aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "si.e.nge"
پھر ہم توبہ کے ٹانکوں سےخدا کا لباس سئیں گے
حاکم شہر بھی مجمع عام بھیتیر الزام بھی سنگ دشنام بھی
یہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہے
سبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواں
یہ سر زمین ہے گوتم کی اور نانک کیاس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھی
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھجوئے شير و تيشہ و سنگ گراں ہے زندگی
وہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گے
سکھ سوئیں گے گھر در والےاور راہی اپنی رہ لے گا
جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیںسنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں کی قسم
کوئی جبیں نہ ترے سنگ آستاں پہ جھکےکہ جنس عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
ظلم کا زہر گھولنے والےکامراں ہو سکیں گے آج نہ کل
اور اس کارزار ہستی میںپھر کبھی مل سکیں گے ہم کہ نہیں
پاپ کے پھندے ظلم کے بندھناپنے کہے سے کٹ نہ سکیں گے
ہوں جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہیں سنگ دشنامطنز چھلکائے تو چھلکایا کرے زہر کے جام
کو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گے
سر سلامت ہے تو کیا سنگ ملامت کی کمیجان باقی ہے تو پیکان قضا اور بھی ہیں
آئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی
جن کی تلواروں نے رکھا تھا یہاںسنگ بنیاد فرنگ!
میرے اوصاف گنانے کو یہ کاغذ کم ہیںصنف نازک ہوں مگر روح مری رستم ہے
وہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books