aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tilism-e-sim-sim"
ہر ایک چہرہ خود اپنی آنکھوں میں آئینہ ہو گیا ہو جیسےطلسم سم سم سے جس خزانے کا در کھلا تھا
آج افلاس نے کھائی ہے زرسیم سے ماتاس میں لیکن ترے چلوؤں کا کوئی دوش نہیں
جس کی تنویر نے ذروں کو عطا کی تابشجس کی تقریر نے توڑا ہے طلسم زر و سیم
سم سم سیم سے کھل جاتے ہیں عقدوں کے پہاڑجگمگا اٹھتے ہیں پھولوں کے دیے صحرا میں
یہ تمہارے ریشمی تار ہیںیہ تمہاری سوزن سیم ہے
اپنی جیبیں ٹٹولیںتو سکے ہمارے زر و سیم کے
گھنے جنگل سے چوروں کو مری بستی میں لے آئیکوئی سم سم
سراپا زر و سیم کی یخ سلاخیں اور آنکھیںبلور اور ہیرے
کنواری امنگوں کی منہ بند کلیاںزر و سیم کے ڈھیر میں تل رہی ہیں
فضائے سیم آرائے فلک میںافق کی روشن و زریں جھلک میں
مس و سیم کے کاسوں کی چمکاور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے
اپنے ہاتھوں سے کہیں پھوڑ دیا پھونک دیانازنیں حسن زر و سیم کے انباروں نے
مرے ہوئے سفید و سیم کا آہ یہ منظرفریب دید ہے میرا کفن ہوگا
شاداب ہے دن رات غریبوں کے لہو سےارباب زر و سیم کا گلزار ہے عالم
ایوان زر و سیم میں محشر ہوا برپاخائف ہمہ تن لشکر شداد ہے ہم سے
بے زری اپنی صداقت کو پرکھتی ہی رہیتل گیا حسن زر و سیم کی میزانوں میں
تم زر و سیم کی میزان میں تل سکتی ہوپیار بکتا نہیں چاہت کا کوئی مول نہیں
تو نے بیچی ہے سر عام جوانی اپنیگدگداتی ہے زر و سیم کی جھنکار تجھے
تیرے نازک سے پروں پر یہ زر و سیم کا بوجھتیری پرواز کو آزاد نہ ہونے دے گا
اب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گایہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books