aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ukha.Dte"
تم کیوں اکھاڑتے ہو وہ مردے جو ہیں گڑےدیکھے نہیں ہیں تم نے جو چکنے تھے وہ گھڑے
اتنی لاشوں مکانوں کے ملبوںاکھڑتے درختوں سسکتے پرندوں
یقین کی سانس اکھڑ چلی ہےجمیل خوابوں کے چہرۂ غمزدہ سے ناسور رس رہا ہے
اکھڑتے پتھروںچکنی پھسلتی ساعتوں کا
مرے یار مجھے سمجھاتے ہیںمیں اس کے دکھ میں ڈوبا ہوں مرے سانس اکھڑتے جاتے ہیں
سیل بے مائیگی میں کبھیدل اکھڑتے ہوئے شہر گرتے ہوئے
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میریجنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم
ابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشر
کچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپ
مرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوار
پیار مانگا تو سسکتے ہوئے ارمان ملےچین چاہا تو امڈتے ہوئے طوفان ملے
یا بھاگ جاؤں''کچھ اکھڑے اکھڑے، کٹے ہوئے سے عجیب جملے،
وہ آفت دوراں کیسی ہےہم دونوں تھے جس کے پروانے
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
رخصت کیا تھااپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے
اپنے کمروں سے اکھڑنے کے لیے تیار نہیںلیکن انہوں نے وعدہ کیا ہے
جس کے بازو کی صلابت پر نزاکت کا مدارجس کے کس بل پر اکڑتا ہے غرور شہریار
شعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائے
پاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books