aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sag-e-ham-naam"
سگ ہم سفر اور میںوہاں آ گئے ہیںجہاں ختم ہے کائنات
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
اپنا بھی وہ دوست تھا ہم بھی پاس اس کے بیٹھ آتے ہیںادھر ادھر کے قصے کہہ کے جی اس کا بہلاتے ہیںاکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے اگلا یاراناکون ہو تم کس کام سے آئے؟ ہم نے نہ تم کا پہچاناجانے یہ کس نے چوٹ لگائی جانے یہ کس کو پیار کرےتمہی کہو ہم کس کو ڈھونڈیں آہیں کھینچے نام نہ لےپیت میں ایسے جان سے یارو کتنے لوگ گزرتے ہیںپیت میں ناحق مر نہیں جاتے پیت تو سارے کرتے ہیںاے متوالو ناقوں والو! نگری نگری جاتے ہوکہیں جو اس کی جان کا بیری مل جائے یہ بات کہوچاک گریباں اک دوانہ پھرتا ہے حیراں حیراںپتھر سے سر پھوڑ مرے گا دیوانے کو صبر کہاںتم چاہو تو بستی چھوڑے تم چاہو تو دشت بسائےاے متوالو ناقوں والو ورنہ اک دن یہ ہوگاتم لوگوں سے آتے جاتے پوچھیں گے انشاؔ کا پتا
تری چاہ میں دیکھا ہم نے بحال خراب اسےپر عشق و وفا کے یاد رہے آداب اسےترا نام و مقام جو پوچھا، ہنس کر ٹال گیا
کب ہے ہم کو سب پہ بھروسہہم کو ہے بس رب پہ بھروسہکام یہ صبح و شام کریں گےپڑھ لکھ کر ہم نام کریں گے
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشتدرد سے بھر گیا بہتروئے ہیں ہم ہزار باردر پہ تمہارے بیٹھ کےچلمن اٹھا کے ایک دندیکھا نہیں جناب نےدیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہمشاید جناب کا گزر اس رہ گزر سے ہو کبھیہم دیکھ لیں گے گر تمہیںآنکھوں میں دید آئے گیہم کو نوید امن کی تھوڑی سی بھیک چاہیےتھوڑا سا تم کو دیکھ کےہلچلیں مچی ہیں جو سینۂ سوز میں بہتتھوڑا سا چین پائیں گیوا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے اپنا ہاتھہم کو حریص لذت آزار سوچ کےاور اس فریب میں وہ خوداک رات خواب میں آ گئےبوسہ دیا شراب بھی دیآنکھوں کو چوم چوم کر ہم سے کہاکہ اب تو وحشت دل و دماغآتش میں جا کے پھینک دےاب بھی سنبھل وگرنہ پھراک ایسی شب بھی آئے گیسایۂ گریزاں ہو کے جبتجھ کو وہ چھوڑ جائے گا
عشق میں ٹھہرے ہیں ہم نا کامیابڈال کر گردن میں ناکامی کا طوقتو بہت غمگین ہےتو متاع زیست کو سمجھا ہے اشکوں کی بہارکس قدر مشکل ہے منزلدوستی کے راستوں کیکس قدر آفات ہیںاک طرف بے چارگی ہے نفس کیاک طرف مبہم سے جذبوں کی پکاراک طرف تیری محبت کا حصارکاش تو اتنا تو سمجھےاس جہان زیست کی منزل ہے توتجھ سے ہیں یہ رات دن کے سلسلےکاش تو اتنا تو جانےتجھ سے میں پیوست ہوں روح ازل سےجسم اور روح کی طنابیں خیمہ زن ہیںتیرے ساحل کے سہانے دوش پراور تو خاموش ساگر کی طرح ہے بے کنارہم ہوئے ناکام یا ہیں کامیابفیصلہ چھوڑیں اسی پرہم ہوئے جس پر نثارکاش تو اتنا تو مانے
کوئی جذبہ ہے نہ کوئی احساساب تو وہ ہے بھی نہیں میرے پاس
ہم نہ ہوں گے تم نہ ہو گے یاد اک تڑپائے گیراستے میں صرف گرد کارواں رہ جائے گی
نیا دن ہے نئے انداز سے محفل میں جام آئےکہ ساغر کی کھنک میں ذوق مستی کا پیام آئےکہ ساغر کی کھنک میں ذوق مستی کا پیام آئےمرے یاس آفریں دل میں نئی امید پیدا ہوشکست توبہ بھی ہم رنگ تجدید تمنا ہومری افسردگی چھپ جائے ہونٹوں کے تبسم میںسکوت زندگانی جذب ہو جائے ترنم میںرگوں میں خون کے بدلے مئے دوآتشہ بھر دےصدائے زندگانی کو حدیث رنگ و بو کر دےخزاں ناآشنائی ہو بہار نوجوانی میںحیات جاودانی کے مزے ہوں زندگانی میںمجھے لے جائے منزل ہی کی جانب لغزش پا بھیکہ بے ہوشی کے پردے میں رہے ہوش تمنا بھیاٹھا ساغر کہ پھر باب تمنا باز ہے ساقیاٹھا ساغر کہ دنیا کا نیا انداز ہے ساقی
زندگی محو سفر ہے نئے انداز کے ساتھہیں لب شوق پہ منزل کے ترانے رقصاںہم صفیروں کے قدم اتنے ہم آہنگ نہیںپھر بھی ان قدموں کی آہٹ جو بہت تیز ہے آجدور تک گونج رہی ہے اسی پیغام کے ساتھلوگ سنتے ہی جسے خواب سے جاگ اٹھے ہیںقر نہا قرن کی پستی سے نکل آئے ہیںآج بھی ہم اسی پیغام کے آئینے میںحال و آئندہ کے جلوؤں کی جھلک پاتے ہیںآج بھی ہم اسی پیغام کی کرنیں لے کرجگمگاتی ہوئی منزل کی طرف جاتے ہیں
سب کی خوشیوں کا نشاں ہے نام عیدپیار کا پیغام ہے پیغام عید
افق روس سے پھوٹی ہے نئی صبح کی ضوشب کا تاریک جگر چاک ہوا جاتا ہے
حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوممقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوممریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیرزر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصالزمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفالسرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیالترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمالتمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاںغرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکےاسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہرطبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیایہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہعدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہعجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نےدل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیںغریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطنمریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیںیہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہےجو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہےقلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سےمگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نےیہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقتوہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روزانہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئیجو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آوازکراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ ساز
رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہےجام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہےشبنم کی بوند پی کے چٹکنے کی عمر ہےگلشن میں پھول بن کے مہکنے کی عمر ہےصد مرحبا یہ گمرہیٔ شوق چشم و دلہاں راہ آرزو میں بھٹکنے کی عمر ہےاک جرم ہے خیال و تصور گناہ کایہ عمر صرف پی کے بہکنے کی عمر ہےدیوانہ بن کے نجد کے صحرا میں گھومیےلیلیٰ کی جستجو میں بھٹکنے کی عمر ہےبے چین کیوں ہو روح کسی ایک کے لئےہر ماہ وش پہ جان چھڑکنے کی عمر ہےاس دور انبساط میں بہ حالت جنوںہر کوئے دلبراں میں بھٹکنے کی عمر ہےلازم نہیں کہ خود کو بچاتا پھروں تمامشیشہ ہوں چوٹ کھا کے درکنے کی عمر ہےتسکیں وہ دے رہی ہیں پر اے قلب ناصبورتو اور بھی دھڑک کہ دھڑکنے کی عمر ہےجب چل پڑا ہوں گھر سے تو منزل کی شرط کیاہوں رہ نورد شوق بھٹکنے کی عمر ہےہوں آفتاب تازہ ہوا ہوں ابھی طلوعاپنے جہان نو میں چمکنے کی عمر ہےایوان و تخت و تاج ہیں میری لپیٹ میںشعلہ ہوں میں یہ میرے بھڑکنے کی عمر ہےدوراںؔ میں بزم دوست میں چھیڑوں نہ کیوں غزلیہ زمزمے کے دن ہیں لہکنے کی عمر ہے
نیند آئی ہے نہ آئے گی سحر تک مجھ کوآج کی رات بھی بے کار گزر جائے گی
رات نکیلی آئی ہےکمرے میں تنہائی ہےسناٹا بھی محو خواب ہےیاد کسی کی آئی ہے
وہ جتنے رنگ ملال کے ہیںہم کیا جانیں کس حال کے ہیںہم راہی دشت خیال کے ہیںاور سائل ایک وصال کے ہیںہم ہجر کی مار سے ڈرتے ہیںاور عشق کی باتیں کرتے ہیںہم عقل کے تانے بانے ہیںمت سمجھو ہم مستانے ہیںان راہوں سے بیگانے ہیںبس نام کے ہی دیوانے ہیںہم نام و نمود پہ مرتے ہیںاور عشق کی باتیں کرتے ہیںہم ہوش کے شہر میں رہتے ہیںاور موج طرب میں بہتے ہیںکب کون سا صدمہ سہتے ہیںبس خواب کا قصہ کہتے ہیںہم جھوٹی آہیں بھرتے ہیںاور عشق کی باتیں کرتے ہیں
جب سے آئی ہے دیپاولیہر طرف چھائی ہے روشنیہر جگہ چاہتوں کے دیےشام ہوتے ہی جلنے لگےپھلجھڑیوں کا بازار ہےیہ پٹاخوں کا تہوار ہےدیپوں کا ہے سہانا سماںجن سے دھرتی بنی کہکشاںجتنے راکٹ پٹاخے چلےآسماں پر لگے ہیں بھلےہو گئیں دور تاریکیاںاب ہیں روشن زمیں آسماںجب سے آئی ہیں دیپاولیہر طرف چھائی ہے روشنیایک موقع ہے پہچان کادل ملاتی ہے انسان کاچاہتوں کی یہ تصویر ہےاک نئے یگ کی تعبیر ہے
دھوپ اتراتی ہوئی آئی ہےکاشانے میںسوچتی ہوگیمرے گھر میں اجالا کر دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books