aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mutasaddi"
یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑااس سے ہے اب بھی سب کے سہارے کا جھونپڑااس سے ہے بادشہ کے نظارے کا جھونپڑااس میں ہی ہے فقیر بچارے کا جھونپڑااپنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی بھولے بھالے اسی میں سیانے ہیںاس میں ہی ہوشیار اسی میں دوانے ہیںاس میں ہی دشمن اس میں ہی اپنے بیگانے ہیںشاجھونپڑا بھی اپنے اسی میں نمانے ہیںاپنا نہ مول ہے نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی لوگ عشق و محبت کے مارے ہیںاس میں ہی شوخ حسن کے چاند اور ستارے ہیںاس میں ہی یار دوست اسی میں پیارے ہیںشاجھونپڑا بھی اپنے اسی میں بچارے ہیںاپنا نہ مول ہے نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی اہل دولت و منعم امیر ہیںاس میں ہی رہتے سارے جہاں کے فقیر ہیںاس میں ہی شاہ اور اسی میں وزیر ہیںاس میں ہی ہیں صغیر اسی میں کبیر ہیںاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی چور ٹھگ ہیں اسی میں امول ہیںاس میں ہی رونی شکل اسی میں ٹھٹھول ہیںاس میں ہی باجے اور نقارے و ڈھول ہیںشاجھونپڑا بھی اس میں ہی کرتے کلول ہیںاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی پارسا ہیں اسی میں لوند ہیںبے درد بھی اسی میں ہے اور دردمند ہیںاس میں ہی سب پرند اسی میں چرند ہیںشاجھونپڑا بھی اب اسی ڈر بے بند ہیںاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس جھونپڑے میں رہتے ہیں سب شاہ اور وزیراس میں وکیل بخشی و متصدی اور امیراس میں ہی سب غریب ہیں اس میں ہی سب فقیرشاجھونپڑا جو کہتے ہیں سچ ہے میاں نظیرؔاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا
یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اوپرہزاروں انساںافق کے متوازی چل رہے ہیںافق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہیںوقت لہریںجنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہوانہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہیںوقت لہریںانہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!تمام ملاح اس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاںکہ جھیل میں اک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہےاس کے گیسو افق کی چھت سے لٹک رہے ہیںپکارتا ہے: ''اب آؤ، آؤ!ازل سے میں منتظر تمہارامیں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوںدرخت مینار برج زینے مرے ہی ساتھیمرے ہی متوازی چل رہے ہیںمیں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیراسمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارااب آؤ، آؤ!تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے ان کےابد کے آغوش میں اتارا''تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاںافق کی شاہراہ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماںمگر سماوی خرام والےجو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیںعمود کے اس طناب ہی سے اتر رہے ہیںاسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!
شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکاگوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیںٹرنک کالان کی سمسیاؤں کا حل ہےعزرائیل!ایٹم اور ہیلیم کے حق میںدست بردار ہونے کی فکر میں ہےاسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئیاب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گافوڈ کارپوریشن کا مطالبہ:'میکائیل کا رٹائرمنٹ' مان لیا گیا ہےوائرلس ٹیلی گراف کا محکمہافسر اعلی کے عہدہ کے لیےجبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے'خدا کی جگہ خالی ہے'متمنی حضرات فوراً سے پیشتر درخواست دیں!
تاریخ بہ ہر دور الٹتی ہے ورق اورمذہب میں ہے لیکن وطنیت کا سبق اورتو مرد مسلماں ہے تو اک بات ذرا سنآگوش تیقن سے حقیقت کی صدا سنیہ سچ ہے مسلمان تباہی سے گھرا ہےاک وسوسۂ لا متناہی سے گھرا ہےآلام کی حد اپنے شکنجے میں لئے ہےاک دور مصائب ہے کہ نرغے میں لئے ہےآرام ہے مفقود سکوں پاس نہیں ہےاب جیسے کہ جینے کی کوئی آس نہیں ہےآفات نگل جانے کو منہ کھول رہے ہیںخطرات ہر اک سمت بہم بول رہے ہیںپژمردگی و خوف کا ہر گھر میں ہے پھیراہر دل میں ہراسانی بے حد کا ہے ڈیرابے ربط ہے بے ضبط ہے بے راہ نما ہےمسلم ہے کہ بے عزم ہے بے حوصلہ پا ہےامواج حوادث میں ہے ایمان پرستیطوفان کی زد پر ہے مسلمان کی کشتییہ بات جہاں میں ہے پرانی بھی نئی بھیہر قوم کو ملتی ہے سزا اس کے کئے کیتم آج مگر اپنوں سے منہ موڑ رہے ہواب سر پہ مصیبت ہے تو گھر چھوڑ رہے ہویہ فعل مسلمان کے شایاں تو نہیں ہےیہ دیں نہیں مذہب نہیں ایماں تو نہیں ہےبھارت کے بہ ہر حال وفادار بنو تمناموس کے عزت کے نگہ دار بنو تم
عورت!تیرے کتنے روپ،تیرے کتنے ناممحبت کے اس بے کراں سفر میںکتنے پڑاؤ، کتنے مقامکبھی کلی، کبھی پھولاور کبھی مرجھائی ہوئی پنکھڑیکبھی انار، کبھی ماہتاب اور کبھی پھلجھڑیتخلیق کا منبع، شکتی کا خزینہ تیری ذاتمحور لامتناہی سلسلۂ حیات و مماتشفقت، محبت، ایثار و وفا سب تیرے روپسیتا، ساوتری، رادھا، میراسچی چاہت کے نقوشایک فقط چاہت کا عطیہ، تیرا یہ ہیرے کا روپعورت میں ہو گر خود اعتمادیدوشاسن دروپدی کی سواگت کو آئےبھیروں خود شیراوالی کی عفت بچائےعورت ہی حاصل تخلیق دنیا ہےعورت ہی شعور آدم کا پیش خیمہ ہےخدا نے جو بخشا ہے تجھے نسوں کا جالعجب اس کی قدرت ہے عجب اس کا کمالکہیں مینکا تو کہیں مریم ہے توکہیں اولاد کی جویا زوجۂ ذکریا ہے توانجیل و قرآن سب تیرے رطب اللسانکہ تو ہی اصل میں ہے دھرتی کی شانممتا کرونا تیرے ناماے ماں! تجھے سلامآغوش مادر کو یوں پہلا مکتب ٹھہرایاکہ تو نے ہی آدم کو محبت کرنا سکھایاجس نے دل میں تیرےسبھوں کی محبت رکھیاسی نے قدموں میں تیرے جنت رکھیعقل آدمی آج اتنی کیوں حیران ہےتو ہی آدمی کی پہلی پہچان ہےتیرے ہی دم سے رنگ و بوئے کائناتاز ازل تا ابد آدم کی تو ہے شریک حیاتسبھوں کا تجھ پر یہ اعتبار ہےشجر حیات کا تو ہی برگ و بار ہےیہ دنیا بھی تجھ ہی سے نمودار ہےگرہست جیون کا آشرم ہے تجھ سے تابندہتو ہی بنی پھر آدم کی نجات دہندہتو ہی جنت کی پہلی حق دار ہےساری عبادت پرستش کی ہے تو روح رواںاے عورت ایسا تیرا روشن کردار ہےمحبت کے اس بے کراں سفر میںتجھ سے ہی زندگی استوار ہے
جب اس نے ہاتھ سے دھرتی دبا کےکہنیوں کی آزمائش کیکہ شاید اس طرح وہ اٹھ سکےتو صرف اپنے سر کو گردن کا سہارا دے سکابالوں کی لمبی ایک لٹماتھے پہ متوازی کھدی شکنوں میںچھپ کر کانپتی تھیاور کچھ بالوں کو تازہ چوٹ رنگیں کر گئی تھیتحیر بے بسی کے ساتھآنکھوں کی نمی میں جذب ہو کرآہنی چشمے کےشیشوں میں لرزتا تھاکھلے ہونٹوں میں دانتوں کے شگافوں کوزباں پیوند کرتی تھیدہن کے نم کنارےکان کے بنسرخ رخساروں کے بلچاہ ذقن کے منہ سے لٹکےتہ بہ تہ گردن کے سلوٹاور ان میں ڈولتے پانی کے قطرےسب کے سب ہلتے تھےبس رفتار میں اک دوسرے سے مختلف تھے
کبھی کبھی بستر میں لیٹےمیں نے اپنے اور ترے مابینایسے ایسے لامتناہی دریا حائل دیکھے ہیںجن پر کسی بھی رشتے کا کوئی پل نہیں بننے پاتا
آج یکایکجب میں نے تیراتذکرہ کیااچانک چونک سا گیاپھرخاموش ہو گیاماضی کی ساری باتیںیاد آنے لگیںتیرا مسکراناتیرا شرمانانہ کسی بات کاگلہ نہ شکوہسادگی سادگیاوربے انتہا پیارپھر اچانکمجھ سے بچھڑ جاناتیری جھکی جھکی نگاہیںآج بھیجیسے مجھ سے کچھ کہتی ہیںمگر زبان خاموش ہےگویاتیرا پیار میرے لیےسرد ہو گیالیکن آج بھیتیرا خیالاچھا لگتا ہےشایدیہی میری زندگی کاسکون ہے
مجھے بچانا ہےاس کائناتی ورثے کوسرابوں کی تیزابی پھنکار کے ساتھزلزلوں کی جلتی پیٹھ کو ڈھال بنا کراور آگ کے فوارے کی کمک لے کرجو کسی قدیم سیاف کیپر خراش نیام میں محبوس ہےاس لامتناہی خرابے کے لیےمجھے ایجاد کرنی ہے ایک نئی بہارموت کی مایوس اور مضمحل غضب ناکی کووقت کے غیر متوازن بوجھ سے تڑخی ہوئی زمینوں پراز سر نو بالیدہ کر کے
تحریروں میں تقریروں میںتم ہی تم ہولفظوں میں حرفوں میںتم ہی تم ہوتم نے بھی اک خواب دیکھا تھامیں نے بھی اک خواب بنا تھاپیپل کی چھاؤں میںنیلے امبر کے سایہ میںتم ہی تم ہولیکناک ایسی آندھی آئیاک ایسا طوفان اٹھاآئینہ ریزہ ریزہ ہو گیاشیشوں کے بھی ٹکڑے ہو گئےمگرہر آئینہ کے ریزے ریزے میںتم ہی تم ہوتم نے بھی اک خواب دیکھا تھامیں نے بھی اک خواب بنا تھااک گلشن ایسا نیارا ہوپھول کلیاںہر دم تازہ ہوںلیکناک ایسی آندھی آئیاک ایسا طوفان اٹھاپھول کلیاں سببکھر گئیںخوشبو سےوادی جنگلگاؤں شہرمہک اٹھےاورہر ہر مہک سےیہ احساس ہو رہا تھاکہ بستم ہی تم ہوتم ہی تم ہو
کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوںاور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہےکاشوطن کی حد حدود کے تعین کے لیےپھولوں کی کیاریاںآہنی تاروں کا متبادل ہوتیں
مجھے یقیں ہےکہ تم کون مہندی سےجب میرے عدو کا ناماپنی خوب صورت کلائی پر لکھو گیتومیرا خیال آتے ہیآخر ایک دناس منحوس کے نام پرخود ہیبڑا سا کانٹا لگا دو گیاور دوسری کلائی پرمیرا نام لکھ کراسے دیر تک چومتی رہو گیمیں اس لمحے کے انتظار میںمتبادل کلائیوں کی جانب سے موصولہہزاروں دل پذیر آفریںمسلسل مسترد کئے جا رہا ہوںکیونکہدنیا امید پر قائم ہے
بارش کے بعدجب دھرتی اپنے میلے کپڑے اتارتی ہےمیں ہر شام، رازوں کے تعاقب میںاس کے داؤدی بدن پر پھیل جاتا ہوںاور دیواریں پھلانگتا، خدا کے شکستہ صحن میںنقب لگاتا ہوںمیرے وجود میں ایک اندھا خلا پھیلنے لگتا ہےمیں دیکھتا ہوںآسمان میں کوئی عقاب چھپا ہےجو ہماری زندگیوں کے چوزے اچک رہا ہےمیں ان درختوں سے مخاطب ہوتا ہوںجن کی جڑوں میں چیونٹیاںاپنی موت پر سوگوار رہتی ہیںبھیگی شاخوں پر سہمے کوے رات بھر کانپتے رہتے ہیںکتنی بے رحم لگتی ہے زندگی!جہاں موت برستی ہےاور لاکھوں سانسیں بے وقعت آوارہ کتوں کی طرحمر جاتی ہیںوہاں پھر مسکراتا گھنا جنگل اگ آتا ہےاس لامتناہی وسعت میں ہم صابن پر چمٹے بال سےزیادہ کچھ نہیں رہتےوقت جسے، ایڑی پر جمے میل کی طرح دھو ڈالتا ہے
اور بساط خیال بے پایاںاور معین حدود شرح و بیاںتیز رفتار گردش حالاتاور آہستگیٔ عمر رواںاجنبیت کا مستقل اک بوجھاور شناسائیوں کا بار گراںعقل کی خامی نارسی دل کیاور تصور شکن حقیقت جاںمختلف ہر وجود پیش نظراور امکان وحدت امکاںفکر عقدہ کشائیوں پہ مصراور سر رشتے ہی کا خود فقداںانتہا سلسلوں کی نا معلوماور ہر لمحہ سلسلۂ جنباںمتواتر مراحل تعلیماور مسلسل مدارج نسیاںشعبہ ہائے خیال بے تمئیزاور بحر شناخت مہر و نشاںچار جانب صراحتوں کا ہجوماور بحر رموز بے پایاںسیل بیروں رواں بطرز دگراور جوئے اندروں الگ سی رواںایک کھوئی ہوئی فضائے حیاتاور احساس و فکر سب غلطاںاور سانسوں کی رہ گزر پہ ہجوماور آنکھوں کی رہ گزر ویراں
الف انا کو کاٹ دیااپنے سائے پر اوندھا گرنے والامیں تھا لیکن کیا کرتامیرے شہر کی ساری گلیاںبند بھی تھیں متوازی بھیتختیاں ہر دروازے پرایک ہی نام کی لٹکی تھیںمیں کیا کرتاشہر کے گردا گرد سدھائے فتووں کی دیواریں تھیںکوہ شمائل دیواریںجن سے باہر صرف جنازوں کے جانے کا رستہ تھا
کیا میری تھوڑی سیبے احتیاطی اس کا مفہومبہت زیادہ تبدیل تو نہیں کر دے گیکیا اس لفظ کے لیےکسی دوسری زبان میںکوئی متبادل لفظزیادہ مددگار ثابت نہیں ہوگا؟
اسفنج نما جسم پھولے ہوئے ہوں گےمردہ مچھلی گھاس اگل دے گیغیر متوازی اور تعفن زدہ خلیوں کونامیاتی ذرے چبا جائیں گےجن سے دھاتی تھکن کشید کی جائے گیکیا ہم نہیں جانتےہڈیوں اور ناخنوں کے ٹکڑوں سےخدائے زرد رو اپنی آخری جنگ کے واسطےکارتوس اور گن پاؤڈر بنا رہا ہےہم یقیناً بے خبر ہیںخدا کے نتھنوں سے بہتی وحشت کا ارتکازاور مریخی باشندے کی چیخ ہم پر ٹوٹ پڑے گیجینیاتی عدم تغیر کے باوجود پیدائشی معذور بچے کے لئےبوکھلاہٹ اور بد ہیئتی کا محلول پیتی ہوئی بوڑھیاںنحوست کے اولیں دنوں میںبلیک وڈو کی رال سے نیلی رگیں کات رہی ہوں گیبانجھ عورت کا ترانہ ہمارا قومی گیت ہوگابعد از مرگ ہونے والی سختی کا وائرسلمس آلود اعضا کے شگافوں میں کود پڑے گاناکارہ جہاز کے پروپیلر کے مانندیا پھرادھیڑ عمر کسان کی بد دعا میں کھنکتےمذموم اور نعش خوردہ کھیت کے جیسےجسم جن میں شہوت کی مقدار صفر ہے اکڑ جائیں گےاور پھر تڑاخ سے ٹوٹ جائیں گےہم وہ مردار لوگ ہیں جو سمجھتے تھےہمیں سنستھیسیا سے نجات مل گئی تھی
سمندر پاراس رستے کے متوازی کشادہ راستےاک دوسرے کو کاٹتے ہیںسارے رستےان بڑے رستوں کے اوپر چل رہے ہیںاوردائیں سمت جو رستہ گیا ہےکتنا پر اسرار ہےچڑھتا اتراجال سا بنتا ہواچاروں طرف سےایک مرکز کی طرف جانے کاسیدھا راستہ دکھلا رہا ہےکیسا دوراہا ہے یہمیں زندگی کے کیسے دوراہے پراپنا داہنا پاؤں اٹھائےواہمے کے کہر میںاپنی چھڑی لہرا رہا ہوں
یہ پیاری اردو کہ جس کا نہیں ہے کوئی بدلحسین ایسی ہے جیسے جمال تاج محلہر ایک دیس نواسی نے پائی یہ میراثوہ رام ہو کہ کرم سنگھ ہو یا کہ میر غیاثہے مسجدوں میں مقدس پوتر مندر میںہر اک گلی میں چلن اور گزر ہے ہر گھر میںوہ جو کہ بولتے ہیں بھانت بھانت کی بولیتو سنئے ان سے بھی اردو جمع ہو جب ٹولیکہیں بھی جائیے اردو ضرور پائیں گےسمجھنے بولنے والے تو مل ہی جائیں گےادب میں شعر میں اونچا مقام ہے اس کاسماج کے سبھی شعبوں میں نام ہے اس کازوال اس کو کبھی آئے غیر ممکن ہےدلوں سے محو یہ ہو جائے غیر ممکن ہےہے اس کے نور سے روشن سماج کی دنیااسی کے دم سے ہے آباد راج کی دنیارہے گا قائم و دائم مدام دنیا میںچلے گا سکۂ اردو تمام دنیا میںجو زندہ رہنے کو آئے وہ کیسے ہو برباداسدؔ لگاؤ یہ نعرہ کہ اردو زندہ باد
در دیوار اور دریچےایک معاہدہ ہیںعدم مداخلت کا مشروط معاہدہدو مہذب انسانوں کے درمیاںدو متمدن خاندانوں کے درمیاںدیوارتہذیب کی ترجمانتمدن کی پہچاناور بقائے باہمی کی آئینہ دارحیلہ حقوق کی ضمانتبقائے تحیت کی علامتحیط اور احاطہذہنی و جسمانی آسودگیاورسکھ چین کے لیے لازم ہےدخل در معقولاتغیر اخلاقی ہی نہیںغیر انسانی رویہ بھی ہےگھر کا حق ہے کہ وہدوسرے گھر کی بے جا مداخلت سے محفوظ رہےہم دیوار توہمدرد ہوتا ہےخبر گیر ہوتا ہےخبر رساں نہیں بن سکتاتخیل آسودگیسکھ گھٹاتیاور دکھ بڑھاتی ہےشکرگنجی پیدا کرتی ہےآزردہ دلی کا موجب بنتی ہےفاصلے دیوار کی پختگی سے نہیںدلوں کی سختی سے بڑھتے ہیںپختہ دیوار تو تمدن کی بقا ہےسوری فاصلے بے معنی ہو جاتے ہیںاگر قلب و نظر شاد ہوںحق خلوت خلیج نہیںفراخی طرفین ہےپرائیویسی کا حقتہذیب انسانی کی معراج ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books