aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ridaa"
ہر شام یہاں شام ویراں آسیب زدہ رستے گلیاںجس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاںصحرا کو چمن بن کو گلشن بادل کو ردا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضاپھر وہی عام ہوئیں اہل ریا کی باتیںنعرۂ حب وطن مال تجارت کی طرحجنس ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں
ابھی ہم خوبصورت ہیںہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیںاور ردائے زخم سے آراستہ ہیںپھر بھی دیکھو توہماری خوش نمائی پر کوئی حرفاور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیاہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیںاور چہرے رتجگوں کی شعلگی سےآبنوسی ہو چکے ہیںاور زخمی خوابنادیدہ جزیروں کی زمیں پراس طرح بکھرے پڑے ہیںجس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کوسمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہےلہو کی بارشیںیا خودکشی کی خواہشیں تھیںاس اذیت کے سفر میںکون سا موسم نہیں آیامگر آنکھوں میں نملہجے میں سمہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیاابھی تک دل ہمارےخندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںزمانے ہو گئےہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھےمگر اب بھیبہت سے آشنا نا آشنا ہمدماور ان کی یاد کے مانوس قاصداور ان کی چاہتوں کے ہجر نامےدور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیںگلابی موسموں کی دھوپجب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہےتو برفانی بدن میںجوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہےاداسی کا پرندہچپ کے جنگل میںسر شاخ نہال غم چہکتا ہےکوئی بھولا ہوا بسرا ہوا دکھآبلہ بن کر ٹپکتا ہےتو یوں لگتا ہےجیسے حرف اپنےزندہ آوازوں کی صورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںہماری خوش نمائی حرف حق کی رونمائی ہےاسی خاطر تو ہم آشفتہ جاںعشاق کی یادوں میں رہتے ہیںکہ جو ان پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیںہماری حرف سازیاب بھی محبوب جہاں ہےشاعری شورید گان عشق کے ورد زباں ہےاور گلابوں کی طرح شاداں چہرےلعل و مرجاں کی طرح لبصندلیں ہاتھوں سےچاہت اور عقیدت کی بیاضوں پرہمارے نام لکھتے ہیںسبھی درد آشناایثار مشربہم نفس اہل قفسجب مقتلوں کی سمت جاتے ہیںہمارے بیت گاتے ہیںابھی تک ناز کرتے ہیں سب اہل قافلہاپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پرابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پرابھی ہم آسمانوں کی امانتاور زمینوں کی ضرورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیں
سوچتا جاتا ہے کن آنکھوں سے دیکھا جائے گابے ردا بیوی کا سر بچوں کا منہ اترا ہوا
تتلی جگنو رنگ و خوشبوگل و بلبل جیسےاستعارے نہیں ہیں پاس مرےکیونکے میں نےسسکتی سلگتی تڑپتی ہوئیزندگی کو دیکھا ہےکھلی آنکھ سےمیں نے دیکھی ہےلہو سے تر سڑکیںمیں نے دیکھے ہیں جنرل وارڈ میںبے بسی سے ایڑیاں رگڑتے ہوئےبچے بوڑھے لاچارمیں نے دیکھی ہیںروٹی کے بدلےردا ہوتی ہوئیتار تارمرے شعور میںآج بھی تازہ ہےسارہ شگفتہؔ کے بنا کفن کےپھول جیسے بچے کی لاشمیں نے دیکھی ہےمسجد کی ٹوٹتی ہوئی محراباب مری بے نور آنکھیںکیسے دیکھے کوئی حسین خواب
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہےحسین اس میں خط کربلا بناتا ہےیزید موسم عصیاں کا لا علاج مرضحسین خاک سے خاک شفا بناتا ہےیزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیادحسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہےیزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گمحسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہےیزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھرحسین شام سے پہلے دیا بناتا ہےیزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سےحسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے
خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئیخدا سے کیا گلہ بھائیخدا تو خیر کس نے اس کا عکس نقش پا دیکھانہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھامگر توبہ مری توبہ یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہےیہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہےابھی کل تک جب اس کے ابروؤں تک موئے پیچاں تھےابھی کل تک جب اس کے ہونٹ محروم زنخداں تھےردائے صد زماں اوڑھے لرزتا کانپتا بیٹھاضمیر سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھامگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستہ ہےہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہےخدا اس کا خدائی اس کی ہر شے اس کی ہم کیا ہیںچمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرہ ہیںہماری ہی طرح جو پائمال سطوت میری و شاہی میںلکھوکھا آب دیدہ پا پیادہ دل زدہ واماندہ راہی ہیںجنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی گم پیما لکیروں میںدکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریںضرور اک روز بدلے گا نظام قسمت آدمبسے گی اک نئی دنیا سجے گا اک نیا عالمشبستاں میں نئی شمعیں گلستاں میں نیا موسموہ رت اے ہم نفس جانے کب آئے گیوہ فصل دیر رس جانے کب آئے گییہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی
ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہاکیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظورایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھیکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتورچادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیںصحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضوران میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئیتھا تمہارا بھی وہی حق کہ یہی ہے دستوراب جو یہ جسم پہ تیرے نظر آتا ہے لباسیہ اسی لوٹ کی چادر سے بنا ہوگا ضرورمختصر تھی وہ ردا اور ترا قد ہے درازایک چادر میں ترا جسم نہ ہوگا مستوراپنے حصہ سے زیادہ جو لیا تو نے تو ابتو خلافت کے نہ قابل ہے نہ ہم ہیں مامورگرچہ وہ حد مناسب سے بڑھا جاتا تھاسب کے سب مہر بہ لب تھے چہ اناث و چہ ذکورروک دے کوئی کسی کو یہ نہ رکھتا تھا مجالنشۂ عدل و مساوات سے سب تھے مخموراپنے فرزند سے فاروق معظم نے کہاتم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبورتمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جوابکہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفوربولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہو کراس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصورایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباسکر سکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیوراپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دیواقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستورنکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروقحکم دے ہم کو کہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور
وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںتیزی سے جنگلوں میں اڑی جا رہی تھی ریلخوابیدہ کائنات کو چونکا رہی تھی ریلمڑتی اچھلتی کانپتی چنگھاڑتی ہوئیکہرے کی وہ دبیز ردا پھاڑتی ہوئیپہیوں کی گردشوں میں مچلتی تھی راگنیآہن سے آگ بن کے نکلتی تھی راگنیپہنچی جدھر زمیں کا کلیجہ ہلا دیادامن میں تیرگی کے گریباں بنا دیاجھونکے ہوا کے برف بچھاتے تھے راہ میںجلوے سما رہے تھے لرز کر نگاہ میںدھوکے سے چھو گئیں جو کہیں سرد انگلیاںبچھو سا ڈنک مارنے لگتی تھیں کھڑکیاںپچھلے پہر کا نرم دھندلکا تھا پر فشاںمایوسیوں میں جیسے امیدوں کا کارواںبے نور ہو کے ڈوبنے والا تھا ماہتابکہرے میں کھپ گئی تھی ستاروں کی آب و تابقبضہ سے تیرگی کے سحر چھوٹنے کو تھیمشرق کے حاشیے میں کرن پھوٹنے کو تھیکہرے میں تھا ڈھکے ہوئے باغوں کا یہ سماںجس طرح زیر آب جھلکتی ہوں بستیاںبھیگی ہوئی زمیں تھی نمی سی فضا میں تھیاک کشت برف تھی کہ معلق ہوا میں تھیجادو کے فرش سحر کے سب سقف و بام تھےدوش ہوا پہ پریوں کے سیمیں خیام تھےتھی ٹھنڈے ٹھنڈے نور میں کھوئی ہوئی نگاہڈھل کر فضا میں آئی تھی حوروں کی خواب گاہبن بن کے پھین سوئے فلک دیکھتا ہوادریا چلا تھا چھوڑ کے دامن زمین کااس شبنمی دھندلکے میں بگلے تھے یوں رواںموجوں پہ مست ہو کے چلیں جیسے مچھلیاںڈالا کبھی فضاؤں میں خط کھو گئے کبھیجھلکے کبھی افق میں نہاں ہو گئے کبھیانجن سے اڑ کے کانپتا پھرتا تھا یوں دھواںلیتا تھا لہر کھیت میں کہرے کے آسماںاس وقت کیا تھا روح پہ صدمہ نہ پوچھئےیاد آ رہا تھا کس سے بچھڑنا نہ پوچھئےدل میں کچھ ایسے گھاؤ تھے تیر ملال کےرو رو دیا تھا کھڑکی سے گردن نکال کے
دہشتوں کی لاشوں پر امن کی ردا ڈالیںاور خزاں کے موسم کو فصل گل بنا ڈالیں
میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں کہ جس کے بیٹوں نےجو کہا اس پہ جان دے دیمیں جانتا تھا مرے قبیلے کی خیمہ گاہیں جلائی جائیں گی اور تماشائیرقص شعلہ فشاں پر اصرار ہی کریں گےمیں جانتا تھا مرا قبیلہ بریدہ اور بے ردا سروں کی گواہیاںلے کے آئے گا پھر بھی لوگ انکار ہی کریں گےسو میں کمین گاہ عافیت میں چلا گیا تھاسو میں اماں گاہ مصلحت میں چلا گیا تھااور اب مجھے میرے شہسواروں کا خون آواز دے رہا ہےتو نذر سر لے کے آ گیا ہوںتباہ ہونے کو ایک گھر لے کے آ گیا ہوںمیں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں!
انہیں بتاتا ہوں سرد موسم میں دھوپ تھی سوبے رخی کی ردا کو اوڑھے کسی دوپہری میں سو گئے ہوتم اک پرائے کے ہو گئے ہوکسی سے کہتا ہوں اچھے لوگوں کی صحبتوں میں سنور گئے ہوکسی سے کہتا ہوں مر گئے ہو
وہ نیلے آسمان پر سفید حلقہجسے سب چاند کہتے ہیںجسے ہند و پاک کے بچے ماما سمجھتے ہیں سلام کرتے ہیںجسے شعراحسین چہروں سے تعبیر کرتے ہیںوہ نیلے آسمان پر سفید حلقہچمکتا ہے جو گھٹتا بڑھتا بھی ہےخلا کی منڈیروں پہ چلتا بھی ہےخیال محبوب سےشب تنہائی کو جگمگاتا بھی ہے آنسوؤں میں جھلملاتا بھی ہےوہ نیلے آسمان پر سفید حلقہضیا جس کی یادوں کا درپن دکھاتی رہیجواں دل کی دھڑکن جگاتی رہیخیالوں میںکسی کو بلاتی رہی جذبات گدگداتی رہیوہ نیلے آسمان پر سفید حلقہتلاش میں جس کی گھرےبتوں کی طرح بے کہے بے سنےحیات و موت سے بے خبرہزاروں سائنسداں اس پہ جانے کو کوشاں رہےوہ نیلے آسمان پر سفید حلقہدکھائی دینے کے باوجود بھی جو سب کابس اک خیال تھا تصور تھااچانک ایک دناسی انساں کے قدموں کے نیچے آ گیاوہ نیلے آسمان پر سفید حلقہنہ جس پر کوئی زندگی ہےنہ حسن فطرت کی ردا یا اوڑھنی ہےجہاں صرف خامشی ہےوہ نیلے آسمان پر سفید حلقہحقیقت جس کی سب سمجھ میں آ گئی پھر بھیکسی شاعر نے کیوں اپنے محبوب کی اس سے مثال دینظر میں اس کی وہ حسیں بھی کیا چاند جیسا ہے جہاں کچھ بھی نہیںجہاں ہے بس چند لمحوں کی چاندنی
گل بار ردائے آزادی سرشار جوانی کا پرچمیہ امن کے نغموں کا مطرب خاموش بغاوت کا یہ علم
قلم اداس ہے لفظوں میں حشر برپا ہےہوا رکی ہے تو رقص شرر بھی ختم ہواجنون شوق جنون سفر بھی ختم ہوافرات جاںتری موجوں میں اب روانی نہیںکوئی فسانہ نہیں اب کوئی کہانی نہیںسمٹ گئے ہیں کنارے وہ بیکرانی نہیںتو کیا یہ نبض کا چلنا ہی زندگانی ہےنہیں نہیں یہ کوئی زیست کی نشانی نہیںکہ سانس لینا فقط کوئی زندگانی نہیںکچھ اور رنگ میں آئی ہے یہ خزاں اب کےہے سمٹی سمٹی سی خود میں ہی غیرت ناہیدمیان اہل طریقت بھی بے ردا ہے غزلہجوم اہل زباں اور بے نوا ہے غزلسفر یہ کیسے کرے خار زار رستوں پرتھکن سوار ہے اس پر برہنہ پا ہے غزلتمہارا ساتھ جو چھوٹا تو اب پریشاں ہےکہ اس تغافل بے جا پہ سخت حیراں ہےیہ کس مقام پہ تم نے اکیلا چھوڑ دیاتمہیں خبر ہے کہ تم سے بہت خفا ہے غزلیہ بے مکانییہ تنہائی اور یہ در بہ دریستا رہا ہے بہت اب خیال ہمسفریصلیب و دار و رسن سے گزر رہی ہے غزلچلے بھی آؤ کہاں ہو کہ مر رہی ہے غزلسیہ لباس میں نوحے اداس بیٹھے ہیںسروں کو تھامے قصیدے اداس بیٹھے ہیںہے مرثیے کی نگاہوں میں ابر ٹھہرا ہوابدن دریدہ لطیفے اداس بیٹھے ہیںابھر رہی ہے یہ کیسی صدائے واویلاسرہانے دیکھو رباعی کا بین ہوتا ہےوہ دیکھونظم گریبان چاک کرتے ہوئےدہائی دیتی ہے مقتل کے استعاروں کیعلامتوں کی کنایوں کی اور اشاروں کیبہت ملول ہیں شہر سخن کی تحریریںشب الم کے ہیں قصے جنوں کی تفسیریںورق ورق ہے پریشاں غبار خاطر کاہوا ہے نثر کو احساس پھر یتیمی کاہوائے شہر ستم کس ادا سے گزری ہےدہن خموش ہیںچپ چپ سے ہیں سخن کے چراغبجھی بجھی سی ہے قندیل خانقاہ ادبدھواں دھواں ہیںخطابت کے فکر و فن کے چراغہے آسمان ادب پہ وہ دھند چھائی ہوئیدکھائی دیتا نہیں اب کوئی ستارۂ نورکلام کا وہ قرینہوہ گفتگو کا شعورکہاں سے اب کوئی لائے گا ثانیٔ منظورعجیب وقت پڑا ہے فن نظامت پرکہ دم بخود سے کھڑے ہیں اب انورؔ و منظورؔوقار کیسے عطا ہو شکستہ لہجوں کورفو کرے کوئی کیسے دریدہ جملوں کوہے مسکرانا ضروری وقار غم کے لئےتراشے کون زباں حرمت قلم کے لئےتمہارے جانے سے ویران ہو گئی محفلاجڑ گیا ہے یہ دیکھو جہان شہر ادبسمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ اب کہاں جائیںبھٹکتے پھرتے ہیں اب ساکنان شہر ادبیہ میکدے کی اداسییہ جام الٹے ہوئےکہ جیسے روئے ہوں شب بھر یہ ساغر و میناکئی دنوں سے ہنسی ہی نہیں ہے کالج گرلتمہارے ہجر نے پتھر بنا دیا ہے اسےبہت اداس بڑی بے قرار چپ چپ سیکہ حزن و یاس کا منظر بنا دیا ہے اسےوہ دیکھو میز پہ جتنی کتابیں رکھی ہیںتمہاری گرد رفاقت ہے سب کے چہرے پرپکارتی ہیں تمہیں یہ ادھوری تحریریںبکھرتے ٹوٹتے خوابوں کی تشنہ تعبیریںیہ اجڑا اجڑا دبستان ڈھونڈھتا ہے تمہیںچلے بھی آؤ کہ امکان ڈھونڈھتا ہے تمہیںجو ہو سکے تو چلے آؤ تم ملک زادہمگر یہ خواہش بے جااسے خبر ہی نہیںکہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتےمہکتے رہتے ہیں گلدان ان کی یادوں کےسلگتے رہتے ہیں لوبان ان کی یادوں کے
وہی کار دنیاوہی کار دنیا کے اپنے جھمیلےوہی دل کی حالتوہی خواہشوں آرزوؤں کے میلےوہی زندگی سے بھری بھیڑ میں چلنے والے سبھی لوگاپنی جگہ پر اکیلےکئی گرد آلود منظر نگاہوں کی دہلیز پر جم گئے ہیںمجھے یوں لگا جیسے چلتے ہوئے وقت کے قافلے تھم گئے ہیںذرا سیڑھیوں سے ادھر میں نے دیکھاوہی شہر ہے اور وہی شہر کی بے کرامت فضا ہےوہی خلق ہے اور وہی خلق کے بھول جانے کی اپنی ادا ہےوہی راستے ہیں وہی بے سہولت سفر کی سزا ہےوہی سانس لینے کو جینے کو بے مہر آب و ہوا ہےوہی زندگی ہے وہی اس کے چاروں طرف بے تحفظ ردا ہےوہی سیڑھیوں سے ادھر راہداری کے بائیں طرف خالی کمرہتری گفتگو سے بھرا خالی کمرہترے قہقہوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا آنسوؤں کا جزیرہجزیرے میں اڑتا ہوا اک پرندہمنڈیروں دریچوں درختوں کی تنہائیوں کا مداوا پرندہتری چاہتوں اور وفاداریوں کے افق پر ستارہ نما اک پرندہترے گیت گاتاتمناؤں کی بارشوں میں نہاتاکسی تازہ امکان کو جگمگاتاکہیں دور پھیلی ہوئی کہکشاؤں میں گم ہو گیا ہےذرا سیڑھیوں سے ادھر میں نے دیکھاکئی لکھنے والےخوشامد کا کاسہ لئے اپنے غیبت کدے میں کھڑے ہیںسیاسی وڈیرےمساوات کا نام لے کر ہمیشہ غریب آدمی کی انا سے لڑے ہیںکئی اہل دانشجو مظلوم کی آہ و زاری پہ دکھتے تھےظالم کے در پر پڑے ہیںیہاں کوئی چھوٹا نہیں ہےسب اک دوسرے سے بڑے ہیںتری شاعری کا خمیر اپنے جذبوں کی سچائیوں سے اٹھا تھاتو اپنے اصولوں کے آتش فشاں پر کھڑازندگی کی ریا کاریوں سے نبرد آزما تھاتو اپنے رویوں کی سب حالتوں میںمحبت سے لکھی ہوئی اک دعا تھاتو اہل وفا کا ضمیر آشنا تھاابھی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے میں رک سا گیا ہوںوہاں کون ہےکون ہے اب جو دستک کی پہلی کرن کی حکایت سنے گانئے رتجگوں کی مسافت میں الجھے ہوئے آنے والے دنوں کیروایت سنے گاچراغوں کی آواز میںآئنوں کی تلاوت سنے گامرے شاعر خوش نواتو کہ دشمن بھی اچھا تھااور دوستی میں بھی تیرا یہاں کوئی ثانی نہیں ہےجسے اہل دل بھول جائیں گےتو وہ کہانی نہیں ہے
یہیں تو کہیں پرتمہارے لبوں نےمرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھےاسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کرہم اک دن کھڑے تھےیہیں برف باری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھےبہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائےہم آغوشی جسم و جاں کے نشے میںگئی برف باری کی رتاور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سبیہاں کچھ نہیں ابکہ ہر شے نئی ہےہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہےہری پتیوں کی گھنی ٹہنیوں میںہوا جب چلے توگئے موسموں سے گزرتیہماری ہنسی گونجتی ہے
مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھیہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگ گل سے خراشیہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گدازیہ ایک روح بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر!ذرا قریب تو آ دیکھ تیرے سامنے ہیںیہ سرخ رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیےکبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھےجو تو کہے تو یہی ہونٹ سرخ رس بھرے ہونٹترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں!قریب آ یہ بدن میری زندگی کا طلسمتری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہےجو تو کہے تو یہی نرم لہریا آنچلیہی نقاب مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئییہی ردا مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئییہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہےبس ایک شرط۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویزذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہیاکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے!ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے
یہ ہم کون ہیںوقت کی شاہراہوں پہ ننگے قدمتیز تیز دھوپ میںبے ردا بے اماںراستے میں کوئی میل پتھر نہیںاور ہوائے مسافت گزرتے ہوئےرک کے کہتی ہے یہکوئی منزل تمہارا مقدر نہیں
میں جینا چاہتا ہوںمگر کیڑے مکوڑوں اور بے مایہ مخلوقات کی طرحرینگ رینگ کر نہیں!میں جینا چاہتا ہوںمگر اپنے باطن میںکلبلاتے شر پرظاہری اخلاق کی رداڈال کر نہیںمیں جینا چاہتا ہوںمگر ایسے نہیںکہ میرے وجود کے اندربغض ہوس اور ریا کاری کی بارودی سرنگیںبچھی ہوںاور ہر لحظہ ہر پلیہ خوفکہ کب کوئیریموٹ کنٹرول سےانا اور غیرت احساس اور جذبےکی خوبصورت عمارتوں کوڈھا دےمیں جینا چاہتا ہوںاپنے پورے وجود کی ساری اکائیوں کے ساتھاور مجھے یہ احساس نہ ستائےکہ یہ زندگیکسی کی بھیک میں دی ہوئی سانسوں کا حصہ ہےمیں جینا چاہتا ہوںایک ایسی دنیا میںجہاں ملک گیری کے جنوناتنے شدید نہ ہوں کہایٹمی توانائی سے ممیز آلات فضا کو مسموم کر دیںانسان اس کی ہزاروں برسوں کی پرانی قدریںایسی پامال ہو جائیں جیسے حقیر ذرےمگر میں جانتا ہوںیہ سب ممکن نہیںتو میں مرنا چاہوں گاپر ایسی موت نہیںکہ میری لاش کوقبرستان تک پہنچانے میںتکلف مجبوری اور زبردستی کا شائبہ ہویا دعا میں ہلتے ہوئے لباور اٹھائے ہوئے ہاتھمجبوراً و رسماً ہوںہاں ایسی موت جو کسی کی آنکھوں میںٹھہرے ہوئے چند قطرےخاموشی سے میرے کفن میںجذب ہو جائیںاور بس!!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books