aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "selaa"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
سنو زریونؔ تم تو عین اعیان حقیقت ہونظر سے دور منظر کا سر و سامان ثروت ہوہماری عمر کا قصہ حساب اندوز آنی ہےزمانی زد میں ظن کی اک گمان لازمانی ہےگماں یہ ہے کہ باقی ہے بقا ہر آن فانی ہےکہانی سننے والے جو بھی ہیں وہ خود کہانی ہیںکہانی کہنے والا اک کہانی کی کہانی ہےپیا پے یہ گدازش یہ گماں اور یہ گلے کیسےصلہ سوزی تو میرا فن ہے پھر اس کے صلے کیسے
میرے ماضی کو اندھیرے میں دبا رہنے دومیرا ماضی مری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیںمیری امیدوں کا حاصل مری کاوش کا صلہایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
آ بتاؤں تجھ کو رمز آيۂ ان الملوکسلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگریخواب سے بے دار ہوتا ہے ذرا محکوم اگرپھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحریجادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ايازدیکھتی ہے حلقۂ گردن میں ساز دل بریخون اسرائيل آ جاتا ہے آخر جوش میںتوڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسم سامریسروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہےحکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذریاز غلامی فطرت آزاد را رسوا مکنتا تراشی خواجۂ از برہمن کافر تریہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظامجس کے پردوں میں نہیں غير از نوائے قيصريدیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوبتو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پریمجلس آئين و اصلاح و رعايات و حقوقطب مغرب میں مزے میٹھے اثر خواب آوریگرمئ گفتار اعضائے مجالس الاماںیہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگریاس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے توآہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے توسرمایہ و محنت
تیرے نغمات ترے حسن کی ٹھنڈک لے کرمیرے تپتے ہوئے ماحول میں آ جائیں گےچند گھڑیوں کے لیے ہوں کہ ہمیشہ کے لیےمری جاگی ہوئی راتوں کو سلا جائیں گے
سیلف میڈ لوگوں کا المیہروشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہےزندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کوراہ سے ہٹانے میںایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میںخوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میںعمر کاٹ دیتے ہیںعمر کاٹ دیتے ہیںاور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیںکیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیںدرگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیںصبر کے سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیںیہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی کاہش کاکچھ صلہ نہیں ملتامرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتازندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیںسب ہی ہاتھ آتی ہیںسب ہی مل بھی جاتی ہیںوقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیںیعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہےلیکن اس طرح جیسےقرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائےاصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائےفصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیںان کے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہیں
کوئی حادثہکوئی سانحہکوئی بہت ہی بری خبرابھی کہیں سے آئے گی!ایسی جان لیوا فکروں میںسارا دن ڈوبا رہتا ہوںرات کو سونے سے پہلےاپنے آپ سے کہتا ہوںبھائی مرےدن خیر سے گزراگھر میں سب آرام سے ہیںکل کی فکریںکل کے لیے اٹھا رکھوممکن ہو تواپنے آپ کوموت کی نیند سلا رکھو!!
میں روٹھا ہوں میرا کاندھا چھوؤپھر مسکراؤ اور کھانے پر بلا لومجھے ڈر لگ رہا ہے آجمجھ کو اپنے بستر پر سلا لومیں اس میلے میں چل کر تھک گیا ہوںاپنے کاندھے پر بٹھا لوقدم پھر لڑکھڑاتے ہیںمجھے انگلی دو گرتا ہوں سنبھالومجھے سر درد ہے سر چھو کےاپنے لمس کی عمدہ دوائی دو
دیش سیوا ہی کا بہتا ہے لہو نس نس میںاب تو کھا بیٹھے ہیں چتوڑ کے گڑھ کی قسمیںسرفروشی کی ادا ہوتی ہیں یوں ہی رسمیںبھائی خنجر سے گلے ملتے ہیں سب آپس میں
دانشور کہلانے والوتم کیا سمجھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںتھل کے ریگستان میں رہنے والے لوگوتم کیا جانوساون کیا ہےاپنے بدن کورات میں اندھی تاریکی سےدن میں خود اپنے ہاتھوں سےڈھانپنے والوعریاں لوگوتم کیا جانوچولی کیا ہے دامن کیا ہےشہر بدر ہو جانے والوفٹ پاتھوں پر سونے والوتم کیا سمجھوچھت کیا ہے دیواریں کیا ہیںآنگن کیا ہےاک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازو تھامےنبض کے اوپر ہاتھ جمائےایک صدا پر کان لگائےدھڑکن سانسیں گننے والوتم کیا جانومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںدھڑکن کیا ہے جیون کیا ہےسترہ نمبر کے بستر پراپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والییہ لڑکی جوبرسوں کی بیمار نظر آتی ہے تم کوسولہ سال کی اک بیوہ ہےہنستے ہنستے رو پڑتی ہےاندر تک سے بھیگ چکی ہےجان چکی ہےساون کیا ہےاس سے پوچھوکانچ کا برتن کیا ہوتا ہےاس سے پوچھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںسونا آنگن تنہا جیون کیا ہوتا ہے
عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھےمگر مجھے ہوش ہی کہاں تھانظر میں اک اور ہی جہاں تھانئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوںنئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوںصلہ جزا خوف ناامیدیامید امکان بے یقینیہزار خانوں میں بٹ گیا ہوںاب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤںعجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہوعجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہوچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسوعجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیںہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیںعجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہےگلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہےتوپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہےبنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہےاتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مراکر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرایہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئیساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئیسالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئیسالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھامجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھااپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگرجلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پرمیں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجرتم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظرکہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نےتم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نےمیں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہےساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہےجیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہےمیں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہےپھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیںمیرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیںصبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میںناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میںباسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میںچھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میںمیں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئیمیری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئیوہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھیساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھیپیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھیکبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھیاپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نےزندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نےکس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہےدال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہےمجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہےتم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےگھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیںیہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیںمیں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہیہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہیقلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہیاب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہیاپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھیجس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھیتھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعارتم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثارتم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزارتم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کرداراپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیںہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیںنہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہواچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہوبن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہوہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہوپھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لوکسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
لڑکپن کی رفیق اے ہم نوائے نغمۂ طفلیہماری گیارہ سالہ زندگی کی دل نشیں وادیہمارے ذہن کی تخئیل کی احساس کی ساتھیہمارے ذوق کی رہبر ہماری عقل کی ہادی
ناگہاں آج مرے تار نظر سے کٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمراب کسی سمت اندھیرا نہ اجالا ہوگابجھ گئی دل کی طرح راہ وفا میرے بعددوستو قافلۂ درد کا اب کیا ہوگااب کوئی اور کرے پرورش گلشن غمدوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنمتھم گیا شور جنوں ختم ہوئی بارش سنگخاک رہ آج لیے ہے لب دلدار کا رنگکوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچمدیکھیے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد'کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق''ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد'
(1)ناگہاں شور ہوالو شب تار غلامی کی سحر آ پہنچیانگلیاں جاگ اٹھیںبربط و طاؤس نے انگڑائی لیاور مطرب کی ہتھیلی سے شعاعیں پھوٹیںکھل گئے ساز میں نغموں کے مہکتے ہوئے پھوللوگ چلائے کہ فریاد کے دن بیت گئےراہزن ہار گئےراہرو جیت گئےقافلے دور تھے منزل سے بہت دور مگرخود فریبی کی گھنی چھاؤں میں دم لینے لگےچن لیا راہ کے ریزوں کو خذف ریزوں کواور سمجھ بیٹھے کہ بس لعل و جواہر ہیں یہیراہزن ہنسنے لگے چھپ کے کمیں گاہوں میںہم نشیں یہ تھا فرنگی کی فراست کا طلسمرہبر قوم کی ناکارہ قیادت کا فریبہم نے آزردگئی شوق کو منزل جانااپنی ہی گرد سر راہ کو محمل جاناگردش حلقۂ گرداب کو ساحل جانااب جدھر دیکھو ادھر موت ہی منڈلاتی ہےدر و دیوار سے رونے کی صدا آتی ہےخواب زخمی ہیں امنگوں کے کلیجے چھلنیمیرے دامن میں ہیں زخموں کے دہکتے ہوئے پھولخون میں لتھڑے ہوئے پھولمیں جنہیں کوچہ و بازار سے چن لایا ہوںقوم کے راہبرو راہزنواپنے ایوان حکومت میں سجا لو ان کواپنے گلدان سیاست میں لگا لو ان کواپنی صد سالہ تمناؤں کا حاصل ہے یہیموج پایاب کا ساحل ہے یہیتم نے فردوس کے بدلے میں جہنم لے کرکہہ دیا ہم سے گلستاں میں بہار آئی ہےچند سکوں کے عوض چند ملوں کی خاطرتم نے ناموس شہیدان وطن بیچ دیاباغباں بن کے اٹھے اور چمن بیچ دیا(2)کون آزاد ہوا؟کس کے ماتھے سے سیاہی چھوٹیمیرے سینے میں ابھی درد ہے محکومی کامادر ہند کے چہرے پہ اداسی ہے وہی
میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہارا پیکرمیرے بے خواب دریچوں کو سلا جائے گامیرے کمرے کو سلیقے سے سجا جائے گا
وہ سولہ سنگار کیے اپنی ہی سوچ میں کھوئی ہوئی ہےسانسوں میں وہ گہرا پن ہے جیسے بے سدھ سوئی ہوئی ہےدل میں سو ارمان ہیں لیکن میری سمت نگاہ نہیں ہےیوں بیٹھی ہے جیسے اس کے دل میں کسی کی چاہ نہیں ہے
چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دےکام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھےتیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثربجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پریہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میںبہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میںچھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو!آہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزوپھر شبستان طرب کی راہ دکھلاتا ہے تومجھ کو کرنا چاہتا ہے پھر خراب رنگ و بومیں نے مانا وجد میں دنیا کو لا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے مانا تیری موسیقی ہے اتنی پر اثرجھوم اٹھتے ہیں فرشتے تک ترے نغمات پرہاں یہ سچ ہے زمزمے تیرے مچاتے ہیں وہ دھومجھوم جاتے ہیں مناظر، رقص کرتے ہیں نجومتیرے ہی نغمے سے وابستہ نشاط زندگیتیرے ہی نغمے سے کیف و انبساط زندگیتیری صوت سرمدی باغ تصوف کی بہارتیرے ہی نغموں سے بے خود عابد شب زندہ داربلبلیں نغمہ سرا ہیں تیری ہی تقلید میںتیرے ہی نغموں سے دھومیں محفل ناہید میںمجھ کو تیرے سحر موسیقی سے کب انکار ہےمجھ کو تیرے لحن داؤدی سے کب انکار ہےبزم ہستی کا مگر کیا رنگ ہے یہ بھی تو دیکھہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہےابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہےپھینک دے اے دوست اب بھی پھینک دے اپنا رباباٹھنے ہی والا ہے کوئی دم میں شور انقلابآ رہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئےآگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئےکوہ و صحرا میں زمیں سے خون ابلے گا ابھیرنگ کے بدلے گلوں سے خون ٹپکے گا ابھیبڑھ رہے ہیں دیکھ وہ مزدور دراتے ہوئےاک جنوں انگیز لے میں جانے کیا گاتے ہوئےسرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئیہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئیبھوک کے مارے ہوئے انساں کی فریادوں کے ساتھفاقہ مستوں کے جلو میں خانہ بربادوں کے ساتھختم ہو جائے گا یہ سرمایہ داری کا نظامرنگ لانے کو ہے مزدوروں کا جوش انتقامگر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوںخون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوںخون کی بو لے کے جنگل سے ہوائیں آئیں گیخوں ہی خوں ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جائیں گیجھونپڑوں میں خوں، محل میں خوں، شبستانوں میں خوںدشت میں خوں، وادیوں میں خوں، بیابانوں میں خوںپر سکوں صحرا میں خوں، بیتاب دریاؤں میں خوںدیر میں خوں، مسجد میں خوں، کلیساؤں میں خوںخون کے دریا نظر آئیں گے ہر میدان میںڈوب جائیں گی چٹانیں خون کے طوفان میںخون کی رنگینیوں میں ڈوب جائے گی بہارریگ صحرا پر نظر آئیں گے لاکھوں لالہ زارخون سے رنگیں فضائے بوستاں ہو جائے گینرگس مخمور چشم خوں فشاں ہو جائے گیکوہساروں کی طرف سے ''سرخ آندھی'' آئے گیجا بجا آبادیوں میں آگ سی لگ جائے گیتوڑ کر بیڑی نکل آئیں گے زنداں سے اسیربھول جائیں گے عبادت خانقاہوں میں فقیرحشر در آغوش ہو جائے گی دنیا کی فضادوڑتا ہوگا ہر اک جانب فرشتہ موت کاسرخ ہوں گے خون کے چھینٹوں سے بام و در تمامغرق ہوں گے آتشیں ملبوس میں منظر تماماس طرح لے گا زمانہ جنگ کا خونیں سبقآسماں پر خاک ہوگی، فرق پر رنگ شفقاور اس رنگ شفق میں باہزاراں آب و تاب!جگمگائے گا وطن کی حریت کا آفتاب
بیزار فضا درپئے آزار صبا ہےیوں ہے کہ ہر اک ہمدم دیرینہ خفا ہےہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسماب سیر کے قابل روش آب و ہوا ہےامڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برساتچھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہےوہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحیہر کاسۂ مے زہر ہلاہل سے سوا ہےہاں جام اٹھاؤ کہ بیاد لب شیریںیہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہےاس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہےمقصود رہ شوق وفا ہے نہ جفا ہےاحساس غم دل جو غم دل کا صلہ ہےاس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہےہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریںہر پھول تری یاد کا نقش کف پا ہےہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنمڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہےہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تکہر حرف تمنا ترے قدموں کی صدا ہےتعزیر سیاست ہے نہ غیروں کی خطا ہےوہ ظلم جو ہم نے دل وحشی پہ کیا ہےزندان رہ یار میں پابند ہوئے ہمزنجیر بکف ہے نہ کوئی بند بپا ہے''مجبوری و دعویٔ گرفتارئ الفتدست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے''
نتیجہ سن کے کئی لوگ بد حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےصلہ ملا ہے ہمیں سال بھر کی محنت کاچمک رہا ہے ستارہ ہماری قسمت کایہی تو وقت ملا ہے ہمیں مسرت کاجو فیل ہو گئے وہ کس قدر اداس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےوہ امتحان میں راتوں کو جاگ کر پڑھناوہ نیند آنکھوں میں چھائی ہوئی مگر پڑھناوہ آدھی رات سے بستر پہ تا سحر پڑھنازہے نصیب وہ لمحات ہم کو راس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےجو کھیل کود میں دن رات چور رہتے تھےہر ایک کھیل میں شامل ضرور رہتے تھےجو صبح و شام کتابوں سے دور رہتے تھےجہاں میں آج وہی مبتلائے یاس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےجنہیں تھا اپنی لیاقت پہ اعتبار بہتجنہیں خود اپنے قلم پر تھا اختیار بہتجو اپنے آپ کو سمجھے تھے ہوشیار بہتانہیں کے ہوش اڑے اور گم حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books