aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vahdat"
جی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریںآنکھوں میں بسائیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریںخلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں وحدت کو دوئی سے شاد کریں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایانانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایاتاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایاجس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےیونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھاسارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھامٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھاترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سےپھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سےوحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سےمیر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سےمیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےبندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینانوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینارفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
سر سلامت ہے تو کیا سنگ ملامت کی کمیجان باقی ہے تو پیکان قضا اور بھی ہیںمنصف شہر کی وحدت پہ نہ حرف آ جائےلوگ کہتے ہیں کہ ارباب جفا اور بھی ہیں
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملتوحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحادوحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازوآتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داداے مرد خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصلجا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یادمسکینی و محکومی و نومیدیٔ جاویدجس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجادملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازتناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیںحب وطن کے پودے اس میں نئے لگائیںپھولوں میں جس چمن کے ہو بوئے جاں نثاریحب وطن کی قلمیں ہم اس چمن سے لائیںخون جگر سے سینچیں ہر نخل آرزو کواشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیںایک ایک گل میں پھونکیں روح شمیم وحدتاک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیںفردوس کا نمونہ اپنا ہو کنج دل کشسارے جہاں کی جس میں ہوں جلوہ گر فضائیںچھایا ہو ابر رحمت کاشانۂ چمن میںرم جھم برس رہی ہوں چاروں طرف گھٹائیںمرغان باغ بن کر اڑتے پھریں ہوا میںنغمے ہوں روح افزا اور دل ربا صدائیںحب وطن کے لب پر ہوں جاں فزا ترانےشاخوں پہ گیت گائیں پھولوں پہ چہچہائیںچھائی ہوئی گھٹا ہو موسم طرب فزا ہوجھونکے چلیں ہوا کے اشجار لہلہائیں
یہ دیش کہ ہندو اور مسلم تہذیبوں کا شیرازہ ہےصدیوں کی پرانی بات ہے یہ پر آج بھی کتنی تازہ ہےتاریخ ہے اس کی ایک عمل تحلیلوں کا ترکیبوں کاسمبندھ وہ دو آدرشوں کا سنجوگ وہ دو تہذیبوں کاوہ ایک تڑپ وہ ایک لگن کچھ کھونے کی کچھ پانے کیوہ ایک طلب دو روحوں کے اک قالب میں ڈھل جانے کیدو شمعوں کی لو پیچاں جیسے اک شعلۂ نو بن جانے کیدو دھاریں جیسے مدرا کی بھرتی ہوئی کسی پیمانے کییوں ایک تجلی جاگ اٹھی نظروں میں حقیقت والوں کیجس طرح حدیں مل جاتی ہوں دو سمت سے دو اجیالوں کیآوازۂ حق جب لہرا کر بھگتی کا ترانہ بنتا ہےیہ ربط بہم یہ جذب دروں خود ایک زمانہ بنتا ہےچشتی کا قطب کا ہر نعرہ یک رنگی میں ڈھل جاتا ہےہر دل پہ کبیر اور تلسی کے دوہوں کا فسوں چل جاتا ہےنانک کا کبت بن جاتی ہے میرا کا بھجن بن جاتا ہےدل دل سے جو ہم آہنگ ہوئے اطوار ملے انداز ملےاک اور زباں تعمیر ہوئی الفاظ سے جب الفاظ ملےیہ فکر و بیاں کی رعنائی دنیائے ادب کی جان بنییہ میرؔ کا فن چکبستؔ کی لے غالبؔ کا امر دیوان بنیتہذیب کی اس یکجہتی کو اردو کی شہادت کافی ہےکچھ اور نشاں بھی ملتے ہیں تھوڑی سی بصیرت کافی ہےتعمیر کے پردے میں بھی کئی بے لوث فسوں مل جاتے ہیںرنپور کے مندر میں ہم کو مسجد کے ستوں مل جاتے ہیںوحدت کی اسی چنگاری سے دل موم ہوا ہے پتھر کااجمیر کی جامع مسجد میں خود عکس ہے اجنبی مندر کاپھر اور ذرا یہ فن بڑھ کر مانند غزل بن جاتا ہےمرمر کی رو پہلی چاندی سے اک تاج محل بن جاتا ہےیہ نقش بہم تہذیبوں کا موجود ہے سو تصویروں میںمنصورؔ منوہرؔ دولتؔ اور ہاشمؔ کی سبک تحریروں میںدل ساتھ دھڑکتے آئے ہیں خود ساز پتا دے دیتے ہیںترتیب سروں کی کیسے ہوئی خود راگ صدا دے دیتے ہیں
او پاک نازنین او پھولوں کے گہنے والیسرسبز وادیوں کے دامن میں بہنے والیاو ناز آفریں او صدق و صفا کی دیویاو عفت مجسم پربت کی رہنے والیصل علیٰ یہ تیری موجوں کا گنگناناوحدت کا یہ ترانہ او چپ نہ رہنے والیحسن غیور تیرا ہے بے نیاز ہستیتو بحر معرفت ہے او پاکباز ہستی
فرقت کے تنہا لمحوں میںآباد تھی اک دنیائے فسوںرفتار غم کی موج رواںآوارہ بگولے یادوں کےبارش کی مدھم بوندوں کےسرگم کی فراواں موسیقیاشجار کی رقصاں شاخوں سےچھنتا ہوا فطرت کا جادودنیائے نشاط و درد کی لےاندوہ و الم کا اک عالمتخلیق کے لرزاں سینے کے اسرار نہاںنغمہ بر لب یہ ارض و سمانوحہ درد دل باطن کی فضاتخلیق جہاں کے سر نہاںپتے پتے کی رنگت میںحرف کن کا جادو لرزاںسب اک وحدت میں جذب ہوئےاک وجد آگیں احساس میںروح و جسم و جاں ملبوس ہوئےوقت اور مکاں کے سر نہاں ملبوس ہوئے
کرشن آئے کہ دیں بھر بھر کے وحدت کے خمستاں سےشراب معرفت کا روح پرور جام ہندو کوکرشن آئے اور اس باطل ربا مقصد کے ساتھ آئےکہ دنیا بت پرستی کا نہ دے الزام ہندو کوکرشن آئے کہ تلواروں کی جھنکاروں میں دے جائیںحیات جاوداں کا سرمدی انعام ہندو کواگر خوف خدا دل میں ہے پھر کیوں موت کا ڈر ہوکرشن آئیں تو اب بھی دیں یہی پیغام ہندو کومسلمانوں کے دل میں بھی ادب ہے ان حقائق کاسکھاتا ہے یہی سچائیاں اسلام ہندو کووہ میرے جذبۂ دل کی کشش کا لاکھ منکر ہومحبت سے میں آخر کر ہی لوں گا رام ہندو کو
ہر سو ہیں اشارے رحمت کےکثرت میں نظارے وحدت کےکہتے ہیں کرشمے قدرت کےاللہ اللہ سبحان اللہہر سانس میں ہے بو باس تریہر دل کو لگی ہے آس تریبندے کو غلامی راس تریاللہ اللہ سبحان اللہنہیں کوئی ہوس مجھے بس تو ہےتتلی کو پھول کا رس تو ہےنس نس جانے نس نس تو ہےاللہ اللہ سبحان اللہان ہاتھوں میں نور کا پرچم دےمرے علم کو وسعت عالم دےتجھے کوئی کمی ہے جو تو کم دےاللہ اللہ سبحان اللہتری چوکھٹ آؤں جاؤں میںترے آگے سر کو جھکاؤں میںدن رات یہی دہراؤں میںاللہ اللہ سبحان اللہ
فیض قدرت سے جو تقدیر کھلی عالم کیساحل ہند پہ وحدت کی تجلی چمکی
مجھ سے یہ پوچھا نہ کسی نےکیسے ہو کیا سوچ رہے ہوکیوں آخر خاموش کھڑے ہوجیسے انہیں کی طرح میں خود بھیاس آباد حسیں دنیا کیوحدت کا حصہ ہی نہیں ہوںجیسے میں زندہ ہی نہیں ہوںمیرے لفظوں کی شاخوں سےیادوں کی کچھ کلیاں لے لیںمیرے رنگ برنگے نازکخوابوں کی پنکھڑیاں لے لیں
مختلف ہیں آئینوں کے زاویےایک لیکن عکس ذات؛اک اکائی پر اسی کی ضرب سےکثرت وحدت کا پیدا ہے طلسمخلوت آئینہ خانہ میں کہیں کوئی نہیںصرف میں!میں ہی بتاور میں ہی بت پرست!میں ہی بزم ذات میں رونق افروزجلوہ ہائے ذات کو دیتا ہوں داد!
اردو کہو یا ہندوستانیاس کی بڑائی دنیا نے مانیآپس کی ملت مقصود اس کاالفت کی خوگر وحدت کی بانیگزرے ہوؤں کے دل کی دلاریبیتے دنوں کی دل کش کہانیہے اتحاد قومی کا نغمہآغاز اس کا اس کی جوانیاہل وطن تھے آپس میں یک دلاس بات کی ہے اردو نشانیہونے کو ہیں گو صدہا زبانیںپر اس کے آگے بھرتی ہیں پانیاتر سے دکشن پورب سے پچھمہر سمت اس کی ہے حکمرانیہندو بھی شیدا مسلم بھی شیداہے ساری خلقت اس پر دوانیہوں کیوں نہ اس کے سب لوگ حامیہے یہ سراسر ہندوستانیملتی ہے کھل کر ہر اک زباں سےاس بات میں ہے کون اس کا ثانیطرز نگارش گر دیکھ پائیںرہ جائیں حیراں بہزاد و مانیاس کی فصاحت اس کی بلاغتاس کی سلاست اس کی روانیرنگین قصے ناول انوکھےدلچسپ نظمیں شیری زبانیجادو نگاری شیوا بیانیصنعت طرازی گوہر فشانیہر بول اس کا مصری سا میٹھاہر بات دل کش ہر لے سہانیمیری دعا ہے یہ مدعا ہےاس پر خدا کی ہو مہربانینیرؔ جہاں میں پھولے پھلے یہجب تک ہے باقی دنیائے فانی
زہر میں ڈوب گئی تھیں جو زبانیں یکسران پہ شیرینیٔ وحدت کے ترانے آئےجسم مرتا ہے مگر روح کہاں مرتی ہےروح اک نور ہے اور جسم تھرکتے سائے
تو نے دیوانوں کو اک جذبہ وحدت بخشاتیرے مرقد نے انہیں شوق شہادت بخشا
رب العزتوہ زمین جسے تو نے بنی آدم کے لیے جنت بنایا تھااور امن کے گہوارے کا نام دیا تھاجہاں ہماری آزمائش کے لیے شجر ممنوعہ کے ساتھ ساتھہماری ربوبیت کے لیے تو نے شجر حیات بھی اگایا تھاہماری وہ زمین پانی ہوا اور خشکی کی مخلوق کا مشترکہ گھر تھیاس پیاری زمین پر آباد ساری مخلوق ایک دوسرے سے راضی تھیاور جس کی ساری مخلوق کو باہم راضی دیکھ کر تو بھی ہم سے راضی تھااے رب العزت ہم نے وہ زمین اپنے ہاتھوں برباد کر کے رکھ دی ہےہمارا تجھ پر کوئی حق نہیں کہ ضد کریںلیکن تو نے توبہ کا دروازہ تو کھلا رکھا ہےبے شک توبہ کی ابتدا اعتراف سے ہوتی ہےمگر اس کی انتہا ہمیشہ دعا سے ہوتی آئی ہےمیرے پاس دعا کے لائق الفاظ نہیں ہیںلیکن تیرے پاس میری گونگی التجا سننے کے لیے بہت اچھے کان ہیںحسن سماعت تجھ پر ختم ہےاس لیے کہ تو ازل سے مضطروں کی سنتا اور مردہ زمینوں کو زندہ کرتا آیا ہےسن اے سمیع سنایک مرتبہ پھر اس زمین پر امن امید اور مسرت کے پھریرے لہرا دےایک مرتبہ پھر اس کے بیٹے بیٹیوں کا ہاتھ پکڑانہیں ادھورے پن سے نجات دے دےپورا کر دے انہیںوہ ہوس اور بے صبری کی کھولتی دلدل میںبد صورت مینڈکوں کی طرح اوندھے منہ پڑے ہیںانہیں پورے قد سے کھڑا کر دےان کی عظمت آدم لوٹا دےانہیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سکھا دےتوفیق دے انہیں کہ تیری عطا کردہ قوت تخلیق سےزمین کو حسن اور معنی سے مالا مال کر دیںاحترام ڈال دے ان کے دل و دماغ میں اس زمین کے لیےاپنی اس ماں کے لیےاس کی ساری مخلوق کے لیےنسل عقیدے جنس اور ثقافت کا فرق ان کی وحدت میں نئے رنگ بھرےوہ پورے کرۂ ارض پر پھیلے ہوں لیکن ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کروہ پورے کرۂ ارض کو ایک ایسے دسترخواں کی شکل دے دیںجس پر زمین کا سارا رزق زمین کی ساری مخلوق کے لیے عام ہوچھ عرب انسان ہی نہیں زمین کی ساری مخلوق سیراب و شاد کام ہواے رب العزتتو نے اس زمین کی صورت میں جو جنت ہمیں دی تھیہم نے اسے اپنے لیے جہنم بنا لیا ہےیہ جہنم صرف نفاق اور نفرت ہی نہیں خوف سے بھی لبریز ہےایک دوسرے سے خوف اپنے آپ سے خوفاور خوف تو محبت کی نفی ہوتا ہےاور ساری محبتوں کی ابتدا اور انتہاہمیں ایک مرتبہ پھر محبت سے سرشار کر دےکہ محبت کے بغیر ہمیں نہ تو سچا امن نصیب ہوگا اور نہ سچی زندگیہم محبت سے محروم رہے تو خواہ تو زمین کو سو مرتبہ بھی جنت بنا دےہم ہزار مرتبہ اسے جہنم بنا کے رکھ دیں گےہم نے نفرت نفاق اور خوف کو آزما کر دیکھ لیا ہےاے رب العزتہمارے وجود محبت کے لیے اس طرح ترس رہے ہیںجیسے پیاسی زمین بارش کے لیے ترستی ہےہمیں محبت نصیب کر دے
میں اگر شاعر تھا مولا تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخرشاعری میں متکفل تھا تو یہ کیسی نا مناسب احتمالیکیا کروں میںبند کر دوں اپنا باب لفظ و معنیاور کہف کے غار میں جھانکوں جہاں بیٹھے ہوئےاصحاب معبود حقیقی کی عبادت میں مگن ہیںاور سگ تازی سا چوکیدار ان کے پاس بیٹھوںوحدت و توحید کا پیغام سن کرورد کی صورت اسے دہراتا جاؤںپوچھتا ہوںکیا مری مشق سخن توحید کی ازلی شناساو قرض کے بگتاشن کی داعی نہیں ہےمیں تو راس المال سارا پیشگی ہی دے چکا ہوںقرض کی واپس ادائی میںمرے الفاظ کا سارا ذخیرہ لٹ چکا ہےشعر کو حرف و ندا میں ڈھالناتسبیح و تہلیل و عبادت سے کہاں کمتر ہے مولاشاعری جزویست از پیغمبری کس نے کہا تھامیں تو اتنا جانتا ہوںمیری تمجید و پرستش لفظ کی قرات میں ڈھلتی ہےتو پھر تخلیق کا واضح عمل تسبیح یا مالا کے منکوں کی طرح ہے
اور بساط خیال بے پایاںاور معین حدود شرح و بیاںتیز رفتار گردش حالاتاور آہستگیٔ عمر رواںاجنبیت کا مستقل اک بوجھاور شناسائیوں کا بار گراںعقل کی خامی نارسی دل کیاور تصور شکن حقیقت جاںمختلف ہر وجود پیش نظراور امکان وحدت امکاںفکر عقدہ کشائیوں پہ مصراور سر رشتے ہی کا خود فقداںانتہا سلسلوں کی نا معلوماور ہر لمحہ سلسلۂ جنباںمتواتر مراحل تعلیماور مسلسل مدارج نسیاںشعبہ ہائے خیال بے تمئیزاور بحر شناخت مہر و نشاںچار جانب صراحتوں کا ہجوماور بحر رموز بے پایاںسیل بیروں رواں بطرز دگراور جوئے اندروں الگ سی رواںایک کھوئی ہوئی فضائے حیاتاور احساس و فکر سب غلطاںاور سانسوں کی رہ گزر پہ ہجوماور آنکھوں کی رہ گزر ویراں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books