aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "matlaa"
آنکھوں میں بھی چتون میں بھی چاند ہی چاند جھلکتے ہیںچاند ہی ٹیکا چاند ہی جھومر چہرا چاند اور ماتھا چاند
جس کی تابش میں درخشانی ہلال عید کیخاک کے مایوس مطلع پر کرن امید کی
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤہر ہجر کا دن تھا حشر کا دندوزخ تھے فراق کے الاؤروؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئےہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤتم آئے تو ساتھ ہی تمہارےبچھڑے ہوئے یار یاد آئےاک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھااور مجھ کو ہزار یاد آئےوہ سارے رفیق پا بجولاںسب کشتۂ دار یاد آئےہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہاک دشت کے سارے ہم سفر ہیںکچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطرآشفتہ نصیب و در بدر ہیںکچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سےایوان شہی میں معتبر ہیںسقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھےمنصور و حسین سے عقیدتتم بھی تو بہت جتا رہے تھےکہتے تھے صداقتیں امر ہیںاوروں کو یہی بتا رہے تھےاور اب جو ہیں جا بجا صلیبیںتم بانسریاں بجا رہے ہواور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہوجب سچ تہ تیغ ہو رہا ہےتم سچ سے نظر چرا رہے ہوجی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوںکیا راز اس اجتناب میں ہےتم اتنے کٹھور تو نہیں تھےیہ بے حسی کسی حساب میں ہےتم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہوجب خلق خدا عذاب میں ہےسوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہےاک لقمۂ تر قلم کی قیمتغیرت کو فروخت کرنے والواک کاسۂ زر قلم کی قیمتپندار کے تاجرو بتاؤدربان کا در قلم کی قیمتناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوںغفلت سے یہ زہر گھولتے ہوتھامے ہوئے مصلحت کی میزانہر شعر کا وزن تولتے ہوایسے میں سکوت، چشم پوشیایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہواک عمر سے عدل و صدق کی لاشغاصب کی صلیب پر جڑی ہےاس وقت بھی تم غزل سرا ہوجب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہےجنگل پہ لپک رہے ہیں شعلےطاؤس کو رقص کی پڑی ہےہے سب کو عزیز کوئے جاناںاس راہ میں سب جئے مرے ہیںہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیںمیں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشقاور ایک نہیں کئی کیے ہیںلیکن غم عاشقی نہیں ہےایسا جو سبک سری سکھائےیہ غم تو وہ خوش مآل غم ہےجو کوہ سے جوئے شیر لائےتیشے کا ہنر قلم کو بخشےجو قیس کو کوہ کن بنائےاے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میںہے بے وطنی گواہ میریہر چند پھرا ہوں در بدر میںبیچا نہ غرور نے نوازیایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میںتم بھی کبھی ہم نوا تھے میرےپھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہےمٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہےدریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہےکب ایک ہی رت رہی ہمیشہیہ ظلم کی فصل بھی کٹے گیجب حرف کہے گا قم بہ اذنیمرتی ہوئی خاک جی اٹھے گیلیلائے وطن کے پیرہن میںبارود کی بو نہیں رہے گیپھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گےٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلعجاناں کے لیے سخن کہیں گےافسانۂ یار و قصۂ دلپھر انجمن انجمن کہیں گے
اس دور میں تو کیوں ہے پریشان و ہراساںکیا بات ہے کیوں ہے متزلزل تیرا ایماںدانش کدۂ دہر کی اے شمع فروزاںاے مطلع تہذیب کے خورشید درخشاں
صبح دم جب گوشہ گوشہ مطلع انوار تھاذرہ ذرہ عالم نیرنگ کا سرشار تھا
میں یہ کہتی ہوں چکا دیجے جو پچھلا قرض ہےآپ اپنی دھن میں کہتے ہیں کہ مطلع عرض ہے
ہر عضو بدن مصرعۂ غالب کی طرح تھاچہرے کی چمک مطلع حالی کی طرح تھی
لفظ تقدیر مریحسن بھی لفظ میں ہےعشق بھی لفظ میں ہےعدل بھی لفظ میں ہےلفظ میں ساز ازللفظ میں راز ابدلفظ معمورۂ خوشبولفظ اک قوس قزحلفظ بادل کا خراملفظ دریا کی روانیلفظ میں رفعت کوہلفظ میں وسعت صحرالفظ مٹی کا نمولفظ میں چاند کا محورلفظ میں مطلع خورشید درخشاں
شہر کی آنکھوں کا مطلع صاف ہوتو دل میں اترے ڈھاک کے پھولوں کی آنچشہر کے نتھنے کھلیں تو موجۂ باد جنوبآم پر بور آ چکا ہے یہ خبر پھیلائےشہر کے کانوں سے نکلیں شور و غل کے ڈاٹتو چھوئے شہ رگ کو کوئل کی پکارشہر کی جاں سے غبار شہر کا بادل چھٹےتو حواس خمسہ کی نگری میں بھی آئے بسنت
تاریکیوں کو مطلع انوار کہہ گئےظلم و ستم کو طالع بیدار کہہ گئے
دیکھنا جلوۂ جاناں کا اثر آج کی راتپھول ہی پھول ہیں تا حد نظر آج کی راترائیگاں جا نہ سکا آنکھ سے اس کا بہنارنگ لایا ہے مرا خون جگر آج کی راتدامن شوق کو تھامے ہوئے ہیں شرم و حیادل دھڑکتا ہے بہ انداز دگر آج کی راتحسن و تقدیس کی دلچسپ حکایت پڑھ کردھن رہا ہے دل حیرت زدہ سر آج کی راتچاند اک مطلع انوار درخشاں ہی سہیایک تصویر ہے حیرت کی مگر آج کی راتجلوۂ حسن کے اخراج کا عالم دیکھومیری نظروں میں ہیں رقصاں سے شرر آج کی راتجذبۂ شرم نے چھڑکاؤ کیا شبنم کارخ گلنار ہے اک شعلۂ تر آج کی راتمئے الفت کا چھلکتا ہوا پیمانہ ہےاس کی شرمیلی سی ترچھی سی نظر آج کی راتیہ دعائے دل معصوم الوہی ہو قبولتا قیامت رہے محروم سحر آج کی رات
مطلع مشرق پہ چمکا آفتاب شاعریہر کرن جس کی بنی تار رباب شاعری
بات یوں ختم ہوئیدرد یوں گیا جیسے کہ ساحل ہی نہ تھاسارے الطاف و کرم بھول گئےجور فراموش ہوئےرات یوں بیت گئی جیسے کہ نکلا ہی نہ تھامطلع شوق پہ وہ ماہ تماماشک یوں سوکھ گئے جیسے کہ دامن میرااس کا آنچل تھاوہ پیمانۂ نازجانے گردش میں ہے کہ ٹوٹ گیامیں زمانے کے کنارے یوں کھڑا ہوں تنہاجیسے ایک جست لگا ہی دوں گااور کل باد سحریوں مٹا دے گی ہر اک نقش قدمجیسے اس راہ سے پہلے کوئی گزرا ہی نہ تھا
ساجدہ کن یگوں کی مسافت سمیٹے ہوئےاس بیاباں میں یوں ہی بھٹکتی رہو گیان بگولوں کے ہم راہ یوں رقص کرتی رہو گیکتنے صحراؤں میں تم نے پھوڑے ہیں پاؤں کے چھالےکتنی بیدار راتوں سے مانگا ہے تم نے خراج تمناساجدہ کچھ کہوہجر کی کن زمانوں میں اشکوں کی مالا پروئیکن حسابوں چکایا قرض جنوںکون سے مرحلوں سے گزر کر بنا روح کا پیرہنکس طرح جاں سے گزرے ہیں طوفان غم
مغرب کو بھی ملتا تھا کبھی فیض یہاں سےبھارت تھا زمانے میں کبھی مطلع انوار
قریب آؤ کہ جان جاناںتمہیں سناؤں وہ ساری غزلیںکہ جن کا مطلع تمہاری آنکھیںوہ جن کا ہر ایک قافیہ ہےتمہاری زلفوں کی لٹ سراسرردیف جن کی جو سچ کہوں توتمہاری انگشتری کا جوہروہ جن کا ہر ایک شعر گویاتمہاری صورت مہک رہا ہےوہ جن کا مقطع تمہارا رومالجس کے اوپر مرا تخلص لکھا ہوا ہےقریب آؤ کہ جان جاناںتمہیں سناؤں وہ ساری غزلیںکہ جن کی تشریح تم ہی تم ہو
اے کہ دل تیرا ہے فکر بادۂ گلفام میںزہر بھی ہوتا ہے اکثر خوب صورت جام میںاے کہ سینہ میں ترے ارمان گل ہے بے قراردیکھنا بیداد نوک خار سے بھی ہوشیاراس سکوت عارضی پر خوش نہ ہو جانا کہیںتو نے مد و جزر موجوں کا ابھی دیکھا نہیںکر نہ دے خیرہ تری نظروں کو تزئین غلافہاں اسی پردہ میں ہے اک تیغۂ خارا شگافباعث دل بستگی الفاظ کا جادو نہ ہودیکھ لفظوں میں نہاں دم کا کوئی پہلو نہ ہوہے تری تشنہ لبی کو آرزوئے جوئے آبجستجو تیری نہ ہو وارفتۂ دشت سرابہے نظر افروز اگرچہ جلوۂ برق تپاںخرمن دہقاں سے لیکن پوچھ اس کی داستاںآگ سے بچ کام میں لا قوت تمئیز کوکہہ نہیں سکتے ہیں سونا ہر چمکتی چیز کوشعلۂ بے باک بھی ہے مطلع انوار بھیشمع کی فطرت میں غافل نور بھی ہے نار بھیخوبیٔ آغاز ہی پر دل نہ ہو جائے نہاںتلخی انجام کا بھی دل میں کر لیتا خیالپی نہ جانا بادۂ عشرت کا جام خوش گوارہے بہت تکلیف دہ اعضا شکن اس کا خمارظاہری حالت پہ ہرگز کر نہ باطن کا قیاسخوبیٔ تن پر دلالت کر نہیں سکتا لباسہے دل سادہ ترا وارفتۂ حسن حجابزشت روئی کا کہیں پردہ نہ ہو رنگیں نقابہو نہ جائے معتقد دل ظاہری تنویر کادیکھ لینا دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا
ہو رہا ہے یہ نظام دہر میں کیا انقلابآج مشرق ہی میں ڈوبا جا رہا ہے آفتابچھا گئی افسردگی ایسی در و دیوار پریورش ظلمت ہو جیسے مطلع انوار پرروشنی کم ہو چلی نظارے گھبرانے لگےآج دن میں خلق کو تارے نظر آنے لگےڈوبا جاتا ہے نظر کے سامنے گردوں کا دلآرزو میں بے سر و پا ہیں نگاہیں مضمحلگھلتا جاتا ہے سحر کے وقت قرص آفتاببے ثباتی کا معمہ ہو رہا ہے بے نقاباب نظام چرخ کج رفتار برہم ہو گیایک بیک دنیا کا کاروبار مدھم ہو گیاامتحاں کا وقت ہے سورج گہن میں آ گیادونوں عالم کی فضاؤں پر دھندلکا چھا گیادست فطرت نے نواز نغمۂ خاموش ہےحیرتوں کا نقش لوح دل سے ہم آغوش ہےزندگی میں ایک ایسا دور آتا ہے ضروربار غم سے جب سکوں کا ٹوٹ جاتا ہے غرور
صبح کے رنگیں لبوں پر ہے تبسم کی جھلکگل متاع زر نچھاور کرتے ہیں کلیاں مہکلیتی ہے انگڑائیاں غنچوں کے پہلو میں حیاتکروٹوں پر کروٹیں لیتی ہے روح کائناتنرم و نازک تابشوں سے ضو فگن ہے آفتابآسماں کا مطلع رنگیں ہے محروم سحاببے تکلف ہیں نظر کے سامنے دیوار و درپنجۂ خورشید سے ٹکڑے ہے دامان سحراپنی مجبوری پہ اہل باغ نے سر دھن لیےمہر نے کرنوں کی نکچوٹی سے موتی چن لیےیہ سماں ہے میں ہوں اور لاہور کا لارنس باغگشت میں ہیں مغربی تہذیب کے چشم و چراغ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books