aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaatil-e-be-rahm"
شراب پی کے یہ احساس مجھ کو ہوتا ہےکہ جیسے میں ہی خدا ہوںخدا کا بیٹا ہوںخدائی جس کو چڑھاتی رہی ہے سولی پرشراب پی کے یہ احساس مجھ کو ہوتا ہےکہ جیسے عرصۂ پیکار حق و باطل میںہمیشہ میں ہی جو مظہر رہا ہوں نیکی کاشکست کھاتا رہاپیا ہے زہر بھی میں نے کٹایا ہے سر بھیبجھی نہ پیاس مگر خنجر و سناں کی ابھینہ جانے کتنی دفعہ اور قتل ہونا ہےمجھے بہ پاس دگرشراب پی کے یہ احساس مجھ کو ہوتا ہےکہ جیسے میں ہی زمانے میں ایک قاتل ہوںاور ایسا قاتل بے چہرہ جس کو صدیوں سےزمانہ ڈھونڈ رہا ہےمگر نہیں ملتا
یہ بے رحم چوٹوں خساروں کی دنیایہ کاغذ کے جھوٹے سہاروں کی دنیایہ روپیوں کے لالچ کے ماروں کی دنیایہ روپیہ اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جیسے تاریکی خود اپنی تہ تکپہنچنے کو بے چین ہواس لیےروشنی کی اس انگشت بے رحم کاخیر مقدم کرےاژدر آسودہ خاطر کو جگائے
تو تو وہ ہے بن کہے سنتا ہے جو دل کی پکارتجھ تلک پہنچی نہ کیوں پھر اس کی آہوں کی پکارہم تو سنتے ہیں بڑی سب سے عدالت ہے تریظالم و بے رحم لوگوں سے عداوت ہے تریپھر بھی اتنے ظلم پر کیوں آسماں پھٹتا نہیںاس تری دنیا سے آخر ظلم کیوں گھٹتا نہیںظلم بڑھتا جا رہا ہے ظلم بڑھتا ہی رہاخوف گھٹتا جا رہا ہے خوف گھٹتا ہی رہا
اے دل مضطرباے مرے بے وفااے مرے بے رحماب ٹھہر جا ذراجان منباز آباز آچاہے جانے کی خواہش میں مارا گیاان سرابوں کے پیچھے تو گھائل ہوامیرے مژگاں پہ تارے ہیں بکھرے ہوئےکون دیکھے انہیںہیں دیا سی ان آنکھوں میں پل پل جو پروانے مچلے ہوئےیہ تو جل جائیں گےخاک ہو جائیں گےچاہے جانے کی خواہش میں مر جائیں گےاے دل بے خبر تو نہ سہہ پائے گاتو بھی مر جائے گااے مرے چارہ گرتو کہ خود ہی مرض تو کہ خود ہی شفاتو مسیحا بھی خود تو کہ خود ہی دوااے دل بے خبرچاہے جانے کی سب شدتوں کو گھٹاباز آ باز آ
ٹولیاں آتی ہیں نوعمر تمناؤں کیدشت بے رنگ خموشی میں مچاتی ہوئی شورپھول ماتھے سے برستے ہیں نظر سے تارےایک اک گام پہ جادو کے محل بنتے ہیںندیاں بہتی ہیں آنچل سے ہوا چلتی ہےپتیاں ہنستی ہیں اڑتا ہے کرن کا سوناایسا لگتا ہے کہ بے رحم نہیں ہے دنیاایسا لگتا ہے کہ بے ظلم زمانے کے ہیں ہاتھبے وفائی بھی ہو جس طرح وفا آلودہ
پریشاں بٹن کسمساتا ہوا یہجو سینہ پہ چوکس متاع جوانیپہ پہرہ سا دیتا ہے خاموش رہ کرتکبر میں ڈوبا بڑا بے رحم ہےلگے عاشقوں کے جگر پر کنی سا
سن مری باتیں ذرا سن اے ذلیل و خوار قوماے وطن دشمن ستم آزار اے غدار قومبے نوا بے رحم اپنی جان سے بیزار قومبے حمیت بد نصیب اے مفلس و نادار قوم
کتنے شاداب پھولوں میں بس اک ہمیںباد صرصر کے جھونکوں سے مرجھا گئےاور ابجلد ہیشاخ سے ٹوٹ کرسخت بے رحم مٹی پہ گر جائیں گےچند لمحوں میں یکسر بکھر جائیں گےلیکن ایسا نہیںسارے پھولوں کا شاید یہی حشر ہے
شہر تو اپنے گندے پاؤں پسارے دریا کے کنارے لیٹا ہےاور تیرے سینے پر رینگتی ہوئی چیونٹیاں سورج کو گھور رہی ہیںجب نصف درجن غیر ملکی حکیموں نے مشترکہ طور پر اعلان کیامرض سنگین ہے اور یہ بہت جلد ہی مر جائے گاتو کسی چیچک زدہ بچے کی طرح تو نے انہیں دیکھا اور خاموش ہو رہاغلیظ بدکار بے رحمشہر لوگ کہتے ہیں تو بدکار ہےاور میں نے خود دیکھا ہےسر شامتیرے رنگے چہرے والی عورتیں لڑکھڑاتے نوجوانوں کو نگل جاتی ہیںبے رحمجب رات گئے تیرے دانشور رکشا کیے خودکشی کرنے جاتے ہیںتو خاموش رہتا ہے
رات آئی ہے ہزاروں دکھ لیےوقت کے بے رحم قدموں کے تلےپھول روندے جا چکے ہیں خواب کےزخم تازہ ہیں دل بے تاب کےروشنی بڑھنے لگی دن آ گیادن کے ہونٹوں پر کوئی منتر ہے کیاایک رونق لگ گئی ہے شہر میںہم بھی شامل ہو گئے اس لہر میںبھول کر ازلی دکھوں کے سلسلےدل میں جینے کے ہیں تازہ ولولے
میں زخمی زخمی لہو لہوہر جنگل ہر آبادی میںکانٹوں کے نکیلے رستوں پرپھولوں کی رو پہلی وادی میںہر شہر میں ہر ویرانے میںکوئی تو خریدار آئے گامقتل کی سنہری چوکھٹ تکبسمل کا طرف دار آئے گااک آس لئے امید لیےدامن میں مہ و خورشید لیےپتھراؤ کی چومکھ برکھا میںخوابوں کو بچاتا پھرتا ہوںبے رحم حقیقت ملتی ہےمیں آنکھ چراتا پھرتا ہوں
عشق ہے ام الکتابعشق خالق کا پیامبحر بے پایاں ہے عشقموج بھی ساحل بھی عشقجادہ و منزل بھی عشقمژدہ و حاصل بھی عشقگرمیٔ محض بھی عشقلیلیٰ و محمل بھی عشققاتل و بسمل بھی عشقبحر بے پایاں ہے عشقموج بھی ساحل بھی عشق
وقت بے رحمغضب ناکبلا کا سفاکوقت وہ سیل رواںجس کے آگے جو چلے وہ بھی مرےجس سے پیچھے جو رہے وہ بھی مرےاور وہ وقت کی تسخیر کو نکلا تھا کبھیپھر وہ رستے میں رہاشام ہوئیدیر ہوئیخاک میں خاک ملیاس کو معلوم تھا ''ریت آئینہ ہے''آئینہ کیسا ہے کرچی کرچیدھوپ ایسی کہ منڈیروں سے گری جاتی ہےخواب سے رنگ چراناآگ سے خود کو بچانا کوئی آساں تو نہیںوقت سے آگے نکلنا ہوگا
اکتوبر ہےکہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہےاپنے گھر میں بیٹھا میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوںباہر سارے پیڑدریدہ پیلے یرقانی پتوں کےمٹ میلے ملبوس میں لپٹے نصف برہنہباد خزاں سے الجھ رہے ہیںحرف حرف پتوں کا ابجدپت جھڑ کی بے رحم ہوا کو سونپ رہے ہیںمیں بھی الف سے چلتا چلتااب یائے معروف پہ پاؤں ٹکا کر بیٹھاایک قدم آگے مجہول کو دیکھ رہا ہوںننگے بچے دیمک چاٹےعمر رسیدہ پیڑ بھی اپنا ابجد کھو کربرف کا بوجھ نہیں سہہ پاتے گر جاتے ہیں
تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیںوقت بے رحم اک سپاہی ہےجس کا مضبوط و آہنی پنجہدل کا آئینہ توڑ دیتا ہےدشت ہستی میں آبلہ پا کوہمہ دم راہ غم دکھاتا ہےنو بہ نو انتشار لاتا ہےزندگی کو دکھی بناتا ہےلیکن اے ہم سفر ٹھہر تو سہیتجربے یہ بھی تو بتاتے ہیںوقت اک نرم دل مسیحا ہےجس کے نازک حسین پھول سے ہاتھٹوٹے آئینے جوڑ دیتے ہیںجامۂ تن کے چاک سیتے ہیںانگلیاں زخم دل پہ رکھتے ہیںاشک آنکھوں سے پونچھ دیتے ہیں
بڑھتی ہوئی خنکی کے ساتھدرختوں نےلباس بدلنا شروع کیاعجب رت ہےزردی میں ملبوس اشجارخاموش کھڑے ہیںہجر زدہ برہنہ ٹہنیاںسرد ہوا کے سامنے بے بس پتوں کیچیخ و پکار سن کر بھی ان کیمدد نہ کر سکیںتنہائی کسی جھونکے کی طرح ناچتی ہوئی گلستاں میں داخل ہوئیاور ایک سفید پھول توڑ کرخاک پہ پھینکاچمن کے سارے پھول مرجھانے لگےرنگت کی تبدیلی کا ماتم تھا یا پھراس پھول کے مٹی ہونے کامیں ایک کونے میں بیٹھیبے رحم موسموں کے طیوراڑتے ہوئے دیکھ کرسوچ رہی ہوںمجھے ابسیاہ ہوتے گلابوں کا نوحہ لکھنا ہے
مجھے بے رحم ہستی کے زیاں خانے میں کیوں بھیجا گیاکیوں حلقۂ زنجیر میں رکھ دی گئیں بے تابیاں میریہر اک منظر مری نظروں کا جویا تھافروزاں شاخساروں پر ہجوم رنگ و بواڑتا ہوا بر رواںسیماب پا موجیںصبا کا رقص بے پرواشب مہتاب کا افسوںمہ و انجم کے رقصاں دائرےروئے شفقتاباں افقدریاؤں کی رفتارشب کے جاگتے اسرارصحرا کا منور سینۂ عریاںطلسم بیکراں کے خواب گوں سائےمری راتوں میں مثل برق لہرائےستاروں کی تجلی میں تھا حرف کن کا افسانہبڑا فیاض تھا فطرت کا کاشانہکئی صحرا مرے گام تمنا کے شناسا تھےوہ حرف و صوت کی وادیوہ ذوق شعر کا جادہوہ عرفاں کے گریزاں آستانوں پر جبیں سائیوہ دانش کی پذیرائیوہ معنی کی گھنیری چھاؤں میںذہن رسا کا کشف وہاسرار کے پردے کے پیچھےدل کی محشر خیز آوازیںدل کی محشر خیز آوازیںوہ غم ہائے نہانی سے فروزاں ذوق بینائی
میرے جسم میں اداسی کی مقدار بڑھ چکی ہےاب میں کسی ماہر احساسات کیتلاش میں ہوں جو مجھے بتائے کہکتنے ڈیسیبل زور سے چیخوںتاکہ میری آواز اس تک پہنچ سکےکتنے کلو میٹر فی گھنٹے کیرفتار سے رویا جائےتاکہ میرے آنسو اس تک پہنچ سکیںبازاروں میں رش ہے مگر میں اکیلا ہوںلوگ بہرے ہو چکے ہیں کیوں کہ یہمیری چیخیں نہیں سن پا رہےنیند کی گولیاں مجھ سے اکتا چکی ہیںاب بستر مجھے بے رحم نظروں سے دیکھتا ہےمجھے خود سے کوئی ہمدردی نہیں رہیمیری ڈائری میں لکھا ایک ایک جملہمیرے خون تھوکنے کے بعد وجود میں آیا ہےاس سے پہلے کہ میں خود کو نوچ کھاؤںمیری لاش کو دفنا دو
سرما کی بے رحم فضا میںسرخ لہو نے بہتے بہتےحیرانی سےتپتی ہوئی اس خاک کو دیکھاابھی تو میں ان نیلی گرم رگوں میںکیسے دوڑ رہا تھابجھتی ہوئی اک سانس کی لو نےاپنے ننھے جیون کیاس آخری تیز کٹیلی ہچکی کو جھٹکادو خالی نظریںدور دھویں کے پارکہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیںابھی ابھی تو نیلا امبرباہیں کھولے تنا کھڑا تھامندی مندی سی دھوپیہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھیپھر کس نے اس جیتے جاگتےمنظر میں یہ آگ بھری ہےکالی فضا میں اڑتے ریشےآدھی ادھوری بے بس لاشیںسرخ لہو نے حیرانی سےجلے ہوئے منظر کو دیکھاآخری تیز کٹیلی ہچکیٹوٹ رہی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books