aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qillat-e-siim"
لیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کےقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گا
ایوان زر و سیم میں محشر ہوا برپاخائف ہمہ تن لشکر شداد ہے ہم سے
چاوڑی پھر گئی آنکھوں میں جوانی کی طرحکوچہ ہائے صنم سیم تناں یاد آیا
اپنے مذہب کے مسائل سے طبیعت تھی نفوررہتے تھے ذکر بتان سیم تن کی دھن میں چور
تو نے بیچی ہے سر عام جوانی اپنیگدگداتی ہے زر و سیم کی جھنکار تجھے
شاداب ہے دن رات غریبوں کے لہو سےارباب زر و سیم کا گلزار ہے عالم
جس کی تنویر نے ذروں کو عطا کی تابشجس کی تقریر نے توڑا ہے طلسم زر و سیم
سم سم سیم سے کھل جاتے ہیں عقدوں کے پہاڑجگمگا اٹھتے ہیں پھولوں کے دیے صحرا میں
بے زری اپنی صداقت کو پرکھتی ہی رہیتل گیا حسن زر و سیم کی میزانوں میں
یہ تمہارے ریشمی تار ہیںیہ تمہاری سوزن سیم ہے
تم زر و سیم کی میزان میں تل سکتی ہوپیار بکتا نہیں چاہت کا کوئی مول نہیں
اپنی جیبیں ٹٹولیںتو سکے ہمارے زر و سیم کے
دیئے لہوں کے فروزاں کیے ہوئے ہر طاقہے جن کے سامنے خیرہ طلا و گوہر و سیم
خیالی عذابوں میں جلنے کی حیرت سے گویاسراپا زر و سیم کی یخ سلاخیں اور آنکھیں
پتا پتا بوٹا بوٹا شعر و فنجلوہ گاہ تیغ دست سیم تن
اب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گایہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا
آج افلاس نے کھائی ہے زرسیم سے ماتاس میں لیکن ترے چلوؤں کا کوئی دوش نہیں
بخت برگشتہ آرزوئیں بہتہوس سیم و عاج نے مارا
ہر ایک چہرہ خود اپنی آنکھوں میں آئینہ ہو گیا ہو جیسےطلسم سم سم سے جس خزانے کا در کھلا تھا
مس و سیم کے کاسوں کی چمکاور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books