aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "manaayaa"
میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کوہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامنکہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کوقدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھےکہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو
وہ اک لمحہ بڑا مقدس تھاوہ اک لمحہ کہ جس میںآسماں سب آیتوں کا ورد کرتے تھےستارے ہاتھ میں لے کرجہنم کی سلگتی اور دہکتی آگ کے اوپرفرشتے اپنے اپنے پنکھوں کیبوندیں جھٹکتے تھےخدا نے ایک لمحے کو نگاہیں موند کر اپنیتسلط کی گرہ کو ڈھیلا چھوڑا تھانظام ازل توڑا تھاوہ اک لمحہ کہ جس میںگردشوں کے پار سیاروں نے پہلی بارہالی ڈے منایا تھاوہ اک لمحہ کہ جس میں تم جنم لے رہے تھے
پھر اچانک ایک ہیرو لوٹ آیہسب کو منایا سب کو سمجھایااوس نے پتا ہونے کا فرض نبھایااب وو ماں باپ سنگ کھیل کرتی کرتی ہےدوستوں سنگ اچھلا کودا کرتی ہےماں سے لوریاں روز سنتی ہےآج کہانی سننے لگی ہیںلاگے اوس کے سنگ ساری دنیا جگی ہےسنتی ہے کہانی یہ رات کی رانیاور سوچتی ہےجانے کس دن وو سورج نکلے گاجانے کس دن یہ آسمان کھلے گاجب انسان سے انسان کا ہوگا سچا میلجب ٹوٹیں گے سب موہ کے دھاگےاور بند ہوگا انسانی دنیا میں یہ کٹھ پتلی کا کھیلجب مار کی جگہ لے گا پیاراور سدھرے گا میرے سپنوں کا سنساراور سدھرے گا میرے سپنوں کا سنسار
جو عرصہ پہلے ٹوٹ گیاکچھ یادیں ان میں باقی ہیںفریادیں بھی کچھ باقی ہیںشہنائی کا ہے کوئی مدھم سران دیواروں میں گونج رہاآؤ چلیں اس کھنڈر میںجو عرصہ پہلے ٹوٹ گیاکچھ سائے ہمارے بچپن کےکچھ یاد ہمارے لوگوں کیاس کھنڈر سے وابستہ ہیںتھی نقش بہت سی تصویریںاس کھنڈر کی دیواروں پرتم جانتے ہو وہ کس کی تھیںکچھ بچوں کی کچھ بوڑھوں کیکچھ میرے اپنے بچپن کیآؤ چلیں اس کھنڈر میںجو عرصہ پہلے ٹوٹ گیااورساتھ بہت کچھ لوٹ گیاوہ دیکھ رہے ہو بنجر تلاس کھنڈر کا وہ حصہ تھاتب صحن اسے ہم کہتے تھےسب مل کے اس میں روتے تھےشام کی اکثر چائے ہماس جا پر بیٹھ کے پیتے تھےآؤ چلیں اس حصے میںجہاں بیٹھ کے ہم سب پڑھتے تھےشور مچایا کرتے تھےاور سب کو ہنسایا کرتے تھےکبھی لڑتے تھے کبھی روتے تھےیہ دیکھو یہ جو مٹی ہےہم اس میں کھیلا کرتے تھےاور گھنٹوں کھیلا کرتے تھےوہ دیکھو وہ ٹوٹی ڈیوڑھیمیرے گھر کی چوکھٹ ہےہر سال نیا سا رنگ کوئیہم لوگ چڑھاتے تھے اس پرجانتے ہو یہ کھنڈر کبھیآباد بھی تھا شاداب بھی تھاہم لوگ اسی میں رہتے تھےیہ گھر تھا ہمارا پیارا سااور پیارے پیارے لوگ بہت سےساتھ ہمارے رہتے تھےہم جشن منایا کرتے تھےان چاہنے والے لوگوں کےلہجے کی لہک آنکھوں کی چمکقدموں کی دھمکاس گھر کی فضا میں گونج رہیتم غور کرو آہستہ چلویہ کھنڈر نہیں ہے گھر ہے مرااس گردش دوراں نے جس کویوں لوٹ لیا برباد کیامیں لوٹ کے اب جو آئی ہوںاسباب بہت سے لائی ہوںپر سننے والا کوئی نہیںنایاب ہوئے وہ لوگ سبھیوہ آنکھیں تھک کے مند بھی گئیجو رات کو جاگا کرتی تھیںاب یہ تو بس اک کھنڈر ہےآؤ چلیں اس کھنڈر میں
ایک دن منایا جانا چاہیےمیرا بھیسانس کی بے آواز لہروں پرتیرتی زندگی کے ساتھبے نشان ساحلوں پربکھری سیپیوں کے ہم راہسرد موسموں میںکوچ کر جانے والے پرندوں کے سنگانجان سر زمینوں پرکسی ان دیکھے رنگ کےپھول کی پتیوں سے پھوٹتیپر اسرار خوشبو کے بازووں میںتم مناتے ہو مدر ڈےاور حصار میں رہتے ہومامتا کے نور کےتم مناتے ہو فادر ڈےاور گھنے درختوں کی چھاؤںمحسوس کرتے ہوتم مناتے ہو ویلنٹائن ڈےاور اپنی محبوبہ کے سامنےسرخ رو ٹھہرتے ہوتمہارا دل طواف کرتا رہتا ہےبے پایاں محبتوں کااور تم محبت کا ہر دن مناتے ہودکانیں سج جاتی ہیںرنگ برنگے پھولوں سےچاکلیٹ اور کیک کی مٹھاس سےقیمتیں مختلف سہیمگر اظہار کی سکتتمہاری قوت خرید میں رہتی ہےمیں تمہارے باپ کی محبت کاہر رنگہر ذائقہ جانتی ہوںایک دن منایا جانا چاہیےمیرا بھیمجھے معلوم ہےتم یہ دن منا سکتے ہومگر یہ دنسارے دنوں میں سرایت کر گیا ہےتم اسے نہیں ڈھونڈ سکتےکوئی ایک دن مختص بھی کر دوتو اس کا عنوانتمہارے اظہار کی سکت سے باہر ہے
میری پیدائش پرقرض خواہوں نے جشن منایامجھےپی ایل 480 کے دانۂ گندم سے بپتسمہ دیا گیااورامداد میں ملنے والے خشک دودھ سے میری پرورش کی گئیمجھےپولیو کی جعلی قطرے پلائے گئےاورکاندھے پر جاں نشینی کی چادر ڈال کرمجھےبوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کا کفیل مقرر کیا گیاابمیں ورلڈ بینک کا محبوباورآئی ایم ایف کا شہزادہ ہوںایشین ڈولپمنٹ بینکمیری دستار بندی کے لیے بیتاب ہےیو ایس ایڈ والےمجھے اپنا روزی رساں سمجھتے ہیںمیں مقروض پیدا ہوا تھااور مقروض ہی مروں گامیری ڈیوٹیاب فقط چھ سات مقروض پیدا کرناتاکہاس صارف معاشرے میں اپنا تشخص برقرار رکھ سکوںمجھےان پڑھ ہونے کی سند امتیاز عطا کی گئیتاکہ میںاپنے حقوق کی یاد داشت تحریر نہ کر سکوںمجھےانتخابات کے دن چھٹی بھی نہ دی گئیتاکہمیںاپنا ووٹ اپنی تقدیر کے حق میں نہ ڈال سکوں
سنو ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیاکہ چھ راتوں پہ ایک کھڑکی سےتین موسم اترے ہوںاور ساتویں دن کی بھاری رات میںآسمانی بلائیںکائنات کے مکمل ہونے کے دکھ میںشب ہجر مناتی ہوںچھ دن خدا نے میری مٹی کو گوندھااور ساتویں رات مجھےسانس پھونک کر دنیا کے حوالے کر دیا گیادنیا جس میں سات رنگ قوس و قزح کےاور آٹھواں رنگ بہاربھنوروں کے نتھنوں سے ہو کرزہریلا رس بناتے ہیںجو محبت کے نام پرفرصت کی خالی شیشیوں میںبھر بھر کر مفت بانٹا جاتا ہےرس بھرے جھوٹوں کا ذائقہ چکھ چکھ کرسچ میرے وجود میں متلی کی طرح تیرتا ہےجب بھی یوں ہی کھڑکی سے موسم اترتے ہیںمیرے جسم سے سوندھی مٹی کی خوشبو اٹھتی رہتی ہےاور ہر چھٹے دن کی ساتویں رات کاطواف مکمل ہونے پرہجر میری آنکھوں کو چوم چوم کرسنگ سیاہ بنا دیتا ہےبولو ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیاکہ پتھر آنکھوں سےکانچ کی کھڑکی کے پاراترتے موسموں کی بدلتی رتوں کو دیکھا جا سکےتو کیوں نہ پھر آفاقی بلاؤں کی صف میں شریک ہو کرکائناتی شب ہجراں کا ابدی ماتم منایا جائے
سنو کل تمہیں ہم نے مدراس کیفے میںاوباش لوگوں کے ہم راہ دیکھاوہ سب لڑکیاں بد چلن تھیں جنہیں تمسلیقے سے کافی کے کپ دے رہے تھےبہت فحش اور مبتذل ناچ تھا وہکہ جس کے ریکارڈوں کی گھٹیا دھنوں پرتھرکتی مچلتی ہوئی لڑکیوں نےتمہیں اپنی باہوں کی جنت میں رکھابہت دکھ ہواتم نے ہوٹل میں کمرہ کرائے پہ لے کران اوباش لوگوں اور ان لڑکیوں کے ہجوم طرب میںگئی رت تک جشن صہبا منایابہت دکھ ہوا خاندانی شرافتبزرگوں کی بانکی سجیلی وجاہت کوتم نے سر عام یوں روند ڈالاسلیقہ جو ہوتا تمہیں لغزشوں کاتو اپنے بزرگوں کی مانند تم بھیگھروں میں کنیزوں سے پہلو سجاتےپئے عشرت دل حویلی میں ہر شبکبھی رقص ہوتا کبھی جام چلتےکسی ماہ رخ پر دل و جاں لٹاتےسلیقہ جو ہوتا تمہیں لغزشوں کاتو یوں خاندانی شرافت وجاہتنہ مٹی میں ملتی نہ بدنام ہوتی
ننھے منے دو بچوں کی ہے دلچسپ کہانیروپ نگر کی سیر کریں گے بات جو دل میں ٹھانیلاکھ منایا ماں نے لیکن بات نہ اس کی مانیصبح سویرے گھر سے نکلے گھر والوں سے چھپ کےچلتے چلتے دونوں بچے اک جنگل میں پہنچےشدت کی گرمی تھی اس پہ دونوں ہی تھے بھوکےتھوڑی دیر چلے جنگل میں دیکھا باغ انوکھاپھول کھلے تھے رنگ برنگے جوہی بیلا چمپاننھا سا اک پیڑ بھی دیکھا پھل تھا جس کا میٹھاپھل کھایا دونوں نے مل کر اپنی پیاس بجھائیاتنے میں اک ننھی بچی سامنے ان کے آئیآگے بڑھ کر بولی تم ہو کون بتاؤ بھائیسچ سچ بولو کیوں تم دونوں میرے دیس میں آئےیہ وہ دیس ہے بھائی اس میں جو آئے رہ جائےروپ نگر میں کوئی آ کر کیسے جانے پائےبات سنی جب بچوں نے تو اپنا حال بتایاروپ نگر کا شوق ہی ہم کو اس جنگل میں لایابرسوں سے تھی جس کی خواہش اس کو دیکھ تو پایاسن کر بچی ہنس کر بولی آؤ شہر دکھائیںسونے چاندی کے محلوں کی تم کو سیر کرائیںبھوکے ہو تو گھر پہ چل کر پہلے کھانا کھائیںجگ مگ کرتی سڑکیں دیکھیں دیکھے محل دو محلےایسی دنیا ان بچوں نے کب دیکھی تھی پہلےبچے بوڑھے اور جواں تھے سب اخلاق کے پتلےننھی بچی نے دونوں کو اپنا بھائی سمجھااس کے ابو امی نے بھی پیار سے ان کو رکھااچھے کھانے خوب دئے پھر اچھا اچھا کپڑالیکن اک بچے کو اپنی ماں کی یاد جو آئیرو رو کر امی امی کو پھر آواز لگائیہاتھ پکڑ کر کوئی بولا کیوں روتے ہو بھائیآنکھ کھلی تو امی بولیں دیکھ رہے تھے سپناشاہد میری باتیں مانو سن لو میرا کہناروپ نگر جانے کو جھگڑا ہرگز اب مت کرنانانی اماں کے قصے کو بالکل جھوٹ سمجھناورنہ میری مار سے مشکل ہے اب تیرا بچنا
تمہارے دکھ نےمیرے اندر ایک شہر ماتم دریافت کیاجہاں ہر روز میرے جنم پر جشن گریہ منایا جاتا ہےتم اپنی ہنسی کا تحفہکالی اینٹوں سے بنائے گئے اس طاقمیں رکھ دوجہاں چراغ کی خاموشیاور رات کی سسکیاں سانپوں کی طرحسرسراتی ہیں
۴رنج بھری دوپہرگلابی شاموں کی یاد میںطلوع ہوتی ہےاور سائے لمبے ہو کرآنکھوں تک آ جاتے ہیںقصبہ اداس ہےکہ اس بارنوروز کا تہوارمنایا نہیں جا سکاگل دوپہری کے پھولگملوں میں مرجھا گئے ہیںگھروں کی کھڑکیوں پرجستی چادریں چڑھی ہیںکمرے میں نیم تاریک محبت کییادگاریں دھندلا رہی ہیںاور فوٹو فریمز پہ جمی گردسیاہ ہونے لگی ہے
نہ پھول بالوں میں گوندھے نہ گھر میں دیپ جلایاشریک غم نے منایا مگر نہ ان سے منی وہوہ تھک کے لیٹ گئے خواب کے نگر کو سدھارےمگر دریچے میں اپنے کھڑی سسکتی رہی وہستارے کرتے رہے چشمکیں تو کچھ بھی نہ بولیکہ ایک شاخ تھی غنچوں کے خوں میں ڈوبی ہوئی وہنہ جانے دانش و دین و ہنر کا نرخ ہو اب کیارواں پاک کی قیمت تو جگ میں ہار گئی وہنہ ڈھونڈ پائی مداوائے زخم زار تمناسمجھ سکی نہ تقاضائے عہد طفل کشی وہ
بندر والا اوڑھ دوشالہگاؤں میں آیا جوڑا لایابچے آئے بوڑھے آئےنوجوان بھی پہلوان بھیڈگ ڈگ ڈگ ڈگڈگ ڈگ ڈگ ڈگمست ہوئے ہیں دیکھ رہے ہیںبندر ماما ڈال پاجامہآئی بندریا باندھ لنگٹیابندر بھورا دیکھ کے گھوراڈگ ڈگ ڈگ ڈگڈگ ڈگ ڈگ ڈگکہے مداری کرماں ماریبیاہ کرے گی ساتھ رہے گیکچھ نہ بولی منہ نہ کھولیبندر آیا خوب منایاڈگ ڈگ ڈگ ڈگڈگ ڈگ ڈگ ڈگحامی بھر لی ہاں ہی کر لیجورو لایا ناچ دکھایابجا کے تالی پیٹ ہے خالیلگا بتانے اور دکھانےڈگ ڈگ ڈگ ڈگڈگ ڈگ ڈگ ڈگسب کے ہاتھ سے پیسے برسےاٹھا مداری کی تیاریلے کر جھولا زور سے بولالو سلام جی رام رام جیڈگ ڈگ ڈگ ڈگڈگ ڈگ ڈگ ڈگ
کس طرح نند آندھی کی یلغار میںتم نے اپنی ردا کو سنبھالاکیسے یخ بستہ تنہائیوں میںجشن روح و دل و جاں منایاشعلۂ آرزو میںکیسے حرف و نوا کو تپایاجاگتی رات کی تیرگی کوکس طرح مطلع نور یزداں بنایاکتنے سجدوں سے اپنی جبیں کو سجایا
اردو زباں کا شعر ہو ہندی کا یا بچنجوہر شناس کے لئے یکساں ہے ہر سخنصوفی منایا آج یوں اردو کا یوم ہےزندہ زباں ہے جس کی وہی زندہ قوم ہےمٹنے نہ پائے اردو زباں دیش سے کبھیہر دل عزیز یہ رہے آئے نہ کچھ کمی
دن منایا جا رہا ہےگھر کے باہرآج میرا عالمی دن ہےبہت شور و غوغا ہےاور گھر کے اندرکولہو کے بیل کی طرحمیں اپنے دائرے میں چل رہی ہوں
یہی مری خواب گاہ عشرت یہی ہے میرا نگار خانہدھوئیں کی رنگین بدلیوں میں پکا رہی ہے جہاں وہ کھانایہیں اندھیروں سے مل کے ہم چاندنی کے چھکے چھڑا رہے ہیںیہیں ہمارا صلہ مقرر ہوا ہے ادبار جاودانہیہیں اسے گیلی لکڑیوں نے خوشی کے آنسو بہاتے دیکھایہیں اسے راکھ کی تہوں نے بنا دیا غیر شاعرانہیہیں مری سخت جان غیرت یہ بارہا سن چکی ہے اب تکابے تری مفلسی کے چرچے سنے تھے میں نے تو غائبانہیہیں وہ جان وفا مری آرزو کی رنگینیوں کی خاطرچھڑک کے بالوں میں عطر اندیشہ کرتی رہتی ہے ان میں شانہاگر نحوست کی جان ہے وہ تو بندہ ایمان مفلسی ہےاسی لئے ایک دوسرے سے ہمیں محبت ہے والہانہالٰہی تیری عنایتوں کا یہ ایک ادنیٰ سا ہے کرشمہہمارے افلاس بے کراں کا جو آج ہے معترف زمانہوہ اس کا جاڑے کی سرد راتوں میں مجھ سے ایندھن کی بات کرناکہ جیسے یہ چیز ماورائی ہو یا الف لیلوی فسانہطویل فاقوں کے بعد دونوں کا پیچ پی کر وہ جھوم اٹھناوہ اس کی شرمیلی سی نگاہیں وہ میرے جذبات عاشقانہخوشی میں ساری خدائی میں ہاف ڈے منایا گیا تھا اس دنوجود میں آ گیا تھا جس دن ہماری الفت کا شاخسانہ
اپنی بے چہرگیاوٹ میں نام کی تختیوں کی رہیدل کی تاریکیاںجگمگاہٹ میں ملبوس کی چھپ گئیںلب پہ تنویر جاگیتو ہم نے یہ سمجھاچلو اجنبی اب شناسا ہوئےشہر کے اونچے مینار پرچند مٹی کے رنگیں کبوتر سجےجشن آزادیٔ قوم و ملتمنایا گیااک خلا درمیاں تھاسو قائم رہاگرمی برسات جاڑے کی بدلی رتوں میںہر اک فردپہچان اپنی گنوا کرڈھلا موم کی مورتوں میںہر اک شکل اب جیسے اپنی لگےاور کوئی شکل اپنی نہیںہم ہوئے آج خود اپنے ہی شہر میںنسل ننگ نشاںنسل بے چہرگاں
اک کھلونے کی طرحچاہتوں کی بیڑی کے زور پرروتے بابا لوگوں کومنایا تھا ہنسایا تھاکل وہ جن کو ہم نے اپنے پیروں سے چلایا تھاہاتھوں سے اٹھایا تھاآنکھوں سے دکھایا تھا
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books