aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thar"
پچھلے پہر کے سناٹے میںکس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہےزور ہوا کا ٹوٹ چکا ہےکھلے دریچے کی جالی سےننھی ننھی بوندیں چھن کرسب کونوں میں پھیل گئی ہیںاور مرے اشکوں سےان کے ہاتھ کا تکیہ بھیگ گیا ہےکتنی ظالمکتنی گہری تاریکی ہےکھلا دریچہ تھر تھر تھر تھر کانپ رہا ہےبھیگی مٹی سوندھی خوشبو چھوڑ رہی ہےاودے بادلکالے امبر کی جھیلوں میں ڈوب گئے ہیںکس کے رخساروں کی لرزش دیکھ رہا ہوںکس کی زلفوں کی شکنوں سے کھیل رہا ہوںچپکے چپکے لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوںپچھلے پہر کا سناٹا ہےکس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سیتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسیہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کیکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سیہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکرجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھرپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھرجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کرسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کااور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگاچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگاہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑافراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوںکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوںمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوںکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوںدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کراک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پروہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھرریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کرپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوںمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوںپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوںکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوںپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہووہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہودل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہوسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہوجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھپون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پاتدل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھرہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات
سردی کھاتے دانت بجاتے آئے دسمبر بابارنگ برنگے اونی کپڑے لائے دسمبر باباصبح سلونی گرم چائے کی پیالی لے کر دوڑیکیسا تھر تھر کانپ رہے ہیں ہائے دسمبر باباان کی داڑھی چاندی جیسی دھوپ پڑے تو چمکےلیکن نٹکھٹ لڑکی سا چھپ جائے دسمبر بابادور گگن پر نٹ کھٹ بادل سبھا سجانے بیٹھےاجلے اجلے اون کے گولے لائے دسمبر باباصبح سہانی شام سہانی ہر پل نئی کہانیمزے مزے کے قصے لے کر آئے دسمبر باباکہیں انگیٹھی کہیں الاؤ ہاتھ تاپتے جاؤموسم دوڑے اور پیچھے رہ جائے دسمبر بابادیواروں پر نئے کلنڈر نئے مناظر ہوں گےدوڑی دوڑی آئی جنوری بائے دسمبر بابا
آنکھ جھپکتے ایک سیکنڈایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈساٹھ منٹ کا اک گھنٹہاک دن میں چوبیس گھنٹہسات دنوں کا اک ہفتہایک ماہ ہے تیس دن کابارہ مہینے کا اک سال۳۶۵ دن کا اک سالجنوری میں دن ہیں اکتیسفروری میں ہیں اٹھائیسچار سے سن تقسیم جو پورافروری اس میں انتیس دن کامارچ اکتیس اپریل تیسمئی اکتیس جون میں تیسمئی جون میں گرمی زیادہاس میں سب کو آئے پسینہاکتیس جولائی اکتیس اگستبرکھا رت میں رہنا مستتیس ستمبر اکتیس دسمبرسردی میں سب کانپیں تھر تھرماضی گزرا اب ہے حالایک صدی میں ہیں سو سال
آنکھیں یوں مرکوز ہوئی ہیں جیسے میں ہی میں ہوں اور نہیں ہے کوئیسچی بات مگر ہے اتنیمیں مردار سمندر ہوںاحساس زیاں کا جھونکا ہےآنکھیں بول نہیں سکتی ہیںاور بدن بینائی سے محروم ہوا ہےلیکن میں تو اب تک خواب زدہ تصویریں دیکھ رہا ہوںاور سمندر کے پربت پر ٹھہرا جنگلبیتے گیتوں سے پر جنگلازلی خاموشی کے ہالے میں تھر تھر کانپ رہا ہےصدیاں سائے شوخ فصیلیں آمنا صدقنااے لو! سورج چاند ستارے دھرتی کے سینے پر اترےمیری راہ گزر پر بکھرےہلکی مدھم اور مسلسل حرکتمنزل پھول کنول کا پھول عدم کے بحر بے پایاں میںتنہا جھولےباہر پر مرکوز نگاہوں سے مخفی لفظ مطلقتنہا اور اداس کنول پر جھلمل جھلمل پھوٹ بہاموہوم ردائے کوہ و دشت و دمندنیائے من و تو پر چھائیپھیکی پھیکی ہو کر پھیل گئی دھول بنیاپنا گاؤں، گوری کے پانو تک دھندلائےپھیلی روشن اور نرالی دھند، اور دھند اور دھند
میں آج سویرے جاگ اٹھادیکھا کہ ہے ہر سو سناٹاچپ چاپ ہے سارا گھر آنگنباہر سے بند ہے دروازہسب بھائی بہن بیوی بچےآخر ہیں کہاں ہے کیا قصہاتنے میں عجب اک بات ہوئیناگاہ جو دیکھا آئینہاک آدمی مجھ کو آیا نظرمجھ سے ہی مگر ملتا جلتادو سینگ ہیں اس کے سر پہ اگےیہ دیو ہے کوئی یا دیوتاتم کون ہو یہ پوچھا میں نےپر کوئی نہ مجھ کو جواب ملامیں کانپ اٹھا تھر تھر تھر تھرسوچا کہ کروں جھک کر سجدہاتنے میں ہوئی اک آہٹ سیمیں سن کے یکایک چونک اٹھااب دیر ہوئی اٹھئے پاپاہاں مجھ کو دفتر جانا ہےاس خواب کا لیکن کیا ہوگا
ایک میلی دکان تیرہ و تاراک چراغ اور ایک دوشیزہیہ بجھی سی ہے وہ اداس سا ہےدونوں جاڑوں کی لمبی راتوں میںتیرگی اور ہوا سے لڑتے ہیںتیرگی اٹھ رہی ہے میداں سےفوج در فوج بادلوں کی طرحاور ہواؤں کے ہاتھ ہیں گستاختوڑے لیتے ہیں ننھے شعلے کونوچے لیتے ہیں میلے آنچل کولڑکی رہ رہ کے جسم ڈھانپتی ہےشعلہ رہ رہ کے تھر تھراتا ہےننگی بوڑھی زمین کانپتی ہے
رات کو ٹوٹا ایک ستارہاوپر سے لڑھکا بیچارہکرتا تھا دنیا کا نظارہچکنا تھا چھجے کا کناراپھسلا وہ شامت کا ماراچھوٹ گیا جنگلے کا سہارا
لبوں سے نکلی سسکاری سیسگریٹ اک سلگایاالٹی سمت کو بھاگتے کھیتوںاور کھمبوں کو دیکھاسب بے کار ہے کوئی بولاچیخیں، لذت، نشہنفرت، لذت، نشہلوگوں نے جب الگ کیا تودیکھاگرم ران میں خون کے قطرےتھر تھر کانپ رہے تھےاور منہ میں لگے خون کو وہپیہم چاٹ رہا تھا
کیا میری آنکھوں میں سناٹا ہےنہیں برف باری ہو رہی ہےلوگ مجھ سے خوف کھانے لگے ہیں جیسے مردے سےکیا مجھ سے کافور کی بو آتی ہےنہیں تو میری سانسوں میں ساون کا عبث اور املتاس کی گرمی ہےاور سانسو اور آنکھوں کے درمیانفاصلہ زیادہ نہیںپھر بھی بہت ہےاس لیے کہ ختم ہو جائے تو اسٹرگل ہی ختم ہو جائےزندگی کو جاری تو رکھنا ہے انتقامرات بہت پڑی ہے الاؤ جلتا رہے تو اچھا ہےجانور دھوئیں سے خوف کھاتے ہیںاور انسان راکھ سےآگ میرا سہاگ ہےعاشقوں کے دلوں پر ہاں نہیں ہوتے کہ مانگ نکال کر آگ بھر دی جائےاس لیے ان کے دل پھٹ جاتے ہیںآگ اندر اتر جاتی ہےاوپر برف گرتی رہتی ہےکپاس کے پھولوں پر محرم کا موسم ہے یا حسینا وا حسیناکپاس دھنکی ہوئی آسماں کی چھاتی سے برستی ہےٹھنڈی ٹھار پلکیں بھی نہیں جھپکتیںپلکوں کی جھالریں سفید ہو جاتی ہیں برف بن کر ان میں اٹی رہتی ہےاور اندر بر آمدے خالی ہو جاتے ہیں سیزن مگ جاتا ہےلڑکی ناخن کاٹتی ہے تو چاند اس کی ہتھیلی پر اتر آتا ہےتمہارا دولہا بہت خوبصورت ہوگادونوں ہتھیلیاں جوڑو تو بھلاچاند تو پورا ہو گیا مگر روشنی ہاتھوں میں بند نہیں ہو سکیپھیل گئی ہتھیلیوں میں چھید تھےسائنٹفک سی بات ہےآگ امیر سہاگ سب لڑکیوں کے دلوں میں نہیں جلتی اس لیے کہ سبلڑکیاں عاشق نہیں ہوتیںمحبوبائیں ہوتی ہیںاور ان کی آنکھوں کے بر آمدے خوان سے سجے رہتے ہیںبرف باری ان کے لیے سیزن ہے میرے لیے موسم اپنے مشرق معنوں کے ساتھسورج طلوع ہوتا ہےبرف باری اور بلندیوں پر چڑھ گئیجانور میدانوں میں نکل آئے پلکیں خانہ بدوش ہو گئیںاپنا ساون اٹھائے اٹھائےگھاٹ گھاٹ دو بند پانی اسلام آباد میں نہ راجستھان میںبرف کی نہر نکالی جائے گیاور محبوبائیں آگ کے بستر پر لیٹ کر میٹھی برف کے گولے چوسیں گیابھی ان کی عمر ہی کیا ہےابھی تو یہ لوگ اسمال چکنس آف اسنیک پالتی ہیںماتھے پر کنڈل ڈالتی ہیںچاہے جانے کے لیےلمبی سنہری کار اوردو بوند پانینہ برفستان میں نہ آتش دان میںلڑکی کی جنس تبدیل ہو رہی ہےلڑکی کا دولہا دو بوند پانی کی خاطر ہوا ہو گیالڑکی اسکیر کرو ہو گئی شاید دولہا کے بھائیوں کے کھیتوں میںاچھا ہے در بدری ہونے سے تو بچ رہیبچ رہی تو اسے بچانےاس کا دولہا ضرور آئے گا
لمحہدل کے بہت پاس سےگزرا ہوا صرف ایک لمحہبہا لے گیا ہےجانے کتنے خوابوں خواہشوں اور منصوبوں کوبچا ہےہڈیوں تک دھنسا ہوا سناٹارکتی ہوئی سانسیںڈوبتی ہوئی نبضاور سرد ہوا جسمپھر کوئی تیز ہوا کا جھونکاڈھیر ساری گڈمڈ آوازیںچیخ ہنسی اور مسکراہٹگھر دفتر بیوی بچےاور آئندہ بیس برسوں کا منصوبہبھاگتی ہوئی آڑی ترچھی تصویریںایک کے بعد دوسرے بے ربط مناظراور پھرٹھہر گیا ہے گزرے ہوئے لمحے کا سایہڈرا ڈرا سہما سہما دلاور تھر تھر کانپتا ہوا جسم
سر سے پا تک جسم کو ڈھانپیں آیا موسم جاڑے کالیکن پھر بھی تھر تھر کانپیں آیا موسم جاڑے کاپہلے دھوپ نکلتی تھی تو ہم اس سے گھبراتے تھےہوتی تھی دوپہر تو بھیا کمروں میں گھس جاتے تھےسورج ڈھلتا لو کم ہوتی تب ہم باہر آتے تھےگرمی سے بچنے کی خاطر پنکھے خوب چلاتے تھےگرمی کا اب ذکر نہیں ہے آیا موسم جاڑے کاپنکھے کی اب فکر نہیں ہے آیا موسم جاڑے کاگرمی سے چھٹکارا پایا تو بارش نے گھیر لیاکالے کالے بادل چھائے دن بھی آدھی رات لگارم جھم رم جھم رم جھم رم جھم پانی پھر دن رات پڑاگھر سے باہر کام کو جانا لوگوں کو دشوار ہواکالی کالی رات گئی تب آیا موسم جاڑے کارخصت جب برسات ہوئی تب آیا موسم جاڑے کااب کوئی جیکٹ پہنے ہے کوئی اچکن پہنے ہےکوئی سوئیٹر کوٹ السٹر مفلر خوب لپیٹے ہےسر پر اونی شال کسی کے کوئی کمبل اوڑھے ہےغرض کہ جس کو جو ہے میسر اس سے جسم چھپائے ہےکتنا ہی سر سے پا تک ڈھانپیں آیا موسم جاڑے کالیکن پھر بھی تھر تھر کانپیں آیا موسم جاڑے کا
کنڈی ہٹا کے کہرا جما کےآنگن میں آ کے ٹھار گئی سردی
کیسی ہوا ہے فرفر فرفرکانپتے ہیں سب تھر تھر تھر تھر
اچانکخود میں یہ کیسی تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں میںمیرے بال دراز اور گھنے ہو گئے ہیںمیں اب دو چوٹیاں باندھنے لگا ہوںمیری آنکھیں پہلے سے زیادہ مخمور ہو گئی ہیںوہ اب دیکھنے کے بجائے زیادہ رونے لگی ہیںمیرے ہونٹ کہرے کی ٹھنڈ کی طرح سفید پڑ گئے ہیںوہ اب بولنے کے بجائے زیادہ کپکپانے لگے ہیںمیرا سینہ پہلے سپاٹ تھااب اس پر دو اٹھانیں اٹھ آئی ہیںدودھ سی کوئی شے اس میں ٹھاٹھیں مارنے لگی ہےمیں پہلے قمیص اور پینٹ پہنتا تھااب میں شلوار اور جمپر پہننے لگا ہوںلگتا ہے ابھی گیارہ ستمبر ہی کو میںغسل جنابت سے فارغ ہوا ہوںاچانکاچانک خود میں یہ کیسی تبدیلیاںمحسوس کر رہا ہوں میںابھی ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے ایک زبردست قے ہوئی تھیدائی آئی تھیاس نے میرا جمپر اتار کے میری کوکھ کےمیری کوکھ پرٹھنڈا ٹھار قبر سا ہاتھ رکھ کے کہا تھامبارک ہو تم ماں بننے والے ہو
پچھلی رات کا چاند دکھائی دیتا تھا کچھ یوں تاروں میںجیسے کوئی جان بوجھ کر کود رہا ہو انگاروں میںدھرتی سے آکاش تلک کرنوں کا سندر جال بچھا تھاراج تھا سپنوں کا سب جگ پر چھایا ہوا اک سناٹا تھالہروں کی منہ زور سلوٹوں میں ندی بس گھول رہی تھیدھیمے دھیمے مدھر سروں میں شاید کچھ بول رہی تھیپیڑ کنارے پر بھیگی پروا سے کانپ رہے تھے تھر تھررہ رہ کر اک آدھ ان دیکھا پنچھی چیخ اٹھتا تھا جن پردور اک پربت کی اونچی چوٹی پر اک چھوٹی سی بدلیکیا جانے پورب کی دھندلے منڈل میں کیا ڈھونڈھ رہی تھیایسے میں ہم دونوں اک ہلکی سی ننھی ناؤ میں بیٹھےجھل مل جھل مل کرتے پانی کی چھاتی پر تیر رہے تھےتیری رخ پہ پریشاں کاکل کھیل کھیل رہی تھی نرم ہوا سےروپ میں تیرا سندر مکھڑا کہیں سہانا تھا چندرا سےبجلی ایسا نور آنکھوں میں دکھائی دیتا تھا کچھ ایسےچلتے ہوں دو ننھے ننھے دیپک کالی رات میں جیسےرہ رہ کر ساری کا آنچل کاندھے پر سے ڈھلک جاتا تھارہ رہ کر تجھ سے کچھ کہنے کو میرا جی للچاتا تھالیکن رک جاتی تھی ہونٹوں پر جو بات اٹھتی تھی من میںپریم کی چیخ لپتا الھی تھی لاج کی ان سلجھی الجھن میںجھوم رہا تھا جاگتے سپنوں کا سنسار آنکھوں میں ایسےاور کی موتی جھول رہے ہوں پھولوں کے جھولوں میں جیسےالگ الگ بے چین تھا چپو ہاتھوں سے چھوٹا جاتا تھااور یوں میرے صبر کا پیالا رہ رہ کر چھلکا جاتا تھاایکا ایکی تو نے بھری اک ٹھنڈی سانس انگڑائی لے کرچپ کی تھکن سے باز آئی تھی سر کو رکھا میرے کاندھے پرپھر کیا تھا دل ایسے مچلا اپنے آپ کو بھول گیا میںزور سے تجھ کو بھینچ کر اپنی باہوں میں کچھ بول اٹھا میںاک میں کیا آکاش کے تارے بھی وہ رات نہیں بھولے ہیںجس کو گزرے آج تو لگ بھگ چار مہینے بیت گئے ہیںاب بھی اس کی یاد مچا دیتی ہے اک ہلچل سی من میںایسی رات نہیں آتی ہے پلٹ کر کیوں میرے جیون میں
آج تو پاس نہیں ہے تو کھلا ہے مجھ پرڈار سے کونج بچھڑ جائے تو کیوں مرتی ہےموسم درد کا آنگن میں اترنا کیا ہےشاخ سے ٹوٹ کے پتوں کا بکھرنا کیا ہےچاند کیوں رات کے پہلو میں برا لگتا ہےصبح کے ساتھ پہ اتراتی ہوئی باد نسیمایک بے باک حسینہ سی بری لگتی ہےلفظ کیوں اپنے مطالب سے مکر جاتے ہیںلکھنا چاہیں بھی تو تنہائی لکھی جاتی نہیںکرنا چاہیں بھی تو یہ درد بیاں ہوتا نہیںرات ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دینا کیوںقید فرقت کے اسیروں کو بھلا لگتا ہےہجر کا لمبا سفر کاٹے سے کیوں کٹتا نہیںپاؤں کٹ جاتے ہیں پر رات کا تھر کٹتا نہیںآج تو پاس نہیں ہے تو کھلا ہے مجھ پہڈار سے کونج بچھڑ جائے تو کیوں مرتی ہے
صابن کی ٹکیاننھی سی بٹیاپانی میں چھپ چھپکرتی ہے گپ شپپانی بہائے چھینٹے اڑائےلو جھاگ نکلامنو کو دیکھووہ بھاگ نکلاجب منہ کو دھلائےصابن لگائےمنو اکیلا سب کو نچائےلاتیں چلائےدھم دھم دھما دھمآنسو بہائےچھم چھم چھما چھممنو کھڑا ہےکرسی کے اوپرصابن کے ڈر سےکرتا ہے تھر تھرمنو کو پکڑوبازو میں جکڑونلکے پہ لاؤٹب میں بٹھاؤصابن کی ٹکیاسر پر لگاؤجب جھاگ نکلےپانی بہاؤصابن کی ٹکیا سر پر کھڑی ہےمنی سی بٹیا کتنی بڑی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books