aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mansab-e-haft-aasmaa.n"
اس چمن کی سرزمیں ہے روکش ہفت آسماںاس چمن میں طائر عرش آشیاں پیدا ہوا
دماغ بر سر ہفت آسماں تھا دہلی کاخطاب خطۂ ہندوستاں تھا دہلی کا
ذرۂ تاریک مہر ضو فشاں ہونے کو ہےقطرۂ ناچیز بحر بیکراں ہونے کو ہےجزو کل کرتے ہیں اپنی قوتیں نذر بشربندۂ مجبور مختار جہاں ہونے کو ہےیہ زمیں تھیں ذلت آفاق جس کی پستیاںرفعتوں میں روکش ہفت آسماں ہونے کو ہےنسخۂ ایجاد عالم پا نہ لے انساں کہیںآشکارہ فطرت کون و مکاں ہونے کو ہےبرق و آتش سے ہوا برباد جس کا خانماںاب وہ آگاہ نوید بزم جاں ہونے کو ہےموت کے ساماں کی پیہم جستجو جس کو رہیراز ہستی اس کی محفل میں عیاں ہونے کو ہےابن آدم یعنی یہ پروردۂ جور فلکشاید اب اس پر مشیت مہرباں ہونے کو ہےبے بس اور بیچارہ تھا گہوارۂ تقدیر میںلیکن اب یہ کودک ناداں جواں ہونے کو ہےذرۂ تاریک مہر ضو فشاں ہونے کو ہےقطرۂ ناچیز بحر بیکراں ہونے کو ہے
آسماں کی گود میں دم توڑتا ہے طفل ابرجم رہا ہے ابر کے ہونٹوں پہ خوں آلود کفبجھتے بجھتے بجھ گئی ہے عرش کے حجروں میں آگدھیرے دھیرے بچھ رہی ہے ماتمی تاروں کی صفاے صبا شاید ترے ہمراہ یہ خوں ناک شامسر جھکائے جا رہی ہے شہر یاراں کی طرفشہر یاراں جس میں اس دم ڈھونڈھتی پھرتی ہے موتشیر دل بانکوں میں اپنے تیر و نشتر کے ہدفاک طرف بجتی ہیں جوش زیست کی شہنائیاںاک طرف چنگھاڑتے ہیں اہرمن کے طبل و دفجا کے کہنا اے صبا بعد از سلام دوستیآج شب جس دم گزر ہو شہر یاراں کی طرفدشت شب میں اس گھڑی چپ چاپ ہے شاید رواںساقی صبح طرب نغمہ بہ لب ساغر بکفوہ پہنچ جائے تو ہوگی پھر سے برپا انجمناور ترتیب مقام و منصب و جاہ و شرف
بادل ٹکرائے محبت کا ظہور ہوابارش کی بوندوں نےپتوں سے چھن چھن کرکلیوں کے لب چومےمورنی لہک لہک کر جھومیپنکھ کھول کر رقص کیاگویا ساری زمین اور ہفت آسماںندیاں جھرنےاس کی مملکت ہوئےاور اس حسین شہزادی نےناچتے ناچتے پیروں کو دیکھایک لخت آنسو بہےلیکن مور نے سب سے پہلےاس کے پیروں کو چوماسفید پنکھ رنگوں سے مالا مال ہوئےمور نے آنسو جذب کئےاور مورنی کے حسن نےفلک کو قوس قزح عطا کی
زمین ایک مدت سےہفت آسماں کی طرف سر اٹھائے ہوئےرو رہی ہےزمین اپنے آنسوبہت اپنی ہی کوکھ میں بو رہی ہےزمیں دل کشادہ ہے کتنیفلک کے اتارے ہوئے بوجھ بھی ڈھو رہی ہےفضا پر بہت دھند چھائی ہوئی ہےجواں گل بدن شاہزادےزمیں کے دلارےاجڑتی ہوئی بزم کے چاند تارےکٹی گردنوں گولیوں سے چھدے جسم کیرت سجائے لہو میں نہائےزمیں کی طرف آ رہے ہیںزمیں ایک مدت سےاس کار و بار ستم میں گھری ہےزمین رو رہی ہےمگر اس کے آنسو کی تحریرروشن ہے اتنیکہ آئندہ موسم اسی زندہ تحریر سےجگمگاتے رہیں گےاگر اس کے شہزادےیوں ہی لہو میں نہاتے رہیں گےتو اک روز تاریخان کے لیے حشر برپا کرے گی
تجھ کو بتایا بھی تھا کہ محبتننھے بچوں کی ہنسی سے بہت مختلف ہے مگرتو نے ندی میں موجود مچھلیوں سےپانی کی عظمت کے قصے سنے اورمحبت کرنے کی ٹھان لیکاش تب تمہیں علم ہوتاالو کو آبادیوں سے نفرت کیوں ہوئیخدا نے ہمیں محبت کی دیوی سےبچانے کے لئے پرندوں کو خط دے کرہماری طرف بھیجا مگرانہیں ان تیر اندازوں نے مار ڈالا جو ابھیجنگ ہار کر اپنے گاؤں لوٹ رہے تھےندی کنارے بیٹھے دو پریمی اک دوسرے کوچومتے تو رہے مگر اک دوسرے کو بتا نہ سکےکہ محبت کس پرندے کا نام ہےزمین پر خدا کے مقرر کردہفرشتوں نے محبت کرنے کا سوچا تو انہیںسمندروں میں ضم کر دیا گیامحبت کہنے کو لفظ ہے مگرجسے تم نہ سمجھے وہ احساس تھاکئی صدیوں سے محبت کا سفر کرتامیں آج اسی جگہ ہوں جہاں سے چلا تھاکئی برس سے میرے گھر کے دروازےتیری دستک کے لیے ترس رہے ہیںاور ان کو بھی کسی کی یاد کی دیمکاندر سے کھائے جا رہی ہےمیری جاں ہجر میں انتظارکوئی آساں بات تو نہیںتیرے جانے کو آجپانچ برس مکمل ہونے کو ہیںمگر تیری چوڑیوں کی کھنک آج تکمیرے کانوں میں گونج رہی ہےتیری ہجرت کے بعد مجھے احساس ہواکہ بارش کی آواز میں بھی اک موسیقی ہےجسے سن کر لوگوں نے محبت کرنا سیکھامیں نے چاہا تھا کہ ہمارے درمیاں اک آخری ملاقات ہوتی جہاں ہملفظوں کی جگہ اک دوسرے کی خاموشی کو سمجھتےمگر اس ملاقات میں آٹھویں بر اعظم سے آئےکچھ انجان لوگ رکاوٹ بنےجو یونانی خداؤں کی ناجائز اولاد تھےتم نہیں جانتی تمہاری ہجرت کے بعدکتنے چراغوں نے زہر کے پیالے نوش کیےکتنے پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیاکتنے پہاڑوں کو ندیوں نے اپنی آغوش میں لے لیاکتنی تتلیوں نے اپنے رنگ خدا کے کینوس کو تحفہ کر دئےتو کسی نے تیری آواز سننے کے لیےشہروں کے شور کو چھوڑ کرجنگلوں میں بسیرا کر لیاتیری ہجرت کے بعد میں نے خدا سےبغاوت کا سوچا تو خیال آیاکہ تو بھی اسی کی تخلیق ہےمیں نے ویران شاہراہوں پہ رینگتی خاموشی میںتیری ہجرت کا دکھ دیکھامیں نے بیس ہزار سال پرانے کھنڈرات کیدیوار پر تیرا نام لکھا ہوا پڑھا تو محسوس ہواتو تو گزشتہ صدیوں سے لوگوں کا ارماں رہامیں نے سو سالہ پرانے برگد کے پیڑ سےتیری محبت کے قصے سنے تو پتا چلاکہ خلا باز چاند پر زندگی کیتلاش میں کیوں ہیںمیں نے پرانے شاعروں کی نظموں میںتیری ہجرت کا دکھ محسوس کیامیں نے درگاہوں کے باہر بیٹھے فقیروں کے چہروں پرتیری ہجرت کا غم دیکھا ہےکتنے درخت تیری طلب کی منت کے دھاگوں سے بھر گئےاور زمیں نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیازلزلوں سے بوسیدہ گھروں کے ملبوں سےملنے والے خطوط میںمیں نے تیرے لیے محبت بھرے جملے دیکھےمیں نے یونانی خداؤں کی کتابوں میں تیرے قصے پڑھےتو محسوس ہوا تیری محبت کی داستاں میںمیرا کردار ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہ تھاچنانچہ میں نے اپنی بینائی الو کو تحفہ کیاپنی لاچار محبت کو وینٹیلیٹر پر چھوڑااور جنگل کا رخ کر لیا
محبت کہنے کو لفظ ہے مگرجسے تم نہ سمجھے وہ احساس تھاکئی صدیوں سے محبت کا سفر کرتامیں آج اسی جگہ ہوں جہاں سے چلا تھاکئی برس سے میرے گھر کے دروازےتیری دستک کے لیے ترس رہے ہیںاور ان کو بھی کسی کی یاد کی دیمکاندر سے کھائے جا رہی ہےمیری جاں ہجر میں انتظارکوئی آساں بات تو نہیںتیرے جانے کو آجپانچ برس مکمل ہونے کو ہیںمگر تیری چوڑیوں کی کھنک آج تکمیرے کانوں میں گونج رہی ہےتیری ہجرت کے بعد مجھے احساس ہواکہ بارش کی آواز میں بھی اک موسیقی ہےجسے سن کر لوگوں نے محبت کرنا سیکھامیں نے چاہا تھا کہ ہمارے درمیاں اک آخری ملاقات ہوتی جہاں ہملفظوں کی جگہ اک دوسرے کی خاموشی کو سمجھتےمگر اس ملاقات میں آٹھویں بر اعظم سے آئےکچھ انجان لوگ رکاوٹ بنےجو یونانی خداؤں کی ناجائز اولاد تھےتم نہیں جانتی تمہاری ہجرت کے بعدکتنے چراغوں نے زہر کے پیالے نوش کئےکتنے پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیاکتنے پہاڑوں کو ندیوں نے اپنی آغوش میں لے لیاکتنی تتلیوں نے اپنے رنگ خدا کے کینوس کو تحفہ کر دئےتو کسی نے تیری آواز سننے کے لیےشہروں کے شور کو چھوڑ کرجنگلوں میں بسیرا کر لیاتیری ہجرت کے بعد میں نے خدا سےبغاوت کا سوچا تو خیال آیاکہ تُو بھی اسی کی تخلیق ہےمیں نے ویران شاہراہوں پہ رینگتی خاموشی میںتیری ہجرت کا دکھ دیکھامیں نے بیس ہزار سال پرانے کھنڈرات کیدیوار پر تیرا نام لکھا پڑھا تو محسوس ہواتو تو گزشتہ صدیوں سے لوگوں کا ارمان رہامیں نے سو سالہ پرانے برگد کے پیڑ سےتیری محبت کے قصے سنے تو پتا چلاکہ خلا باز چاند پر زندگی کیتلاش میں کیوں ہیںمیں نے پرانے شاعروں کی نظموں میںتیری ہجرت کا دکھ محسوس کیامیں نے درگاہوں کے باہر بیٹھے فقیروں کے چہروں پرتیری ہجرت کا غم دیکھا ہےکتنے درخت تیری طلب کی منت کے دھاگوں سے بھر گئےاور زمیں نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیازلزلوں سے بوسیدہ گھروں کے ملبوں سےملنے والے خطوط میںمیں نے تیرے لیے محبت بھرے جملے دیکھےمیں نے یونانی خداؤں کی کتابوں میں تیرے قصے پڑھےتو محسوس ہوا تیری محبت کی داستاں میںمیرا کردار ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہ تھاچنانچہ میں نے اپنی بینائی الو کو تحفہ کیاپنی لاچار محبت کو وینٹیلیٹر پر چھوڑااور جنگل کا رخ کر لیا
میں یہاں نہیں تھامیں وہاں نہیں تھادرد بھرے آسمان میںچیخ بن کےابھر رہا تھاتنگ گھاٹیوں میںگونج بن رہا تھاسمندروں پہریزہ ریزہ گر رہا تھامیں یہاں نہیں تھاکالے جنگلوں کے گھور اندھیرے میں تھارفتہ رفتہ سب سیاہی مٹ گئیسارے جنگلکٹ گئےہیولے گھٹتے گھٹتےغزال شب بنےاندھیرے چھٹ گئےابر کے سیاہ ٹکڑے دھند بن گئےچار سو دھند پھیلتی گئیاکائیوں کو دور دور تک بہاتیچار سو پھیلتی گئیدھند میںغزال شب نےرفتہ رفتہ آنکھ کھولیزبان سے کچھ نہ بولیہفت آسمانوں سے لے کےتحت الثری تکہزارہا چراغ جل اٹھےروشنی سے جل گئیغزال شب کی آنکھ نور تھیغزال شب کی آنکھ طور تھیرفتہ رفتہروشنی نے روشنی کواپنی جانب کھینچااور میں نور میں نہا گیادودھیا سیہ رنگچہار سمت چھا گیاپانیوں کا زوربڑھنے لگاسیلاب آیاباندھ ٹوٹےریت کے گھروندےمٹی کے گاؤںپتھروں کے شہر ڈھہ گئےصبح و شام کے کنارےایک دوجے سے گلے مل گئےاندھیرے جسم کے کھنڈر کیسیاہ طاقوں میںدلوں کے سو چراغ جل گئےرفتہ رفتہغزال شب نے آنکھ بند کیاورسارا پانی کھائی کی طرف چلا گیاتیز پانیوں میںمیں بھی آ گیااب فقطمیں روشنی میں بند ہوںاوراندھیروں کو ترس رہا ہوںمیں یہاں نہیں ہوںمیںغزال شب کے ساتھ ہوںمیںغزال شب کے ساتھ ہوں
عجب پاگل سی لڑکی تھیعجب سی خواہشیں اس کیوہ ہفت افلاک کی دھن میں ہوا کے دوش پر رقصاںلگن میں فاش کرنے کیزمین و آسماں کے راز سر بستہزمیں کے ساتھ ضد باندھےکہگرد مہر عالم تاب کیوں یہ رقص پیہممجھے اس کلیے کو توڑ کرزمین و آسماں سے آگے جانا ہے
میں کب سے زمیں پر زمیں کی طرح چل رہا ہوںیہ دیوانہ اندھا سفر کب کہاں جا کے چھوڑے گا مجھ کو؟میں اس زندگی کی بہت سی بہاریں غذا کی طرح کھا چکا ہوںپہن اوڑھ کر پیرہن کی طرح پھاڑ دی ہیںمیں ریشم کا کیڑا ہوں کویے میں چھپ جاتا ہوں ڈر کے مارےاسی کویے کو کھاتا رہتا ہوں اور کاٹ کر اس سے آتا ہوں باہراور اپنے جینے کا مقصد سبب جاننا چاہتا ہوںمرا دل خدا کی رضا ڈھونڈھتا پھر رہا ہےمرا جسم لذات کی جستجو میں لگا ہےگزر گاہ شام و سحر پر کہیں ایک دن میں اگا تھانباتات کی طرح جیتا ہوں اس کارگاہ جہاں میںنہ احساس ایمان ایقان کوئینہ دنیا میں شامل نہ خود اپنی پہچان کوئیگنہ اور جہنم ثواب اور جنت؟یہ کیوں ہے کہ بے مزد کچھ بھی نہیں مل سکا ہےنہ کل مل سکے گااساطیر فرماں رواؤں کے احکام اور صوفیا کی کرامت کے قصےپیمبر کی دل سوزیوں کے مظاہرقلم بند ہیں سب!انہیں ہم نے تعویذ کی طرح اپنے گلوں میں حمائل کیا ہےانہیں ہم نے تہہ خانوں کی کوٹھری میں مقفل کیا ہےجہاں لڑکھڑاتے ہیں ان کی مدد لے کے چلتے ہیں آگےمگر راستوں کا تعین نہیں ہے!
تم سمجھتے ہو یہ شب آپ ہی ڈھل جائے گیخود ہی ابھرے گا نئی صبح کا زریں پرچممیں سمجھتا ہوں کسی صبح درخشاں کے عوضقہر کی ایک نئی رات کو دے گی یہ جنماور اس رات کی تاریکی میں کھو جائیں گےمکتب و خانقہ و دیر و کلیسا و حرمدیو ظلمات کی ٹھوکر سے نہ پائیں گے پناہیہ شوالے، یہ مساجد، یہ پجاری، یہ صنمرکھ دیے جائیں گے شمشیر کے زیر سایہدست ماتم لب فریاد، زبان و تنقیدبرف جم جائے گی افکار کے گلزاروں پریخ ہواؤں میں ہی جم جائے گی کشت امیدچاندنی ظلمت سیال میں ڈھل جائے گیرات کی مانگ سنوارے گی شعاع امیداہل فن دیں گے اندھیروں کو اجالوں کا لقبزہر کو قند، محرم کو کہا جائے گا عیدیہ مرا وہم نہیں، ناول و افسانہ نہیںدوستو! غور کرو، اور نگاہیں تو اٹھاؤوہ جو اک سرخ ستارہ ہے افق کے نزدیککچھ تمہیں علم ہے کس رخ پہ ہے اس کا پھیلاؤکاش تم اس کی حقیقت پہ نظر ڈال سکوہے یہ اک آتش صد برق بداماں کا الاؤاس کی کرنوں میں ہے چلتی ہوئی تلوار کی کاٹاس کی سرخی میں ہے امڈے ہوئے دریا کا بہاؤاس کے دامن میں ہے آسودہ وہ فتنہ جس سےجسم تو جسم میسر نہیں روحوں کو اماںدل، نظر، ذہن، خیالات، اصول و اقدارسب کے سب اس کی تگ و تاز سے لرزاں ترساںاس کی پرچھائیں بھی پڑ جائے تو سبزہ جل جائےدیکھتے دیکھتے ماحول پہ چھا جائے دھواںاس کے شعلوں کا تو کیا ذکر کہ شعلے ٹھہرےاس کی شبنم بھی گلستاں کے لیے برق تپاں
تڑپ رہے ہیں جو طوفاں مرے خیالوں میںوہ بند ضبط و تحمل سے آ نہ ٹکرائیںابھر رہی ہیں جو موجیں شکست ارماں کیوہ میرا عزم مصمم بہا نہ لے جائیںدہن خموش زباں چپ لبوں پہ مہر سکوتمری حیات کا مقصد ہے غم پہ غم کھائیںخلا میں گھور رہا ہوں نقوش ماضی کویہ بے یقینیٔ فردا میں گم نہ ہو جائیںخموشیوں میں یہاں ایک حشر برپا ہےکہاں سے ڈھونڈ کے لمحات پر سکوں لائیںجو اپنی ساری امیدوں کا خون ہو جائےقسم سے دست ستم کو سکون ہو جائے
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیںدیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہےسوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہےآسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہےکیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہےسانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگرزندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہےاور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہےاے خداوندان ایوان عقائداے ہنر مندان آئین و سیاستزندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئےمجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے
یہ کس کی ندا ماوراے ندا آ رہی ہےیہ روئے معشیت ہے یا غیب کا کوئی نورانی ہالاموت کی آمد آمد ہےموت مکتب علم عدم سے نکل کےجسم خاک و خاشاک سے جان نکالتی ہےپھر اپنی برتری سرخ روی لیےزمیں تا زمیں اور آسماں تا آسماں پھرتی ہےموت ایک کرتب باز ہےیا تمام کرتبوں کی موجد ہےاس نے نر اور مادہ کو ایجاد کیااور دونوں کو ہم بدن کیاپھر انزال کی موسیقی میں موسیقی میں اس کا گم ہونا ہی تو ازل و ابد ہےکبھی نہ ظاہر ہونے والی زمین کی فضا اور اس کا آسمان توپرندے کے باطن میں ہوتا ہےورنہ جسم سے جان نکلتے ہوئے کس نے دیکھا ہےکس نے دیکھا ہے ایک دوسرے میں سوتے جاگتے پیڑ پودوں کوحشرات کو جمادات کونیند تو کسی گمشدہ جزیرے کا نام ہےاور بیداری تو آنکھوں کو دھوکا دینے والی دھند ہےاور اس دھند میں ان گنت صدیاں بیت گئیپھر نہ جزیرہ ہی ملا نہ صدیاں مستقبل ہوئیں
ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کیچوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہآگے خلااور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمودآسماں کے پاؤں پر مہتاب و انجم کے سجوداور زمیں کی رونقوں کا وہم فکر رفت و بودبن دیے کس نے یہ تار و پودکس کے ہاتھ میں آیا نظام کائناتکس کے ذرے بن گئے دنیا ستارے آفتابکس نے آوارہ خیالی کو پلائی فکر شیریں کی شرابکس نے یہ سب کچھ بنایااور خود تاریک پردوں میں کہیں بیٹھا رہاکیا یہ سب پھیلاؤ میرے واسطے ہیںیا میں خود اس کی پرانی روح میں بیٹھا ہواگن رہا ہوں اس کے اشکوں کی قطارپونچھتا ہوں اس کے آنسو مانگتا ہوں اس سے بھیک(چاہتا ہوں روح کی خاطر سکوں)وہ تو خود اس خیر و شر کے جال میں الجھا ہوادرد سے بیتاب تخلیق اذیت سے نڈھالچیخ کر کہتا ہے ''مجھ کو مار ڈال''
وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زنمگر وہ حسن زندگی، مگر وہ جنت وطنوہی زمیں، وہیں زماں، وہی مکیں، وہی مکاںمگر سرور یک دلی، مگر نشاط انجمنوہی ہے شوق نو بہ نو، وہی جمال رنگ رنگمگر وہ عصمت نظر، طہارت لب و دہنترقیوں پہ گرچہ ہیں، تمدن و معاشرتمگر وہ حسن سادگی، وہ سادگی کا بانکپنشراب نو کی مستیاں، کہ الحفیظ و الاماںمگر وہ اک لطیف سا سرور بادۂ کہنیہ نغمۂ حیات ہے کہ ہے اجل ترانہ سنجیہ دور کائنات ہے کہ رقص میں ہے اہرمنہزار در ہزار ہیں اگرچہ رہبران ملکمگر وہ پیر نوجواں، وہ ایک مرد صف شکنوہی مہاتما وہی شہید امن و آشتیپریم جس کی زندگی، خلوص جس کا پیرہنوہی ستارے ہیں، مگر کہاں وہ ماہتاب ہندوہی ہے انجمن، مگر کہاں وہ صدر انجمن
آدم خاکی کی پیدائش سے پہلےجن کا کہنا تھا زمیں پرخون بہائے گا یہ ناحقاور مچائے گا فساداب وہی پیشین گو امیدواراس کے گن گاتے ہوئے تھکتے نہیںامتحان گاہ مقدر ہو تو ایسیجس میں پر تاب و تواں ہمکارپردازان فطرت لا جواباور آدم اس کی طینت میں تو گویاحل شدہ پہلے سے تھے سارے سوالجن مظاہر کی طرف دیکھا نظر بھر کرمعانی کے دمک اٹھے انہیں میں مضمراتحکمت اشیا کے سانچے میں ڈھلیبے ساختہ اسم آفرینی مرحباخاک بے مقدار کے ذرات میںجوہر نطق و بیاں ایسا بھی مخفی ہےکسے معلوم تھاامتحاں ختماور مسجود ملائک بن گئی انساں کی ذاتمیں نے لیکن شیوۂ انکار اپنایاکہ میں آتش نہادمرتبے میں خاک افتادہ سے برتراصل میں والا گہرچاہے افلاک و زمین پرپھیل کر چھا جائے یہ مشت غبارحربہ تسخیر لیکن کارگر مجھ پر بھی ہو اس کایہی اک مرحلہ ہے معرکے کاامتحاں یہ سخت تر ہےکامیابی اس میں بھی پائے یہیامیدوار خوش گماںآساں نہیںمیری اپنی اک لغت ہےجس میں اسما کے معانی بار باراک نئی تعبیر کے آئینہ دارمنصب آزادگی آدم کااک پروانۂ غارت گریاس میں لکھا ہےاور آگاہیتباہی کے وسائل تک رسائی کا جوازاس میں چھپا ہےالغرض اس کھیل کا مہرہ وہیعلم اسما ہے مگراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکاراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکار
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books