دوسرا کنارہ

راجندر سنگھ بیدی

دوسرا کنارہ

راجندر سنگھ بیدی

MORE BY راجندر سنگھ بیدی

    کھاڑی کے اس کنارے، ڈھوک عبد الاحد کے ایک سنگلاخ ٹیلے پر کھڑے ہونے سے، دوسرا کنارہ بہت دور، ایک دھند میں لپٹا ہوا نظر آتا تھا۔ دوسرے کنارے پر اور اس سے پرے کیا ہے، اس کے متعلق ہم تینوں بھائیوں میں سے ایک بھی نہ جانتا تھا۔ اس پار، حد نگاہ سے ورے، ایک نقرئی سی لکیر سورج کی شعاعوں میں چمکتی ہوئی نظر آتی تھی، جو کہ فورا ہی دھند کی لطیف چلمن کے پیچھے غائب ہو جاتی۔ وہ لکیر غالبا پانی کی ایک ندی تھی جو کہ ڈھوک عبد الاحد کے شمال میں کھاڑی سے علاحدہ ہو کر دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ بہہ رہی تھی۔

    دوسرا کنارہ ہمیشہ پراسرار ہوتا ہے اور انسان کا مطمح نظر۔ انسان ہمیشہ پہنچ سے باہر چیز کا مشتاق ہے۔ اس کی زندگی کے بہت سے رومان کا فلسفہ بھی یہی ہے۔۔۔ زندگی کے دوسرے کنارے پر کیا ہے؟ یہ زید جانتا ہے نہ بکر، راستہ میں موت حائل ہے، اور ڈھوک عبد الاحد کے قصبے میں کھڑے ہو کر دکھائی دینے والے دوسرے کنارے پر کیا تھا؟ ہم نہیں جانتے تھے۔ راستہ میں موت کی سی ذخار کھاڑی حائل تھی۔

    حق تو یہ ہے کہ اسی کھاڑی نے ہماری محنت کش، نزع کی سی زندگی میں رومان پیدا کر دیا تھا اور ہمارے تصور میں ایک ہلکی سی رنگ آمیزی ہو گئی تھی۔ اس خوبصورت نیلاہٹ کی مانند، جو سفید براق کفن کی تہوں میں دکھائی دیتی ہے۔ بسا اوقات جب میں بیکری کے دوزخ نما چولھے میں سے آخری ڈبل روٹی نکالتا تو فورا ڈھوک کے سنگلاخ ٹیلے پر جا کھڑا ہوتا، اور مستفسرانہ نگاہوں سے فیری بوٹ میں سے اترنے والے مسافروں کے رنگ روپ ، چال ڈھال ، وضع قطع کا معائنہ کرتا۔

    کبھی کبھی قصبے کے بینکر کے بڑے مرغی خانہ کے لیے دوسرے کنارے کی طرف سے بڑے بڑے لیگ ہارن نژاد مرغ، دیسی مرغیوں سے جفت کرنے کے لیے منگوائے جاتے اور یہاں سے بڑے بڑے وزنی انڈے اس پار لے جانے کے لیے ٹوکریوں میں بند کیے جاتے۔ ہماری بیکری کی روٹیاں بھی اسی فیری بوٹ میں لے جائی جاتی تھیں۔ ہمارے باپ نے فیری کے مالک سے سال بھر کا ٹھیکہ کر رکھا تھا۔ وہ خود کئی دفعہ دوسرے کنارے پر گئے تھے اور اکثر اس پار کے بہت دلچسپ قصے ہمیں سنایا کرتے تھے۔

    ایک دن میں چولھے کے پاس بیٹھا، پسینہ میں شرابور، خمیرے آٹے کی ٹکیاں بنا رہا تھا، تو سندر، میرا بڑا بھائی آیا۔ وہ غمگین سا دکھائی دیتا تھا۔ اندر آتے ہی اس نے قریب پڑا ہوا پانی کا ایک گلاس اٹھایا اور پی گیا۔ پھر سنگتروں کے سوکھے ہوئے چھلکے اٹھائے اور کسی گہری سوچ میں مستغرق ، ان چھلکوں کو خمیری ٹکیوں پر چپکانے لگا۔ کچھ دیر بعد میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

    ’’تحصیلدار آیا ہے، نیا تحصیلدار۔۔۔۔‘‘

    میں زیادہ تیزی سے ٹکیاں بنانے لگا۔ خمیرے آٹے کے ایک ٹکڑے کو میں نے ہوا میں اچھالا۔ وہ گول گول چکر کاٹتا ہوا میرے ہاتھوں میں گرا۔ یہ میں اس لیے کیا کرتا تھا کہ میرے دوزخی کام میں کچھ دلچسپی پیدا ہو جائے۔ لیکن کیا اس سے بیکری کے چولھے کی تمازت کم ہو جاتی تھی اور آگ میرے لیے اپنی فطرت کو خیرباد کہہ دیتی تھی؟

    جب میں نے سندر کی بات کو نہ سنا، تو اس نے چوکی کو میرے قریب سرکایا اور میرے کندھے کو چھوتے ہوئے بولا۔

    ’’تم نے سنا ؟ تحصیلدار آیا ہے۔‘‘

    میں نے جھلا کر سندر کی طرف دیکھا اور پوچھا۔

    ’’تو پھر بہت سی روٹیاں درکار ہوں گی ۔۔۔ ہے نا؟‘‘

    سندر نے اپنے بازو اوپر اٹھائے، قمیص کو اتار کر بہت دور کھاٹ پر پھینک دیا اور دو تین خمیری روٹیوں پر سنگترے کا چھلکا چپکاتے ہوئے بولا۔

    ’’رجو ۔۔۔ تم نہیں جانتے علموکو، وہ میرا لنگوٹیا یار تھا۔ اب اسے علمو نہ کہنا۔ وہ اب خاں صاحب علم الدین ہو چکا ہے ۔۔۔ اور ڈھوک ہی میں تحصیلدار ہو کر آیا ہے۔ چھ سال ہوئے وہ کھاڑی کے اس طرف گیا تھا۔۔۔ ۔‘‘

    میں نے اسی وقت خمیرے آٹے کو ملنا چھوڑ دیا اور حیرت سے سندر کی باتوں کو سننے لگا۔۔۔ بہت سی باتیں سنانے کے بعد سندر اپنے ہاتھوں سے انڈوں کے چھلکے اکٹھے کرنے لگا۔ سندر کی باتوں میں کچھ خلش تھی اور اضطراب ۔۔۔ علمو، اب خاں صاحب علم الدین ہو چکا ہے اور سندر ابھی وہیں بھاڑ جھونک رہا ہے۔ اس بات میں بیکری کی آگ سے زیادہ جلن تھی، سندر کے لیے۔۔۔۔

    دو تین دن تک سندر بہت خاموش رہا۔ جب وہ بھاڑ کے قریب جھک کر بڑے خونچے سے چولھے میں پڑی خمیری روٹی کو نکالتا تو کچھ سوچ میں غرق ہو جاتا۔۔۔ ایک دن بہت سی ٹکیاں جل گئیں، اس دن ہمارا باپ بہت غصے ہوا اور اس نے ایک پتلی سی بیت کی چھڑی سے سندر کو پیٹ ڈالا۔ وہ بیت کی چھڑی اسی مطلب کے لیے پانی میں بھگوئی جاتی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ عبرت ناک سزا دی جا سکے۔ باپو کے برابر کا ہونے کے باوجود سندر عموما اس مار کو خاموشی سے سہہ لیا کرتا تھا۔ باپو سندر کو مارتا تھا اور کہتا تھا۔

    ’’بڑا تحصیلدار بنا پھرتا ہے ۔۔۔ حرام کار۔‘‘

    اس وقت ہم دونوں تینوں بھائیوں کی نگاہیں اس پار چلی جاتیں، جہاں سے تحصیلدار بن کر آتے تھے، جہاں دن میں مشکل سے دس درجن روٹیاں بنانے والا بیکری کا مالک ہمیں بھیجنے کے اہل نہیں تھا۔ لیکن جب ہم تحصیلدار نہ بنتے تو ہمیں پیٹا کرتا اور اپنے بال بھی نوچ لیتا۔ ہمارے زخموں کو سینکتا اور پھر مار کر زخمی کر دیتا ۔۔۔

    ہم بچپن سے سنتے آئے تھے کہ اس پار بڑی دولت ہے۔ جو کوئی بھی جاتا ہے، مالامال ہو کر آتا ہے۔ وہاں بڑے شہر میں ایک ’’جونابسئی‘‘ ہے جہاں تحصیلدار بنانے کی ایک کل رکھی ہے۔ کلکٹر بھی شاید اسی میں سے نکالے جاتے ہیں۔ ڈھوک عبد الاحد کا داروغہ صفائی، جو ہر روز ہماری روٹیوں میں نقص بینی کرتا ہے، اسے ہی چھوکر آیا ہے ۔۔۔ جب ہم نے ٹیلے پر سے کھاڑی کی طرف دیکھا تو ہمیں پانوں کے نیچے فیری آہستہ آہستہ پھسلتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ دوسرے کنارے کی طرف جا رہی تھی۔ اس میں سفید سفید انڈوں کے ٹوکرے ٹیلے پر سے موتیوں کی ڈبیوں کی مانند دکھائی دیتے تھے۔ اس کے علاوہ آنکھ پر ہاتھ رکھنے سے دور ایک نقرئی سی لکیر نظر آتی تھی جو کہ سورج کی روشنی میں چمکتی ہوئی فورا ہی ایک دھند کے پیچھے غائب ہو جاتی تھی۔

    ہر سال پوہ ماگھ کے مہینوں میں ہمیں دو تین سَو کے قریب روٹیاں روزانہ نکالنی پڑتی تھیں۔ بہت سے سنگتروں کے چھلکے ، سکھانے ہوتے۔پان سات بوریاں میدے اور آٹے کی اٹھوانی ہوتیں ۔۔۔ پیسے سیجن کے بعد چکا دیے جاتے تھے۔ ان مہینوں کو باپو سیجن کے مہینے کہا کرتا تھا۔ جس طرح اسقاط اور اٹھرا کی مریضہ مخصوص مہینے کو خوف سے ’’ان گنا‘‘ کہتی ہے، اسی طرح ہم ’’سیجن‘‘ کو ان گنا کہا کرتے تھے۔۔۔ سنتے ہیں کھاڑی کے اس پار ایک بڑے سے گھنٹہ گھر کے اردگرد سینکڑوں ہزاروں صاحب لوگ رہتے تھے۔ ان دنوں ان کا میلہ ہوتا تھا، جسے وہ لوگ کرسمس کہتے تھے۔ جس میں مرد عورت ننگے ہو کر ناچتے تھے، تب بڑا مزہ ہوتا تھا اور ۔۔۔ ہمیں سینکڑوں روٹیاں نکالنی پڑتی تھیں۔

    یہ ’’سیجن‘‘ کی بات ہے۔ باپو نے ایک دن ہمیں اس شرط پر چھٹی دے دی کہ فیری کے دوسرے پھیرے پر دن کی تمام روٹیاں وہاں پہنچا دی جاویں۔ ہم نے جلدی جلدی روٹیوں کو بھاڑ میں سے نکالا اور ٹوکریوں میں ڈال کر فیری کی طرف چلے گئے۔

    اس دن آسمان پر ایک مٹیالی رنگت چھائی ہوئی تھی۔ ہمیں آندھی کی توقع تھی۔ پوہ ماگھ کے مہینے میں ڈھوک عبد الاحد میں آندھیاں آ جاتی ہیں۔ ذرا سی تیز ہوا یا بگولا چلنے سے کھاڑی کے شمال کی طرف پڑی ہوئی سینکڑوں من ریت آسمان پر چڑھ جاتی ہے ۔۔۔ اس دن تند ہوا پانی میں لہروں کے جذبات پیدا کر رہی تھی۔ کبھی کبھی ایک اچھال سی آتی اور پانی ہمارے گھٹنوں میں لوٹتا ہوا بہت سے گھونگے اور سبز سا جالا چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاتا۔ کبھی کبھار اچھال کے ساتھ کوئی مچھلی کنارے پر رہ جاتی اور پانی کے لیے مضطرب، خشک، ریتلی زمین پر تڑپنے لگتی۔ لوگ دوڑ کر اسے پکڑ لیتے اور وہیں بھون کر کھا جاتے۔

    فیری دھیمے دھیمے ہچکولے کھاتے ہوئے کنارے پر آ لگی۔ اس میں تحصیلدار جوق در جوق اترنے لگے۔ ان لوگوں میں کچھ جان پہچان کے تھے اور کچھ ناواقف۔ دو ایک پٹی نور بیگ کے مَلک تھے، جو بندوق کا لائسنس لینے کے لیے اس پار گئے تھے۔ اس کے بعد ایک بڑا سا ڈربہ اترا۔ جس میں سے کلک کلک ، کو کو کی آوازیں آ رہی تھیں۔ غالبا بینکر کے وسیع مرغی خانے کے لیے مزید لیگ ہارن منگوائے گئے تھے۔

    اس وقت باپو بھی آ گیا۔ فیری کے مالک سے سال بھر کے کرایے کا فیصلہ کرنا تھا۔۔۔ ہم سب کی نظریں فیری کے کونے میں بیٹھی ہوئی میم صاحب پر جم گئیں۔ اس کا حسن سب کو خیرہ کیے دیتا تھا۔ میم صاحب کے سر پر ایک ہلکی سی کالے سلک کی ٹوپی تھی، جسے اڑ جانے کے خوف سے اس نے مرمریں بازوؤں سے تھام رکھا تھا۔ کمر میں پڑی ہوئی پیٹی اور اٹھے ہوئے ہاتھوں کی وجہ سے چھاتی کا ابھار ایک چٹان کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ معا میرا خیال اپنی بھاوجہ کی طرف چلا گیا جس کی چھاتیاں کسی مروڑے ہوئے مرغ کی گردن کی طرح لٹک رہی تھیں۔ سندر کا بیاہ ہوئے ابھی بمشکل پانچ سال ہوئے ہوں گے کہ تین بچوں کی پیدائش نے بھابی کی صحت کو غارت کر دیا تھا۔اور میم صاحب نے ایک ریشمی چھینٹ کا گون پہن رکھا تھا جو کہ اس کے جسم کے تمام عناصر کی وضاحت کر رہا تھا۔ننگے بازو ڈبل روٹی سے بھی زیادہ نرم تھے اور خوبصورت، سڈول پنڈلیاں ہاتھی دانت کی بنی ہوئی دکھائی دیتی تھیں، یا شاید وہ دو شگفتہ ٹہنیاں تھیں جن کے سرے پر پانوں کے دو گلابی کنول کھلے ہوئے تھے۔۔۔

    معا فیری کے مالک نے کہا۔

    ’’خان کی بیوی ہے، ولایت سے ۔۔۔ ‘‘

    ’’کون خان؟‘‘ باپو متحیر ہو کر پوچھا۔

    ’’تحصیلدار صاحب۔‘‘

    سندر نے پلٹتے ہوئے کہا۔ ’’ارے علمو کی ۔۔۔؟‘‘

    باپو نے غصے سے سندر کی طرف دیکھا اور دانت پیستے ہوئے بولا ’’چپ رہو ۔۔۔ حرامکار۔‘‘

    میں نے دل میں سوچا۔ ولایت سے آئی ہے، لیکن ولایت سے تو لیگ ہارن نژاد مرغ آتے ہیں، مگر لیگ ہارن مرغیاں آ جائیں تو کون منع کرتا ہے۔ پھر آج کل میلے کے دن ہیں۔ خانصاحب کو لینے آئی ہو گی اور کرسمس کے میلہ میں یہ لوگ گھنٹہ گھر کے ارد گرد ننگے ناچیں گے۔ یہاں، کم بخت ڈھوک میں ان کو کون ناچنے دے گا۔ان پریوں اور تحصیلدار کے لیے وہی جگہ مناسب ہے، اس پار، دوسرے کنارے پر ۔۔۔

    اس دن شام کو ہم اداس خاطر ہو کر واپس لوٹے۔ گھر آتے ہی سندر نے اپنی پرانی پگڑی کو پھاڑا، چلم کو صاف کیا، نیا تہمد باندھا اور ڈھوک کے چوپال کی طرف چلا گیا۔ وہاں چوپال میں بہت سے لوگ آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ صبح کو باوا کا نوکر پیپل اور بڑ کی گولروں کو صاف کر جاتا اور ایک خستہ سی دیوار کے نیچے بڑی سی کھوہ میں بہت سے اپلے سلگا کر چلا جاتا۔ اسے اس کام کا ثواب خاص خدا کی درگاہ سے ملتا تھا۔ وہاں بیٹھ کر سندر نے تحصیلدار کو جی بھر کے کوسا اور خان صاحب کی بیوی کی بے حیائی کا تذکرہ کیا۔

    اس دن ماں نے بھابی لکھمی کو ہدایت دی کہ خمیرے آٹے میں ڈالے جانے والے انڈوں کو گندے انڈوں سے علاحدہ کر دے۔ اس دن بھابی لکھمی کو فرصت نہ ملی۔ ننھے پنجو کے گلے میں ایک بڑا سا پھوڑا نکل آیا تھا جسے دکھانے کے لیے وہ ڈھوک کے سب سے بڑے جراح کے پاس چلی گئی اور جراح کے بے وقت چیر ڈالنے سے وہ پھوڑا نہایت خوفناک شکل اختیار کر گیا۔ لکھمی پنجو کو گودی میں ڈالے سارا دن روتی رہی۔

    اگلی صبح جب ہم تینوں بھائی کام کر رہے تھے، تو باپو حسب دستور گالیاں دیتا ہوا چلا آیا اور سندر کو مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔

    ’’تم نے انڈے دیکھے تھے؟‘‘

    ’’لکھمی کے سپرد کیے تھے۔‘‘

    ’’اس حرام کار کے سپرد؟ ۔۔۔ اس نے پانی میں ہی ڈال کر نہیں دیکھے۔ نصف انڈے گندے رہے ہیں۔ نصف، سن رہے ہو، میں یہ خسارہ تمھارے باپ سے ، تمھارے دادا سے پورا کروں گا، سور کے بچے ۔۔۔ ‘‘

    سندر نے ذرا تیز ہوتے ہوئے کہا۔

    ’’پنجو مر رہا ہے اور آپ کو انڈوں کی پڑی ہے۔ یہ رہے، لے جائیے اپنے انڈے ونڈے۔۔۔‘‘

    باپو نے سندر کی بات کو نہیں سنا اور بولتا چلا گیا۔ آخر میں ایک چمٹا اٹھا کر سندر پر پھینک دیا۔ اس کی آنکھ بال بال بچی۔ باپو بولا۔

    ’’لکھمی میم ہے نا ۔۔۔ اسے کرسی پر بٹھا چھوڑنا چاہیے، کیوں؟‘‘

    سندر کی چھاتی غصے سے بپھرنے لگی۔ وہ بال بچوں والا ہو چکا تھا، پھر بھی باپو اسے مارنے سے نہیں چوکتا۔ اس نے شعلہ فگن آنکھوں سے ایک مرتبہ باپو کی طرف دیکھا اور پھر بڑے چولھے میں دہکنے والی ڈبل روٹیوں کی طرف ۔۔۔ اور وہی چمٹا اٹھا کر ڈبل روٹیاں نکالنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے انڈوں کے لعاب میں انگلی ڈالی اور معا ہی اس کی نظر کھاڑی کے اس پار اٹھ گئی ۔۔۔ جہاں سے میمیں آتی تھیں، جن کی چھاتیاں چٹان کی طرح ابھری ہوئی ہوتیں۔ جن کے جسم پر پھنس کر آئے ہوئے گون ان کے جسم کے ایک ایک عنصر کی وضاحت کرتے۔ ننگے بازو ڈبل روٹیوں سے بھی زیادہ نرم ہوتے اور پانوں ہوا کی سی ہلکی سینڈلوں میں کنول کے پھولوں کی طرح۔۔۔

    موٹی موٹی ڈبل روٹیوں، بسکٹوں اور سال میں بارہ مہینے دہکتے ہوئے دوزخ سے فرار کتنا جاں بخش ہوتا ہے۔ سندر کا تخیل بہت زیادہ بیدار ہو چکا تھا۔ فیری کی نت نئی پیداوار تازیانہ بن جاتی تھی۔وہ اکثر پانی میں ڈوبی ہوئی بیت کی چھڑی اور دوسرے کنارے پر پتلی سی پانی کی لکیر کو بیک وقت دیکھا کرتا۔ آخر ایک دن ایسا آیا جب سندر نے باپو کے سامنے دوسرے کنارے پر جا کر قسمت آزمائی کرنے کا عزم پیش کیا اور آخر ایک دن ہم سب لوگ نئے ’’سیجن‘‘ کے بھاری کام سے فارغ ہو کر کھاڑی کے کنارے پر جا موجود ہوئے۔اس دن بھی کھاڑی میں طوفانی کیفیت تھی۔ بڑی بڑی لہریں فیری کو تھپیڑے مار رہی تھیں۔ کچھ ماہی گیر اپنے بڑے سے جال کو گھسیٹ کر کشتی کے ابھار پر پھینک رہے تھے۔ اس کے بعد انڈے لادے گئے۔ بڑے بڑے، وزنی انڈے جو دیسی مرغیوں نے لیگ ہارن مرغوں سے جفت ہو کر دیے تھے۔ اس کے بعد ہٹو ہٹو کی آواز آئی اور ہم نے دیکھا، تحصیلدار صاحب کا خانساماں اکرم جو ہمارے ہاں سے روز ڈبل روٹیاں لے جایا کرتا تھا، کسی چیز کو ایک خوبصورت شال میں لپیٹے ہوئے فیری کی طرف لایا۔ کچھ دیر بعد اس شال میں سے ایک بچے کے رونے کی آواز آئی۔ ہمیں پتہ چلا کہ وہ تحصیلدار کا لڑکا ہے۔ جو تین چار دن ہوئے میم صاحب کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ میں نے اپنے منجھلے بھائی کے کندھے کا سہارا لیتے ہوئے اونچا ہو کر دیکھا ۔ بچہ نہایت خوبصورت اور تندرست تھا۔ اس کے منھ پر گلے کے قریب ایک بہت ہلکی سی پھنسی نکل آئی تھی اور اسے مرہم پٹی کے لیے دوسرے کنارے پر بڑے ہسپتال میں بھیجا جا رہا تھا ۔۔۔

    سندر نے فیری میں قدم رکھا۔ اس سے پہلے ہمارے گھر میں سے کوئی بھی آدمی رخصت نہ ہوا تھا۔ چار پانچ مہینے کے لیے بھی نہیں، اور آج یہ بھائی نہ جانے کتنی مدت کے لیے مجھ سے جدا ہو کر اس پار جا رہا تھا۔ چند روز پیشتر ایک مرمت طلب گھڑی کی بابت سندر اور مجھ میں بہت سرپھٹول ہوئی تھی اور آخر وہ گھڑی میں نے اسے نہ دی۔ آج جب میں نے خود ہی وہ مرمت طلب گھڑی اپنے رخصت ہوتے ہوئے بھائی کے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں دے دی تو اس نے انکار کر دیا۔ بولا۔

    ’’رجو! بھیا رکھو اسے تم، ۔۔۔ ’’تم مجھ سے چھوٹے نہیں ہو کیا؟‘‘

    ’’نہیں تم لے لو اسے، سندر‘‘ میں نے اصرار سے کہا۔

    ’’جانے بھی دو‘‘ سندر بولا۔ ’’تمھاری کلائی پر کتنی خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔ اے کاش! میرے پاس کچھ اور بھی ہوتا، جسے میں اپنے چھوٹے بھائی کو رخصت ہوتے ہوئے دے دیتا۔‘‘

    میں نے زبردستی وہ گھڑی اپنے بھائی کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے کہا۔ ’’اتنے بڑے شہر جا رہے ہو، وہاں قدم قدم پر وقت کی ضرورت ہو گی تمھیں۔ لو، لے لو ، لو ۔۔۔

    نہ جانے سندر کے جی میں کیا آئی،اس کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے اور روتے ہوئے اس نے میرا ناچیز تحفہ قبول کر لیا۔

    بھابی نے حیا کی وجہ سے آنچل منھ کے سامنے کھینچ رکھا تھا۔ جب بھی جذبات اسے کچھ اجازت دیتے تو وہ سندر کے پاس فیری میں رکھی ہوئی گٹھڑی کی طرف اشارہ کر دیتی، جس میں اس نے کچھ مٹھیاں باندھ دی تھیں۔ وہ کہتی تھی ۔۔۔ تمھارے دو چار دن کے لیے کافی ہوں گی۔ ہاں دیکھنا! انھیں گھی میں بھون رکھا ہے۔ ان کے کھانے کے بعد پانی نہ پینا۔ کھانسی ہو جائے گی اور اگر پانی کے بغیر نہ بھی رہ سکو تو پینے کے بعد پھر ان میں سے تھوڑا اور کھا لینا۔ گلہ صاف ہو جائے گا۔ تنور کی روٹی نہ کھانا۔ پیٹ میں درد ہو گی۔ اس سے تو آپ ہی تکلیف کر لینا اچھا ہے۔ دودھ روز نہ میسر آئے تو دوسرے تیسرے ہی سہی۔ مگر پینا ضرور۔ کتنے کمزور ہو رہے ہو۔ تمھارے جسم سے تو کوا بھی سیر نہیں ہو سکتا۔ اے کاش! تم مجھے ساتھ لے چلتے اور میں تمھاری خدمت کرتی۔ تمھیں بوجھل تو نہ ہوتی۔ پھر دل میں کہتی ۔۔۔ اس نا مہر کے دل میں شاید میم کا شوق ہے ۔۔۔ اور آنسو ٹپ ٹپ لکھمی کی آنکھوں س بہنے لگے۔

    باپ نے رقت بھرے گلے سے کہا۔

    ’’بیٹا ! میں تمھیں مارا کرتا تھا، بیٹا! ۔۔۔ ارے بھول جانا اس بڈھے کے پاگل پن کو ۔۔۔‘‘

    سندر جو اس وقت تک ضبط کیے ہوئے تھا، رو دیا ۔ بولا ’’باپو! مارتے تو تھے تم، اور پھر خود ہی سینکنے کے لیے روئی بھی تو تلاش کرتے تھے۔ بھول گئے کیا؟‘‘

    ’’سچ کہے دیتا ہوں ۔۔۔ باپو کو نہ کہیو، مجھ سے یہاں زندہ نہ رہا جائے گا۔‘‘

    میں نے خشمگیں ہوتے ہوئے کہا۔

    ’’تو تمھارا مطلب ہے ۔۔۔ میں یہاں اکیلا مرا کروں؟ تنہا ہی بھاڑ جھونکوں؟ واہ رے نواب کے بیٹے!۔۔۔ میں آج ہی کہہ دوں گا باپو کو۔‘‘

    سوہنے نے فورا خوانچہ ایندھن پر پھینک دیا اور جھپٹ کر میری گردن دبوچ لی اور اس زور سے گلا دبایا کہ میری آنکھیں باہر نکل آئیں اور شور بھی میرے گلے میں گھٹ گیا۔ میں نے گھبرا کر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا اور سوہنے نے میری گردن چھوڑ دی۔لیکن شام کے وقت جب میں نے باپو کو دور سے دیکھا تو میں بھاگ کر اس کے پاس چلا گیا اور ہچکیاں لیتے ہوئے سوہنے کی حرکت بیان کی اور اس کے خوفناک ارادہ سے مطلع کر دیا۔

    باپو نے اسی وقت پانی میں بھگویا ہوا بیت اٹھایا اور اسے سوہنے کی جسم کے ساتھ پیوست کر دیا۔ سوہنے نے بیت کی چھڑی پکڑ لی اور ایک جھٹکے سے باپو کے ہاتھ سے چھین لی۔ اسے توڑا، مروڑا اور پھینک دیا۔ باپو کے ہاتھ ایک لمحہ کے لیے لرز اٹھے۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ سوہنا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا ہے۔ وہ ’’حرام کار۔۔۔ حرام کار‘‘ کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور فیری کے مالک سے مل آئے اور اسے کہہ دیا کہ اگر سوہنا تمھیں کھاڑی سے پار جانے کے لیے کہے۔ تو انکار کر دینا۔

    سوہنے کو بھی اس واقعہ کا علم ہو گیا۔ اب اس کے پاس سوائے اس بات کے چارہ نہ تھا کہ روز بلا ناغہ خمیرے آٹے کو ہوا میں اچھالے اور وہ گول چکر کاٹتا ہوا اس کے ہاتھوں میں آ گرے۔

    ایک دن میں بھاڑ کے قریب سے اٹھ کر، پسینہ سے شرابور، ہوا میں چلا گیا، اور مجھے بخار ہو گیا۔ اس کے بعد پھیپھڑوں کو ہوا لگ گئی۔ لیکن زندگی کے سانس باقی تھے، دارو درمن سے بچ رہا۔ ان دنوں سوہنا بیکری میں اکیلا کام کرتا تھا۔ کبھی کبھی باپو ہاتھ بٹا دیتے تھے۔ لیکن اب باپو بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ ان کا کام کرنا ،نہ کرنے کے برابر ہوتا تھا۔ ان دنوں سوہنا جب بھی میرے پاس تیمار داری کی غرض سے آتا، تو کہتا۔

    ’’یہ دنیا دکھوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔ اس سے تو چھٹکارا ہو جائے تو اچھا ہے۔‘‘

    میں خاموشی سے کہتا۔

    ’’ہاں سوہن۔۔۔ اور دیکھتے ہو، سانس بھی تو نہیں لیا جاتا۔ اس سے بڑا اور دکھ کیا ہو گا۔ اس سے تو یہی اچھا ہے۔ کہ میں ۔۔۔ ؟‘‘

    سوہنے نے میرے منھ پر ہاتھ رکھ دیا اور بولا۔

    ’’نہیں بھائی۔۔۔ اچھے ہو جاؤ گے تم۔‘‘

    ’’شاید پندرہ بیس دن اور تمھیں اکیلے کام کرنا پڑے۔ بڑی مصیبت ہے۔‘‘

    ’’کوئی نہیں ، تم اچھے ہو جاؤ ۔۔۔‘‘

    ابھی میں اچھی طرح سنبھلا بھی نہیں تھا کہ مجھے دو چرواہے اپنے گھر کی طرف بھاگتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس کے بعد گھر بھر میں افراتفری پھیل گئی اور ڈھوک عبدالاحد کی دو گوجرانیاں آ گئیں اور بولیں ’’چوپال میں بڑ کے نیچے سوہنا مرا پڑا ہے۔‘‘

    میں اپنے آپ میں کچھ سکت پاتے ہوئے چوپال کی طرف دوڑا۔ وہاں قصبہ کے بہت سے لوگ جمع تھے۔ انھوں نے میرے لیے خود بخود راستہ چھوڑ دیا۔ میں نے دیکھا، سوہنے کی دو آنکھیں باہر ابھر آئیں تھیں اور زبان ڈھیلی ہو کر منھ کے ایک طرف باہر نکل آئی تھی۔ اس کے قریب ہی ایک رسہ پڑا تھا جسے وہ دودھ دوہتے وقت اپنی گائے کی پچھلی ٹانگوں میں باندھا کرتا تھا۔۔۔ تو سوہنے نے خودکشی کر لی اور تمام آگ اور خمیرے آٹے سے نجات حاصل کر لی۔ اب وہ تمام دکھوں تکلیفوں سے چھٹکارا پاکر اس چوپال میں، جہاں وہ بیٹھ کر اپنا حقہ سلگایا کرتا تھا، اپنی گولروں کے بچھونے پر پڑا تھا۔ اسی جگہ جہاں وہ سندر کے ساتھ بیٹھ کر ناممکن الوجود سکھ کی زندگی کا تذکرہ کیا کرتا تھا۔

    میں نے بہ مشکل ضبط کرتے ہوئے باپو کے شانے کو زور سے پکڑ لیا اور کہا۔

    ’’باپو۔‘‘

    باپو نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا۔’’باپو، اسے جلانا مت ۔۔۔‘‘

    ڈھوک کا اچارج بولا ’’تو سنسکار کیسے ہو گا؟‘‘

    میں نے باپو سے کہا ’’آگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہی تو سوہنے نے یہ کیا ہے، باپو۔کیا تم پھر اسے آگ میں پھینک دو گے؟‘‘

    سندر کو کئی خط واپسی کے لیے ڈالے گئے، لیکن اس نے ایک بھی خط کا جواب نہ دیا۔ میں نے سوچا۔ وہ کہیں اپنی ہی رنگ رلیوں میں مصروف ہو گا۔ ایک دوسال بعد سوہنے کی موت کا غم کچھ ہلکا ہوا تو باپو کی باری آئی اور ایک دن وہ سونے کے لیے گئے تو پھر نہ اٹھے۔

    اس کے بعد بیکری کا کام میرے ذمے پڑ گیا۔ جب میں بہت مایوس ہوا تو پھر سندر کو ایک چٹھی لکھ ڈالی اور حسب معمول کوئی جواب نہ ملا۔ میں نے سوچا، سندر اس پار، عیش و عشرت میں مشغول یہاں کیوں آنے لگے گا۔ اچھا ہوا جو وہ ادھر چلا گیا۔ اور جب میں نے زیادہ گہری نظر سے جانچا، تو میرے دل نے کہا سوہنے نے بھی اچھا ہی کیا، جو سب دکھوں تکلیفوں سے نجات حاصل کر لی۔

    اور آخر ایک دن ہمیں ایک بوڑھا اپنی دکان کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس کے منھ پر سینکڑوں جھریاں تھیں۔ میں نے نہیںلیکن میرے لہو نے پہچان لیاکہ وہ سندر ہے۔ میں دوڑ کر اپنے بھائی سے لپٹ گیا۔ ہم سب بہت دیر تک روتے رہے۔ حتیٰ کہ مجھے اس کی ہیئت کو اچھی طرح سے دیکھنے کا موقع ملا۔ آخر ان تاثرات کی بنا پر جو کہ میرے ذہن میں اچھی طرح منقش تھے، میں نے سندر کو بناتے ہوئے کہا۔ ’’واہ رے، میرے نائب تحصیلدار!۔۔۔‘‘

    سندر مسکرا دیا۔

    میں نے پھر تنگ کرنے کی غرض سے پوچھا ’’اور وہ تمھاری میم کہاں ہے؟ یہ پوٹلی اسی نے دی ہو گی تمھیں؟‘‘

    اس وقت سندر کو ہلکی سی کھانسی آئی اور اس نے تنور کے قریب ہی تھوک دیا۔ مجھے اس کے تھوک میں ایک سرخ دھبہ سا دکھائی دیا۔۔۔

    میں دم بخود کھڑا سوچنے لگا۔ کیا دوسرے کنارے پر یہی کچھ ہے۔یہی جھریاں، یہی مریل سی ہلکی ہلکی کھانسی جس میں خون کا دھبہ ہو ۔۔۔ اور وہ سوہنا کس امید پر مر گیا، کیوں؟ کس لیے؟ کس کنارے کی تلاش میں؟

    اور ایک دن کھاڑی کے کنارے کھڑے ہو کر میں نے سندر سے کہا۔

    ’’سندر تم نے دیکھا ہے، وہ پانی کی لکیر کتنی آب و تاب سے چمکتی ہے۔‘‘

    سندر کھانسنے لگا۔ وہ ایک جگہ دم لینے کے لیے ٹھہر گیا اور بولا۔‘‘ اس پانی کا بھول کر بھی خیال نہ کرنا رجو! وہ جو تمھیں چمکتا ہوا پانی دکھائی دیتا ہے وہ ریت کے چمکتے ہوئے لاکھوں ذرے ہیں اور اگر یہ نیلی نیلی خوبصورت کھاڑی سوکھ بھی جائے تو وہ پانی نہیں سوکھے گا اور ابد الآباد تک چمکتا چلا جائے گا۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites