aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "munsifii"
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھیکسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
تجھ کو تو ناز ہے اپنی منصفی پرذرا سنوں تو
تم تھے اپنی شکست کی آوازآج سب چپ ہیں منصفی کی طرح
جس نے پوری منصفی کی آج تک دنیا کے ساتھظلم کی دشمن ہے جو اک ظلم بے پردا کے ساتھ
لہو فروشی کے کل دلائلدفاتر منصفی پر تحریر کر رہے ہیں
منصفی کے داعیبے یقین موسم بانٹتے ہیں گھر گھر
کسی کرن کا گزر نہیں ہےخوشی ہے کیا منصفی ہے کیا
اٹھائے دوش پہ اک منصفی کے لاشے کوپھرے ہے شہر میں انسانیت کا سارا وجود
منصفی بیدار ہےخوابیدہ تر
پا برہنہ بھاگتے اس کو یہ کہتے سناکیا کروں کس سے کہوں کس سے چاہوں منصفی
خداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!
لیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہےیہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے
منصف شہر کی وحدت پہ نہ حرف آ جائےلوگ کہتے ہیں کہ ارباب جفا اور بھی ہیں
منصف خیر و شر حق و باطل ہیں ہم
پھر وہ طوفاں آ جائے گاجس سے ہر منبر ہر منصف
منصف نے ظلم ڈھایاکیں پیش اس کے آگے غم کی گواہیاں بھی
منصف کی بھول کو بھیاور اپنا فیصلہ دے
دھوپ پڑی، تو کھل گئی آنکھیں، کھل گیا سارا بھیدغش کھایا، تو دوڑے آئے منشی، پنڈت، وید
واجبات کی تکمیلمنصفوں پہ واجب تھی
گھاس گیاہ اور آب ہے پانی اور ندی ہے جومنشی جی نے سبق پڑھایا فارسی اور اردو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books