aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taa.nbe"
اس گرانی میں بھلا کیا غنچۂ ایماں کھلےجو کے دانے سخت ہیں تانبے کے سکے پل پلےجائیں کپڑے کے لیے تو دام سن کر دل ہلےجب گریباں تا بہ دامن آئے تو کپڑا ملے
ایک پتھر کی ادھوری مورتچند تانبے کے پرانے سکےکالی چاندی کے عجب سے زیوراور کئی کانسے کے ٹوٹے برتنایک صحرا ملےزیر زمیںلوگ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلےآج صحرا ہے جہاںوہیں اک شہر ہوا کرتا تھااور مجھ کو یہ خیال آتا ہےکسی تقریبکسی محفل میںسامنا تجھ سے مرا آج بھی ہو جاتا ہےایک لمحے کوبس اک پل کے لئےجسم کی آنچاچٹتی سی نظرسرخ بندیا کی دمکسرسراہٹ تری ملبوس کیبالوں کی مہکبے خیالی میں کبھیلمس کا ننھا سا پھولاور پھر دور تک وہی صحراوہی صحرا کہ جہاںکبھی اک شہر ہوا کرتا تھا
دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہےیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہےہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہےناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہورلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نورگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیوررو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضورجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھےاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہےروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزےپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیںوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائےہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائےسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائےرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرامفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑاقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہادونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیاجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفناور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تنکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدندیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخنجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوںاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوںکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموںکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوںجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہاپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جداترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوازر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سواجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیرباغ و چمن محل و مکانات دل پزیرہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیرمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے
یک بیک فاصلے تانبے کی طرح بجنے لگےقدم اٹھتے ہیں تو ذرے بھی صدا دینے لگے
ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پرتھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیںتھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی بانہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیںیہ جوئے رواں ہےکہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیںیہ پگھلے ہوئے زرد تانبے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیںکہ زنجیر ہائے رواں ہیںبس اک شور طوفاںکنارا نہ ساحلنگاہوں کی حد تکسلاسل سلاسلکہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیںبہے جا رہے ہیںکہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیںجہاں پر ابد کا کنارا ہے اور اک وہ گاؤںوہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں
زمیں کا حسن سبزہ ہےمگر اب سبز پتے زرد ہو کر جھڑتے جاتے ہیںبہاریں دیر سے آتی ہیںجگنو ہے نہ تتلی ۔۔۔خوشبوؤں سے رنگ روٹھے ہیںجہاں جنگل ہوا کرتے تھے اور بارش دھنک لے کر اترتی تھیجہاں برسات میں کوئل، پپیہے چہچہاتے تھےوہاں اب خاک اڑتی ہےدرختوں کی کمی سے آ گئی ہے دھوپ میں شدتفضا کا مہرباں ہالہ پگھلتا جا رہا ہےآسماں تانبے میں ڈھلتا جا رہا ہےاس لیے بے مہر موسم اب ستاتے ہیںدھوئیں کے، گرد کے، آلودگی کے، شور کے موسمگلی، کوچوں، گھروں میں کارخانوں میں بس ابسڑک پر شور بہتا ہےسنائی ہی نہیں دیتا ہمارا دل جو کہتا ہےمحبت کا پرندہ آج کل خاموش رہتا ہےپرندے پیاس میں ڈوبے ہیں اور پانی نہیں پیتےکہ دریاؤں کی شریانوں میں اب شفاف پانی کی جگہ آلودگی کا زہر ہےہمیں جب بحر و بر کی حکمرانی دی گئی ہے تو یہ ہم کو سوچنا ہوگازمینوں، پانیوں، ماحول کی بیماریوں کا کوئی مداوا ہےکہیں ان کا سبب ہم تو نہیں بنتے؟سبب کوئی بھی ہو آخر مداوا کچھ تو کرنا ہےیہ تصویر جہاں ہے رنگ اس میں ہم کو بھرنا ہے
تانبے کے ورق کو ٹھنٹھنانے
میری محبوبہ تو ہےگرینائٹ کا ایک پہاڑجس کے دامن میں پھول نہیں رکھے جا سکتےاور جس کے سامنے کوئی آنسو نہیں بہا سکتامیری محبوبہ تو ہےتانبے کی ایک کانجب وہ سوتی ہےتو اس کے گھر کی دیواریںباہر کا فرشاور گھر کے سامنے لگا ہوا فوارہسرخ ہو جاتا ہے
ملگجے سے دھندلکے میں جب تم یونیورسٹی سےلوٹ رہے ہوتے ہووہیں کیمپس کے باہرمیں بھی تو بیٹھی ہوتی ہوںکبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میںمیں تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہوںاور تمپاس سے ایسے گزر جاتے ہوجیسے واقف ہی نہ ہومیں وہیں دہلیز پہ بیٹھی رہ جاتی ہوںپھر پل کے پاس سے جب تم گزرتے ہوئےڈوبتے سورج کو ایک نظر دیکھتے ہودور کہیں اس ڈوبتے سورج کی سرخ تانبے ایسی روشنی سے تمہاری دہکتی جبیں پرجب دراڑیں پڑنے لگتی ہیںمیں تب بھی تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہوںگلی کا بلب روشن کرتے ہوئےایک پل کے لیے سوچ میں پڑ جاتی ہوںاب بھلا میرے لیے من و سلویٰ کیوں اترنے لگامیں دروازہ کھولے زندگی کا انتظار کرتی ہوںمگر وہ میرے ہاتھ نہیں آتی
بعض باتیں بہت معمولی ہوتی ہیںمگر ان کے دانت پورے جیون کو کاٹتے رہتے ہیںیہ ایک نظم کے درمیان ہوا آغاز تھا جو اختتام تک پہنچنے سے پہلے ہی پوری نظم سمیت گم ہو گیاشاید بعض بہت معمولی باتوں کے دانت ایک پوری نظم کے جیون کو مسلسل کاٹتے رہنے کے لیے ہوں گےسو تمہاری نظم گم ہو گئی ہمیشؔسو تم بھی گم ہو جاؤ ہمیشؔان دیکھی تہہ داریوں میں گم ہو جاؤ ہمیشؔاس سے پہلے کہ کسی آواز کے دانت عدم تاریک میں کوند جائیںکیوں نہ تم ابھی یہ جان لو کہمعمولی سے معمولی بات اپنے حصہ کی آواز سے گزر گئے نہ جاننے والے کے لئے تو بازگشت بن جاتی ہےمگر جاننے والے کے لئے موت کے دانتورنہ یہ اسی کا تو سوندریہ جہاں گزیدہ ہے کہدھوپ اتنی دھواں دھار گر رہی ہے کہ بجلی کے کھمبے اور چلے گئے ہیںاب کبھی کچھ نہیں سنائی دے سکے گاپہلے بھی کیا سنائی دیا ہوگاکہ ایک ابھاگی سماعت کو ایک گھنٹے کی نشہ گمان ضرب نادیدہیا تین منٹ کی سکوت خوش گوار ٹھوکر پر رکھ لیا ہوگااور کہا گیا کہ اب انتظار نہ کرنا کہ اب بہت ہو چکا کہ نہیں چاہئے کہ جو کبھی چاہئے تھاسو جس راہ پر آج تم اداس مقسوم بیٹھے ہواس سے تمہارے حصہ کی کوئی من چاہی راہ تو کے نہیں ملتیوہ کوئی اور زمانہ رہا ہوگاورنہ کہاں کی چمبل ندی اور کہاں اس کا پانیاور کبھی کنارے سے ڈالا ہوا پرانا تانبے کا پیسہ اس کی تہہ میں پڑا نظر آ رہا تھاتو وہاں اب تک کتنی ہی حاسد سوتیلی پرچھائیوں کا نزول ہوا ہوگاتمہارے آنسوؤں کے سنکن کو ان دیکھی مٹی میں دبا کے اوپر سے پاٹ دینے کے لئےسو گم ہو جاؤ ہمیشؔاس کی نظر سے اور اپنی نظر سے بھیایسا تو کبھی نہیں ہوا ہوگاکہ اگر کسی نے خدا کو نہیں دیکھاتو کیا خدا نے بھی کسی کو نہیں دیکھاکہ اگر کوئی خدا سے نہیں ملاتو کیا خدا بھی کسی سے نہیں ملاپھر وہ کون ہے جو اپنے جذب کے حصہ کی آسمانی کنگھی مول لے کے اپنے سر کے بیچمانگ کاڑھتا ہےاس سمے جب اس کے غم دیدہ حصہ کی دنیا میں اس کے لطف نادیدہ کی بارش ہو رہی ہوتی ہےیا شاید کسی جہان آسودہ کی امید میں کسی جہان نا آسودہ سے گزرنا پڑتا ہےتب واپس لے جانے کے لئے آیتوں سے شکر کے ایک دانے کو سمیٹ کےاپنی جگہ لے جانے والی چیونٹیوں کے جماؤ سے پرانی یادوں میں محفوظ رکھیہاتھیوں کی قطار سے اعتبار عدم میں ضم ہونا پڑتا ہےبھول جاؤ کہ تم اس کے لئے سیاہ گلوبند میں چمکتے تین نگوں میں سے کسی ایک نگ میں بھی شامل ہو سکو گے
تمام دن تمہارے میسیجز میرے دل کی منڈیروں پر کبوتروں کی طرح اترتے ہیںسفید دودھیا سیاہ چشم شربتی اور سرمئی مائل جنگلی کبوتر جن کے سینے کے بالکئی رنگوں میں دمکتے ہیںسبز گوں نیلگوں اور تابدار تپتے ہوئے تانبے کے جیسے
اور پھر یوں ہواچار آفاق سے اک گھنا ابر اٹھااور وادی پہ اک سائباں کی طرح تن گیااور زمیں جیسے تپنے لگیاور وادی کے سب لوگ گھبرا گئےایسی آواز میں جیسے سکرات میں سانس کی فصل کوکاٹتا ہو کوئیابن آدم کو سب نے پکارا کہیہ موت کے کالے ڈھکنے کی مانند آنکھوں پہ رکھا ہواابر کیسا ہے؟تنور پر ایک تانبے کی تھالی کی مانند تپتی زمیں کس لیے!دیکھ ہم لوگ ایسے لرزتے ہیں سینوں میں ایمانجیسے لرزتے ہوںیہ کیسا آسیب ہے!!ان کی آواز لوٹ آئیپھر کانپتے تلملاتے دھڑکتے دلوں سے یہ سب نے سنا''ابر سے زہر برسے گاتپتی زمیں اور دہکے گیوادی کا ہر غنچہ مر جائے گاخاک کے رحم میں سانس لیتا ہوا آفرینش کا ہر بیجمر جائے گا''یہ صدائیں افق تا افق گونج اٹھیںاور سب نے سنیںان میں دانا بھی تھےجن کی دانائیاں تن برہنہ کنواری کنیزوں کی مانندلب بستہ تھیںاور وہ لوگ بھی ان میں موجود تھےکشمکش جن کے دل کی گنہ گار جسموں کےمعصوم بچوں کی مانند حیران تھیاور کتنے ہی وہ بھی تھےمعصومیت جن کی فولاد پیکر غلاموں کی مانندمقتول تھیاور پھر یوں ہواسب کی نظریں اٹھیں جس طرفاپنے اک ہاتھ میں ارض محکوم اور دوسرے ہاتھ میںجوہری بم لیےابن آدم کھڑا تھا کسی آتشیں پیڑ کی چھاؤں میںنیچے وادی میں اک شور تھا''وہ ہمارا خدا ہم کو لوٹاؤتسکین کی کوئی صورت تو ہوکوئی چھت کوئی سایہ کوئی سائباںکچھ تو ہو جس کے ظلمات میں چھپ کے ہمزندگی کاٹ لیںاور یہ ابر آنکھوں سے اوجھل رہے''وہ ہمارا خدا ہم کو لوٹاؤوادی کا یہ شور بڑھتا رہاشور کرتی ہوئی بھیڑ میں وہ بھی تھےجن کے ایمان مضبوط تھےاور پھر یوں ہواابن آدم نے دیکھا کہوادی میں صدیوں کا بوڑھا خدا پھر سے موجود تھا
یہ تانبے کا آکاش اجالے سے خالیاور یہ لوہے کے شہر دھوئیں میں ڈوبے ہوئےیہ نیون سائن کی روشنیوں میں گھری ہوئی تاریک صفیںیہ شور شرابہ آنے والی لمبی رات کی ہیبت کا
میں نے اپنے لکھنے پڑھنے کے کمرے میںقلم بنا اک نظم لکھی ہےنظم کو میں نےکچھ ایسے ترتیب دیا ہےسب سے پہلے ٹک ٹک کرتیایک گھڑی ہےپھر ہے کلنڈراس کے بعد ہےپیتل کی اک شمع دانی عیش ٹرےپھر بیجنگ شام اور سنگاپور کیچینی اور تانبے کی پلیٹیںپھر تھوڑی سی جگہ بنا کےشیشے کا گلدان رکھا ہےاس سے آگےمصوری اور تھیٹر پردو تین کتابیںوہیں پہ ترچھی کر کے رکھیقلقل کرتی ایک صراحیسب کے بیچ میں ننھا سااک جوکر بھی ہےیہ میری وہ پہلی نظم ہےجس میں کوئی لفظ نہیں ہےبس پیکر ہیںمیری پہلی نظم ہےجو قاری اور سامعدونوں سے آزاد ہوئی ہےآنکھوں کی ہم راز ہوئی ہے
ہوا مری رازداں نہیں ہےکہ چتر اس کاہزار سایوں پہ مہرباں ہےکروڑوں لوگوں کے سوز انفاس کا دھواں ہےہوا فقط اس نحیف لمحے کی داستاں ہےکہ جس کا عالم گزشتنی ہےجو اک نفس کا ہی میہماں ہےہوا ہی ساری مہک اگلتی ہوئی بہاروں کی ترجماں ہےہمارے اندر چھپے وجودوںسبک مساموں کی رازداں ہےگزرتے جسموں کو نشر کرتی ہوئی ہوا رازداں نہیں ہےمگر ہوا تیرے میرے خوابوں کے درمیاں سانسپھونکتی ہےہماری سانسوں کی ڈوریوں کوہمارے جسموں سے جوڑتی ہےہمارے تانبے ہمارے پیتل ہمارے سب ساگوان چہرےہمارے اپنوں کے تن کی ٹھنڈی مہک کے غازے سےڈھانپتی ہےمرا ہوا سے فقط یہی ایک رابطہ ہےاسے مرا رازداں نہ کہناہوا سے اپنے عذاب لمحات کی کوئی داستاں نہ کہنا
تو ہے اک تانبے کا تھالجو سورج کی گرمی میں سارا سال تپےکوئی ہلکا نیلا بادل جب اس پر بوندیں برسائےایک چھناکا ہو اور بوندیں بادل کو اڑ جائیںتانبا جلتا رہےوہ ہے اک بجلی کا تارجس کے اندر تیز اور آتش ناک اک برقی رو دوڑےجو بھی اس کے پاس سے گزرےاس کی جانب کھینچتا جائےاس کے ساتھ چمٹ کے موت کے جھولے جھولےبرقی رو ویسی ہی سرعت اور تیزی سے دوڑتی جائےمیں ہوں برگ شجرسورج چمکے میں اس کی کرنوں کو اپنے روپ میں دھاروںبادل برسے میں اس کی بوندیں اپنی رگ رگ میں اتاروںباد چلے میں اس کی لہروں کو نغموں میں ڈھالوںاور خزاں آئے تو اس کے منہ میں اپنا رس ٹپکا کر پیڑ سے اتروںدھرتی میں مدغم ہو جاؤںدھرتی جب مجھ کو اگلے تو پودا بن کر پھوٹوں
میں اب کس کے لیےگھر کے کھنڈر میں خواب گھر کے دیکھتا جاؤںزباں پر ہے کسیلا ذائقہ تانبے کے سکے کاکہاں تک ہر کسی کے سامنے کشکول پھیلاؤں
ہتھوڑے کے ہاتھوں میں سونے کی کنگنجچے کیوں نہیںاور تانبے کی عورتتپی تمتمائی مگر مسکرائی جمی ہی رہیکیوں پگھل نہ سکیپاؤں جلتے رہے وہ کڑی دھوپ میں بھی کھڑی ہی رہیاس کے آنے تلکلوٹ جانے تلکنہیں اس کو سچ مچ کسی بات کی بھیکوئی سدھ نہیںتو نے آج مجھے ان آنکھوں سے دیکھا جو تیری نہیں تھیاور وہ بات کہی جو سارا باغ نہیں جانے تھاایک اکیلا گل جانے تھاسگریٹ کا
بلب کا جبڑا کھلے آگ برس جائے توگر یہ استخر ابھی خون سے بھر جائے تویا یہ استخرجہاں آب کے منشوروں سےرنگ ہستی سے فنا کی یہ دھنک ابھری ہےکوئی استخر نہ ہو کوکھ ہو میری ماں کیاور میں میں نہیں شاید وہ اچھلتا پانیجس نے سانسوں کی طنابوں کو پکڑ رکھا تھاوائے قسمت کہ مرے ہاتھ میں رسی نہ رہیآہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جائےاس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جائےاس قدر خون کہ سرجن کا لبادہ میرےسرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جائےاور تانبے کے کسی گرم سے برتن میں ابھیمیرے لاشے کے کٹے لخت پڑے ہلتے ہوں
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books