aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rizq-e-haal"
دل اک کٹیا دشت کنارےبستی کا سا حال نہیں ہےمکھیا، پیر پروہت پیادےان سب کا جنجال نہیں ہےنا بینے نہ سیٹھ نہ ٹھاکرپینٹھ نہیں چوپال نہیں ہےسونا روپا چوکی مسندیہ بھی مال منال نہیں ہےلیکن یہ جوگی دل والااے گوری کنگال نہیں ہےچاہو جو چاہت کا خزاناتم آنا اور تنہا آنا
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
تری چاہ میں دیکھا ہم نے بحال خراب اسےپر عشق و وفا کے یاد رہے آداب اسےترا نام و مقام جو پوچھا، ہنس کر ٹال گیا
چپکے سے کانوں میں کہہ جاخوشیوں کا سندیس سنا جاپریم تو اپنی ڈگر بتا جاکیا تو جوگن بن بیٹھیدور کہیں مایا سے چھپ کرتو بن گئی انوکھیدیکھ ری تیرے سوگ میں کیسا حال کیا ہم نے اپنادکھ کے کنکر پتھر چنتے کومل ہاتھ ہیں پتھرائےجیون کے رستے پر بکھرے کانٹے سو سو ڈنک اٹھائےنفرت کی آندھی سے دھندلے پڑ گئے چندا تارےگھر آئی ہے چاروں اوردیکھ گھٹا گھنگھورآنکھوں سے اوجھل ہے امبرپاپ کا جھونکا چلے بھینکرہلچل مچ گئی باہر اندرچاروں اور بگولے اڑتے ادھر ادھر بولائےجیسے ان کو کھوج کسی کیسر ٹکراتے سر کو اٹھائے سر کو جھکائےسر کے بل کچھ پھرتے ہیںسب کو کھوج ہے تیریپریم کہاں تو چھپ کر بیٹھیہم سے کیوں ہے روٹھیآ دیکھ کہ تیرے نہ ہونے سےکیا کیا دکھ ہم نے جھیلےپریم پجاری جتنے تھے سب بن گئے اتیاچاریخود ہی اتیاچار کرے ہےبن بیٹھے بے چارےاپنے اتیاچار کو بھوگےکیسے کھیل نرالےلیکن ان کے من میں کیسی جوالا جاگ اٹھی ہےاب تو تیری ہی ان کو بس انتم آس لگی ہےاے جوگنکیا تو بھی ڈھونڈھے کوئی پریم پجاریاس کی کھوج میں بن گئی ہے تو بالکل ہی بن باسیمن میں جھانک کے دیکھ لے سب کےتیری چاہ بسی ہےدوری تیری بھڑکائے ہے اب تو من میں ڈاہاور ہمارے ہونٹوں کا ہر شبد بنا ہے آہ
پھر بھی میں اس صورت حال کوواضح طور پر سمجھنا چاہتا ہوں
ہوئی ہے آدمیت صرف دین شیطاں پرہوا ہے صرف لہو تشنگیٔ حیواں پریہ خون خاک نشینی بنا ہے رزق ستمہوا ہے سلسلۂ جور کے الم پہ رقم
عرصۂ عمر میںہم کہاں آ گئےجس جگہ ابمحبت کا کوئی نشاں ہی نہیںزندگی کا جہاں پرگماں ہی نہیںاے مرے اجنبیسبزہ و گل کی رنگینیاں کھو گئیںپھول مرجھا گئے تتلیاں سو گئیںزندگی کا جہاں پرگماں ہی نہیںاے مرے اجنبیشہر ناواقف حال میں آ گئےپنچھیوں کی طرح جال میں آ گئےخون جیسے رگوں میں رواں ہی نہیںاے مرے اجنبیہم کہاں آ گئےراکھ باقی نہیں اور دھواں ہی نہیںشہر میں اب کوئی مہرباں ہی نہیںاے مرے اجنبیعرصۂ عمر میںہم کہاں آ گئےجس جگہ ابمحبت کا کوئی نشاں ہی نہیںزندگی کا جہاں پرگماں ہی نہیں
ممتاز اسپین میںجائز اور ناجائز چیزیںدر آمد بر آمد کر کےرزق حلال اور اکل حرام کماتا تھااس کے جاننے والوں میںکچھ ایسے ویسے لوگ بھی شامل تھےمگر اپنی اپنی پردیسی دنیاؤں میںدونوں آرام سے تھے
سرو کے سائے میں الجھے ہوئے انفاس کے راگماضی و حال کے سنگم پہ چلاتے رہے آگ
پھر وہی عمر گریزاں کا ملالپھر وہی کشمکش ماضی و حالانگنت خوابلڑکپن کے جوانی کے سلگتے ہوئے جذبوں کے مہ و سال کے خوابایک اک لمحہبکھرتا سا سمٹتا ساخد و خال کے سو رنگ لیےقہقہے مجلس احباب شگفتہ چہرےایک آسودہ تمنا کا دیارجیسے نوخیز شگوفوں کی بہار
دور پردیس کی راہوں میں بھٹکتے راہیدل میں پھر یاد تری آئی ہے مہماں کی طرح
فتنۂ خفتہ جگائے اس گھڑی کس کی مجالقید ہیں شہزادیاں کوئی نہیں پرسان حال
شامل حال ہے خالق کی عنایت بن کردوستی ساتھ میں رہتی ہے ہدایت بن کر
برقؔ یہ ضرب المثل ہوگی ہمارے حسب حالہر کمالے را زوالے ہر زوالے را کمال
میں نے سوچا تھا کہ اس بار بایں صورت حالمیرے دروازے پہ شہنائیاں سب دیکھیں گےجو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا اب دیکھیں گے
ترا دھیان لیے میں نگر نگر گھوماشریک حال تھی تیری نظر کی پہنائیکہ آسمان و سمندر جگا دیے جس نےفضا میں ابر کے پیکر بنا دیے جس نے
بھوک ننگ سب دین انہی کی ہے لوگوبھول کے بھی مت ان سے عرض حال کروجینے کا حق سامراج نے چھین لیااٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
جب خیالوں میں ترے جسم کو چھو لیتا ہوںزندگی شعلۂ ماضی سے جھلس جاتی ہےجب گزرنا ہوں غم حال کے ویرانے سےمیرے احساس کی ناگن مجھے ڈس جاتی ہے
دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے
میں واپس آؤں گااور میں 'کتاب ذات' اک ہم راہ لاؤں گا'کتاب ذات' کی ہر آیتانسانی مسائل کا بیاں ہوگیتلاش حل کے ماروں کیامیدوں کا زیاں ہوگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books