aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rooh e adab maghr"
اے پرستار ادب روح ادب شاہ سخنذات سے تیری منور تھی ادب کی انجمن
میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھاکہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میں
سبھی رہروان رہ عدممگر اپنے زعم میں ہست تھے
یہ تگاپوئے رہ عدمیہ فریب ہاؤ ہو
سب تحریریں آنکھوں سے اوجھل ہیںراہ عدم پر نقش قدم کے ڈھونڈنے والا
سن کے خرگوش نے یہ تلخ جوابکہا کچھوے سے یوں زروئے عتاب
جو اپنی قیمت نگاہ یوسف سے تولتا ہےجو روح آدم سے بولتا ہے
یہ جو مرگ اہل قلم کی ہےیہ جو شکل راہ عدم کی ہے
لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہچھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے
مصروف نزاع باہم ہیںاڑ اڑ کے غبار راہ عدم
روح آدم نگراں کب سے ہے تیری جانباٹھ اور اک جنت جاوید یہیں پیدا کر
صدقے ترے اے روح ادا پیک لطافتخوش آئے ترے حسن کو یہ کیف کی ساعت
مجھ کو روکو زنجیر کروآداب راہ و منزل سے
حوصلۂ راہ عدم ہے کہ نہیں ہےپھر برق فروزاں ہے سر وادئ سینا، اے دیدۂ بینا
وہ رہروان عدم قافلے وہ ہستی کےگزرنے والے مسافر زمیں کی بستی کے
ہم تمہیں قتل ہی کر دیں گے مگر آج کی راتمت کہو بیٹی بہو اور بہن
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
رخ تہذیب پسینے میں شرابور ہواعلم ہے سر بہ گریباں و ادب مہر بہ لب
ضمیر وقت کی آواز روح عصر کا کربسمیٹے دامن دل میں نہ جانے کب سے تھا
اعضا کا تناسبرگوں میں دوڑتے زندہ جواں سرشار خوں کی گنگناہٹ
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books