aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "roGan"
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںمرے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے ہیںکہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوںحسن نام کا اک جواں کوزہ گر اک نئے شہر میںاپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوااپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہےہمیں میں کہ جیسے ہمیں ہوں سمویا گیا ہےکہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سےہزاروں برس رینگتی رات بھراک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریںبناتے رہے ہیںاور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلےیہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گرایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیںجہاں زادیہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہکوزوں کی لاشوں میں اترا ہےدیکھویہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیںکبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیںیہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںکو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گےجو تاریخ کو کھا گئی تھیںوہ طوفان وہ آندھیاں پا سکیں گےجو ہر چیخ کو کھا گئی تھیںانہیں کیا خبر کس دھنک سے مرے رنگ آئےمرے اور اس نوجواں کوزہ گر کےانہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سےانہیں کیا خبر کون سے حسن سےکون سی ذات سے کس خد و خال سےمیں نے کوزوں کے چہرے اتارےیہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیںزمانہ جہاں زاد افسوں زدہ برج ہےاور یہ لوگ اس کے اسیروں میں ہیںجواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامنہیں جویا کسی عظمت نارسا کےانہیں کیا خبر کیسا آسیب مبرم مرے غار سینے پہ تھاجس نے مجھ سے اور اس کوزہ گر سے کہااے حسن کوزہ گر جاگدرد رسالت کا روز بشارت ترے جام و میناکی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہےیہی وہ ندا کے پیچھے حسن نام کایہ جواں کوزہ گر بھیپیاپے رواں ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تک
زندگی کہنے کو بے مایہ سہیغم کا سرمایہ سہیمیں نے اس کے لیے کیا کیا نہ کیاکبھی آسانی سے اک سانس بھی یم راج کو اپنا نہ دیاآج سے پہلے بہت پہلےاسی آنگن میںدھوپ بھرے دامن میںمیں کھڑا تھا مرے تلووں سے دھواں اٹھتا تھاایک بے نام سا بے رنگ سا خوفکچے احساس پہ چھایا تھا کہ جل جاؤں گامیں پگھل جاؤں گااور پگھل کر مرا کمزور سا ''میں''قطرہ قطرہ مرے ماتھے سے ٹپک جائے گارو رہا تھا مگر اشکوں کے بغیرچیختا تھا مگر آواز نہ تھیموت لہراتی تھی سو شکلوں میںمیں نے ہر شکل کو گھبرا کے خدا مان لیاکاٹ کے رکھ دیے صندل کے پر اسرار درختاور پتھر سے نکالا شعلہاور روشن کیا اپنے سے بڑا ایک الاؤجانور ذبح کیے اتنے کہ خوں کی لہریںپاؤں سے اٹھ کے کمر تک آئیںاور کمر سے مرے سر تک آئیں
میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگومیں اس شہر کا نغمہ گرجو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیاتاکہ اپنے گھر کی دیواروں سےاپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئیآنکھیں سہلاؤںاپنے دروازے کے اترتے روغن کواپنے اشکوں سے صیقل کر لوںاپنے چمن کے جلے ہوئے پودوںاور گرد آلود درختوں کیمردہ شاخوں پر بین کروںہر مہجور ستون کو اتنا ٹوٹ کے چوموںمیرے لبوں کے خون سےان کے نقش و نگار سبھی جی اٹھیںگلی کے لوگوں کو اتنا دیکھوںاتنا دیکھوںمیری آنکھیںبرسوں کی ترسی ہوئی آنکھیںچہروں کے آنگن بن جائیںپھر میں اپنا ساز اٹھاؤںآنسوؤں اور مسکانوں سے جھلمل جھلملنظمیں غزلیں گیت سناؤںاپنے پیاروںدرد کے ماروں کا درماں بن جاؤںلیکن میرے شہر کے سارے رستوں پراب باڑ ہے لوہے کے کانٹوں کیشہ دروازے پر کچھ پہرے دار کھڑے ہیںجو مجھ سے اور مجھ جیسے دل والوں کیپہچان سے عاریمیرے ساز سےسنگینوں سے بات کریںمیں ان سے کہتا ہوںدیکھومیں اس شہر کا نغمہ گر ہوںبرسوں بعد کڑی راہوں کیساری اذیت جھیل کے اب واپس آیا ہوںاس مٹی کی خاطرجس کی خوشبوئیںدنیا بھر کی دوشیزاؤں کے جسموں کی مہکوں سےاور سارے جہاں کےسبھی گلابوں سےبڑھ کر ہےمجھ کو شہر میںمیرے شہر میں جانے دولیکن تنے ہوئے نیزوں نےمیرے جسم کو یوں برمایامیرے ساز کو یوں ریزایامیرا ہمکتا خون اور میرے سسکتے نغمےشہ دروازے کی دہلیز سےرستے رستےشہر کے اندر جا پہنچے ہیںاور میں اپنے جسم کا ملبہساز کا لاشہاپنے شہر کے شہ دروازےکی دہلیز پہ چھوڑ کےپھر انجانے شہروں کی شہراہوں پرمجبور سفر ہوںجن کو تج کر گھر آیا تھاجن کو تج کر گھر آیا تھا
رگوں میں اب میری تیرا لہو ہےمری صورت بھی تجھ سی ہو بہ ہو ہےبہت عرصے سے خود میں میں ہوں غائبسراپا جسم میں اب تو ہی تو ہےمکاں ہوں میں تو بام و در ہے میراتو خد و خال ہے پیکر ہے میرایہ تیرے عشق کا ہر سو اثر ہےجمال و رنگ سب بہتر ہے میراوجود اکثر میں اپنا بھولتا ہوںبھرم میں تیرے خود کو چومتا ہوںتری وحشت میں ہی پاؤں سکوں میںتجھے خود سے الگ کیسے کروں میں
شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھیابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن گلے میںسانپوں کے ہار لائی نہ اس کو مشاطگی سے مطلبنہ مانگ غازہ نہ رنگ روغن گلے میں سانپوںکے ہار اس کے تو سر پہ ایندھنخدایا کیسی شب زفاف ابو لہب تھی
روز ساحل پہ کھڑے ہو کے یہی دیکھا ہےشام کا پگھلا ہوا سرخ سنہری روغنروز مٹیالے سے پانی میں یہ گھل جاتا ہے
اے حسن کوزہ گرتو نے جانا کہ میںجسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سےاک جہاں کا سفر جھیل کر اسرفاقت کی دہلیز تک آئی ہوں
کامنی خواب کی لو میں ہنستی ہوئی کامنیسولہ برس کی تقویم میں فصل گل کا کوئی تذکرہتک نہ تھامیں نے بتیس بتیس جھڑ رتیں کاٹ دیںاب جو تمثیل کے ایک وقفے میں تم سے ملا ہوںتو سانسوں میں نم چال میں ان زمانوں کا رمجی اٹھا ہےجو عہد زمستاں میں یخ تھےسقر سا سقرکامنی خندۂ گل کی کل زندگیایک گلچیں کی وحشت بھری آنکھ ہےیہ چٹکنا یہ کھلنابہت سحر آور سہی جاگنے اور سونے میں اکخواب موہوم سے کچھ زیادہ نہیںخواب و خواہش عجب سلسلہ ہےبہت دور بہتی ہوئی آبشاروں کا اک سلسلہجس میں کوہ تذبذب کی خوشبو بھی ہےعہد و پیماں کا جادو بھیخوں سے سروں تکسروں سے اس اک لفظ تکجس میں راگوں کا جوہر بندھا ہےکہیں ایمنی رس کہیں ماروا ٹھاٹھ بھاگیشریبھیرویں اور پہاڑیوہ سب کچھ جو اپنے لہو میں دہکتا چہکتا ہےجس کے تناظر میں ہم بیست و شش سالپہلے بندھے تھےانہی آبشاروں سے مجھ کو صدا آ رہی ہےسو میں جا رہا ہوںنئے سر اٹھانےکہ سرگم کی فرسودگی دیدہ و دل بجھانے لگی ہےنیا سر جسے لفظ ترتیب دیتے ہیںپہنچے تو جانو کہ صانع کے لفظوں سے اٹھتی نمی تمتک آئی
دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہےسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہےاس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگارہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رےگرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سےکیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مےمائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدمحاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے بہ پےعاشقاں کہتے ہیں معشوقوں سے با عجز و نیازہے اگر منظور کچھ لینا تو حاضر ہیں روپےگر مکرر عرض کرتے ہیں تو کہتے ہیں وہ شوخہم سے لیتے ہو میاں تکرار و حجت تا بہ کےکہتے ہیں اہل قمار آپ میں گرم اختلاطہم تو ڈب میں سو رپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کےجیت کا پڑتا ہے جس کا دانوں وہ کہتا ہے یوںسوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پےہے دسہرے میں بھی یوں گو فرحت و زینت نظیرؔپر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے
مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلےسرخ لہو کا تھا اک چھینٹا چکنا گیلا چمکیلا چمکیلامٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پیڑھی اس پر سے اتریاور پھر سیندوری سا اک خاکہ ابھراجو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبہ ہےپسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ان مٹمجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر مسلا ہوا وہ داغ لہو کامیں نے تو پہلی بار اس دناپنی رنگ برنگی قاشوں والی گیند کے پیچھےیوں ہی ذرا اک جست بھری تھیابھی تو میرا روغن بھی کچھا تھاکس نے انڈیل دیا یوں مجھ کو اس مٹی پراوں اوں میں نہیں مٹتا میں تو ہوں اب بھی ہوںمیں یہ سن کر ڈر جاتا ہوںکالی بجری کے روغن میں جینے والے اس معصوم لہو کی کون سنے گاممتا بک بھی چکی ہے چند ٹکوں میںقانون آنکھیں میچے ہوئے ہےقاتل پہیے بے پہرا ہیں
اک بکس کہیں سے لائیں گے روغن سے اسے چمکائیں گےاک ڈبے میں باسی پھلکوں کا اک انبار لگائیں گےلڑکوں سے کہیں گے آؤ گرامو فون فون تمہیں سنوائیں گےصندوق اور ڈبہ کھول کے پھر ناچیں گے شور مچائیں گےآج اپنے ہر ہمجولی کو ہم الو خوب بنائیں گے
اے حسن کوزہ گرتو نے جانا کہ میںجسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سےاک جہاں کا سفر جھیل کراس رفاقت کی دہلیز تک آئی ہوںاے حسن کاش تو جان سکتاکہ اس صحن خانہ سے دہلیز تک کے سفر میںجہاں زاد کو کیوں زمانے لگے ہیںحسناس سفر میں جہاں زاد کو ایک اک گام پروقت کے تازیانے لگے ہیںحسنوقت مالک بھی ہے دیوتا بھیمحافظ بھی ہے اور خواجہ سرا بھییہ دیکھا ہے میں نےکہ جب بھی دریچوں میں تازہ شگوفہ کھلا ہےہوا سے وہ ہنس کر ذرا سا گلے بھی ملا ہےتو خواجہ سرا کی نظر سے کہاں بچ سکا ہےمگر دیکھ مجھ کوکہ میں نے یہاں ٹھیک نو سال تکپھول کاڑھے ہیں خوابوں کے بستر پہ لیکنابھی تک کوئی ان پہ سویا نہیںپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںمیں نے نو سال صورت گری کی ہے تیرے ہر اک لمس کیرات بھر میں نے آنکھیں بھگوئی ہیں کوزوں میں اور صبح دمحلق کو تر کیا آنسوؤں سے بہتیہ مسافتیہ نو سال کی بے محابا مسافتترے در کے آگے مجھے کھینچ لائیمگر تو یہاں چاک پر اپنی دھن میں مگن ہےنگاہیں اٹھادیکھ تو میں جہاں زاد تیری ترے سامنے ہوںمگر تو نے سچ ہی کہا تھازمانہ جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں کی مانندبنتے بگڑتے ہیں انساںسو اب ہم جو صدیوں کی لمبی مسافت سے لوٹے ہیںتو اپنے رنجور کوزوں میں جوجھا ہوا ہےیہ تیرا قصور اور نہ میری خطا ہےکوئی کوزہ گر تو ہمارا بھی ہوگاسو یہ اس کی حکمتکہ اس نے ہمیں چاک پر ڈھالتے وقتلمحوں کا پھیر اس نزاکت سے رکھاکہ ہم اپنی اپنی جگہ صرف ششدر کھڑے تھےکئی دست چابک کے بے جان پتلےمرے اور ترے درمیاں سج گئے تھےسو یہ اس کی حکمتمگر وقت اس درجہ سفاک کیوں ہےیہ مشاطۂ زندگی اتنی چالاک کیوں ہےمرے اور ترے درمیاں نو برس جس نے لا کر بچھائےیہ نو سال کس طرح میں نے بتائےکہ ساحل سے کشتی تک آتے ہوئےجیسے تختے کے ہم راہ دل ڈگمگائےوہی نو برسجو مرے اور ترے درمیاں وقت کی کرچیاں ہیںزمانہ بھی کیسی عجب کہکشاں ہےیہ دنیائے سیارگاں ہے کہ جس میںہزاروں کواکبمسلسل کسی چاک پر گھومتے ہیںیہ اجسام کے گرد اجسام کا رقص ہی زندگی ہے مری جاںمری جان تو چاک کے ساتھ مٹی کے رشتے کو پہچانتا تھاحسن تو نے مٹی کے بے جان پتلوں سےتخلیق کے جاں گسل مرحلوں میںسدا گفتگوسو طرح گفتگو کیذہانت کے پتلے محبت کے خالقفقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیبی میںواہمہ کیسے آیاحسن تو وہاں جھونپڑے میںاکیلا گلے مل کے رویا تھا کس سےلبیب اور تو اور میںاور حقیقت میں کوئی نہیں تھاترا واہمہمیرے لب میرے گیسو سے لپٹا رہا تھالبیب ایک سایاجسے تو نے روگ اپنی جاں کا بنایایہ سایا کہیں گر حقیقت بھی ہوتاتو آخر کو تو اس حقیقت سے کیوں بے خبر تھاکہ ہر جسم کے ساتھ اک آفتاب اور مہتاب لازمیہ تثلیث قائم ہے قائم رہے گیحسن میں ترے سامنے آئنہ تھیترے ہجر اور وصل کا آئنہانہماک و تعلق کی مٹی سے گوندھے ہوئے جسم کوتیری آنکھوں کی حدت نے چمکایا تھاتیری خلوت کی حیرت نے وہ رنگ و روغن کئے تھےکہ آئینے ششدر کھڑے رہ گئے تھےمگر تیری خلوت کی حیرت میں وحشت کا جو شائبہ تھانگاہوں سے میری کہاں چھپ سکا تھامرے اور ترے درمیاں وصل کی ہر گھڑی میںنہ جانے کہاں سےوہی سوختہ بخت تیریکہ جو جانفشانی کے شعلوں سے دہکے ہوئےزندگی کے ابد تاب تنور پرانگلیاں تیرے بچوں کی تھامے کھڑیبھوک سے برسر جنگ تھیجس کے نزدیک یہتیرے کوزے ترا فن تری آگ سبمیری آنکھیں مرے پھول اور خواب سبزندگی کے ابد تاب تنور کی راکھ تھےتیری اس سوختہ بخت کو کیا خبرجب زمیں اپنے محور کی تجدید میںحرف لا سے گزر جائے گیتو ہزاروں برس بعد بھییہ ازل کے گھروندوں کی مٹی میں مدفونپھول اور بوٹے یہ کوزےاور ان میں انہی قاف آنکھوں سے چھلکے ہوئےسرخ پانی کی تلچھٹکسی کوزہ گر کے جواں لمس سے جی اٹھے توجہاں زاد اس کے لیے پھر جنم لے گیاور نو برس رقص کرتے گزر جائیں گےتیری اس سوختہ بخت کو کیا خبروہ راتوہ حلب کی کارواں سرا کا حوضجس کو میں نے جسم و جاں کی خوشبوئیں کشید کر کےقطرہ قطرہ نو برس میں آنسوؤں سے پر کیاوہ ایک رات صرف ایک رات میںتمام خشک ہو گیاہم اپنے وصل کی تمازتوں میں ایسے جل بجھےکہ راکھ تک نہیں بچییہ ایک جاں کی تشنگیمجھے تجھے بیک زماںبھلا کہاں کہاں نہ کھینچتی پھریمگر یہ تو نے کیا کہاکہ تیرے جیسی عورتیں جہان زادایسی الجھنیں ہیں جن کو آج تک کوئی نہیں سلجھا سکاکہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جن کا ہم نہیںتو پھر یہ جام و مینا و سبو و حوض و رود نیلاس زمیں کی گود میںازل کے حرف گیر تابناک خواب کے لیےکہیں بھی کچھ رقم نہیںاے حسنچاک پر سے ذرا اپنی نظریں ہٹاتو مرے نو برس تک بنائے گئے پھول تو دیکھ لےپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںیوں نہ ہو کہ انہیںبھوک اور مفلسی کے ستائے ہوئےمیرے بچے بھی نیلام کر آئیں جا کر کہیںتیرے کوزوں کے مانند بغداد میںاے حسندامن وقت پر جتنے پھول اور بوٹے سجے ہیںجہاں زاد کی زخمی پوروں نےرنگ ان میں اپنے جنوں کے بھرے ہیںیہ تاوان ہیں چمپئی انگلیوں کاترے جام و مینا پہجس خال و خد کی نزاکت کی پرچھائیاں تھیںتجھے کیا خبر یہ کن آنکھوں کی بینائیاں تھیںحسن یہ محبتکہ جس کو تری سوختہ بخت گردانتی ہےامیروں کی بازیتو میرے تئیں یہ امیروں کی بازی کہاںصرف بازی گری تھیمحبت ہمیشہ سے مفلس کا سرمایۂ جاں رہی ہےیہی تو وہ پونجی ہےجس تک امیروں کے ہاتھ اب بھی پہنچے نہیں ہیںتجھے یہ گماں تھاکہ عورت محبت کی بازی میں بے جان پتے کی صورتکسی دست چابک کی مرہون منتوہ اس کھیل میں ایک مہرے کی صورتکہ جب جس نے چاہااسے ایک گھر سے اٹھا کرکسی دوسرے گھر کا مالک بنایاکہ عورت فقط ایک پتھر کی مورتیہ تصویر حیرتیوںہی چپ کھڑی ہےیوںہی چپ رہے گیمگر یوں نہیں ہےحسن تو نے دیکھاکہ میں قید اوہام و بند روایات میںبوڑھے عطار یوسف کی دکان پراپنی آنکھیں تجھے نذر کرتی رہیبوڑھا عطار وہ کیمیا گرکہ جس نے زمانوں کے جنگل سےچہروں کے پھول اور بوٹے چنےوہ مجھے اور تجھے جانتا تھا مگرمیں نے بازار میںتجھ سے آنکھوں کا اور دل کا سودا کیااے حسنمیرے ایک اک دریچے پہکہنہ روایات و ظالم عقائد کا جنگل اگا تھاحسنکاش تو میری آنکھوں سے میرے دریچے کو تکتاتو یہ جان سکتاجہاں تو کھڑا تھا وہاں ایک اک درز سےمیری آنکھیں مرا جسمچھن چھن کےکٹ کٹ کے گرتا رہا تھا
خدا کو یاد کرتا ہوں تو ماں کی یاد آتی ہےابھی ازلوں سے گرداں چاک کی مٹی کا نم آنکھوں میں روشن تھا کہ میں نے ماں کو دیکھا تھامجھے مسکان کا پہلا صحیفہ یاد ہے اب تککہ دل جس کی تلاوت سے سکوں کے گھونٹ بھرتا تھاکہ جس کی لو، اگرچہ وہ نہ شرقی تھی نہ غربی تھیمگر دو نین کے بلور میں کچھ یوں بھڑکتی تھیکہ میرے شرق و غرب اک نور کے ہالے میں ایمن تھے(خدا گر نور ہے تو ماں کی آنکھوں کے سوا کن طاقچوں کو زیب دیتا ہے)خدا گر رد نہ کر دیتا تو میں آنکھوں سے ضو کرتی اسی لو کی قسم کھاتامحبت کے مقدس روغن زیتوں سے جو خود میں بھڑکتی تھیمجھے بھولا نہیں اب تکوہ پہلا لمس جس سے میری قسمت کی لکیروں میں ابھی تک تابناکی ہےمحبت کا وہ جبرائیل مجھ سے بات کرتا تھا تو میں سرشار ہوتا تھامیں ڈرتا ہوں خدا کے رزق کا کفران کرنے سےمگر وہ چاشنی جو رزق میں اس لمس کی شرکت سے تھی اب خواب لگتی ہےسو ماں کے بعد اک گمبھیر مشکل میں پڑا ہوں میںکچھ ایسا ہے کہ مجھ کو ربط کچھ باقی نہیں اب نوریان لمس و خندہ کی حکایت سےسو میں اب لمس و خندہ کے صحیفوں کے بنا عاجز ہوں رب کو بھی سمجھنے سےکچھ ایسا ہےکہ جیسے میں کسی بھولی ہوئی امت کے اک متروک معبد میں عبث فریاد کرتا ہوںخدا کو یاد کرتا ہوں
ویسے اس تاریک جنگل کے سفر کے قبل بھیہاتھ میں اس کےیہی اک ٹمٹماتا کانپتا ننھا دیا تھاکچھ تو شہرت کی ہوس نےاور کچھ احمق بہی خواہوں نےاس کی سادہ لوحی کو سزا دیاس کے طفلانہ ارادہ کو ہوا دیلا کے سرحد پر خدا حافظ کہااس کے خضاب آلودہ سر کو یہ سعادت دیدھواں کھائی ہوئیبد رنگ دستار قیادت دیتو وہ سینہ پھلائےاپنی دستار قیامت کو سنبھالےکانپتے ننھے دیے کوایک مشعل کی طرح اونچا اٹھائےچل پڑا تھاغالباً وہ دو قدم ہی جا سکا ہوگاکہ پیلی آندھیوں نےدست لرزاں میں لرزتے اس دیے کونزع کی ہچکی عطا کیاس پہ تیراچھین لی دستار اس کیاس نے آغاز سفر کی ساری خوش فہمیبکھرتی دیکھ کرجب لوٹنا چاہاتو یہ ممکن نہیں تھاہر طرف تاریکیاں تھیںدفعتاً کچھ دور پیچھےاس نے دیکھاآسماں سے بات کرتی دھول کی دیواربڑھتی آ رہی ہےاور کچھ قربت ہوئی تو اس نے دیکھاوہ کئی تھےان کے ہاتھوں میں بھڑکتی مشعلیں تھیںکاسۂ نمناک سے اس نےغرض کی گندگیجو اس کو فطرت میں ملی تھیپونچھ ڈالیاور فوراً غازۂ معصومیہ اس کی عادت بن چکی تھیاپنے چہرے پر چڑھایاایک ہی مقصد تھا یعنیدھول اڑاتے قافلے سےایک مشعل لے سکے وہغازۂ معصومیت پھر کام آیاقافلہ والوں نے اس کوایک مشعل دے کےاپنے ساتھ چلنے کو کہالیکن کہاں تکوہ نہایت تیز رو اور یک قدم تھےاس کے ناز پاؤںسوکھی ہڈیوں کے زور پر کیا ساتھ دیتےایک قدم یا دو قدمپھر تھک گیا وہرفتہ رفتہاس کی وہ مانگی ہوئی مشعلخود اپنے رنگ و روغن کھا رہی تھیاب فقط بھینچی ہوئی محتاط مٹھی میںاندھیرے کی چھڑی تھیباد و باراں تیز طوفاںذہن طفلک میں سفر کے قبلان دشواریوں کاایک ہلکا سا تصور بھی نہیں تھااب جو یہ برعکس صورت ہو گئی تھیرو پڑا وہاس کی پسپائی میں لیکن حوصلہ تھادامن امید اب بھی ہاتھ میں تھادفعتاً اس نے یہ دیکھادھندلی گہری روشنیوں کے کئی ہالوں میںکچھ بڑھتے قدم نزدیک ہوتے جا رہے تھےان کے ہونٹوں سے خموشی چھن رہی تھیسست رو تھےپھر بھی ان کی چال میں اک تمکنت تھیاس نے سوچاان نئے لوگوں کی طرح تیز نہیں ہےان کی ہم راہی میںقدموں کی نقاہت بے اثر ہےاور منزل ایک سعیٔ مختصر ہےاک نئی امید لے کرپشت پر مردہ دیے تاریک مشعل کو چھپا کرگفتگو میں مصلحت آمیز نرمی گھول کراس نے نئے لوگوں سے اک مشعل طلب کی
لیکن رنگین تصور سے کب زلف شوق سنورتی ہےتدبیر کے سندر سپنوں پر تقدیر تبسم کرتی ہےتو عیش و طرب کی پروردہ مجھ پر بد بختی کا سایہتو ہے اک دختر اہل زر میں ہوں اک شاعر بے مایہمیرے لئے اک ٹوٹا چھپر خود اپنی مسلسل محنت کاتیرے لئے اک پیلی کوٹھی آئینہ سراپا رشوت کاتیرا کاشانہ ہوتا ہے بجلی کے تاروں سے روشناور میرے طاق میں رکھا ہے بس ایک چراغ بے روغنتجھ کو ہے شکایت پھولوں کے بستر پر نیند نہ آنے کیاور کنکریلی سڑکوں پر بھی عادت ہے مری سو جانے کیتیرے تو دستر خوان پہ ہے ہر اک نعمت کی ارزانیمیں کچھ سوکھے ٹکڑے کھا کر پی لیتا ہوں تھوڑا پانیتو اکثر نا خوش رہتی ہے ریشم اطلس بانات میں بھیمیں ایک پھٹے کرتے میں خوش جاڑا گرمی برسات میں بھیتیری تو دولت کے باعث بیگانے تجھے اپناتے ہیںاور میری غربت کے باعث اپنے بھی مجھے ٹھکراتے ہیںتیری قسمت میں سب کچھ ہے اشکوں کے سوا اے ماہ جبیںمیری قسمت میں شاید ہے اشکوں کے سوا اور کچھ بھی نہیںکس طرح سلامؔ میں توڑوں پھر تفریق کی ان دیواروں کوذرے کیسے پا سکتے ہیں افلاک کے اونچے تاروں کواے کاش کسی صورت پلہ دونوں کا برابر ہو جاتایا تو ہی مفلس ہو جاتی یا میں ہی تونگر ہو جاتا
میں نہیں ہوں مگراب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرفپھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پرزندگی کے کسی فیصلے کیگھڑی سے الجھتے ہوئےمیں کھرچتا رہا تھا یہ روغنجمی ہے یہاں آج تکننھے دھبے میں اکبے کلی میرے احساس کیاور قالین پرمیری پیالی سے چھلکی ہوئیچائے کا اک پرانا نشاںاب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سےچھت کی طرفآج بھی ہیں پڑی شیلف پرجو کتابیں خریدی تھیںمیں نے بہت پیار سےآج بھی ہیں جڑےکاغذوں کے حسیں آئینوں میںمری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئےکالے حرفوں کے چہرے عجب شان سےمیں تو حیران ہوںمجھ سے منسوب ہر ایک شےجوں کی توں ہے تو کیاایک میں ہی تھا جوایک میں ہی تھا پانی کےسینے پہ رکھا ہوا نقش جوپل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گیا
چرخ بریں پر چمکے تارےبے روغن ہیں روشن سارے
چلو آؤہم ان جسموں سےایک اک رگ بھی کھینچیںاور رگوں کو وائرنگ کے کام میں لائیںپھر ان جسموں کے سب اعضا نچوڑیںاور لہو سے اس عمارت کاچمکتا رنگ اور روغن بنائیںعمارت جب مکمل ہو چکے توانہیں جسموں سے کچھ کے مغز لے کرانہیں سرمائے کی حدت سے پگھلائیںاثاثے اور بڑھ جائیں
لے چلو دوستولے چلو قصہ خوانی کے بازار میںاس محلے خدا داد کی اک شکستہ گلی کے مقفل مکاں میںکہ مدت سے ویراں کنویں کی زمیں چاٹتی پیاس کو دیکھ کر اپنی تشنہ لبی بھول جاؤںغٹرغوں کی آواز ڈربوں سے آتی ہوئی سن کےکوٹھے پہ جاؤں کبوتر اڑاؤںکسی باغ سے خشک میووں کی سوغات لے کر صدائیں لگاؤںزبانوں کے روغن کو زیتون کے ذائقے سے ملاؤںجمی سردیوں میں گلی کے اسی تخت پر نرم کرنوں سے چہرے پہ سرخی سجاؤںکہ یاروں کی ان ٹولیوں میں نئی داستانیں سناؤںانہی پان دانوں سے لالی چراؤںمجھے ان پرانی سی راہوں میں پھر لے چلو دوستوہاں مجھے لے چلو اس بسنتی دلاری مدھو کی گلی میںکہ خوابوں کی وہ روشنی آج بھی میری آنکھوں میں آباد ہےمیرے کانوں میں اس کے ترنم کی گھنٹیصحیفوں کی صورت اتاری گئی ہےسبھی کو بلاؤ کہ نغمہ سرائی کا یہ مرحلہ آخری ہےبلاؤ مرے راج کوآخری شب ہےپھر سے حسینوں کے جھرمٹ میں بس آخری گھونٹ پی کےفنا گھاٹیوں میںمیں یوں پھیل جاؤں کہ واپس نہ آؤںسنو دوستو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books