aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tol"
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
زلفوں میں تاب سنبل پیچاں لئے ہوئےعارض میں شوخ رنگ گلستاں لئے ہوئےآنکھوں میں روح بادۂ عرفاں لئے ہوئےہونٹوں میں آب لعل بدخشاں لئے ہوئےفطرت نے تول تول کے چشم قبول میںسارا چمن نچوڑ دیا ایک پھول میں
ردی اخبار کی طرحمجھے بیچ دیا گیاایک کباڑی کے ہاتھوںترازووں میں تول کراس نے میری قیمت آنک دی
چنا تمہیں ہے کہیں گے قصےدیش دکھے جب حصے حصےلوگ پریشاں آگ زنی ہےاور وچاروں میں بھی ٹھنی ہےنظریں چرا کر یوں نا بیٹھوآگے آ کر چکر تو پھینکوتم چپ ہو سب بول رہے ہیںپنکھ وہ اپنے تول رہے ہیں
جب چھلکتے ہیں زر و سیم کے گاتے ہوئے جامایک زہراب سا ماحول میں گھل جاتا ہےکانپ اٹھتا ہے تہی دست جوانوں کا غرورحسن جب ریشم و کمخواب میں تل جاتا ہے
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھولاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بولاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہناچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہناچاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گیوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گیمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھراناوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانامیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہےچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہےیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جلاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بلسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاریدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساریکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیاجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیامت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمقجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فقسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھاچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا
پیڑ پہ چڑیاں بول رہی تھیںاڑنے کو پر تول رہی تھیں
میں ہی میں ہوںاور میری اس میں میں کی ممیاہٹ میںاپنے نہ ہونے کے خوف کی جھنجھلاہٹ ہےسمجھ گئے ناآپس ہی کی بات ورنہ ''الف'' سے ''ی'' تکمیں میں کی گردان ہی میری ٹیس ہےیہ کیاآپ بھی بھولے باچھا ہیںمیں نے کہا نا مجھے نہ ڈھونڈیںایسی فضول تلاش کا مقصدمیرے اندر تو مت جھانکیں
رات ابھی آدھی گزری ہےشہر کی رونق بجھی نہیں ہےتھکے نہیں ہیں اس محفل کے ساز ابھی تکیاد کے بالا خانوں سے آتی ہے کچھ آواز ابھی تکمیں کہ زوال شہر کا نوحہ لکھنے والاایک پرانا قصہ گو ہوںعلامتوں کے جنگل سےصندل کی لکڑی ہاتھ میں لے کرایوانوں سے گزر رہا ہوںسازندے ابآخری تھاپ کی محرومیشب کی میزاں پر تول رہے ہیںدھیمے سروں میںسست پرندےاپنی بولی بول رہے ہیںادھر گلی میںمورخین باب مشرقنئی کتابیں کھول رہے ہیںرات ابھی آدھی گزری ہےلیکن صبح نو کی کرنیںاپنا رستہ ڈھونڈھتیمصر کے بازاروں میں اتر رہی ہیںآدھی رات کے بعدطبل بجتا ہے تازہ منظر کامجھے بھی سارا حساب برابر کرنا ہے اپنے گھر کا
پرچم سر میدان وغا کھول رہا ہےمنصور کے پردے میں خدا بول رہا ہےکیا سیل بغاوت ہے مریدوں کی صفوں میںپیران تہی دست کا دل ڈول رہا ہےاے وائے صبا عقرب جرارہ چمن میںصرصر کے اشارات پہ بس گھول رہا ہےافرنگ کے دیرینہ غلاموں کی رضا پرخود پیر حرم بند قبا کھول رہا ہےکچھ بات ہی ایسی ہے کہ پیمانۂ زر میںاک رند تنک ظرف لہو تول رہا ہےبزغالۂ افرنگ شغالوں کے جلو میںکس ٹھاٹھ سے ضرغام صفت بول رہا ہےتاریخ کے ویرانۂ آباد میں شورشؔکچھ قیمتی موتی ہیں قلم رول رہا ہے
ہے کوئی جو مجھ میں کہتا ہےآ تجھ کو تجھ سے ملواؤںتو کیا ہے تجھ کو بتلاؤںتو جنت ہے تو رحمت ہےتو قوت ہے تو راحت ہےتو ثروت ہے تو برکت ہےاور سب سے بڑھ کر عورت ہےان لفظوں کو بھی تول ذراخلوت میں خود سے بول ذراکچھ دیر کوگھنگرو کھول ذرا
مت دے تو جھوٹے فتوے رے تو کفر نہ اتنا تولمجھے کافر کافر چھیڑ نہ وے تو عاشق عاشق بول
آؤ دور چلیںپیپل کی ہری ہری چھاؤں میںبیٹھ کے دل بہلائیںشہر کی اس گہما گہمی میں اب تو جی گھبراتا ہےرانی دیکھو اس نگری میں نہ کوئی کرشن نہ رادھا ہےیہ تو شہر ہے پیاریکاروباری دنیا ہےمن سے خالی تن والے ہیںدھن ہی ان کا گہنا ہےجھوٹی رسمیں جھوٹے بندھن جھوٹا ان کا پیارکاروباری ذہنوں والے ہوتے ہیں خونخواردھن دولت میں تول کے دیکھیںہر نردھن کا پیارشہر میں کیا رکھا ہےآؤ دور چلیںہرے بھرے کھیتوں میں چل کے اپنے زخم سئیںدور کہیں مندر کے پیچھے بیٹھ کے دل بہلائیںدور کہیں پیپل کے نیچے من کی جوت جگائیںآؤ غم کو بھول بھی جائیںآؤ شہر سے دور چلیں
یہ پیاری پیاری بطخیں چلتی ہیں کس انداز سےجیسے حسیں شہزادیاں اٹھلا رہی ہوں ناز سےہے زرد گیندوں کی طرح ہم راہ بچوں کا کٹمبتم روئی کے گالے کہو گولے کہیں ریشم کے ہمہیں رانیاں تالاب کی یہ اجلی اجلی بطخیںبیلوں بھری جھیلوں کی ہیں ان سے ہی قائم رونقیںتن دودھیا چکنے ہیں پر سینے تنے اکڑے ہیں سریا کشتیاں چاندی کی ہیں شفاف سطح آب پرمرمر کے بت ہیں تیرتے پانی کے اوپر شان سےپریاں یہ شوخ و شنگ سی آئی ہیں نورستان سےایسی سفید و خوش نما جیسے کھلونے برف کےیا تختۂ بلور پر روشن ہیں مومی قمقمےچونچیں سنہری کھول کر قیں قیں کی تانیں گھول کرلہروں میں لہراتی ہیں یہ پنجوں کے چپو تول کرنیلوفروں کا کنج ہے ان کی مسرت کا جہاںنکھرے ہوئے سندر کنول دیتے ہیں ان کو تھپکیاں
میں تمہارے سامنے تنہا کھڑا ہوںجانا پہچانا سا نقش آشنا ساچند یادوں کی صدا ساصورت حرف و نوا سااس قدر نزدیک اتنے پاس ہوں میںتم اگر چاہو تو چھو سکتے ہو مجھ کوبات کر سکتے ہو مجھ سےڈال کر مجھ پر نگاہیںکھول کر سب بند راہیںاپنے اشکوں سے بھگو سکتے ہو مجھ کوتم اگر چاہو مری تہہ میں اتر کرناپ سکتے ہو مری گہرائیاں سبتول سکتے ہو مری پرچھائیاں سبجان سکتے ہو مری تنہائیوں میںکیسے کیسے سنگ ریزےکتنے ٹوٹے خواب دھندلی آرزوئیںبے زباں لمحے شکستہ روز و شب بے نور سائےمیرے اندر بولتے ہیںراز میرے کھولتے ہیںمیں تمہیں بھولا نہیں ہوںاب بھی تم اشکوں کی صورتمیرے اندر جی رہی ہو
پر کھولےپر بند کیےپھر کھول دئیےاڑیہوا میں رنگ انوکھے گھول دئیےپھر اک پھول پہ جا بیٹھیپھر اڑنے کو پر تول دئےتتلی کون خدا ہے تیراکس نے رنگ انمول دئےیہ تتلی میری ہےمیرے دونوں بچے بول دئے
جذبات کے طوفاں میں یہ ضبط فغاں کب تکمجبور یہ دل کب تک مرعوب زباں کب تکیہ سود کے پردے میں آہنگ زیاں کب تکالفاظ کے پھندوں میں اعجاز بیاں کب تکآزاد ہواؤں میں پر تول نہیں سکتےاغیار کے ہاتھوں میں عمر گزراں کب تکاٹھ جذبۂ خودداری تا چند زیاں کاریاٹھ جوش حمیت اٹھ یہ خواب گراں کب تکاحساس کی بستی میں جب آگ لگائی ہےاے سوز دروں آخر نکلے نہ دھواں کب تکمقصد تری ہستی کا پوشیدہ ہے کوشش میںیہ نفس کشی تا کے یہ خواب جناں کب تکجینا ہے تو جینے کے انداز بھی پیدا کرکام آئیں گے آبا کے یہ نام و نشاں کب تککہہ ڈالیں وہ سب آخر کہنے کی جو تھیں باتیںخاموش بشیرؔ آخر رہتی یہ زباں کب تک
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books