aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "test"
دو آنکھوں میںماضی حال اور مستقبل کے خواب جگائےاک تیزاب سے مجھ کو اندھا کر کےاک ٹیسٹ ٹیوب ذرا سا ٹیڑھا کر کے
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
ٹیکسٹ میں لوگ محبت کی خطا بھیجتے ہیںگھر بتاتے نہیں آفس کا پتا بھیجتے ہیں
اک آگ سی لگائی ہے ٹیسو نے پھول کےکیا زرد زرد پھول کھلے ہیں ببول کے
بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کوآلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گانیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کرجو ہوٹل ہےاس ہوٹل کیمچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گالیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہےکل صابن بھی لانا ہےگھر آتےلیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گاآفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تودو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا توچھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گاپکچر اچھی ہے سالینو سے بارہکلب رمیدو دن سے لک اچھا ہےکل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوںاور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گابس اب نیند آئے تو اچھاکل بھیجیت کےنیند آئے تواکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگممچھلی کی بوتاش کے پتےجوکر جوکرسوٹ پہن کرموٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہسویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!دوسرے دن جباس کا جنازہدرزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بودور دور تک آئی تھی!!!
سنو سہیلی کہوں پہیلیہے جو کوئی بوجھےسوچو سمجھو اور پھر پوچھواگر تمہیں نا سوجھےسوچ سمجھ کر کہنا سننااپنا ایک اصولپھولوں میں ہے سب سے پیارابھلا کون سا پھولسوسن ٹیسو کمل موتیارات کی رانی چمپانہ نہ سورج مکھی چنبیلیدن کا راجہ گینداان کا کیا ہے مرجھائیں توخاک بنیں یا دھولکپڑا بن کر جو تن ڈھانکےوہ کپاس کا پھولدیکھ بھال کر جانچ پرکھ کرکہنا سچی باتدھاتوں میں ہے بڑے کام کیبھلا کون سی دھاتجس سے بنتی تھال کٹوریگاگر پیتل تانباجھانجر جھومر جھمکا بن کےجھمکے چاندی سوناانجن موٹر اور مشینیںجس نے کیں ایجاددھاتوں میں ہے سب سے اعلیٰلوہا اور فولاداندر باہر ایک رہے جوکبھی نہ بدلے بھیسدنیا بھر میں سب سے پیارابھلا کون سا دیسپیار محبت امن شانتیجس دھرتی کی شانسب سے پیارا سب سے نیارااپنا ہندوستان
جہاں چڑیاں گھنیری جھاڑیوں میں چہچہاتی ہوںجہاں شاخوں پہ کلیاں نت نئی خوشبو لٹاتی ہوںاور ان پر کوئلیں کو کو کے میٹھے گیت گاتی ہوںوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہوجہاں برسات کے موسم میں سبزہ لہلہاتا ہوہوا کی چھیڑ سے ایک ایک پتا تھرتھراتا ہوجہاں چشموں کا پانی نرم لے میں گنگناتا ہووہاں میں ہوں میری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہوجہاں اونچے پہاڑوں پر گھٹائیں گھر کے آتی ہوںہوا کی گود میں نیلم کی پریاں مسکراتی ہوںاور اپنے نیلگوں ہونٹوں سے موتی میں لٹاتی ہوںوہاں میں ہوں میری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہوجہاں نہروں میں بہتا پانی موتی سا چھلکتا ہوجہاں چاروں طرف گلزار میں سبزہ لہکتا ہوجہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہووہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہوجہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہوجہاں باغوں میں اور کھیتوں میں ہر یا دل لہکتا ہوجہاں ٹیسو کے اک اک پھول میں شعلہ دہکتا ہووہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہوجہاں آموں کے ہوں باغ اور کوئی رکھوالا نہ ہو ہرگزکوئی کتا بھی مالی نے جہاں پالا نہ ہو ہرگزاور اماں جی سا کوئی دیکھنے والا نہ ہو ہرگزوہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہوالٰہی میرے دل کی آرزو جلدی سے پوری ہووہاں لے چل جہاں اس فصل میں جانا ضروری ہومری ہو شملہ ہو سولن ہو دلہوزی مسوری ہووہاں میں ہوں مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو
کسی کے کردار کا معیارتم کس سے طے کرتے ہوسوشل میڈیا سے تھوڑی نہ طے ہوگاکسی ٹیکسٹ کو لائق کر دینایہ تھوڑی نہ طے کرتا ہےکسی کا کردار کیسا ہےمیں ہمیشہ تمہاری ہی کہانی ہوںتمہارے پیار کی ترجمانی ہوںباتوں کی گنجائش بھی کم ہوتی ہےجہاں ہوتے ہیں ذخیرے یادوں کےہوتے ہیں سلسلے شکایتوں کےہم جھگڑتے ہے ہر روز ایک بارپر شام تک رہ نہیں پاتے ہیںبھلے دیر سے ہوںسمجھوتے ہو جاتے ہیں
کوئلمیرے شبدوں کو تو چھاپے خانے لے جاوہ اخبار تو پڑھتے ہوں گےپڑھ کے خبر میرے مرنے کیدوڑے دوڑے گھر آئیں گےڈاکئےتو چٹھی کے بجائے آم مری بگیا کے اب کیان کے دفتر لے جاسب سے چھپا کے آم وہ میرےہاتھوں میں بھر لیں گےپھر کرتے کے نیچے, پیچھے، سینے کے جنگل میں ان کو دبکا لیں گےسکھی ہواؤ!اب کی جب تم ان کے سہانے گھر سے گزروٹیسو کے کچھ پھول مہکتےان کی کھڑکی پہ رکھ آنارات گئے جب آنکھ میں ان کیمیرے بدن کے پھول جلیں گےٹھنڈے بدن پہ آگ ملیں گےجلدی جلدی کھڑکی تک پہنچیں گےان پہ جلتے ہونٹوں کا اک چمبن!چیت مہینے والا چمبن مہکا دیں گے!!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books