aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mudda.aa"
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
مدعا ایک ہےاک ہماری ہے کیاساری دنیا کا ہیسلسلہ ایک ہےایک آئے تھے ہمایک آئے تھے تمایک ہے یہ سفربھیڑ کتنی بھی ہواپنی اپنی جگہہر کوئی ایک ہےنام ہیں گو جداپر خدا ایک ہے
تم تو ہو دل کا مدعاتم سے شکایت کیا کروں
تیرے خطوں کی خوشبوہاتھوں میں بس گئی ہے سانسوں میں رچ رہی ہےخوابوں کی وسعتوں میں اک دھوم مچ رہی ہےجذبات کے گلستاں مہکا رہی ہے ہر سوتیرے خطوں کی خوشبوتیرے خطوں کی مجھ پر کیا کیا عنایتیں ہیںبے مدعا کرم ہے بے جا شکایتیں ہیںاپنے ہی قہقہوں پر برسا رہی ہے آنسوتیرے خطوں کی خوشبوتیری زبان بن کر اکثر مجھے سنائےباتیں بنی بنائی جملے رٹے رٹائےمجھ پر بھی کر چکی ہے اپنی وفا کا جادوتیرے خطوں کی خوشبوسمجھے ہیں کچھ اسی نے آداب چاہتوں کےسب کے لیے وہی ہیں القاب چاہتوں کےسب کے لیے برابر پھیلا رہی ہے بازوتیرے خطوں کی خوشبواپنے سوا کسی کو میں جانتا نہیں تھاسنتا تھا لاکھ باتیں اور مانتا نہیں تھااب خود نکال لائی بیگانگی کے پہلوتیرے خطوں کی خوشبوکیا جانے کس طرف کو چپکے سے مڑ چکی ہےگلشن کے پر لگا کر صحرا کو اڑ چلی ہےروکا ہزار میں نے آئی مگر نہ قابوتیرے خطوں کی خوشبو
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیراے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیراس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھشہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہیصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہیسنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھچشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھمدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیںترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیںوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباںچھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاںوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سےمحفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑرنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑتو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صداہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصاعرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھےنیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھےبندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہےقوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہےہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقمشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جمپاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے توہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبروسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سےخرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانیہوں تو ناکام پہ ہوتے ہیں مجھے کام بہتمدعا محو تماشائے شکست دل ہےآئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھےرات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھاچاند کے آنے پہ سائے آئےسائے ہلتے ہوئے، گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیںمیر ہو مرزا ہو میرا جی ہواپنی ہی ذات کی غربال میں چھن جاتے ہیںدل خراشیدہ ہو خوں دادہ رہےآئنہ خانے کے ریزوں پہ ہم استادہ رہےچاند کے آنے پہ سائے بہت آئے بھیہم بہت سایوں سے گھبرائے بھیمیر ہو مرزا ہو میرا جی ہوآج جاں اک نئے ہنگامے میں در آئی ہےماہ بے سایہ کی دارائی ہےیاد وہ عشرت خوں ناب کسےفرصت خواب کسے
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نےیہیں کی جرأت اظہار حرف مدعا میں نےیہیں دیکھے تھے عشوۂ ناز و انداز حیا میں نےیہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نےیہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
نارسائی مری نارسائی مری!جس کو پایا نہ تھا اس کو کھونے کا غممیری خواہش کے سینے کا ناسور ہےکس کو آواز دوں کس کا ماتم کروںوہ ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیںکس سے پوچھوں مرا مدعا کون ہے!نارسا کون ہے!
ترا ننھا سا قاصد جو ترے خط لے کر آتا تھانہ تھا معلوم اسے کس طرح کے پیغام لاتا تھاسمجھ سکتا نہ تھا وہ خط میں کیسے راز پنہاں ہیںحروف سادہ میں کس حشر کے انداز پنہاں ہیںاسے کیا علم ان رنگیں لفافوں میں چھپا کیا ہےکسی مہوش کا ان کے بھیجنے سے مدعا کیا ہے
جو بیاں اظہار حرف مدعا پر ختم ہواس کی بالکل مختصر تمہید ہونی چاہئے
خواب دیکھا تھا کسی دامن کی چھاؤں میں کبھیایک ایسا خواب جس کا مدعا کوئی نہیںمیں اکیلا جا رہا ہوں اور زمیں ہے سنگلاخاجنبی وادی میں میرا آشنا کوئی نہیںراستے کٹتے ہوئے گم ہو گئے ہیں دھند میںدھند سے آگے خلا ہے راستہ کوئی نہیں
اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سااک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہوالو میں زباں تراش کے خاموش ہو گئیلو اب تو میری آنکھ میں آنسو نہیں کوئیبس ایک میرا گنگ مرا حرف مدعا
حسین آباد ساراتعزیہ داروں کی بستی تھیمحرم کے دنوں میں شام ہوتے ہیحسین آباد کے مرد و زن کالے لباسوں میںعزا خانوں کے دالانوں میںشب بھر مرثیہ پڑھتےصف ماتم بچھاتے اور اپنی چھاتیوں کو لال کر لیتےنویں کی شب وہ سب اپنے گھروں سے آگ لاتےاور دہکتی آگ کی چاروں طرف اینٹیں بچھا دیتےہزاروں آنکھیں مشتاقانہ اک جانب کو اٹھ جاتیںفضا میں گونج سی ہوتیکوئی نعرہ لگاتا اور حسین ابن علی کا نام لے کرآگ کی اینٹوں پہ یوں چلتا ہوا آتاکہ جیسے فرش گل ہو یا کوئی سبزے کی چادر ہووہ پھر نعرہ لگاتا دوڑتا بجلی کی تیزی سےمقدس آیتوں والا علم ہاتھوں میں لے لیتاکمر سے اپنی کس لیتاہزاروں لوگ اس کے گرد حلقہ باندھ لیتےاور اسے کشف و کرامت کا خزینہ جان کراپنے دلوں کا مدعا کہتےوہ پیہم آگ کی اینٹوں پہ یوں ہی ناچتا رہتامرادوں منتوں کا ماجرا سنتامگر جب آگ کی اینٹوں کی سرخی ماند ہو جاتیتو سارے لوگ حلقہ توڑ دیتے اور مقدس آیتوں والا علماس شخص کے ہاتھوں سے لے لیتےعزا خانوں کے دالانوں میں واپس لوٹ کر آتےصف ماتم بچھاتےاور اپنی چھاتیوں کو لال کر لیتے
بہت دن سے وطن میں اک محاذ جنگ قائم ہےکہیں ہے دھرم کو خطرہ کہیں ایمان کو خطرہبپا ہے سخت طوفاں رونما ہیں سخت ہنگامےکہیں ہے وید کو خطرہ کہیں قرآن کو خطرہکہیں مسجد کو خطرہ ہے شوالے کے مہنتوں سےکہیں ہے خانقہ والوں سے دیو استھان کو خطرہکہیں مسلم کو خطرہ اپنے ایمانی تحفظ کاکہیں ہندو کے پوجا پاٹ کے سمان کو خطرہکہیں شدھی کے پرچارک کو خطرہ دھرم رکشا کاکہیں تبلیغ کے جھنڈے کی آن بان کو خطرہنہیں ہوتا کوئی ایسا منٹ چوبیس گھنٹے میںنہ رہتا ہو وطن والوں کے مال و جان کو خطرہیہ ساری پیش بندی ہے فقط اس بات کی خاطرکہ لاحق ہو نہ برٹش راج کے ایوان کو خطرہیہ ٹھیکیدار دین اور دھرم کے اس کے بھی ضامن ہیںنہ پیدا ہو مفاد اہل انگلستان کو خطرہیہ خانہ جنگیاں جتنی ہیں سب کا مدعا یہ ہےنہ ہرگز رونما ہو جان بل کی جان کو خطرہغلامان ازل یعنی یہ جھوٹے پیشوائے دیںلگا رہتا ہے ہر دم جن کے دسترخوان کو خطرہوہ کب چاہیں گے کوئی اس طرح کا انقلاب آئےکہ ہو محسوس ان کے امن و اطمینان کو خطرہہمارا فرض ہے ہم ان لفنگوں کو فنا کر دیںکہ ہے ان سب کے سب سے عام ہندوستان کو خطرہ
اے خدا اے خدامیں ہوں مصروف تسبیح و حمد و ثناگو بظاہر عبادت کی عادت نہیں ہےرند مشرب ہوں زہد و ریاضت سے رغبت نہیں ہےمگر جب بھی چلتا ہے میرا قلمجب بھی کھلتی ہے میری زباںکچھ کہوں کچھ لکھوںتیری تخلیق کا زمزمہ مدعا منتہاحرف جڑ کر بنیں لفظ تو کرتے ہیں تیری حمد و ثنایا خدا یا خدامیرے اطراف ہیں پیٹ خالی بدن نیم جاںکوئی تکتا ہے جب میرا دست تہیشرم آتی ہے مجھ کو خدائے غنیسوچتا ہوں میں اپنی زباں رہن رکھ دوں کہیںرزق سے خالی پیٹوں کو بھر دوںجو ہیں نیم جاں ان میں جان پھونک دوںاور اپنے لیے تھوڑی آسائشیں مول لے آؤں بازار سےاپنے بچوں کی ضد پوری کر دوںجو واقف نہیں ہیں معیشت کے انداز و رفتار سےپھر یہی سوچتا ہوںخدا اے خداکیا زباں رہن ہو کر بھی تیری اطاعت کرے گیکیا قلم بک کے بھی نام تیرا ہی لے گادوسروں کو خدا مان کروہ نہ کرنے لگیں ماسوا کی بھی حمد و ثنااے خدا اے خدا ہے دعاآخری سانس تکیہ قلم یہ زباںلکھتے رہتے ہیں لاالہ
پھول سے روٹھتی ہے کب خوشبورات سے روٹھتا ہے کب جگنونین سے دور کب رہا جادوہنستے ہنستے نکل گئے آنسویوں تو ہر شے کو ہے فنا یعنیرہ گیا اپنا مدعا یعنیاس طرح سے کوئی نہیں جاتاجس طرح روٹھ کر گئے جاناں
میں تیری بستی سے بھاگ کر دور اک خرابے میں آ گیا ہوںیہ وہ خرابہ ہے جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہےیہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےیہاں ہے وہ عالم خموشی کہ دل کی دھڑکن بھی بے صدا ہےکہ میری تنہائیوں کے دامن افق کے دامن سے جا ملے ہیںترے نگر کے حسین کوچے شفیق گلیاں جو زیست کی روشنی کا گھر ہیںمرے لیے میری بے بسی نے انہیں شب آلود کر دیا ہےوہ رہ گزر تیرے نقش پا پر جہاں ہزار آستاں بنے ہیںوہ رہ گزر اجنبی ہوئے ہیںجہاں میں اب ہوں وہاں اگرچہ ہے بے کراں تیرگی فضا میںمگر یہاں بھی مرے خیالوں میں مہر بن کر ترا سراپا دمک رہا ہےہوا کے بے کیف سرد جھونکے جو زرد پتوں سے کھیلتے ہیںتو میری بے آب خشک آنکھیں تجھے خلاؤں میں ڈھونڈھتی ہیںمرا تخیل کہ اس خرابے سے بد گماں ہےمرے جنوں کو جھنجھوڑتا ہے تو سوچتا ہوںاگرچہ تو ایک وہ حقیقت ہے جس کا اقرار لا بدی ہےمگر یہ تیرا وجود میرے لیے فقط ایک واہمہ ہےکہ تیری زلفوں کو میرے شانوں نے اپنی دنیا سے دور پایاکہ میرے اشکوں کو تیرے دامن کی آرزو ہی رہی ہمیشہمگر یہ خوش تھاکہ میرے غم نے ترے تخیل میں وہ ستارے سے بھر دئے تھےچراغ جن کے نہ بجھ سکے ہیں نہ بجھ سکیں گےیہ سب تھا لیکن جنوں پہ کچھ ایسی قدغنیں تھیںکہ جذب دل حرف مدعا کو نہ پا سکا تھاکبھی کوئی درد لفظ بن کر مری زباں پر نہ آ سکا تھامگر نہ جانے وہ کیا تھا جس نے دلوں کے پردے اٹھا دئے تھےجنوں کے اسرار واقعے تھےتہی زباں ہم ہوئے تھے لیکن زباں کے محتاج کب رہے تھےکہ ہم نگاہوں سے دل کے پیغام بھیجتے تھےیہ سب تھا لیکن میں کرب جاں سوز کا امیں تھاوہ کرب جاں سوز تھا کہ میری حیات سے نیند بد گماں تھیاور اس خرابے میں جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہےجہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےمرا گماں تھا یہاں تجھے خود سے دور پا کر میں کرب سے جاں بچا سکوں گاتجھے کبھی تو دماغ و دل سے ہٹا سکوں گاتجھے کبھی تو بھلا سکوں گامگر یہ اک اور واہمہ تھاقیامتیں سوز درد دل میں نہاں وہی ہیںعبث غم زندگی سے میں نے فرار چاہااسی طرح کرب جاں گزا سے میں اب بھی آتش بجا ہوں ہر دمکہ اب ترا شہر چھوڑنے کا اک اور غم ہےاگرچہ تیرا وجود میرے لیے فقط ایک واہمہ تھااگرچہ تیرا وجود میرے لیے فقط ایک واہمہ ہےمگر ترا پیکر مثالی مرے خیالوں میں جاگزیں ہےکہ وہ کسی دل کشا حقیقت کا بھی امیں ہےاور اس سے مجھ کو مفر نہیں ہے
اے جمال دوست تیری دید ہونی چاہئےغم زدوں کی بھی تو آخر عید ہونی چاہئےجب نہیں ہے آپ کو ترک تعلق کا خیالآپ ہی کے قول سے تردید ہونی چاہئےمانتا ہوں میں کہ بے شک قول کے سچے ہیں آپلیکن اپنے عہد کی تجدید ہونی چاہئےمیری جانب سے سہی تحریک تکمیل وفالیکن اس کو آپ کی تائید ہونی چاہئےآپ نے تنقیص کر دی داستان شوق کیمیرا یہ ارمان تھا تنقید ہونی چاہئےہر قدم پر رہرو الفت کو منزل کے لئےشوق ہونا چاہئے امید ہونی چاہئےجو بیاں اظہار حرف مدعا پر ختم ہواس کی بالکل مختصر تمہید ہونی چاہئےہم کو بھی معلوم ہو کن سے ہے رونق بزم کیآپ کے احباب کی تفرید ہونی چاہئےآپ جب چاہیں مرے چلو میں تلچھٹ ڈال دیںکب کہا تھا محفل جمشید ہونی چاہئےسجدہ ریزی کے لئے اس رہ گزر میں اے جبیںنقش پائے دوست کی تقلید ہونی چاہئے
گیہوں کیا شے ہے باجرا کیا ہےاور چاول ہے کیا چنا کیا ہےاف یہ بستہ مرے خدا کیا ہےمری تقدیر میں لکھا کیا ہےیہ اسکول اور مدرسہ کیا ہےان کے کھلنے کا مدعا کیا ہےآج تک یہ سمجھ میں آ نہ سکالکھنے پڑھنے سے فائدہ کیا ہےیہ کتابیں یہ کاپیاں یہ قلمان میں کچھ تو کہو دھرا کیا ہےبس کتابوں بھرا بڑا بستہاور ماں باپ نے دیا کیا ہےماسٹر مجھ کو مارتے کیوں ہیںمیں نے ان کو بھلا کہا کیا ہےآدمی سے بنا دیا مرغااور اس سے بڑی سزا کیا ہےدیر چھٹی میں کیا ہے دیکھوں تواب گھڑی میں مری بجا کیا ہےہم کو امی یہ پہلے بتلا دوچائے کے ساتھ ناشتہ کیا ہےجس نے کھائے نہ ہوں وہ کیا جانےرس بھری کیا ہے غلغلہ کیا ہےسو گدھوں پر شکیل ہے بھاریسامنے اس کے اک گدھا کیا ہےسر منڈا کر وہ آ رہا ہے طفیلبڑھ کے دے ٹیپ دیکھتا کیا ہےبات یکتاؔ کی مان اپنے لیےسوچ اچھا ہے کیا برا کیا ہے
نہ تکمیل عہد وفا چاہتا ہوںنہ تجدید جور و جفا چاہتا ہوںمیں اک قلب بے مدعا چاہتا ہوںترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books