aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mamuulaa"
اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی
گزشت وقت سے پیمان ہے اپنا عجب سا کچھسو اک معمول ہے عمران کے گھر کا عجب سا کچھ
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سے
کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو جسموں کی تجارت ہونے لگیخلوت میں بھی جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی
نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہےدل کا معمول ہے گھبرانا بھی
جب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہے
مجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہےدل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانی
کچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولی
کتنوں نے قول باندھا معمولی دے کے پیسےکہتے ہیں شاد ہو کر یوں اپنے آشنا سے
اندرا ہوں میں ٹریسا ہوں ملالہ ہوں میںجس نے دنیا کو جھکایا وہ ارادہ ہوں میں
ہے ماں تو دل و جاں سے لٹاتی ہے سدا پیارممتا کے لئے پھرتی ہے دولت سر بازار
اور وہ معمولی سا اک مہرہ ہےایک اک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہوگا
کس کے چہرے میں تلاشوں تیرے چہرے کی جھلککس کے آنچل میں ملے گی تیری ممتا کی مہک
جیسے پیاسا کوئی آ کر لب دریا مچلاجیسے کہسار کے گوشے پہ مسافر سنبھلا
ممتا سے بھرائیماں باپ کی آنکھوں میں
مولا تری گلی میںسردی برس رہی تھی
ممتا کے ہونٹوں پر جب چاندی کی مہریں لگتی ہیںماں خود اپنی بیٹی کو کر دیتی ہے قربان یہاں
سویرے کا جب تک کہ اسکول ہےیہی اپنا ہر روز معمول ہے
معمورۂ احساس میں ہے حشر سا برپاانسان کی تذلیل گوارا نہیں ہوتی
مرا معمول تھا اسکول سے آتے ہوئے اکثرٹھہر کر دیکھتی تھی اس نئی دنیا کے ہنگامے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books