aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naf.a"
ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بنٹک غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمنکیا لونڈی باندی دائی دوا کیا بندا چیلا نیک چلنکیا مندر مسجد تال کنواں کیا کھیتی باڑی پھول چمنسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
کالے کوس غم الفت کے اور میں نان شبینہ جوکبھی چمن زاروں میں الجھا اور کبھی گندم کی بوناقۂ مشک تتاری بن کر لیے پھری مجھ کو ہر سویہی حیات صاعقہ فطرت بنی تعطل کبھی نموکبھی کیا رم عشق سے ایسے جیسے کوئی وحشی آہواور کبھی مر مر کے سحر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
اور سونے کے چمکتے سکےڈنک اٹھائے ہوئے پھن پھیلائےروح اور دل پہ چلا کرتے ہیںملک اور قوم کو دن رات ڈسا کرتے ہیںروٹیاں چکلوں کی قحبائیں ہیںجن کو سرمایہ کے دلالوں نےنفع خوری کے جھروکوں میں سجا رکھا ہےبالیاں دھان کی گیہوں کے سنہرے خوشےمصر و یونان کے مجبور غلاموں کی طرحاجنبی دیس کے بازاروں میں بک جاتے ہیںاور بد بخت کسانوں کی بلکتی ہوئی روحاپنے افلاس میں منہ ڈھانپ کے سو جاتی ہےہم کہاں جائیں کہیں کس سے کہ نادار ہیں ہمکس کو سمجھائیں غلامی کے گنہ گار ہیں ہمطوق خود ہم نے پہنا رکھا ہے ارمانوں کواپنے سینے میں جکڑ رکھا طوفانوں کواب بھی زندان غلامی سے نکل سکتے ہیںاپنی تقدیر کو ہم آپ بدل سکتے ہیں(3)آج پھر ہوتی ہیں زخموں سے زبانیں پیداتیرہ و تار فضاؤں سے برساتا ہے لہوراہ کی گرد کے نیچے سے ابھرتے ہیں قدمتارے آکاش پہ کمزور حبابوں کی طرحشب کے سیلاب سیاہی میں بہے جاتے ہیںپھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرنسرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں
بعض ایسے تھے جو سرمائے کے ٹھیکیدار تھےکہتے تھے مزدور کو خر اور خود خر کار تھےچور بازاری کی جڑ تھے اور بڑے بٹ مار تھےنفع خوری کے سوا ہر کام سے بیزار تھےاب حلق میں ان کے جو کھایا اٹک کر جائے گاغیر ملکوں میں نہ سرمایہ بھٹک کر جائے گا
وہ چٹانوں پہ رکھے ہوئے اونچے اونچے محلچکنی دیواروں پرقتل، غارتگری، بزدلی، نفع خوری کی پرچھائیاںریشمی ساریاںمخملیں جسم، زہریلے ناخونوں کی بلیاںخون کی پیاس کھادی کے پیراہنوں میں
مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گےجو دانا ہیں وہ بیچیں گے جو ہیں ناداں خریدیں گےجو سیاں شوق سے کھائیں وہ سویاں خریدیں گےمرکب سود کا سودا بہ نقد جاں خریدیں گےمسلمانوں کے سر پر جب مہ شوال آتا ہےتو ان کی اقتصادیات میں بھونچال آتا ہےبہم دست و گریباں سیلز مین اور ان کے گاہک ہیںوہ غل برپا ہے جیسے نغمہ زن جوہڑ میں مینڈک ہیںمزاجاً روزہ دار شام بارود اور گندھک ہیںاور ان میں نظم اور ضبط اور روا داری یہاں تک ہیںکہ شدت بھوک کی اور پیاس کی ایسے مٹاتے ہیںبہ زعم روزہ ابنائے وطن کو کاٹ کھاتے ہیںجو مجھ ایسے ہیں رند ان کو بھی زعم پارسائی ہےاور اس مضمون کی اک دعوت افطار آئی ہےکہ اک چالیس سالہ طفل کی روزہ کشائی ہےفرشتے اس پہ حیراں دم بخود ساری خدائی ہےخداوند دوعالم سے وہ یہ بیوپار کرتے ہیںجو رکھا ہی نہیں روزہ اسے افطار کرتے ہیںمیاں بیوی چلے بازار کو بہر خریداریمٹھائی پھل سویاں عطر جوتے گوشت ترکاریجو شے بیوی نے لی وہ دوش پر شوہر کے دے ماریوہ بے چارہ تو خچر ہے برائے بار برداریبزور قرض دوکانوں پہ اتنا فضل باری ہےکہ اس گھمسان میں انسان پر انسان طاری ہےلیا بیوی نے شوہر کے لئے جوتا جو ارزاں ہےوہ امریکی مدد کی طرح اس کے سر پہ احساں ہےکہ اس سے فائدہ پہنچے گا اس کو جس کی دوکاں ہےاور اس شوہر کا جوتا خود اسی کے سر پہ رقصاں ہےیہ صورت دیکھ کر کہتے ہیں اکثر دل میں بن بیاہے''دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے''جو سلنے کو دیئے کپڑے وہ ہیں سب حبس بیجا میںکہ درزی چھپ گیا جب اطلس و کمخواب و دیبا میںتو ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانیں جھانکتا تھا میںفلک پر قیمتیں لٹکی ہوئی تھیں شاخ طوبیٰ میںمبارک ماہ کے اندر ہمیں سے نفع خوری ہےنہیں ہوتا ہے باطل جس سے روزہ یہ وہ چوری ہےیہ سویاں جو بل کھاتی ہوئی معدے میں جائیں گیسیاسی گتھیوں کو اور الجھانا سکھائیں گیہماری آنے والی نسل کے لیڈر بنائیں گیجو لیڈر بن چکے ہیں ایبڈو ان کو کرائیں گی''قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے''مہینے بھر کے روزوں بعد حق نے دن یہ دکھلایاعلی الاعلان کھایا دوستوں کے ساتھ جو پایایہ پہلے ڈر تھا ہم کو جھانک کر دیکھے نہ ہمسایہبجز خوف خدا دن میں بظاہر کچھ نہ تھا کھایاحسینوں مہ وشوں کو اب سر بازار دیکھیں گےگئے وہ دن کہ کہتے تھے پس از افطار دیکھیں گے
ہے آدمی جو کرتا ہے سب سینہ زوریاںکرتا ہے لوٹنے کے لیے نفع خوریاںبھرتا ہے اس بہانے سے اپنی تجوریاںدشمن کو بیچ کھاتا ہے گندم کی بوریاںچیزوں کی قیمتوں کو بڑھاتا ہے آدمیاور گاہکوں کو خون رلاتا ہے آدمی
اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھےہو گیا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھےدودھ میں بالکل نظر آتا نہیں پانی مجھےدل نے کر رکھا ہے محو صد پریشانی مجھے''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کام دھندا کچھ نہیں دل کس طرح بہلاؤں میںکیوں نہ لیڈر بن کے ساری قوم کو بہکاؤں میںجب نہیں دھندا تو چندا ہی کروں اور کھاؤں میںاسکریننگ کی کمیٹی کے نہ ہاتھ آ جاؤں میں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کیوں نہ اڈیٹر بنوں اخبار گوہر بار کااور قلم کو روپ دوں چلتی ہوئی تلوار کاہاتھ میں شملہ ہو سب اشراف کی دستار کامارشل لا میں مگر پہلا ہے ٹکڑا مار کا''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''سوچتا ہوں پھر کہ حج کر آؤں اسمگلر بنوںمال دین و مال دنیا کا بڑا ڈیلر بنوںملک کے اندر بنوں یا ملک کے باہر بنوںالغرض جو کچھ بنوں میں فوج سے بچ کر بنوں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''کیا خبر تھی قیمتیں یوں ہوں گی سستی ایک دن''رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن''چور بازاری کی مٹ جائے گی ہستی ایک دنہوگی شیورولیٹ پہ بھی ٹو لیٹ کی تختی ایک دن''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''بحر کے سینے سے سونا تک اگلوایا گیاگندم خلوت نشیں بازار میں لایا گیااور ذخیرہ باز سے چکی میں پسوایا گیانفع خوروں کا دوالہ تک نکلوایا گیا''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''ہائے کشکول گدائی لے کے اب جائے گا کونلال گندم لا کے ہم کالوں کو کھلوائے گا کونجس کو امریکی سور کھاتے تھے وہ کھائے گا کونساتھ میں گندم کے مسٹر گھن کو پسوائے گا کون''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''غیر ملکی مال کو روتی ہیں اب تک بیبیاںاور ہر امپورٹ کے لائسنس کو ان کے میاںغیر بنکوں میں جو دولت ہے وہ آئے گی یہاں''یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں''''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''یا میں سب کچھ چھوڑ دوں اور چور بازاری کروںزندگی کی فلم میں ایسی اداکاری کروںدونوں ہاتھوں سے کما کر عذر ناداری کروںجب حکومت ٹیکس مانگے آہ اور زاری کروں''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''
اتفاقاً ایک پودا اور گھاسباغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاسگھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیقکیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریقہے ہماری اور تمہاری ایک ذاتایک قدرت سے ہے دونوں کی حیاتمٹی اور پانی ہوا اور روشنیواسطے دونوں کے یکساں ہے بنیتجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظرپھینک دیتے ہیں مجھے جڑ کھود کرسر اٹھانے کی مجھے فرصت نہیںاور ہوا کھانے کی بھی رخصت نہیںکون دیتا ہے مجھے یاں پھیلنےکھا لیا گھوڑے گدھے یا بیل نےتجھ پہ منہ ڈالے جو کوئی جانوراس کی لی جاتی ہے ڈنڈے سے خبراولے پالے سے بچاتے ہیں تجھےکیا ہی عزت سے بڑھاتے ہیں تجھےچاہتے ہیں تجھ کو سب کرتے ہیں پیارکچھ پتا اس کا بتا اے دوست داراس سے پودے نے کہا یوں سر ہلاگھاس سب سچا ہے تیرا یہ گلہمجھ میں اور تجھ میں نہیں کچھ بھی تمیزصرف سایہ اور میوہ ہے عزیزفائدہ اک روز مجھ سے پائیں گےسایہ میں بیٹھیں گے اور پھل کھائیں گےہے یہاں عزت کا سہرا اس کے سرجس سے پہنچے نفع سب کو بیشتر
آنسوؤں کی بستی میںرسنے بسنے والوں کوکب کوئی غرض اس سےکاروبار ہستی میںنفع کیا خسارہ کیاعمر کے خزانے میںبیش و کم کا یارا کیا
تجارت اور نفعان کے حصے میں آتا ہےجو خواب دیکھتے ہیں نہ دیپ جلاتے ہیں
تو یہ دودھ کوسا ہے!یہ دودھ ہے اور کوسا ہےجس سے بدن کی نسیں اونگھ جاتی ہیںجس سے مرے دل کی باقاعدہ دھڑکنوں میںاضافے کی صورت نہیںیہ وہی دودھ ہے جس کو فرہاد کی گرمیٔ شوق نےبیستوں کی سیہ چوٹیوں سے اتاراتو اس کے لہو کی حرارت کا جویا ہواپھر بھی کوسا رہایہ وہی دودھ ہےچاندنی بن کے جو گرمیوں کے کسی ماہ کی چودھویں رات کوآسماں پر زمیں پر دلوں میں نگاہوں میںبہتا ہے لیکنکسی کے لبوں کو جلاتا نہیں ہےیہ سورج کا سایہ ہے لاوا نہیں ہے!تم اپنے پیالے کو بھٹی میں رکھ دو!کہ یہ دودھ ابلتا رہےیہ پیالہ بھی ڈھل جائےیہ دودھ جل جائےاور اس طرح مشک نافہ بنےجس کی خوشبو کی طاقت نہ لائے کوئی شخص بھیجس کی خوشبو سے ہر مغز سے خون بہنے لگے!
زمین نور و نغمہ پرخدائے رنگ کے بکھرے ہوئے جلووں کو پہچانیںاسے سمجھیں۔ اسے جانیںیقیں آ جائے تو مانیںیہاں تو کہکشاں مٹھی میں ہےلعل و جواہر پیرہن پر ہیں شعاعوں کے کئی دھبے ہر اک اجلے بدن پر ہیںیہاں رنگیں مشینیں دائروں میں جھک کے ملتی ہیںکسی سے روٹھ جاتے ہیں کسی کے ساتھ چلتے ہیںیہاں کے سامری گویائی لے لیتے ہیںاور پلکوں پہ حیرت کے دریچے کھول دیتے ہیںیہاں ہر نفع کے خانے میں پوشیدہ خسارہ ہےفسوں کم ہو تو پھر باہر کا ہر منظر ہمارا ہےجسے ہم چاند سمجھے ہیں بھٹکتا سا ستارہ ہےیہی سورج سے جیتا ہے یہی جگنو سے ہارا ہےیہ فطرت کا اشارہ ہےچلو تنویر شاہ! اٹھو
ہیں تضادوں کے آسیب اس شہر میںنفع و حرص و ہوس کی جبینوں کو بھیچاند کے روپ میں ڈھالنے کے لیےدست شب نے دو رویہ عمارات پرروشنی کی لکیروں سے لکھے ہیں نام
خنک موسم نہیں گزراسفر سورج کرے تو ابر اس کے ساتھ چلتا ہےابھی ندی کے پانی پر ہوا کے تازیانے سے نشاں پیدا نہیں ہوتاتبر کی ضرب کاری سے، شاخوں سے زمیں پرپتا پتا حرف گرتے ہیںکوئی فقرہ شجر کے زخم مہمل کی پذیرائی نہیں کرتالہو معنی نہیں دیتاتو پھر قرطاس احمر ہو کہ ابیض رنگ پیراہن سےخوشبوئے سخن نکلے تو جی بہلےمہکتا ہے کہیں صیاد کے فتراک میں نافہ
ہے علم ہی سے آبرو ہے علم ہی سے دل قوییہی ہے دل کی روشنی یہی ہے دل کا چین بھیہے علم ہی میں زندگی ہے علم ہی سے زندگییہ علم ہی کا فیض ہے کہ آدمی ہے آدمیبلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلوکل جہاں کی چل رہی ہے علم ہی کے زور سےزمین زر اگل رہی ہے علم ہی کے زور سےایک ایک شے سنبھل رہی ہے علم ہی کے زور سےاٹل بلا بھی ٹل رہی ہے علم ہی کے زور سےبلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلونظر اٹھا کے دیکھیے اسی کا جگ میں راج ہےاسی کے بل پہ تخت ہے اسی کے بل پہ تاج ہےہے علم ہی سے سربلند گر کوئی سماج ہےیہی ہے زر یہی گہر اسی کی احتیاج ہےبلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلوہے مستقل ہنر کے باغ میں بہار علم سےزمانے بھر کا چل رہا ہے کاروبار علم سےاٹھاتا ہے کسان نفع بے شمار علم سےجہان بن رہا ہے آج لالہ زار علم سےبلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلوپڑھے لکھے وطن کے نوجوان ہوشیار ہوںوطن سے رہ کے بے خبر نہ اب گناہ گار ہوںخودی کو چھوڑ کر خدا کی خلق پر نثار ہوںجلا کچھ ایسی ہو کہ سب کے جوہر آشکار ہوںبلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلوچلے وطن میں خوب دور صبح و شام علم کاپئیں خوشی سے ڈٹ کے جام خاص و عام علم کاسنے ہر ایک ہر مقام پر پیام علم کاہو شہر شہر گاؤں گاؤں انتظام علم کابلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلوجہالت ایک روگ ہے خدا اسے فنا کرےخدا کی بارگاہ میں ہر اک یہی دعا کرےہر ایک بے پڑھا لکھا پڑھا کرے لکھا کرےسبھی پڑھیں سبھی پڑھیں خدا کرے خدا کرےبلندیوں پہ علم کی چڑھے چلو چڑھے چلوبڑھے چلو چلے چلو چلے چلو بڑھے چلو
اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہےغور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہےہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کروجو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہےزندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیرہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہےہر دکان اپنی جگہ ہے ایک چھوٹی سلطنتنفع کہتے ہیں جسے دراصل اس کا باج ہےجز تجارت قوم کی ملکی سیاست کچھ نہیںلطف آزادی اسی میں ہے یہی سوراج ہےزندگی کی رفعتوں سے ہے تجارت ہی مرادہاں یہی بام ترقی ہے یہی معراج ہےمرد تاجر کو خدا کی ذات پر ہے اعتمادمرد چاکر ہر گھڑی اغیار کا محتاج ہےجب سے ہم غیروں کے آگے جھک گئے مثل کماںتب سے اپنا دل ستم کے تیر کا آماج ہےچل رہی ہیں زور سے بیکاریوں کی آندھیاںنوجواں کا گلستان زندگی تاراج ہےیہ ضروری کام کل پر ٹالنا اچھا نہیںبالیقیں ہم کو تجارت کی ضرورت آج ہےوائے حسرت کیوں تمہاری عقل پر پتھر پڑےجس کو تم کنکر سمجھتے ہو وہی پکھراج ہےپھر خریدو بیاہ کا سامان پہلے جان لوبس تجارت ہی عروس قومیت کا راج ہےوہ ہمیشہ قدر کرتے ہیں سودیشی مال کیقوم کا احساس ہے جن کو وطن کی لاج ہےخوب موتی رولتے ہیں تاجران با صفافیضؔ بازار تجارت قلزم مواج ہے
ہر اک نفع جائز نقصان کے بطن سے ہےانہوں نے جو حاصل کیا وہ زیادہ تھااور آخر شب کے کچھ خواب کو جو گنوایاوہ کم تھااسی نا تناسب حصول و خسارہ کا رد عمل ہےکہ منزل کی آغوش میں بھیانہیں سکھ نہیں ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books