاپنی خودی کی اوٹ سے جلوۂ بے حجاب دیکھقلب و نظر کو پاک رکھ یار کو بے نقاب دیکھ
وہ ایک رات تھی ایسی کہ قدر و اسریٰ نےنگاہ اپنی جمائی تو پھر ہٹائی نہیںوہ ریگزار کے سینے پہ نسب اک خیمہنہ جانے کون سی تاریخ لکھنے والا تھاسکوت شب میں بھی آہٹ تھی انقلابوں کیسجی تھی بزم وہاں آسماں جنابوں کیہوائے دشت بھی آہستہ پا گزرتی تھیسویرے معرکہ ہونا تھا حق و باطل میںعجیب جوش تھا جذبہ تھا جاں نثاروں میںوہ جانتا تھا وفادار ہیں سبھی ناصروہ سر کٹائیں گے لیکن نہ ساتھ چھوڑیں گےچراغ خیمہ بجھانے کا یہ نہ تھا مقصدکہ اس کو یاور و انصار کو پرکھنا تھاوہ روشنی میں انہیں لانا چاہتا تھا فقط
شام کو ملنا ذرا فٹ بال کے میدان میںمعرکہ پھر کوئی گرمانے کی حسرت ہے تو ہے
معرکہ سر کیا امریکی خلا بازوں نےاس حقیقت سے تو انکار نہیں ہے مجھ کوچاند کے حسن کا ان لوگوں نے پردہ کیا چاکاس غلط بات کا اقرار نہیں ہے مجھ کو
مفاہمت کی حدوں سے آگےمہیب اندھیروں کے قافلے ہیںطویل وحشت کے سلسلے ہیںجو معرکہ دل نے سر کیا گرتو تیرگی دائمی مقدرخرد نے جیتا تو قطرہ قطرہیہ زہر خود میں اتارنا ہےکہ تیسری کوئی رہ نہیں ہےسو منتظر ہوں کہ آگے قسمت میں کیا لکھا ہےمہیب اندھیرےکہ زہر خوانی
کیوں کہئے کسی سے کہ ہمیں کوئی پلائےقسمت میں اگر مے نہیں مل جائے گی چائےصہبا نہ ہو شبنم سہی چائے ہو کہ زہرابشے بس وہی جو غم زدہ کے غم کو بھلائےپینے کا سلیقہ ہو تو بے مول بھی پی لیںویرانہ بھی ہو کیف گہ صحرا بھی سرائےساقی کو ہے بے جنبش لب تشنہ لبی شاقکیوں ساقی گری کے کوئی یوں ناز اٹھائےہے کون بجز تیرے اے ساقی جو سنبھالےجب شدت نشہ ترے رندوں کو گرائےمے نوشی بھی ہے معرکہ آرائی کا اک عکسباطل سے جو ٹکرا نہ سکے شیشوں کو ٹکرائےمستی سہی لیکن ہے بلا خیرگئ جوشپیمانہ کی آغوش سے جو مے کو اڑائےآخر کسے اندازہ خمار شب دی کااب مے کدہ ویراں پڑا مے ہے کہاں آئےہاں تاش کے پتوں میں کچھ احباب تو مشغولجو منتشر یاد ہو دل کیسے بھلائے
تم سر بام آ کراٹھایا ہوا ہاتھ اپنا ہلا کرچمک دار آنکھوں سے اپنیمجھے رخصتی کا اگر اذن دیتیںتو میں دشمنوں کے لیےموت بن کر نکلتاتمہارے فقط اک اشارے سےکشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتاتم دیکھتیں کس طرح میںزمانے کی سرحد ذرا دیر میں پار کرتاہر اک سمت سے وار کرتامحبت کی تاریخ تبدیل کرتانئی رزم بوطیقا تشکیل دیتامیں لشکر کا سب سے بہادر سپاہی تھامیرے لیے ایک آنسو بہت تھامگر تم نے اشکوں کی برسات کر کےمجھے اس قدر غم زدہ کر دیا ہےکہ لگتا ہے یہ معرکہ ہار جاؤں گا میںلوٹ کر اب نہ آؤں گا میں.....!
یہ معرکہ بھی عجب ہےکہ جس سے لڑتا ہوںوہ میں ہی خود ہوںرجز مرامرے دشمن کے حق میں جاتا ہےجو چل رہے ہیں وہ تیر و تفنگ اپنے ہیںجو کاٹتے ہیں وہ سامان جنگ اپنے ہیںمیں سرخ رو ہوں تو خود اپنے خوں کی رنگ سےمیں آشنا ہوںخود ایذا دہی کی لذت سےعجیب جنگ مرے اندروں میں چھڑتی ہےمری انا مری بے مائیگی سے لڑتی ہےمیں بے ضرر ہوںبس اپنے سوا سبھی کے لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books