aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maluul"
آج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہیےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لیے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتیں ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پہنائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآزمانے نکلیں گےآرزو کی گہرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
کبھی کبھی کوئی یادکوئی بہت پرانی یاددل کے دروازے پرایسے دستک دیتی ہےشام کو جیسے تارا نکلےصبح کو جیسے پھولجیسے دھیرے دھیرے زمیں پرروشنیوں کا نزولجیسے روح کی پیاس بجھانےاترے کوئی رسولجیسے روتے روتے اچانکہنس دے کوئی ملولکبھی کبھی کوئی یاد کوئی بہت پرانی یاددل کے دروازے پر ایسے دستک دیتی ہے
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے
بہ فیض عید بھی پیدا ہوئی نہ یک رنگیکوئی ملول کوئی غم سے بے نیاز رہا
کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتارات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میںتو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میںصبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھولمیرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملولتو مجھے ڈھونڈھتی کس شوق سے گھبراہٹ میںاپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میںجوں ہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھےملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھےکان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتیتو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتییوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوشعمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوشکاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا
سر بزم کل مجھے دیکھ کروہ اسی خیال سے ڈر گئیکہ میں اس کی اور ہواؤں میںکہیں اپنا بوسہ اڑا نہ دوںوہ سمٹ کے اور سنور گئیکچھ عجیب خوف سا دل میں تھامجھے دیکھ کر وہ پلٹ گئینہ تو بھول ہے نہ تو یاد ہےیہ سپردگی کا تضاد ہےوہ کھڑے کھڑے جیسے سو گئیوہ تصورات میں کھو گئیوہ تصورات بھی خوب تھےمیں درخت بن کے کھڑا رہاتو وہ بیل بن کے لپٹ گئیمیں ترس رہا تھا سگندھ کوتو وہ شاخ گل سی لچک گئیمرا جھوٹ موٹ کا نشہ تھامجھے دیکھ کر وہ بہک گئیبس اسی کا اس کو ملال تھاکہ وہ خواب تھا نہ خیال تھاپھر اچانک آ کے قریب ہیکیا جب کسی نے سوال تووہ جو سوچ تھی وہ بکھر گئیمیں سمجھ رہا تھا کہ خوش ہے وہمگر اس کو دیکھ کے یوں لگاکہ یہ سوچنا مری بھول تھیمجھے دیکھ کر وہ ملول تھی
آوارہ آوارہ پھرنا چھوڑ کے منڈلی یاروں کیدیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشاؔ کا اب حال وہیکیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوااٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا اس کا شعار ہواطور طریقہ اکھڑا اکھڑا چہرا پیلا سخت ملولراہ میں جیسے خاک پہ کوئی مسلا مسلا باغ کا پھولشام سویرے بال بکھیرے بیٹھا بیٹھا روتا ہےناقوں والو! ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
تمہیں یہ جس دن پتہ چلے گاحیات رنگ حنا نہیں ہےحیات حسن بتاں نہیں ہےیہ ایک خنجر بکف کرشمہایک زہریلا جام مے ہےہماری پیری ہو یا جوانیملول و افسردہ زندگانیشکستہ نغمہ شکستہ نے ہےتمہیں یہ جس دن پتہ چلے گاتعصبات کہن کے پردےتمہاری آنکھوں میں جل بجھیں گےیہ تم نے کیسے سمجھ لیا ہےکہ دل مرا عشق سے ہے خالیمری نظر حسن سے ہے عاریقریب آؤ تمہیں بتاؤںمجھے محبت ہے آدمی سےمجھے محبت ہے زندگی سےمجھے محبت ہے مہ جبینوںسے، گل رخوں سے سمن بروں سےکتابوں سے، روٹیوں سے، پھولوں سےپتھروں سے، سمندروں سے
اک جنازے کو اٹھائے جا رہے تھے چند لوگتم نے پوچھا کیا ہوا کیوں جا رہے ہو تم ملول
اپنے ہم جنسوں کی بے مہری سے مایوس و ملولصفحۂ ہستی پر اک سطر غلط حرف فضول
رات خامشی لے کرجھولتی ہے پیڑوں پردشت دشت ویراں ہیںروشنی کے ہنگامےتیرگی برستی ہےاونچے نیچے ٹیلوں پرنیند کیوں نہیں آتیمیں اداس رہتا ہوںدن کے گرم میلے میںمیں ملول رہتا ہوںشام کے جھمیلے میںمیں شراب پی کر بھیہوشیار رہتا ہوںجو بھی دل پہ لگ جائےمیں وہ زخم سہتا ہوںسوچتا ہوں دنیا میںمیں بھی کتنا تنہا ہوںچاندنی کے پہلو میںدل نواز کرنوں کواوڑھ کر میں لیٹا ہوںنیند کیوں نہیں آتینیند ایک خوشبو ہےرات کی فضاؤں میںکو بہ کو بھٹکتی ہےمیرے گھر نہیں آتیمجھ سے دور رہتی ہےپھر میں خود سے کہتا ہوںنیند کیوں نہیں آتی
ہوس کا نام عشق ہے طلب خودی کا نام ہےنظر اداس دل ملول روح تشنہ کام ہے
جھجھک نہ دل میں لاؤ تمبس اب قدم اٹھاؤ تمذرا نہ ڈگمگاؤ تمخدا سے لو لگاؤ تمملول و مضطرب نہ ہوبڑھے چلو بڑھے چلو
سلام اے افق ہند کے حسیں تاروسلام تم پہ سپہر وطن کے مہ پاروسلام تم پہ مرے بچو اے مرے پیاروبھلائے بیٹھے ہو تم مجھ کو کس لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسنو کہ میری تمنا و آرزو تم ہوسنو کہ مادر بھارت کی آبرو تم ہوسنو کہ امن زمانہ کی جستجو تم ہوخموش بیٹھے ہو کیوں اپنے لب سیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسلام تم پہ کہ میرے چمن کے پھول ہو تممری نظر مری فطرت مرا اصول ہو تممگر یہ کیا ہوا کس واسطے ملول ہو تمیہ تم نے چند غلط کام کیوں کئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارووطن میں خون کے دریا بہا دئے تم نےسبھی نقوش اہنسا مٹا دئے تم نےرواج کار محبت بھلا دئے تم نےرسوم مہر و وفا ترک کر دئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسبق پڑھایا تھا تم کو عدم تشدد کاتمہیں بتایا تھا میں نے گناہ ہے ہنسایہ تم نے کس لئے تیغ و تبر سے کام لیاتمہارے ہاتھوں میں خنجر ہیں کس لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروتمہارے ذہنوں میں مکروہ سازش اور فساددلوں میں نفرت و کینہ ہے اور بغض و عنادمگر لبوں پہ ہے بابائے قوم زندہ بادمجھے یہ کھوکھلے نعرے نہ چاہیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروزمین نانک و چشتی پکارتی ہے تمہیںدیار بدھ کی تجلی پکارتی ہے تمہیںسنو کنہیا کی بنسی پکارتی ہے تمہیںاب اور دیر بھی کرنی نہ چاہیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارواٹھو زمانۂ حاضر ہے اک پیام عملاٹھو کہ کانپ رہی ہے نوائے ساز غزلاٹھو کہ ماند نہ ہو جائے حسن تاج محلاٹھو کہ سینوں میں پھر روشنی جئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروپھر اپنے ذہنوں میں لہکاؤ دوستی کا چمنپھر اپنی سانسوں سے مہکاؤ پیار کا مدھوبنپھر اپنے کاموں سے چمکاؤ سر زمین وطنتمہارے میکدے میں دہر پھر پئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارونہ چھوڑو زندہ وطن میں کسی لٹیرے کوکچل دو بڑھ کے ہر اک سانپ کو سپیرے کومٹاؤ فرقہ پرستی کے ہر اندھیرے کوبچاؤ دیش کو بھگوان کے لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارومجھے یہ کھوکھلے نعرے نہ چاہیے یارو
اگر وہ موسم مزاج تم کو کہیں ملے تو یہ اس سے کہنا کہ لوٹ آئےاسے پیام بہار دے کر بس اتنا کہنا خزاں کا موسم گزر چکا ہےاسے بتانا وہ بد نصیبی کا ایک کانٹا کبھی جو تلوے میں چبھ گیا تھا نکل چکا ہےکہ وقت کروٹ بدل چکا ہےملول و بوجھل اداس شامیں بھی اب تبسم سے آشنا ہیںوہ مضمحل اور خموش راتیں بھی اب تکلم سے آشنا ہیںاسے بتانا کہ زندگی اک یقین ہے اب گماں نہیں ہےکہ آج شمعوں کی رقص کرتی ہوئی لووں میں سنہرے خوابوں کی روشنی ہے دھواں نہیں ہےکبھی صدائیں بھی بے نوا تھیں اور اب خموشی بھی اک سخن ہےقبا پہ دن کی ہے کوئی دھبہ نہ شب کا دامن ہی پرشکن ہےاسے بتاناکہ زرد موسم گزر گیا ہےمگر اسے تم یہ مت بتانا کہ جس میں ہجرت لکھی تھی اس نےوہ ایک لمحہدل و نظر میں ٹھہر گیا ہے
قلم اداس ہے لفظوں میں حشر برپا ہےہوا رکی ہے تو رقص شرر بھی ختم ہواجنون شوق جنون سفر بھی ختم ہوافرات جاںتری موجوں میں اب روانی نہیںکوئی فسانہ نہیں اب کوئی کہانی نہیںسمٹ گئے ہیں کنارے وہ بیکرانی نہیںتو کیا یہ نبض کا چلنا ہی زندگانی ہےنہیں نہیں یہ کوئی زیست کی نشانی نہیںکہ سانس لینا فقط کوئی زندگانی نہیںکچھ اور رنگ میں آئی ہے یہ خزاں اب کےہے سمٹی سمٹی سی خود میں ہی غیرت ناہیدمیان اہل طریقت بھی بے ردا ہے غزلہجوم اہل زباں اور بے نوا ہے غزلسفر یہ کیسے کرے خار زار رستوں پرتھکن سوار ہے اس پر برہنہ پا ہے غزلتمہارا ساتھ جو چھوٹا تو اب پریشاں ہےکہ اس تغافل بے جا پہ سخت حیراں ہےیہ کس مقام پہ تم نے اکیلا چھوڑ دیاتمہیں خبر ہے کہ تم سے بہت خفا ہے غزلیہ بے مکانییہ تنہائی اور یہ در بہ دریستا رہا ہے بہت اب خیال ہمسفریصلیب و دار و رسن سے گزر رہی ہے غزلچلے بھی آؤ کہاں ہو کہ مر رہی ہے غزلسیہ لباس میں نوحے اداس بیٹھے ہیںسروں کو تھامے قصیدے اداس بیٹھے ہیںہے مرثیے کی نگاہوں میں ابر ٹھہرا ہوابدن دریدہ لطیفے اداس بیٹھے ہیںابھر رہی ہے یہ کیسی صدائے واویلاسرہانے دیکھو رباعی کا بین ہوتا ہےوہ دیکھونظم گریبان چاک کرتے ہوئےدہائی دیتی ہے مقتل کے استعاروں کیعلامتوں کی کنایوں کی اور اشاروں کیبہت ملول ہیں شہر سخن کی تحریریںشب الم کے ہیں قصے جنوں کی تفسیریںورق ورق ہے پریشاں غبار خاطر کاہوا ہے نثر کو احساس پھر یتیمی کاہوائے شہر ستم کس ادا سے گزری ہےدہن خموش ہیںچپ چپ سے ہیں سخن کے چراغبجھی بجھی سی ہے قندیل خانقاہ ادبدھواں دھواں ہیںخطابت کے فکر و فن کے چراغہے آسمان ادب پہ وہ دھند چھائی ہوئیدکھائی دیتا نہیں اب کوئی ستارۂ نورکلام کا وہ قرینہوہ گفتگو کا شعورکہاں سے اب کوئی لائے گا ثانیٔ منظورعجیب وقت پڑا ہے فن نظامت پرکہ دم بخود سے کھڑے ہیں اب انورؔ و منظورؔوقار کیسے عطا ہو شکستہ لہجوں کورفو کرے کوئی کیسے دریدہ جملوں کوہے مسکرانا ضروری وقار غم کے لئےتراشے کون زباں حرمت قلم کے لئےتمہارے جانے سے ویران ہو گئی محفلاجڑ گیا ہے یہ دیکھو جہان شہر ادبسمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ اب کہاں جائیںبھٹکتے پھرتے ہیں اب ساکنان شہر ادبیہ میکدے کی اداسییہ جام الٹے ہوئےکہ جیسے روئے ہوں شب بھر یہ ساغر و میناکئی دنوں سے ہنسی ہی نہیں ہے کالج گرلتمہارے ہجر نے پتھر بنا دیا ہے اسےبہت اداس بڑی بے قرار چپ چپ سیکہ حزن و یاس کا منظر بنا دیا ہے اسےوہ دیکھو میز پہ جتنی کتابیں رکھی ہیںتمہاری گرد رفاقت ہے سب کے چہرے پرپکارتی ہیں تمہیں یہ ادھوری تحریریںبکھرتے ٹوٹتے خوابوں کی تشنہ تعبیریںیہ اجڑا اجڑا دبستان ڈھونڈھتا ہے تمہیںچلے بھی آؤ کہ امکان ڈھونڈھتا ہے تمہیںجو ہو سکے تو چلے آؤ تم ملک زادہمگر یہ خواہش بے جااسے خبر ہی نہیںکہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتےمہکتے رہتے ہیں گلدان ان کی یادوں کےسلگتے رہتے ہیں لوبان ان کی یادوں کے
وہ کون ہے جو اداس راتوں کی چاندنی ہیںکئی دعائیں لبوں پہ لے کرملول ہو کربھلا کے ساری تھکان دن کییہ سوچتی ہےکہ میں نہ جانے ہزار میلوں پرے جو بیٹھا ہوںکس طرح ہوںوہ کون ہے جو اداس راتوں کے رت جگے میںدعاؤں کی مشعلیں جلانے کھڑی ہوئی ہےدعائیں جس کی مرے لئے ہیںمیں ان دعاؤں کے زیر سایہزمین سے آسمان کی جانب یوں محو پرواز ہوں کہ جیسےبشر گزیدہ خدا سے ملنے کو جا رہا ہوپھر ایک لمحے کو میرے اندر سے اتنی آوازیں گونجتی ہیںمیں ان سے برسوں سے آشنا ہوںیہ ہاتھ جو کہ بلند ہو کر لرز رہے ہیںیہ ہاتھ میرے لیے تحفظ کا استعارہیہ ہاتھ میرے لیے جہاں کیہزار خوشبو سے بالاتر ہیںیہی تو ہیں وہ جنہوں نے مجھ کوقدم اٹھانا قدم بڑھانا سکھا دیا ہے
یہ سارے رشتے تمام چہرےجنہیں تم اپنا سمجھ رہے ہو یہ سب تمہیں اجنبی لگیں گےبلندیوں کے ہر اک سفر پر بڑی محبتجتائے گا یہ ہجوم یاراںسبھی کے لفظوں میں شہد ہوگا سبھی کے ہاتھوں میں پھول ہوں گےمگر دلوں میں ببول ہوں گےبلندیوں کے سفر سے لوٹو تو ان کے چہروں پہ غور کرنا بجھے بجھے سے تم ان کے لہجوں پہ غور کرنا تمام چہرے ملول ہوں گےہر اک سخن میں چبھن ملے گیہر اک صدا میں تھکن ملے گیہر اک جبیں پر شکن ملے گیرفاقتوں کے بدلتے منظر تمہیں جو حیرت زدہ کریں تو یہ غور کرنامسافتوں کے بغیر آخر بدن سبھی کے نڈھال کیوں ہیںبغیر خط عروج کھینچےعیاں یہ خط زوال کیوں ہیںسفر تو تم نے کیے ہیں لیکن مسافرت کی یہ گرد کیسے تمام آنکھوں میں بھر گئی ہے تمام چہروں پہ جم گئی ہےپس رفاقت بدلتے رشتوں کی معنویت پہ غور کرنا مگر نہ ہرگز اداس ہونا تم ان سے ملتے رہے ہو جیسے تم ان سے ویسے ہی ملتے رہنا ہمیشہ ان سے وفائیں کرنا اور ان کے حق میں دعائیں کرناخدا انہیں بھی ہدایتیں دے ازل سے اب تک یہی ہوا ہے منافقوں نے ہمیشہ ہونٹوں پہ گل کھلائے ہمیشہ ہاتھوں میں پھول رکھے مگر دلوں میں ببول رکھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books