aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ustaad-e-mohtaram"
اے دوستو ملیں تو بس اک پیام کہنااستاد محترم کو میرا سلام کہنا
حامد نے اک نبی کا قصہ مجھے سنایاپر بات تھی کچھ ایسی مجھ کو یقیں نہ آیاامی سے میں نے پوچھا ابو سے میں نے پوچھادادا حضور کو بھی سب واقعہ بتایااستاد محترم سے حاصل کی رہنمائیاپنے امام صاحب کا در بھی کھٹکھٹایاپھر انبیا کے قصوں والی کتاب دیکھیلیکن کہیں بھی ایسا قصہ کوئی نہ پایاسمجھایا میں نے جا کر حامد کو اس کے گھر پریوں مت سناؤ سب کو قصہ سنا سنایاجو واقعہ سناؤ تحقیق پہلے کر لویعنی سہی غلط کی تصدیق پہلے کر لو
کاش بھولا ہوا شفقت کا سبق یاد آئےباپ کے روپ میں اسکول میں استاد آئے
میرؔ و سوداؔ دفن ہیں تیری زمین پاک میںاور دبیرؔ محترم بھی ہے تری مٹی کا نام
یہ پیادے پٹ چکے ہیںاور تمہارے فیل اور اسپ یزیدیاب یہاں سر بہ گریباں ہیںوزیر محترم کا خانہ خالی ہے
وہ غالب وہ شہنشاہ معانیوہ غالبؔ جس کی عظمت غیر فانیسلاست اور فصاحت اللہ اللہکہ دریائے سخن مانگے روانیبہت استاد شہ تھے اور ہوں گےمگر ہوگا نہ کوئی اس کا ثانی
ہم ان سے یہ کہتے ہیں اے اہل مریخجانے وہ کن کن ستاروں سے ہیںادب سے خوشامد سے کہتے ہیں اے محترم اہل مریخکیا تم نہیں دیکھتے ان تمنا کے ژولیدہ تاروں کے رنگمگر ان کو شاید کہ رنگوں سے رغبت نہیںکہ رنگوں کی ان کو فراست نہیںہے رنگوں کے بارے میں ان کا خیال اوران کا فراق و وصال اوران کے مہ و سال اور
وہ لمحہوہ اک لمحۂ نرم و شیریںکہ جب اپنے آنگن میں اک پھول مہکاکہ جب تم نے تعمیر کی اپنے قدموں تلے پہلی جنتکہ جب پیار چھلکاتی آنکھیں تمہاری ہوئیں آشنا مامتا سےکہ جب تم نے اک خوب صورت سا آئینہ مجھ کو دیا تھاکہ جب اپنے ہونے کا احساس جاگا تھا دل میںوہی لمحۂ نرم تھاجب بدن کے تعلق سے ہم دونوں آگے بڑھے تھےوہی لمحۂ معتبرجاں کی وابستگی کی بشارتوہی لمحۂ محترمروح کا عہد نامہ
عظیم منصف!!ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہےکہ اپنی بے حرمتی کی فرمان لے کے جائیںتو اپنا کوئی گواہ لائیںگواہرشتوں کے محترم کنڈلیوں میں بیٹھےسنپولیوں کاگواہ ایسی حویلیوں کاکہ جن میں قانون پاؤں دھرنے سے کپکپائےکنواری چیخیںبلک بلک کے صدائیں کرتیان ہی اندھیروں میں ڈوب جائیںمگر وہ اس بے بسی کا اپنینہ ایک کوئی گواہ پائیںکہاں سے لائیںگواہ ان بھیڑیوں کاجو اپنی شہوتوں پرعبادتوں کی مقدس و محترم عبائیںسجائے بیٹھے ہوں تاک میںسوندھے کچے جسموں کےجن کے بجروں کے عود میںسسکیاں سلگتی ہوں رات کواور دن تلاوت کے لحن سےجگمگائے جائیںیہ محترم بھیڑئےہم ان کی خباثتوں کا گواہ لائیںکہاں سے لائیںہمیں کوئی ایسا معجزہ دےکہ گونگی اندھی سیاہ شب کوگواہیوں کا ہنر سکھائیںخبیر ہے توبصیر ہے توتو جانتا ہےکہ آج تک موت کے علاوہکوئی نہ اپنا گواہ پایاہمیں پہ ٹوٹیں قیامتیں بھیہمیں نے ذلت کا بار اٹھایاکتاب انصاف کے مصنفترے صحیفے تو کہہ رہے ہیںکہ سارے انسان ذی شرف ہیںفہیم ہیںبالغ النظر ہیںسب اپنی اپنی کتاب کی رو سے اپنے بارے میں با خبر ہیںتو پھر ہمارے ہی پشت پر ہاتھ کیوں بندھے ہیںہماری ہی سب گواہیوں پر یہ بے یقینی کی مہر کیوں ہےسبھی صحیفوں میں یہ لکھا ہےترے ترازو کاکوئی پلڑا جھکا نہیں ہےتو کیا یہ سمجھیںہمارا کوئی خدا نہیں ہے
لیے ہاتھ میں ایک چھوٹا اسپیکرجناب مشرف یہ فرما رہے تھےمرے بھائیو اور میرے بزرگومجھے علم ہے کہ تباہی مچائی بڑی زلزلے نےمصائب تمہارے سبھی جانتا ہوںتمہارے دکھوں پہ میری رات کی نیند اڑ گئی ہےجناب مشرف خطابت کے جوہر دکھا ہی رہے تھےکہ مجمع سے اک شخص اٹھامخاطب کیا اس نے عالی قدر کوہماری مدد کو ہیں جتنے بھی انگریز آئےخدا کی قسم وہ فرشتوں سے کمتر نہیں ہیںسپاہی بھی جتنے ہیں پاک آرمی کےہیں وہ بھی خلوص و محبت کے پیکرمگر جناب محترم یہ حقیقت ہے سن لیںبظاہر رضاکار ہیں جو سیول کےسبھی تو نہیں پر ہیں اکثر لٹیرےیہ بھیڑوں کے ملبوس میں بھیڑیے ہیںہماری غریبی کو پہچان کر یہیہاں کے مویشی بڑے سستے داموںلیے جا رہے ہیںکدالیں چلاتے ہیں ملبے کے اندرکہ پائیں کوئی قیمتی شےکسی نوبیاہتا دلہن کا زیورکسی باپ کی عمر بھر کی کمائییہ سچ ہے نہیں ڈھونڈتے یہہمارے پیارے عزیزوں کی لاشیںفقط ڈھونڈتے ہیںیہ مطلب کی چیزیںخدا کے لئے ہم کو ان سے بچائیںیہ گدھ ہیں مبادا ہمیں نوچ کھائیںجناب مشرف نے بپتا سنی توکڑک کر یہ بولےاگر آدمی ایسا منحوس پکڑوتو فوراً اسے تم وہیں ڈھیر کر دواجازت ہے تم کو یہ میری طرف سےملے گر کہیں دشمن قوم ایساتو اس کو اسی دم جہنم کا رستہ دکھاؤجناب مشرف کا فرمان سن کرجو مجمع سے اٹھا تھا مرد قلندرخجل ہو کے بولا صدائے خفی سےاگر ہم میں ہوتی اتنی ہی ہمتتو ہم آپ سے ایسے فریاد کرتے
احمد ببلو بابو سلمیٰایک جماعت کے یہ بچےاخلاقی گھنٹے میں دیکھوجمع ہوئے ہیں اک اک کر کےنظم و ضبط جماعت میں تھااف نہیں کرتا تھا کوئی بچہیہ جو کہانی کا تھا گھنٹہسب کو شوق کہانی کا تھادیکھو کلاس میں استاد آئےاٹھ کے کھڑے ہوئے سارے بچےسب نے کیا سلام اب ان کوبچے تھے سب من کے اچھےہم آواز تھا ہر اک بچہہم ہیں کہانی کے سب شیداسب نے مل کر کیا تقاضاہم کو سنائیے اچھا قصہسن کر بچوں سے یہ باتیںہو گئے خوش استاد اسی دممنو چنو منو خوش تھےقابل دید ہے شوق کا عالمٹیچر نے جو چھیڑی کہانیبچے ہمہ تن گوش ہوئے سبخاموشی تھی ہر چہرے پرسب سے کہا یہ ٹیچر نے ابایک پہاڑی کے دامن میںقریہ اک شاداب تھا بچوگاؤں میں اک چرواہا بھی تھاہاں وہ بہت نادان تھا پیاروروز پہاڑی پر وہ جاتابکریاں اپنی خود ہی چراتادن بھر ہانکتا وہ گلے کوشام ڈھلے گھر واپس آتااک دن اس کو سوجھی شرارترہ رہ کر اس نے چلایالوگو آؤ مجھ کو بچاؤشیر نے بولا ہے اب دھاوالٹھے بھالے برچھیاں لے کربھاگے آئے لوگ برابرپایا سلامت چرواہے کوکہنے لگا چرواہا ہنس کرشیر یہاں آیا نہیں کوئییوں ہی شرارت میں نے کی تھیشکریہ آپ یہاں سب آئےآپ کی ہمدردی ہے سچیمیں نے سب کو یوں ہی پرکھاامتحاں آپ کی چاہت کا تھاخوش ہوں آپ کی ہمدردی پرمیں نے پیار سبھوں کا پایاتھا یہ کرتب چرواہے کااس نے الو سب کو بنایامایوسی کے ساتھ وہ لوٹےجھوٹا چرواہے کو پایا
نہ پوچھ اے ہم نشیں کالج میں آ کر ہم نے کیا دیکھازمیں بدلی ہوئی دیکھی فلک بدلا ہوا دیکھانہ وہ پہلی سی محفل ہے نہ مینا ہے نہ ساقی ہےکتب خانے میں لیکن اب تلک تلوار باقی ہےوہی تلوار جو بابر کے وقتوں کی نشانی ہےوہی مرحوم بابر یاد جس کی غیر فانی ہےزمیں پر لیکچرر کچھ تیرتے پھرتے نظر آئےاور ان کی ''گاؤن'' سے کندھوں پہ دو شہ پر نظر آئےمگر ان میں مرے استاد دیرینہ بہت کم تھےجو دو اک تھے بھی وہ مصروف صد افکار پیہم تھےوہ زینے ہی میں ٹکرانے کی حسرت رہ گئی دل میںسنا ون وے ٹریفک ہو گئی اوپر کی منزل میںاگرچہ آج کل کالج میں واقف ہیں ہمارے کمہمیں دیوار و در پہچانتے ہیں اور ان کو ہمبلندی پر الگ سب سے کھڑا ''ٹاور' یہ کہتا ہےبدلتا ہے زمانہ میرا انداز ایک رہتا ہےفنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پرمگر ''ٹاور'' کی ساعت کے بھی بازو خوب چلتے ہیںکبوتر بیٹھ کر سوئیوں پہ وقت اس کا بدلتے ہیںاسی مالک کو پھر حلوے کی دعوت پر بلاتے ہیںوہ حلوہ خوب کھاتے ہیں اسے بھی کچھ کھلاتے ہیںاگر وہ یہ کہے اس میں تو زہریلی دوائی ہےمرا دل جانتا ہے اس میں انڈے کی مٹھائی ہےپھر اس کے بعد بہر خودکشی تیار ہوتے ہیںوہ حلوہ بیچ میں اور گرد اس کے یار ہوتے ہیںوہ پوچھے گر کہاں سے کس طرح آیا ہے یہ حلوہتو ڈبہ پیش کر کے کہہ دیا اس کا ہے سب جلوہکسی کنجوس کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیںاور اس کے نام پر ٹک شاپ سے چیزیں منگاتے ہیںبچارہ جعفریؔ مدت کے بعد آیا ہے کالج میںاضافہ چاہتا ہے اپنی انگریزی کی نالج میںترے سینے پہ جب یاران خوش آئیں کی محفل ہوتو اے 'اوول' اسے مت بھول جانا وہ بھی شامل ہو
اے ملکۂ افکار درخشان تخیلاے چاندنیٔ ظلمت شب جان تغزلکس نام کس الفاظ سے میں تجھ کو نوازوںکس طرح تجھے نظم کے سانچے میں ڈھالوںمخمل سا بدن نقطہ و خط پھول ہے جس کایہ طرز نگارش کہ نظر جھوم رہی ہےیہ چاند ستارے ہیں تری راہ میں بکھرےیہ کاہکشاں تیرے قدم چوم رہی ہےہر شعر کی تو شان ہے شوکت ہے حشم ہےموضوع پہ تیرے ہی رواں میرا قلم ہےتابانیٔ پیشانی سے روشن ہیں ستارےصہبا سے ہیں لبریز تری آنکھوں کے پیالےپلکوں کی بناوٹ میں نہاں کاسۂ لب ہےمینا سے مشابہ ہے صراحی نما گردنچہرے کی تجلی سے نمود سحری ہےیہ شام ہے تو تیرے ہی گیسو کے سبب سےدریا میں تلاطم ہے تو بس تیرے ہی لب سےقدرت نے سجا رکھے ہیں موتی جو دہن میںہے ہیرے زمرد کی مثال ان سے ہی روشنہونٹوں سے تبسم کی لہر چھوٹ رہی ہےعارض کے گلابوں سے شفق پھوٹ رہی ہےدریائے محبت کے کنارے کی قسم سنانگشت حنائی کے اشارے کی قسم سنتو ہے تو مری زندگی آباد بہت ہےجو تو نہیں تو زندگی برباد بہت ہےہے تمکنت فصل بہار ایک تجھی سےہر چہرۂ گل پر ہے نکھار ایک تجھی سےاب ہار ہو یا جیت مجھے اس سے غرض کیااک تیرے لیے میں یہ جوا کھیل رہا ہوںآ دیکھ سلاخوں سے مرے کرب کا عالماک عمر سے فرقت کی سزا جھیل رہا ہوںاے جان بہار آن کے گلشن کو سجا دےاس اجڑے بیاباں کو چمن زار بنا دےاے فخر وفا ناز اسد شان تحملیہ نظم نہیں جھیل میں کاغذ کی کنول ہےخرم تو نہیں میں کہ تجھے تاج محل دوںاے جان غزل تیرے لیے شام غزل ہےاے ملکۂ افکار درخشان تخیلاے چاندنیٔ ظلمت شب جان تغزلکس نام کن الفاظ سے میں تجھ کو نوازوںکس طرح تجھے نظم کے سانچے میں میں ڈھالوںقدرت کی بڑی دین ہے تو شے ہی عجب ہےشاعر کی تمنا ہے تقاضا ہے طلب ہے
ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہےیہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہےاسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کےخود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہےسو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاںدعوائے جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہےحل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہےان زندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہےجو خود کسی پہلو سے کاسہ ہے گدائی کاایسے در دولت پر دریوزہ گری کیوں ہےتو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنامت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہےکیا نذر قفس کر دی پرواز کی طاقت بھیحاصل ہے جب آزادی بے بال و پری کیوں ہےاے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائییہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہےواعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کیحیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہےہے کون جو یہ پوچھے اس حسن خود آرا سےہے جب کہ گریز اتنا پھر جلوہ گری کیوں ہےملتا ہے اسے پانی اشکوں کی روانی سےمعلوم ہوا کھیتی زخموں کی ہری کیوں ہےالفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھااب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے
آٹھوں بازار مضافات کو رخصت کرتاگھنٹہ گھر آج بھی استادہ و مصروف وہیںآٹھ بازاروں کے ازدحام سے باہر آ کروہی درگاہ کی دیوار سے لپٹا پیپلجس کی شاخوں سے بندھے لاکھوں ہزاروں دھاگےیاد ہے پچھلے برسہم نے بھی باندھی تھی وہیںسبز دھاگے میں پروئی ہوئی منت کوئیاسی منت کے ہرے دھاگے کو آدھا کرکےتم نے باندھا تھا مری زرد کلائی پر بھیتم کو معلوم ہےیا تم نے سنا تو ہوگاوہ جو درگاہ وہاں ہوتی تھیاب بھی ہے وہیںاسی دیوار سے لپٹا وہ مقدس پیپلاس کی جس شاخ پہ منت کی گرہ باندھی تھیمرے بازو کی طرحسوکھ گئی ہے وہ بھی
یہ پیاری اردو کہ جس کا نہیں ہے کوئی بدلحسین ایسی ہے جیسے جمال تاج محلہر ایک دیس نواسی نے پائی یہ میراثوہ رام ہو کہ کرم سنگھ ہو یا کہ میر غیاثہے مسجدوں میں مقدس پوتر مندر میںہر اک گلی میں چلن اور گزر ہے ہر گھر میںوہ جو کہ بولتے ہیں بھانت بھانت کی بولیتو سنئے ان سے بھی اردو جمع ہو جب ٹولیکہیں بھی جائیے اردو ضرور پائیں گےسمجھنے بولنے والے تو مل ہی جائیں گےادب میں شعر میں اونچا مقام ہے اس کاسماج کے سبھی شعبوں میں نام ہے اس کازوال اس کو کبھی آئے غیر ممکن ہےدلوں سے محو یہ ہو جائے غیر ممکن ہےہے اس کے نور سے روشن سماج کی دنیااسی کے دم سے ہے آباد راج کی دنیارہے گا قائم و دائم مدام دنیا میںچلے گا سکۂ اردو تمام دنیا میںجو زندہ رہنے کو آئے وہ کیسے ہو برباداسدؔ لگاؤ یہ نعرہ کہ اردو زندہ باد
شہ جہاں کا تاج ہے دنیا کے سب محلوں کا شاہپیار کا یہ گیت ہے قلب حزیں کی بھی ہے آہاک شہنشہ کی محبت ہو گئی ہے لا زوالپیکر مرمر میں پنہاں ہے نمایاں ہے کمالچودھویں کی چاندنی میں تاج کا وہ حسن و رنگچاند ہے اپنے حریف حسن کے جلوے سے دنگزندگی میں چاند سے بڑھ کر حسیں ممتاز تھیشہ جہاں کی ہم نشیں تھی ہمدم و ہمراز تھیحسن اس کا آج بھی ہے گوشے گوشے سے عیاںتاج کے ہر ایک پہلو میں ہے الفت کا نشاںتاج حسن و عشق کا ہے ایسا اک رنگین خوابپیش کرنا غیر ممکن ہے اسدؔ جس کا جواب
زلف سیاہ سے ہاری راتدل نے جبیں سے کھائی ماتآنکھوں سے میخانے ہارےمے سے بھرے پیمانے ہارےگال گلابی ناک سڈولسرخ لبوں کے میٹھے بولدانت سے موتی شرمندہچاند سے بڑھ کر تابندہمکھڑا جیسے نور کا تڑکاٹھنڈا ٹھنڈا پیارا پیاراگردن لمبی سینا چوڑانور کا یا کافور کا دریابانہیں بھاری گول کلائیطاقت اتنی جن میں سمائینور سے پر تھی پنڈلی ساریبوجھل بوجھل بھاری بھاریپاؤں جمائے قوم سنبھالےکالی کملی اوڑھنے والےرحمت کل محبوب خدامحبوب خدا تھے حسن میں یکتاجن کو محمد لوگ پکاریںاسعدؔ ان پر جان کو واریں
بہ ہر آستان بلند از عقیدتجبین تقدس ہے خم اللہ اللہ
تنگ کر دے غریب پر یہ زمیںخم ہی رکھ آستان زر پہ جبیںعیب کا دور ہے ہنر کا نہیںآج حسن کمال کو ہے زوالاب قلم سے ازار بند ہی ڈال
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books