aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vird"
ابھی ہم خوبصورت ہیںہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیںاور ردائے زخم سے آراستہ ہیںپھر بھی دیکھو توہماری خوش نمائی پر کوئی حرفاور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیاہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیںاور چہرے رتجگوں کی شعلگی سےآبنوسی ہو چکے ہیںاور زخمی خوابنادیدہ جزیروں کی زمیں پراس طرح بکھرے پڑے ہیںجس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کوسمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہےلہو کی بارشیںیا خودکشی کی خواہشیں تھیںاس اذیت کے سفر میںکون سا موسم نہیں آیامگر آنکھوں میں نملہجے میں سمہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیاابھی تک دل ہمارےخندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںزمانے ہو گئےہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھےمگر اب بھیبہت سے آشنا نا آشنا ہمدماور ان کی یاد کے مانوس قاصداور ان کی چاہتوں کے ہجر نامےدور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیںگلابی موسموں کی دھوپجب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہےتو برفانی بدن میںجوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہےاداسی کا پرندہچپ کے جنگل میںسر شاخ نہال غم چہکتا ہےکوئی بھولا ہوا بسرا ہوا دکھآبلہ بن کر ٹپکتا ہےتو یوں لگتا ہےجیسے حرف اپنےزندہ آوازوں کی صورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںہماری خوش نمائی حرف حق کی رونمائی ہےاسی خاطر تو ہم آشفتہ جاںعشاق کی یادوں میں رہتے ہیںکہ جو ان پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیںہماری حرف سازیاب بھی محبوب جہاں ہےشاعری شورید گان عشق کے ورد زباں ہےاور گلابوں کی طرح شاداں چہرےلعل و مرجاں کی طرح لبصندلیں ہاتھوں سےچاہت اور عقیدت کی بیاضوں پرہمارے نام لکھتے ہیںسبھی درد آشناایثار مشربہم نفس اہل قفسجب مقتلوں کی سمت جاتے ہیںہمارے بیت گاتے ہیںابھی تک ناز کرتے ہیں سب اہل قافلہاپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پرابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پرابھی ہم آسمانوں کی امانتاور زمینوں کی ضرورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیں
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
تمہیں جب دیکھتا ہوںتو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیںتمہیں سنتا ہوںتو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہےتمہارا نام لیتا ہوںتو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیںتمہیں چھو لوںتو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن مری پوروں کو آ کر گدگداتا ہےتمہیں گر چوم لوںتو میرے ہونٹوں پر الوہی آسمانی نا چشیدہ ذائقے یوں پھیل جاتے ہیںکہ اس کے بعد مجھ کو شہد بھی پھیکا سا لگتا ہےتمہیں جب یاد کرتا ہوںتو ہر ہر یاد کے صدقے میں اشکوں کے پرندے چوم کر آزاد کرتا ہوںتمہیں ہنستی ہوئی سن لوںتو ساتوں سر سماعت میں سما کر رقص کرتے ہیںکبھی تم روٹھتی ہوتو مری سانسیں اٹکنے اور دھڑکن تھمنے لگتی ہے
پرانی بات ہےلیکن یہ انہونی سی لگتی ہےعلی بن متقی مسجد کے منبر پر کھڑاکچھ آیتوں کا ورد کرتا تھاجمعہ کا دن تھامسجد کا صحناللہ کے بندوں سے خالی تھایہ پہلا دن تھا مسجد میں کوئی عابد نہیں آیاعلی بن متقی رویامقدس آیتوں کو مخملیں جز دان میں رکھاامام دل گرفتہنیچے منبر سے اتر آیاخلا میں دور تک دیکھافضا میں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیدھند کی کائیہوا پھر یوںمنڈیروں گنبدوں پر ان گنت پر پھڑ پھڑائےکاسنی کالے کبوترصحن میں نیچے اتر آئےوضو کے واسطے رکھے ہوئے لوٹوں پراک اک کر کے آ بیٹھےامام دل گرفتہپھر سے منبر پر چڑھاجزدان کو کھولاصفوں پر اک نظر ڈالییہ پہلا دن تھا مسجد میںوضو کا حوض خالی تھاصفیں معمور تھیں ساری!
وہ اک لمحہ بڑا مقدس تھاوہ اک لمحہ کہ جس میںآسماں سب آیتوں کا ورد کرتے تھےستارے ہاتھ میں لے کرجہنم کی سلگتی اور دہکتی آگ کے اوپرفرشتے اپنے اپنے پنکھوں کیبوندیں جھٹکتے تھےخدا نے ایک لمحے کو نگاہیں موند کر اپنیتسلط کی گرہ کو ڈھیلا چھوڑا تھانظام ازل توڑا تھاوہ اک لمحہ کہ جس میںگردشوں کے پار سیاروں نے پہلی بارہالی ڈے منایا تھاوہ اک لمحہ کہ جس میں تم جنم لے رہے تھے
اسم اعظمبہت اچھا ہوا تھا ماں نے مریسکھلا دیے تھے اسم سارےمجھ کو بچپن میںتمام آیات قرآنی وظیفے اور مناجاتیںکہ جن کے ورد سے ساری بلائیں دور رہتی ہیںحصار ان کا ہر آفت اور مصیبت سے بچاتا ہےانہی کے حفظ سے ہوتی رہی مشکل کشائی اور مسیحائی
یہ بھی رات گزر رہی ہےکمرے کی بکھری چیزیں سمیٹتے ہوئےتمہارے جانے کے بادتمہاری چہل قدمیاں گھومتی رہتی ہیں دل کے آنگن میںگونجتی رہتی ہیں تمہاری سرگوشیاں میرے کانوں میںبستر کی سلوٹیں منہ چڑھانے لگتی ہیںاس بار سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑوں پر محسوس کرتی ہوںتمہارے ہونٹوں کا لمسادھر ادھر بکھرے ہوئے تمہاری باتوں کے ڈھیرچائے کی جھوٹی پیالیاںایک ایک کو اٹھاتی ہوں اور رکھتی جاتی ہوںیادوں کی الماری میںجس میں پہلے ہی سے موجود ہیںتمہاری مسکراہٹوں کی گٹھریاںبالکونی سے جھانکتا ہوا چاندمہکتی ہوئی رات کی رانیکتنا کچھ سمیٹنا باقی ہے ابھیمیرے ماتھے پر تمہارے ہونٹوں کا لمستمہارے نام کا ورد کرتی ہوئی دھڑکنےتھک کر چور ہو گئی ہوں خود کو سمیٹتے ہوئےاور آسمان پر چمکتا ہوا آخری ستارہ بھیاس بار ڈوب جانا چاہتا ہے میرے ساتھتمہاری یادو کے بے کراں سمندر میں
چل اے نسیم صحرا روح و روان صحرامیرا پیام لے جا سوئے بتان صحراصحرائی مہوشوں کی خدمت میں جا کے کہنابھولے نہیں تمہیں ہم اے دختران صحراگر بس چلے تو آئیں اور درد دل سنائیںتم کو گلے لگائیں ہم پھر میان صحراتم نجد میں پریشاں شہروں میں ہم ہیں حیراںاللہ کی اماں ہو تم پر بتان صحراتم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہوہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحراہم پاس آئیں کیوں کر تم کو بلائیں کیوں کریہ دکھ مٹائیں کیوں کر واماندگان صحرابیتاب ہیں الم سے بے خواب رنج و غم سےکیا پوچھتی ہو ہم سے اے دلبران صحراتم یاد کر رہی ہو بیداد کر رہی ہوبرباد کر رہی ہو اے گلرخان صحرایہ کیا کہا کہ تم ہو رنگینیوں کے خوگرغمگیں ہیں تم سے بڑھ کر اے غمکشان صحرایہ رات یہ گھٹائیں یہ شور یہ ہوائیںبچھڑے ہوئے ملیں گے کیوں کر میان صحراشہروں کی زندگی سے ہم تنگ آ چکے ہیںصحرا میں پھر بلا لو اے ساکنان صحرایاد سموم ہو یا سرسر کے تند طوفاںڈرتے نہیں کسی سے دلدادگان صحراآبادیوں میں حاصل آزادیاں نہیں ہیںآ جاؤ تم ہی اڑ کر او طائران صحراصحرا کی وسعتوں میں ہم کو نہ بھول جانااو دختران صحرا او آہوان صحرااے ابر چپ نہ رہنا میرا فسانہ کہنامل جائے گر کہیں وہ سرو روان صحرادشتی کی دھن میں ساقی اک نغمۂ عراقیہاں پھر سنا بیاد گل چہرگان صحراآنکھوں میں بس رہا ہے نقش بتان صحرااو داستاں سرا چھیڑ اک داستان صحرامستانہ جا رہا ہے پھر کاروان صحراہاں جھوم کر حدی خواں اک داستان صحرادیہات کی فضائیں آنکھوں میں پھر رہی ہیںدل میں سما رہی ہے یاد بتان صحرانظروں پہ چھا رہا ہے وہ چاندنی کا منظرصحرا میں کھیلتی تھیں جب حوریان صحراوہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالموہ نور کا سمندر ریگ روان صحراجلوے مہ جواں کے وہ رنگ کارواں کےوہ نغمے سارباں کے رقصاں میان صحراکیوں کر نہ یاد آئیں وہ سیم گوں فضائیںوہ آسمان صحرا ماہ روان صحراوہ کم سنوں کے گانے وہ کھیل وہ ترانےبے فکری کے فسانے ورد زبان صحراکھیتوں میں گھومتے تھے ہر گل کو چومتے تھےمستی میں جھومتے تھے جب میکشان صحراوہ گاؤں وہ فضائیں وہ فصل وہ ہوائیںوہ کھیت وہ گھٹائیں وہ آسمان صحراپھر یاد آ رہی ہیں پھر دل دکھا رہی ہیںمجنوں بنا رہی ہیں لیلیٰ وشان صحراراتوں کو چھپ کے آنا اور شانے کو ہلاناہے یاد وہ جگانا ہم کو میان صحراوہ ان کی شوخ آنکھیں وہ ان کی سادہ نظریںبے خود بنا رہی ہیں دوشیزگان صحراوہ عشق پیشہ ہوں میں جس کے جوان نغمےگاتا ہے چاندنی میں ہر نوجوان صحرااک بدویت کا عاشق صحرائیت سے بے خوداخترؔ بھی اپنی دھن میں ہے اک جوان صحرا
اور پھر یوں ہواجو پرانی کتابیں، پرانے صحیفےبزرگوں سے ورثے میں ہم کو ملے تھےانہیں پڑھ کے ہم سب یہ محسوس کرنے لگےان کے الفاظ سےکوئی مطلب نکلتا نہیں ہےجو تعبیر و تفسیر اگلوں نے کی تھیمعانی و مفہوم جو ان پہ چسپاں کئے تھےاب ان کی حقیقت کسی واہمے سے زیادہ نہیں ہےاور پھر یوں ہواچند لوگوں نے یہ آ کے ہم کو بتایاکہ اب ان پرانی کتابوں کوتہہ کر کے رکھ دوہمارے وسیلے سےتم پر نئی کچھ کتابیں اتاری گئی ہیںانہیں تم پڑھو گےتو تم پرصداقت نئے طور سے منکشف ہوگیبوسیدہ و منجمد ذہن میں کھڑکیاں کھل سکیں گیتمہیں علم و عرفاناور آگہی کے خزینے ملیں گےاور پھر یوں ہواان کتابوں کو اپنی کتابیں سمجھ کرانہیں اپنے سینے سے ہم نے لگایاہر اک لفظ کا ورد کرتے رہےایک اک سطر کو گنگناتے رہےایک اک حرف کا رس پیااور ہمیں مل گیاجیسے معنی و مفہوم کا اک نیا سلسلہاور پھر یوں ہواان کتابوں سےاک دن یہ ہم کو بشارت ملیآنے والا ہے دنیا میں اب اک نیا آدمیلے کے اپنے جلو میں نئی زندگیہم اندھیری گپھاؤں سےاوہام کی تنگ گلیوں سے نکلیں گےہم کو ملے گی نئی روشنیاور پھر یوں ہوالانے والے کتابوں کےاور وہ بھی جو ان پہ ایمان لائے تھےسب اپنے اپنے گھروں سے نکل کرکسی سمت کو چل پڑےایسے اک راستے پرجدھر سے نیا آدمیآنے والا تھایا ہم کو اس کا یقین تھاکہ وہ آئے گااور اسی سمت سےبس اسی سمت سے آئے گااور پھر یوں ہوادیر تک ہم نئے آدمی کے رہے منتظردیر تک شوق دیدار کی اپنی آنکھوں میں مستی رہیدیر تک اس کی آمد کا ہم گیت گاتے رہےدیر تک اس کی تصویرذہنوں میں اپنے بناتے رہےدیر تک اس خرابے میں اک جشن ہوتا رہا
میری محبوب تجھےیاد بھی ہیں وہ لمحےوہ شب وصلکہ جب خواب سنور آئے تھےاسم اعظم کی طرحورد زباں تھا کوئیجیسے عابد ہو مصلے پہ زباں کھولے ہوئےخامشی ایسی کہ جگ بیت گئے بولے ہوئےایک نے ایک کو پیغام دیا ہو جیسےایک نے ایک سے پیغام لیا ہو جیسے
تری پرچھائیں تیرے بعد بھی گھر بھر میں پھرتی ہےکبھی گلدان میں الجھے ہوئےپھولوں کی خوشبو کیصفیں ترتیب دیتی ہےکبھی سجدے میں سر رکھےگری بکھری کتابوں کیجماعت کی جبینوں پر لگی برسوں کی گرد اور دھولپلکوں کی نمی سے ڈھوتی الماری میں قعدے بانٹی تکبیر دیتی ہےدرود دوستی سے پیشتردائیں طرف کے ہاتھ کی انگلی اٹھا کراک شہادت اک گواہینام کر دیتی ہے چاہت کےکبھی آئینے میں اپنی پرانی داستاں کی آیتوں کا ورد کرتی ہےکبھی چوکھٹ پہ آ کے یاد کی تسبیح کرتی ہےپرو لیتی ہے دانوں میںکہ ہر دانے پہ تیرا نام پڑھتی ہےمگر گنتی نہیں کرتیکہ ہر تینتیس دانوں بعد اک چھلا نہیں آتاکبھی ان پنج وقتہ کھڑکیوں سے دھوپ کے مینار پر چڑھ کریہ حی علی الصلوٰۃ دل کی گونجیں چاک کرتی ہےفضا نمناک کرتی ہےنگاہوں کے گھڑے سے پانی چھلکا کر وضویا پھر نگاہیں خشک ہو جائیںتو بیتے وقت کے اک لمس سے تدبیر کی صورتتیمم سے مری لکھی ہوئی نظمیں تلاوت کرنے لگتی ہےصبح سے شام ہونے تککسی تصویر کو کعبہ بناتی ہےطواف کرتی جاتی ہےنہ جانے کون سے کتنے مناسک یاد نےپرچھائیں کے سر باندھ رکھے ہیںیہ سارے کشٹ کرتی ہےپر آخر میںوہی اک آخری سنت نبھاتی ہےیہ اپنے آپ کو ہر شامآنگن میں گرا کرہار کو تسلیم کر کےرسم کے اک کھردرے خنجر سےبن تکبیر ہیقربان ہوتی ہے
گو خاک ہو چکا ہے ہندوستاں ہماراپھر بھی ہے کل جہاں میں پلا گراں ہمارامنہ تک رہا ہے اب تک سارا جہاں ہماراہے نام کشوروں میں ورد زباں ہمارازرخیز ہے سراسر یہ گلستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارابھارت میں دیکھتے تھے ہم صنعتیں جہاں کیمشہور تھی جہاں میں کاری گری یہاں کیوہ بات ہندیوں نے غیروں کے درمیاں کیجس پر جھکی ہے گردن انبوہ سرکشاں کیملتا تھا علم و فن میں ہمسر کہاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراتسلیم کر رہے ہیں اسپین اور جاپاںسب مانتے ہیں لوہا جرمن فرانس و یوناںامریکہ میں ہے چرچا اس ملک کا نمایاںبھارت کی سلطنت پر برطانیہ ہے نازاںاونچا ہے آسماں سے یہ آستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپربت کی چوٹیاں ہیں درباں ہمارے در کیدامن میں جس کے پنہاں کانیں ہیں سیم و زر کیگنگ و جمن پہ جس دم صیاد نے نظر کیسرسبز وادیوں سے اس کی نظر نہ سر کیکیا غیرت ارم ہے یہ بوستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپیدا کئے تھے جس نے ارجن کناد گوتمآغوش میں پلے تھے جس کی بیاس و بکرمگودی میں جس کی کھیلے تھے بھیم رام بھیشمجن کے سبب سے اب تک ہے ہندیوں میں دم خموہ ملک بے بدل ہے جنت نشاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارا
یہ زمیںتیری مخلوقات کا ادنیٰ سا ذرہاور اس ذرے کا میں جزو حقیرمیرا حصہ نبض معنی کی خوش آہنگی میں لفظوں کو نچانااپنے ہی ہم شکل جرثوموں کی پھیلائی ہوئی بیماریوں کےایکس رے فوٹو مرے الفاظغیر دنیا غیر اس کا تجربہلفظ غیر آہنگ غیرپھر بھی میرے کان میں پھونکا کسی نےجو بھی کچھ میں کر رہا ہوںجو بھی کچھ میں لکھ رہا ہوںوہ میری تخلیق ہےمیں بھی اپنے آپ میں تخلیق کاراور یہ شیطان پھونکمیرے سر میں چڑھ گئیمیں نے اپنی روح کوپانیوں پر چھ دنوں تک بے تکاں جنبش میں پایالفظ کن کا ورد کر کے آنکھ جب کھولی تو دیکھایہ زمیں یہ آسماںروشنی پانی فضا خشکی درختچاند سورج کہکشاں حیوان جن انساں ملکایک کورس بن گئے ہیںاور مجھ پر ہنس رہے ہیںمیرے آگے پیچھے شر ما خلق ہے
قبر کیا ڈھونڈنامٹ گئے ہوں گے اس کے نشاںکہیں بھی جلا کر لگا دوں اگربتیاںمدتوں بعد بھیورد کرتے ہوئے سورۂ فاتحہ کا وہی گونج کانوں میں ہےترا باپ کیا روز پیتا ہےافوہ جو شرمندگی کا سبب ہو بھلا اس سے کیسی محبتاور ویسے بھیایک بچہ کی نفرت سے سچا کوئی اور جذبہ نہیںدفن کے وقت بھی تو میں دل میں کہیں ان سے ناراض تھامگر آج خود جب میں اس عمر میں ہوںجو پاپا کی شاید رہی ہوگی تبجب میں روٹھا تھا ان سےمرے دل میں احساس جرم اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیںآپ سن تو رہے ہیں نہ پاپامعافی مجھے چاہئےکیا یہ ممکن ہےپھر خود سے کہتا ہوں شاید نہیںوہ گئےکوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلکسچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک
میں اگر شاعر تھا مولا تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخرشاعری میں متکفل تھا تو یہ کیسی نا مناسب احتمالیکیا کروں میںبند کر دوں اپنا باب لفظ و معنیاور کہف کے غار میں جھانکوں جہاں بیٹھے ہوئےاصحاب معبود حقیقی کی عبادت میں مگن ہیںاور سگ تازی سا چوکیدار ان کے پاس بیٹھوںوحدت و توحید کا پیغام سن کرورد کی صورت اسے دہراتا جاؤںپوچھتا ہوںکیا مری مشق سخن توحید کی ازلی شناساو قرض کے بگتاشن کی داعی نہیں ہےمیں تو راس المال سارا پیشگی ہی دے چکا ہوںقرض کی واپس ادائی میںمرے الفاظ کا سارا ذخیرہ لٹ چکا ہےشعر کو حرف و ندا میں ڈھالناتسبیح و تہلیل و عبادت سے کہاں کمتر ہے مولاشاعری جزویست از پیغمبری کس نے کہا تھامیں تو اتنا جانتا ہوںمیری تمجید و پرستش لفظ کی قرات میں ڈھلتی ہےتو پھر تخلیق کا واضح عمل تسبیح یا مالا کے منکوں کی طرح ہے
ساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںرگ رگ نہ میری پھونک دے قلب تپاں کہیںگم صم ہوں اور ششدر و حیراں کچھ اس طرحجیسے کہ کھو چکا ہوں میں روح رواں کہیںاس ناؤ کی طرح ہوں میں موجوں کے رحم پرلنگر ہو جس کے ٹوٹے کہیں بادباں کہیںیا مست ناز سرو سا کوئی نہال سبزآ جائے ضد میں برق کی جو ناگہاں کہیںیا جس طرح بہار میں مرغ شکستہ پرحسرت سے دیکھتا ہوں سوئے آسماں کہیںمغلوب اس قدر ہوں میں احساس غم سے آجکھو جائے سسکیوں میں نہ یہ داستاں کہیںبیتے دنوں کے خواب ہیں آنکھوں کے سامنےفردا کا ایک خوف ہے دل میں نہاں کہیںنکلے تھے جب وطن سے ہم اپنے بہ حال زارمنزل کا تھا خیال نہ نام و نشاں کہیںکچھ ایسی منتشر سی ہوئی دوستی کی بزمپتے بکھیر دیتی ہے جیسے خزاں کہیںزندہ ہے یار صحبتیں باقی مگر کہاںدیوار کھنچ گئی ہے نئی درمیاں کہیںفردا پہ کیا یقین ہو نالاں ہوں حال پرماضی کی سمت لے چلے عمر رواں کہیںباد صبا کے شانوں پہ امواج نور پرلے جاؤ مجھ کو دوستوں کے درمیاں کہیںیا شمع میری یادوں کی گل کر دو ایک ایکتاریک دل کا گوشہ نہ ہو ضو فشاں کہیںروداد غم سناتے ہی یوں آئی ان کی یادمیں ہوں کہیں خیال کہیں داستاں کہیںاوجھل ہیں گو نگاہ سے دل سے کہیں ہیں دورذکر حبیب اب بھی ہے ورد زباں کہیں
اگر مجھ سے ملنا ہے آؤ ملو تممگر یاد رکھنامیں اقرار کی منزلیں راستے ہی میں چھوڑ آیا ہوںاب مجھ سے ملنا ہے تم کو تو انکار کی سرحدوں پہ ملوجھینگروں مکڑیوں کے جنازےمیں رستے پہ چھوڑ آیا ہوںپرانی کتھائیں مجھے کھینچتی ہیںزمیں کا زوال آج زنجیر پا بن رہا ہےخس و خاک کے سارے رشتےمیں نے ہر شے کو اب تج دیا ہےکوئی معذرت بھی نہیں ہےکہ میں معذرت کے سبھی جھوٹے لفظوں کواپنی لغت سے نکال آیا ہوںمیں انکار کے آسمانوں پہ پھرتا ہوامیں انکار کا ورد کرتا ہوامیں زمینوں پہ اور آسمانوں کی ہر شے پہانکار کی سرخ مہریں لگاتا ہوااور دما دم کی اک تھاپ پہمیں نے ساتوں زمینوں کے ساتوں طبق آج روشن کیے ہیںدیکھنا آسماں رقص کرنے لگا ہےزمینوں کے سارے خزانے ابلنے لگے ہیںسارے دفینے جڑوں سے اکھڑ کرمرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیںمیری آواز پر مچھلیاں پانیوں سے نکل آئی ہیںآج ارض و سماوات کی ساری پوشیدہ خبریں میں سننے لگا ہوںمیں خوش ہوں مجھے آگہی مل گئی ہےبدن کے مساموں سے اب آگہی شعلہ بن کر چمکنے لگی ہےعجب کشف کی روشنی ہےزمیں اپنی سطح سے پاتال تک روشنی میں نہا کرشب اولیں کی دلہن کی طرح آج شرما رہی ہےتازہ ہواؤں کی دوشیزگی سات رنگوں میں برہنہ ہوئی ہےحیاؤں کی سرخی سے چہرہ کنول ہےکہ میری دلہن کا بدن پھول ہےوہ ہواؤں کے رنگوں میں ڈوبی ہوئی ہےہواؤں کی دوشیزگی سات رنگوں میں برہنہ ہوئی ہےہر اک شے نقاب اپنا الٹے ہوئے ہےسبھی بھید اپنی زبانیں نکالے مرے سامنے آ گئے ہیںکتابوں کے اوراق خود بولتے ہیںزمیں آسماں کی ہر اک شےسمندر ہوائیں زمینوں کی سطحیںسطحوں کے نیچے صدیوں کے چہرےپہاڑوں کی برفیں برفوں کے شوریدہ پانیصدیوں کے پیاسے سمندر کے ساحل درختوں کے پتےپھولوں کے چہرے اور روز و شب کے سفید و سیاہ سلسلےہر اک شے مجھے اپنے بھیدوں سے اسرار سےآشنا کر رہی ہےعجب آشنائی کی لذت ملی ہےمیں اس آشنائی کی لذت سے سرشار ہو کرمقدس زمیں کے پرانے دکھوں کو گلے سے لگا کرمیں اقرار کی منزلیں راستے ہی میں چھوڑ آیا ہوںمیں ساری پرانی کتھائیں جلا کرفقط اک دما دم کی آواز پر رقص کرتا ہوامیں اقرار کی سرحدوں سے پرے آ گیا ہوںاب مجھ سے ملنا ہے تم کوتو آؤ ملومگر یاد رکھنامیں اقرار کی دشمنی پر اتر آیا ہوںاب میں انکار کی سرحدوں پہ ملوں گا
اور پھر سالہا سال تکصادقین اسم اعظم بناپینٹ کی ڈبیوں پر اسے پھونکا جاتا رہانقش گر اسم اعظم کا چھلا پہن کر اسی نام کا ورد کرتے رہےبے زباں کینوس کی ہر اک قوس میں رنگ بھرتے رہے
دل ہے فولاد کا پتھر کا جگر رکھتے ہیںجان جوکھوں میں کف دست پہ سر رکھتے ہیںخوں رلائے گا تجھے بھی میرا افسانۂ غمہم قفس پوچھ نہ کیوں دیدۂ تر رکھتے ہیںکیوں نہ تڑپائے ہمیں اپنے وطن کی حالتسوز دل رکھتے ہیں ہم درد جگر رکھتے ہیںاے جفا کار تو مظلوم کی فریاد سے ڈریہ وہ بندے ہیں کہ آہوں میں شرر رکھتے ہیںوہ تہی دست ہیں جو زور نہ زر رکھتے ہیںجذبۂ حب وطن دل میں مگر رکھتے ہیںکس کو دیتے ہیں بھلا دار و رسن کی دھمکیکیا ڈراتے ہو کہ ہم تیر و تبر رکھتے ہیںہم کو پستول کا ڈر ہے نہ مشینوں کا خطرمرد میدان ہیں ہم سینہ سپر رکھتے ہیںکوئی بھالا ہے نہ خنجر ہے نہ بم ہاتھوں میںاور نہ تلوار کو ہم زیب کمر رکھتے ہیںتم کو طاقت کا بھروسہ ہے جو بیداد گروہم کو یہ ناز کہ نالوں میں اثر رکھتے ہیںرہنماؤں کی تمنا ہے نہ رہزن کا خطرہم وہ رہ رو ہیں کہ منزل پہ نظر رکھتے ہیںہم بھی آزاد وطن کو کبھی دیکھیں صابرؔیہ دعا ورد زباں شام و سحر رکھتے ہیں
وہ تو سب کچھ ہو گیاجس کا اس نے سوچا تھااونچے برج پہ پہنچا تھاڈھول کی تھاپ پہ ناچے تھےخوابوں کی تعبیر کا ورد اورہاتھ میں تسبیح سر پر ٹوپینیت کا پنچھی خوف کے مارےخود سر لمحے کی گرفت میں آ کربیچارہ جکڑا اور بے بس پڑا تھااب کیا ہوگاہاتھ اٹھا کر رب کی جانبآنکھ پر نم نے اک سوال کیا تھااب کیا ہوگا اب کیا ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books