aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sifaat-e-shaah-e-najaf"
گومتی کو یاد ہے پہلا اودھ کا تاجدارجس نے بنوائی یہاں شاہ نجف کی یادگار
ہم ہیں سیماب صفت حق و صداقت کی نویدمعبد ظلم میں نیکی کے صنم ڈھلتے ہیںجبر سے ظلم سے ہم ڈر نہیں سکتے ہرگزساعت جہد میں شعلوں کی طرح جلتے ہیں
تمہاری شہ رگ سے بھیمیں زیادہ پاس رہتا ہوں
امیدہے غلط نوحۂ غم گوہر شہوار ہے توفی الحقیقت بڑی عزت کا سزا وار ہے توموجزن ہے تری رگ رگ میں شہیدوں کا لہوبدر و احزاب کی جنگوں کا علم دار ہے توجرأت خالد جاں باز ملی ہے تجھ کووارث زور شہ حیدر کرار ہے توکون کہتا ہے تجھے جنس دنی ہیچ مبرزتو بہت کچھ ہے اگر مسلم بیدار ہے توتو اگر چاہے نکل سکتی ہے صحرا میں بھی راہسعئ پیہم کے لیے کوہ گراں اک پر کاہکون کہتا ہے کہ سامان سے وابستہ ہےتیری عزت ترے ایمان سے وابستہ ہےسب سے اول تجھے لازم ہے خدا کی پہچانآدمیت اسی عرفان سے وابستہ ہےخود گرا پڑتا ہے لازم ہے خدا کی پہچانتیری وقعت بھی تری آن سے وابستہ ہےاس سے کٹ جائے تو کوڑی بھی نہیں مول تراقدر و قیمت تری قرآن سے وابستہ ہےتو ہے شاکی کہ زمانہ نے تجھے کھویا ہےاور زمانے کو شکایت ہے کہ تو سویا ہے
لال قلعے کے زوال و شہر دہلی کی قسممحسن دہلی مآل شہر دہلی کی قسم
دلی سدا سے مرکز بزم شہاں رہیسمراٹ چکرورتی و شاہ جہاں رہی
میں چڑھی دوپہر کا سایہ تھااب شام تلملا رہی تھیسراسیمہ خیالوں میںوسوسوں کے سنپولیے کلبلا رہے تھےاچانک آواز آئیصاحب ڈلیوری تیار ہے
شاہ وقت کا اپناکوئی چہرہ نہیں ہوتا
مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںکہ فصل پھر سے گناہ گاروں کی پک گئی ہےحضور کی جنبش نظر کےتمام جلاد منتظر ہیںکہ کون سی حد جناب جاری کریںتو تعمیل بندگی ہوکہاں پہ سر اور کہاں پہ دستار اتارنا احسن العمل ہےکہاں پہ ہاتھوں کہاں زبانوں کو قطع کیجئےکہاں پہ دروازہ رزق کا بند کرنا ہوگاکہاں پہ آسائشوں کی بھوکوں کو مار دیجےکہاں بٹے گی لعان کی چھوٹاور کہاں پررجم کے احکام جاری ہوں گےکہاں پہ نو سالہ بچیاں چہل سالہ مردوں کے ساتھسنگین میں پرونے کا حکم ہوگاکہاں پہ اقبالی ملزموں کوکسی طرح شک کا فائدہ ہو
محل سرا کو ان تنکوں سے کیا خطرہ تھاپھر کیوں آپ نے شاہ والا
ایک لمحہ بھی اک زمانہ ہےیاد رکھنا کہ بھول جانا ہےلب و رخسار و گیسوئے خم داروہ لچکتی ہوئی باہیں وہ ہم آغوش بدنوہ چھلکتے ہوئے پیمانوں کی محفل وہ ارمنغمہ و رقص فسوں کارئ فنشہر آرائش جنت ہے زمیں پر کہ نہیںیہ نمائش گہ تعمیر و ترقی یہ زمیںزندگی محنت و قدرت کے عجائبیہ مشینیں خود کاردھات کے پرزے جو ہیں فرض شناس و ہشیاراے خدا یہ ترے سیاروں کے رکھوالےایک لمحہ بھی اک زمانہ ہےیاد رکھنا کہ بھول جانا ہےآج موسم بہت سہانا ہےجی کرے ہے کہ جان دے ڈالیںآج موسم بہت سہانا ہےکٹ گئے قاتلوں کے ہات کہیںپائی محکوم نے نجات کہیںبادشاہت زمیں پہ دے ماریچھین لی ہے عنان مختاریہر طرف انقلاب کے آثارہیں کہاں پرچم شہ خوں خواررشک جمشید فخر اسکندرقید محلوں میں یا کہ ملک بدرڈگمگاتا ہے تخت شاہانہشہریاروں کا ختم افسانہان گنت بجلیاں گریں لیکنچار تنکوں کا آشیانہ ہےاے خدائے ابد خدائے ازلتیرے گھر میں پہنچ گئی ہلچل
پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبرکتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہےکتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقابکتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
شاہ اودھ سے فون پہ کل میں نے بات کیاسم گرامی شاہ کا عبدالسلام ہے
اے پرستار ادب روح ادب شاہ سخنذات سے تیری منور تھی ادب کی انجمنتو درخشاں ماہ پارہ تھا ادب کے چرخ کاشیکسپئیر شبلی اور ملٹن سے بھی تو تھا بڑااے گل نغمہ کے خالق اے پدم بھوشن فراقؔمٹ نہیں سکتا کبھی دنیا سے تیرا فن فراقؔچھائی ہے غم کی گھٹا غمگیں ہے ساری کائناتکس قدر اوصاف کی حامل تھی تیری ایک ذاترو رہا ہے آج ہر طفل و جواں ہر اک بشرماہ و انجم غنچہ و گل ہر گلی ہر بام و درتو نئی ہندی کی ترکیبوں کو رائج کر گیاجو تہی گوشے تھے اردو کے انہیں تو بھر گیالوچ تھی تیری زباں میں تیرے نغموں میں کششتو نہیں تو کھائے جاتی ہے مجھے دل کی خلشساز سے آواز سے تو نے سنواری ہر غزلاک نئے انداز سے تو نے سنواری ہر غزلاے مجاہد اے معلم اے سخنور عصر سازہم نہ بھولیں گے ترا انداز فن سوز و گدازنام تیرا سونے کے لفظوں میں لکھا جائے گاہر مورخ ہر ادیب اپنی زباں پر لائے گا
جشن نوروز بھی ہےجشن بہاراں بھی ہےشب مہتاب بھیجشن مہ تاباں بھی ہےسنتے ہیںآج ہی جشن شہ خوباں بھی ہےآئیے اے دل بربادچلیں ہم بھی وہاںجشن کی رات ہےسوغات تو بٹتی ہوگیاپنے حصے کیچلیں ہم بھی اٹھا لیں سوغاتدرد کیآخری سینے سے لگا لیں سوغاتاور پھر یوں ہوکہ جب شام ڈھلےاوس میں بھیگ کےگل مہر کی خوشبو پھیلےیاد کی چاندنیبے خواب دریچوں پہ گرےپھر اسی جشن کییہ رات مرے کام آئےدرد کی آخری سوغاتمرے کام آئےآخر شبشب آخر ٹھہرےضد پہ آیا ہوا یہ دل ٹھہرےتوڑ دوں شیشہجو ہستی کا بھی پھر جام آئےکام آئےتو یہ سوغات مرے کام آئےجشن کی رات ہےیوں نذر گزاری جائےایک اک آرزو صدقے میں اتاری جائے
جشن نو روز بھی ہےجشن بہاراں بھی ہےشب مہتاب بھیجشن مہ تاباں بھی ہےسنتے ہیں آج ہیجشن شہ خوباں بھی ہےآ اے دل بے تابچلیں ہم بھی وہاںجشن کی رات ہےسوغات تو بٹتی ہوگیاپنے حصہ کی چلیںہم بھی اٹھا لیں سوغاتدرد کی آخری سینے سےلگا لیں سوغاتاور پھر یوں ہو کہجب شام ڈھلےاس میں بھیگ کےگل مہر کی خوشبو پھیلےیاد کی چاندنیبے خواب دریچوں پہ گرےپھر اسی جشن کی یہ راتمرے کام آئےدرد کی آخری سوغاتمرے کام آئےآخری شب شب آخر ٹھہرےضد پہ آیا ہوا یہ دل ٹھہرےتوڑ دوں شیشہ جو ہستی کا بھیپھر جام آئےکام آئے تو وہ سوغاتمرے کام آئےجشن کی رات ہے یوں نذر گزاری جائےایک اک آرزو صدقے میں اتاری جائے
مصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیںاور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہےفغان خلق اہل طائفہ کی نذر ہو گئیمتاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئیامید اجر بے یقینیٔ جزا کی نذر ہو گئینہ اعتبار حرف ہے نہ آبروئے خون ہےسکون ہی سکون ہےمصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤںسمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں اور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہےخلیج اقتدار سرکشوں سے پاٹ دی گئیجو ہاتھ آئی دولت غنیم بانٹ دی گئیطناب خیمۂ لسان و لفظ کاٹ دی گئیفضا وہ ہے کہ آرزوئے خیر تک جنون ہےسکون ہی سکون ہےمصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیںاور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہے
اے شہر رسن بستہکیا یہ تری منزل ہےکیا یہ ترا حاصل ہےیہ کون سا منظر ہےکچھ بھی تو نہیں کھلتاکیا تیرا مقدر ہےتقدیر فصیل شہر کتبہ ہے کہ گلدستہاے شہر رسن بستہاب کوئی بھی خوابوں پر ایمان نہیں رکھتاکس راہ پہ جانا ہے کس راہ نہیں جانا پہچان نہیں رکھتاشاعر ہو کہ صورت گر باغوں کی چراغوں کی بستی کے سجانے کا سامان نہیں رکھتاجس سمت نظر کیجے آنکھوں میں در آتے ہیں اور خون رلاتے ہیںیادوں سے بھرے دامن لاشوں سے بھرا رستہاے شہر رسن بستہمدت ہوئی لوگوں کو چپ مار گئی جیسےٹھکرائی ہوئی خلقت جینے کی کشاکش میں جی ہار گئی جیسےہر سانس خجل ٹھہری بے کار گئی جیسےاب غم کی حکایت ہو یا لطف کی باتیں ہوں کوئی بھی نہیں روتا کوئی بھی نہیں ہنستااے شہر رسن بستہ
کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والوخمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا
جاگ اے شمع شبستان وصالمحفل خواب کے اس فرش طرب ناک سے جاگلذت شب سے ترا جسم ابھی چور سہیآ مری جان مرے پاس دریچے کے قریبدیکھ کس پیار سے انوار سحر چومتے ہیںمسجد شہر کے میناروں کوجن کی رفعت سے مجھےاپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books