جانور

صدیق عالم

جانور

صدیق عالم

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    یہ نسائی ڈسکورس اور انسان کے رد تشکیل کی کہانی ہے۔ وہ شہر کے قدیم علاقے میں ایک پرانی عمارت کےتین کمروں والے ایک فلیٹ میں اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ بچہ جوان تھا اور اب بیس برس کا ہو چکا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی جسمانی عمر بیس برس سہی، ذہنی طور پر وہ ابھی صرف دو سال کا بچہ ہے۔ ایک دن بازار میں سڑک پر ٹیکسی کا انتظار کر تے ہوئے جانوروں سے بھری ایک وین اس کے سامنے آ کر رکی۔ اس وین کے مالک نے ایک عجیب و غریب جانور اسے دیا جو بہت سارے جانوروں کا مرکب تھا۔ وہ جانور اس شرط پر اپنے بچے کے لئے لے لیتی ہے کہ اگر پسند نہ آئے تو وہ اسے واپس لوٹا دے گی۔ جانور کو گھر لاتے ہی اچانک اس گھر کے لوگوں میں عجیب سی تبدیلیاں دکھائی دینے لگیں، یہاں تک کہ اس عورت کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ آخر جانور کون ہے، وہ عجیب چوپایہ یا خود وہ لوگ؟

    میرا بچہ صرف دو برس کا تھا جب میں اس کے لئے مرغی کے دو چوزے خرید کر لائی۔ مشین کے یہ دونوں بچے بہت بدنصیب ثابت ہوئے۔ پہلا تو اسی دن مر گیا۔ دوسرا اس واقعے کے سات دن بعد بالکنی کے جنگلے سے باہر نکل کر دیوار کے کارنس پر ٹہل رہا تھا جب ایک چیل اسے پنجے میں دبا کر لے گئی۔

    وہ تین برس کا تھا جب ایک دن اسے اسکول چھوڑ کر واپس لوٹتے وقت فٹ پاتھ کے ایک سوراخ کے اندر جو ایک پرانا لیمپ پوسٹ نکال دئے جانے کے سبب بن گیا تھا میں نے بلّی کے بچوں کی آواز سنی۔ میں نے جھانک کر دیکھا۔ اس کے اندر دو بلّی کے نو زائدہ بچے پڑے تھے اور اپنے منحنی سر اٹھائے ہوئے اپنی معصوم آنکھوں سے میری طرف تاک رہے تھے۔ ایک کو تو میں نے فٹ پاتھ پر اس کی ماں کی تلاش میں چھوڑ دیا، دوسرے کو گھر لے آئی۔ ایک ماہ کے اندر اندر وہ ٹھنڈ سے مر گئی۔

    میرا بچہ چار برس کا تھا جب میں نے اس کی سالگرہ کے دن تحفے میں اسے ایک خرگوش لا کر دیا جسے اس نے اپنے سینے سے لگا کر پیار سے دباتے دباتے بالکل چھوٹا کر ڈالا۔ ہم نے اسے الگ کرنے کی کوشش کی تو اس نے غصّے میں اسے فرش پر پٹک دیا اور وہ ایک بے جان لوتھڑے میں بدل گیا۔

    میرا بچہ آٹھ برس کا تھا جب اس کی ضد پوری کرنے کے لئے میں گیلِف اسٹریٹ سے ایک افغان ہاؤنڈ خریدکر لائی۔ مجھے علم نہ تھا کہ میں ٹھگ لی گئی تھی۔ کتّا پہلے سے بیمار تھا اور اس کی موت یقینی تھی۔ اسے کھانا کھلانے کی ہمارے تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور ایک دن وہ پلنگ کے نیچے ٹھنڈا پایا گیا۔

    وہ چودہ برس کا تھا جب میں اس کے لئے ایک طوطا خرید کر لائی۔ وہ ایک خاموش فطرت کا طوطا تھا جو صرف پنجڑے میں الٹا لٹکتا رہتا۔ ایک دن نوکرانی اس کی پیالیوں میں چنا اور پانی ڈالنے کے بعد پنجڑے کا دروازہ ٹھیک سے بند کرنا بھول گئی اور وہ باہر نکل کر سیڑھی گھر کی مصنوعی سِلنگ میں جا گھسا جہاں دو بڑے بھیانک چوہوں نے اپنا مسکن بنا رکھا تھا۔ انھوں نے فوراً اس کا شکار کر لیا۔ بعد میں مصنوعی سلِنگ کٹوانے پر دونوں چوہے بھاگ نکلے اور ہڈیوں کے ڈھیر کے بیچ جنھیں چوہے مہنیوں سے وہاں جمع کر رہے تھے ہمیں طوطے کے سبز پر، اس کی سالم سرخ چونچ اورپالش کی ہوئی تازہ سفید ہڈیاں ملیں۔

    میں نے سوچا اٹھارا سال ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ میرا بیٹا جو جانوروں کا اتنا شیدائی ہے اور گوشت مچھلی سے جسے کراہیت ہے، شاید جانوروں کے معاملے میں وہ بد نصیب ہے۔

    شہر کے قدیم علاقے میں ہم ایک پرانی عمارت کی برساتی میں رہتے ہیں۔ برساتی ان تین کمروں پر مشتمل ہے جس نے چھت کے آدھے حصے کو گھیر رکھا ہے۔ باقی کی چھت خالی پڑی ہے جو ہمارے ہی

    استعمال میں رہتی ہے۔ میرے بچے کے سر پر بال کم ہیں بلکہ اسے دائمی گنجا کہا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اب اس کی کھوپڑی پر بال نکلنے والے نہیں۔ وہ پیدائشی لب کٹا ہے اور اس کی ناک ہمیشہ بہتی رہتی ہے۔ ہم اسے پڑھنے کے لئے اسکول نہیں بھیجتے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی جسمانی عمربیس برس کی سہی، ذہنی طور پر وہ ابھی صرف دو سال کا بچہ ہے۔ میں رات رات بھر جاگ کر اس کی تیمار داری کیا کرتی ہوں اور وہ اپنی تیزآنکھیں مجھ پر ٹکائے رکھتا ہے۔

    ’’تمہیں کچھ چاہئے اشرف؟‘‘ میں اس سے پوچھتی ہوں۔

    ’’ماما پٹ، ماما پٹ۔‘‘ (Pet)

    ’’کیسا پٹ؟‘‘

    ’’گھوڑا، ہپّو، ایلی فنٹ۔‘‘ پھر تھوڑی دیر چپ رہ کر وہ کہتاہے، ’’ڈَک!‘‘

    ’’تم جانتے ہو اشرف، تمہارے سارے پٹ مر جاتے ہیں۔‘‘

    ’’ماما پٹ! ماما پٹ!‘‘ اس پر جیسے ہسٹریا کا دورا پڑ جاتا ہے۔ ’’گھوڑا، ہپّو، ایلی فنٹ‘‘

    ’’اور ڈک۔‘‘ میں اس کا جملہ مکمّل کرتی۔

    میں اسے پبلک پارک لے جاتی جو ہمارے گھر سے تھوڑی دور ایک مصنوعی جھیل کے کنارے واقع تھا۔ وہاں وہ اپنی ہی عمر کے بچّوں کے ساتھ کھیلا کرتا۔ میرا مطلب دو ڈھائی سال کے بچّوں سے ہے۔ بچے اس سے بہت جلد مانوس ہو جاتے کیونکہ وہ خود بھی ایک اچھا کھلونا تھا۔ وہ سر کے بل قلابازیاں کھا نے میں ماہر تھا، دونوں ٹانگوں کواوپر اٹھا کر اپنی ہتھیلیوں پر الٹاچلنے لگتا، قمیض اور بنیان اتار کر اپناپیٹ غبارے کی طرح پھلالیتا اوراپنی مٹھیوں سے ڈھول کی طرح بجاتا۔ وہ اپنے کٹے ہوئے ہونٹوں کے بیچ سے چوہوں جیسی آوازیں نکالتا جن سے چھوٹے چھوٹے بچے مسحور ہوکر اس کی طرف تاکتے رہتے۔ مگر مجھے بہت ہوشیار رہنا پڑتا کیونکہ ایک بار وہ ایک بچے کا گال چبا چکا تھا۔

    میں جب اس سے بہت خوش ہوتی تو اسے سینے سے لپٹا کر اس کے کٹے ہوئے ہونٹوں کے بیچ بوسہ دیا کرتی۔ دوسرے وقتوں میں میں اس سے لا پرواہ پارک کے بینچ پر بیٹھی پتّوں کوہوا کی زد پر لرزتے دیکھتی رہتی۔ میری جوانی کا ایک بڑا حصّہ اشرف پر صرف ہو چکا ہے۔ میں پھر بھی خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتی کہ مجھے کسی بات کا دکھ نہیں، کہ میں خوش ہوں۔

    نفیس ہر ماہ ایک نئے ڈاکٹر کی خبر لے کر آتا ہے۔ اتنے برسوں بعد بھی اس نے امید نہیں ہاری ہے۔ اسے میں نے کبھی روتے نہیں دیکھا جیسے ذرا سی کمزوری اور وہ یہ جنگ ہار جائگا۔ میرے لئے سب سے زیادہ صبر آزما وہ لمحات ہوتے جب اشرف بستر گیلا کر دیتا یا جب اتنا بڑا ہوتے ہوئے بھی وہ پلاسٹک کے کموڈ پر بیٹھنے پر اصرار کرتا اور بعد میں مجھے اس کی صفائی کرنی پڑتی۔ اس کے لئے میں کسی کو الزام نہیں دیتی۔ ہر نوکر نوکرانی کے کام کی ایک حد ہوتی ہے اور ایک جوان لڑکے کی پوٹی سے کسے کراہیت نہیں ہوتی۔ اشرف جسمانی طور پر بالغ ہو چکا ہے، اس کی داڑھی موچھیں نکل چکی ہیں پھر بھی یہ سب کام مجھے کرنے پڑتے ہیں۔ اکثر میں آئینہ کے سامنے کھڑی کھڑی ٹوٹ جاتی ہوں۔ مگر نفیس ہار نہیں مانتا۔ پردوں کا یہ تاجر اشرف پر اپنے لاکھوں روپئے خرچ کر چکا ہے مگر اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑتا۔ وہ اشرف کو اپنی گود میں بٹھا کر (جب کہ دونوں ایک ہی قد اور کاٹھی کے ہو چکے ہیں) اس کے گنجے سر پر کپڑے کی کیپ رکھ کرکہتا،

    ’’وہ ہم لوگوں کے لئے ایک نیک فال بن کر آیا ہے۔ جان، تمہیں نہیں پتہ، ہم نے جتنا اسے دیا ہے اشرف نے اس کے مقابلے کتنا گنا زیادہ لوٹایا ہے، اس نے ہمیں بڑے بڑے ہوٹلوں سے آرڈر دلوائے ہیں، وینیشین بلائنڈ(Venetian Blind)کی ایجنسی دلوائی ہے۔‘‘

    اس دن اشرف کو گھر پر نوکر کے ساتھ چھوڑ کر میں بازار آئی تھی۔ کل اشرف کی سالگرہ ہے۔ مجھے اس کے لئے کچھ پھول خریدنے ہیں۔ اشرف خزاں کی پیداوار ہے۔ خزاں کے موسم میں پھولوں کی قیمتیں آسمان کو چھو نے لگتی ہیں۔ مجھے کچھ خاص پھول چاہئیں جو خاص بھی ہوں اور ہماری آمدنی کے مطابق بھی۔ وہ پھول مجھے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ آخر کار مجھے دوسری طرح کے پھولوں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے جن سے مجھے اطمینان نہیں ہوتا مگر میرے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے میں اشرف کے ساتھ بے ایمانی کر رہی ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے پرس میں پیسہ نہیں ہے۔ مگرہر چیز کی اپنی قیمت ہوتی ہے۔ آپ پیڑ کی قیمت پرپھل نہیں خرید سکتے۔

    میں پھولوں کو تھامے ہوئے نیو مارکیٹ کے فلاؤر رینج سے نکل کرچورنگی کے فٹ پاتھ پر ٹیکسی کا انتظار کررہی ہوں۔ سامنے سڑک پر گاڑیاں دوڑ رہی ہیں۔ گاہے گاہے کوئی کار یا مسافر بردار ٹیکسی سگنل کی روشنی پررکتی ہے تو بچے بوڑھے پھول اسٹرا بیری اور پلاسٹک کے کھلونے اٹھائے ان کی کھڑکیوں کی طرف لپکتے ہیں مگر ان سے بچنے کے لئے ان گاڑیوں کے زیادہ تر شیشے چڑھے رہتے ہیں یا فوری طور پر چڑھا دئے جاتے ہیں۔ میرے سامنے سے ان گنت خالی ٹیکسیاں گذرجاتی ہیں مگر میرے ہاتھ دینے پر کوئی نہیں رکتی۔ اس شہر میں ایسا کبھی کبھار ہو جایا کرتا ہے جس کا کوئی جواز آپ کو دکھائی نہیں دیتا۔ میں بس کی سواری کے بارے میں سوچتی ہوں۔ مگر یہ پھول غیر منظم مسافروں کی بھیڑ میں کچل جائینگے اور پھر بس سے اتر کر مجھے اچھا خاصا سفر رکشا پر بھی طئے کرنا پڑے گا جو لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر کرایہ آسمان تک اونچا اٹھادیتے ہیں۔ میں تھک کر ایک کھمبے سے ٹیک لگا ئے اس ٹیکسی کا انتظار کرتی ہوں جو میری قسمت میں لکھی ہو جب کوڑھ کا مارا ایک بھکاری میرے سامنے اپنی سڑی گلی انگلیاں پھیلا دیتا ہے۔ یہ زائل شدہ انگلیاں اس کی آمدنی کا خاص ذریعہ ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ سفید فام غیر ملکیوں میں دہشت پھیلاکر ان سے بھیک وصولنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ انگلیوں کے زخم مصنوعی ہیں۔ مگر ہمیشہ کی طرح مجھے ان انگلیوں سے کوئی کراہیت نہیں ہوتی۔ کیا یہ اشرف کے سبب ہے؟میں کھمبے سے الگ ہو کر چلنے لگتی ہوں اور تھوڑی دور جا کر ایک جگہ پھرسے فٹ پاتھ پر ٹھہرکر آسمان کی طرف تاکتی ہوں جس میں ایک نارنگی کے رنگ کا اشتہاری بیلون ڈول رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے سڑک بالکل سنسان ہو گئی ہے، اس پر کسی بھی رخ سے کوئی گاڑی نہیں آتی۔ اور جب کہ مجھے اپنی تنہا ئی کا ایک عجیب احساس کھارہا ہے جیسے یہ کائنات انسانوں سے خالی ہوگئی ہو، جانوروں سے بھری ایک دقیانوسی وین میرے سامنے آ کر رک جاتی ہے۔ وین کے سامنے کا دروازہ کھلتا ہے اور اس سے ایک شخص ایک جانور کی زنجیر تھامے برامد ہوتا ہے۔ یہ عجیب و غریب جانور فورااًمیری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتاہے۔ اس کا جسم بھیڑ کی طرح بالوں سے ڈھکا ہوا ہے، اس کی چونچ بطخ کی چونچ کی طرح کشادہ، دبیز اور کافی مضبوط ہے، پیر اور پنجوں کے ناخن کسی بھالو سے مشابہ ہیں، دم کتے کی طرح درانتی کی شکل میں اوپر کی طرف اٹھی ہوئی ہے، اور اس کی آنکھیں چوزوں کی آنکھوں کی مانند بیضوی، بے جان اور زرد ہیں جیسے وہ کسی بھی چیز کو نہ تاک رہی ہوں۔

    ’’عجیب جانور ہے یہ۔ لگتا ہے بہت سارے جانوروں کا مرکب ہے۔‘‘ میں حیرت سے اس کی طرف تاکتے ہوئے کہتی ہوں۔ ’’میں نے ایسا جانور آج تک نہیں دیکھا۔‘‘

    ’’اسے خریدنا چاہوگی بی بی؟‘‘ جانور کے مالک نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ ایک لانبے قد کا دبلا پتلا انسان ہے جس نے سفید سوٹ، سفید ہیٹ اور سفید رنگ کے نوکیلے جوتے پہن رکھے ہیں اور آنکھوں پردھوپ کا چشمہ چڑھا رکھا ہے۔ اس کے ہونٹ گہرے شیڈ کی لپ اسٹک سے چمک رہے ہیں اور اس کے رخساروں پر زنانی میک اپ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ’’وہ ایک خاص جانور ہے۔ ہم نے اسے انسانوں کے جنگل میں پکڑا ہے اور یقین کیجئے یہ آسان کام نہ تھا۔‘‘

    ’’ہمارے گھر میں پٹ نہیں رہتے۔ وہ مر جاتے ہیں۔‘‘

    ’’یہ پٹ نہیں، یہ ایک خالص جانور ہے، بہت ہی سخت جان۔‘‘ وہ اس کی پشت پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔ ’’یہ ہر طرح کے مصائب جھیل سکتا ہے، ہفتوں بھوکا رہ سکتا ہے۔ یہ اپنے پہلے مالک کے لئے جلتے ٹائر کے اندر سے کودنے کا کرتب کیا کرتا تھا گرچہ اس کرتب کو بار بار دکھانے کے چکر میں ایک بار اس کے بال بری طرح جھلس چکے ہیں اور اس واقعے کا اثر اس کے مزاج پر بھی پڑا ہے۔‘‘

    ’’نہیں نہیں، میں اس جانور کا کیا کرونگی۔‘‘ میں کہتی ہوں۔ ’’یہ عجیب جانور میرے بچے کو اور بھی کنفیوز کر ڈالے گا۔ وہ تو ابھی صرف تین برس کا ہے۔‘‘

    مجھے نہیں معلوم میں نے اس کی ذہنی عمر کیوں بتائی تھی!

    ’’مجھے افسوس ہے محترمہ۔‘‘ وہ تاسف سے ہاتھ ملتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’میں خود اسے بیچنا نہیں چاہتا مگر آپ کو دیکھ کر جانے کیوں مجھے لگا اس پر مجھ سے زیادہ آپ کا حق ہے۔‘‘

    ’’اس کی کیا قیمت رکھی ہے تم نے؟‘‘ میں بادل نا خواستہ پوچھ بیٹھتی ہوں۔ شایداشرف کے لئے یہ عجیب جانور ایک نیک فال ثابت ہو۔

    ’’قیمت کی بات کس کافر نے کی ہے بی بی؟‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’اور اگر قیمت پسند نہ آئے تو کچھ دنوں کے بعد آپ اسے لوٹا بھی سکتی ہیں۔‘‘

    اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کہوں وہ جانور کی زنجیر میرے ہاتھ میں تھما دیتا ہے جس کے ساتھ ہی سارے واقعات بالکل ہی ترتیب سے پیش آ تے ہیں۔ اس کی انگلی اٹھتی ہے، اور سنسان سڑک پر جیسے عالمِ غیب سے ایک خالی ٹیکسی نمودار ہوتی ہے۔

    ٹیکسی میرے سامنے آ کر رک گئی ہے۔ اس کا پچھلا دروازہ کھلتے ہی جانورکود کر اندر بیٹھ جاتا ہے جیسے اسے اس کے لئے خاص ٹریننگ دی گئی ہو، اور میں اس کی زنجیر سے کھنچ کر جانورکے بغل میں بیٹھنے پر مجبور ہوجاتی ہوں۔ ابھی میں نے اپنے حواس پر قابو بھی نہیں پایا ہے کہ میں دیکھتی ہوں جانور کا مالک کار کی کھلی ہوئی کھڑکی کے سامنے جھکا ہوا اس کے شیشے کو جو تھوڑا سا نکلا ہوا ہے اپنی مٹھیوں سے تھامے میری آنکھوں میں تاک رہاہے۔ مجھے یاد آتا ہے اور میں ایک کاغذ پر گھر کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر لکھ کراس کی طرف بڑھا دیتی ہوں جسے وہ جھجکتے ہوئے، جیسے اندر سے شرمسار ہو، اپنی لانبی پتلی انگلیوں کے بیچ تھام لیتا ہے۔

    ’’اس جانور سے بہت جلد آپ کا بچہ مانوس ہو جائگا۔‘‘ کھڑکی سے ہٹ کر وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ ’’اور مجھے یقین ہے ایک ہفتے کے بعد جب میں آپ کے دولت خانے پر حاضر ہونگاتو تب تک آ پ لوگ اس کے اتنے عادی ہو چکے ہوں گے کہ واپس لوٹانے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیں گے۔‘‘

    ہماری عمارت کے دروازے پر متجسس تماشائیوں کی بھیڑ لگ چکی ہے۔ آس پاس کی عمارتوں کے دریچوں سے عورتیں اور بچے جھانک رہے ہیں۔ ان کے اندر کتے بھونک رہے ہیں۔

    ’’عجیب جانور ہے یہ۔‘‘ کوئی بھیڑ میں کہتا ہے، ’’کون سا جانور ہے؟‘‘

    ’’یہ سب جانوروں کا مرکب ہے۔‘‘ میں کہتی ہوں۔ ’’انسان کی طرح۔‘‘

    دقیانوسی لفٹ کے اندر وہ فرمانبرداری کے ساتھ کھڑا ہے، یہاں تک کہ اپنی دم تک نہیں ہلاتا۔ لفٹ مین اپنے اسٹول پربیٹھا ہوا خوف کے عالم میں لفٹ کی دیوار سے بالکل چپک گیا ہے۔ لفٹ سے نکل کر ہمیں چھت پر جانے کے لئے آخری کچھ سیڑھیاں جو لکڑی کی بنی ہیں پیدل طئے کرنی پڑتی ہیں۔ مگر جب میں اپنے فلیٹ میں داخل ہوتی ہوں تو اشرف اسے دیکھ کر اپنے کمرے میں چھپ جاتا ہے۔ میں اس کی زنجیر بالکنی کے جنگلے سے باندھ دیتی ہوں اور تب مجھے یاد آتا ہے میں نے تو جانور کے مالک سے پوچھا ہی نہیں تھا کہ وہ کھاتا کیا ہے؟ میں ایک کٹورے میں پانی بھر کر اس کے سامنے رکھ دیتی ہوں اور نوکر کو چنا بھگونے کے لئے کہہ کر کچھ بسکٹ طشتری پر سجا کر اسے پیش کرتی ہوں۔ کچھ دیر بعد آ کر میں دیکھتی ہوں جانور نے اسی دوران پانی کے کٹورے کو ٹھوکر مار کر الٹ دیا ہے اوراپنے دونوں بھاری بھرکم پیر سامنے کی طرف پھیلائے ہوئے اپنی دم پربیٹھا ہے۔ تب پہلی بار مجھ پر کھلتا ہے کہ وہ ایک گندا جانور ہے اور اس کی جلد پر عجیب طرح کے بغیر آنکھوں والے سفید سفید کیڑے رینگ رہے ہیں جنھیں تنکے سے ہٹانے پر وہ بالوں کے اندر اس کی جلد سے اس طرح چپک جاتے ہیں جیسے اسی کا حصہ ہوں۔ وہ بسکٹ پر ایک لا یعنی نظر ڈالتا ہے اور اپنی چونچ آسمان کی طرف اٹھا کر عجیب کرکش آواز نکالنے لگتا ہے، پھر سامنے کے پنجوں سے پچی کاری کے فرش کو کھرچنا شروع کر دیتاہے۔ اس کا تیزابی پیشاب فرش کو گیلا کررہا ہے۔

    ’’بی بی مجھے تو اس سے ڈر لگتا ہے۔ یہ آپ نے کیا اٹھا لایا؟‘‘ مجھے اپنے پیچھے سے نوکرانی کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اس کی آنکھیں خوف سے امنڈی پڑ رہی ہیں۔

    ’’چپ رہو، اور دیکھو اشرف کیا کر رہا ہے؟‘‘

    ’’وہ منہ تکیہ میں چھپا کر بری طرح رو رہا ہے۔‘‘

    ’’تو اسے چپ کراؤ۔‘‘ میں بالکنی کی دیوار سے لگے اس عجیب الخلقت جانور کی طرف تاکتی رہتی ہوں جو دس منٹ پہلے کتنی خاموشی اور فرمانبرداری کے ساتھ میرے ساتھ چل رہا تھا۔ میں اس کا کیا کروں۔ میں نے سوچا، میرا شوہر گھر آنے پر اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھے گا۔ مگر اس معاملے میں بھی وہ ایک عجیب آدمی ثابت ہوتا ہے۔ گھر لوٹنے پر وہ پہلی نظر میں ہی اس پر عاشق ہو جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس دانشمند انسان سے تھوڑی سی چوک بھی ہو گئی ہے کیونکہ اس کے بالوں سے ڈھکے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہی جانور اپنے نوکیلے ناخنوں سے اس کی ہتھیلی کی پشت کو کھرچ ڈالتا ہے۔ میرا شوہر چینخ کر ہاتھ ہٹا لیتا ہے۔ اس کے زخم سے خون رس رہا ہے۔

    ’’وہ ایک خطرناک جانور ہے۔‘‘ میں کہتی ہوں۔

    ’’بالکل وحشی۔‘‘ بیسِن کے سامنے کھڑا وہ ایک روئی کے گالے پر ڈٹول انڈیل کر اپنا زخم دھو رہا ہے۔ اس کی جلد پر جانور کے کھرچنے کے نشان صاف نظر آ رہے ہیں۔ وہ انھیں بینڈ ایڈ سے ڈھک دیتا ہے اور واپس بالکنی پر آکر جانور کی پیٹھ کو اسی ہتھیلی سے سہلانے لگتا ہے۔

    ’’تمہیں ثابت کرنا ہے کہ تم ایک بہتر جانور ہو۔‘‘ وہ جانور سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔

    ’’یہی تو وہ ثابت کر نا چاہ رہا تھا۔‘‘ میں مسکرا کر کہتی ہوں۔

    دوپہر تک میرے شوہر کو بخار آ جاتا ہے، وہ سردی سے کانپنے لگتا ہے۔ میں ایک ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔ وہ جانور کے بارے میں سنتا ہے اور اسے انسانی حیرت اور ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتا ہے۔

    ’’ان کے خون کی جانچ ضروری ہے۔‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’فالحال بخار میں کمی آ گئی ہے۔ بہت بڑھ جائے تو SOSکے طور پریہ گولی منگوا کر رکھ لیجئے گا۔‘‘

    مگر وہ ایمرجنسی کی دوا ہمیں استعمال نہیں کرنی پڑتی کیونکہ نفیس کی طبیعت اچانک سنبھل جاتی ہے۔

    ’’میں اسے گھر سے باہر بھگا دیتی ہوں۔‘‘ شام کے وقت میں کہتی ہوں۔

    ’’نہیں۔ تھوڑا سا وہ ڈر گیا ہے، مگر میرا خیال ہے اشرف کو یہ جانور پسند آئگا۔ دونوں کی فطرت بہت حد تک ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔ شاید اشرف کے لئے ایسے ہی ایک پٹ کی ضرورت تھی۔ یہ تمہیں کہاں سے ملا؟‘‘

    گرچہ مجھے پتہ تھا نفیس نے شعوری طور پر یہ بات نہیں کہی تھی مگر جانے کیوں مجھے اس کی بات پسند نہیں آ ئی۔

    ’’وہ پٹ نہیں، ایک خالص جانور ہے۔ اسے میں نے ایک جانوروں کے ٹرینر سے خریدا ہے۔‘‘ میں کہتی ہوں۔ ’’اوراگر ہم اسے لوٹانا چاہیں تو اس نے ہمیں کچھ دنوں کا وقت دیا ہے۔‘‘

    ’’مجھے اس سے مل کر خوشی ہوگی۔ شاید اس جانور کے سلسلے میں ہم اس سے مزید جانکاری حاصل کرسکیں۔‘‘

    میں اشرف کے کمرے میں جا کر دیکھتی ہوں وہ تکیہ کے نیچے سر رکھ کر گہری نیند سو رہا ہے۔ تکیہ اس کے سر سے ہٹا کر میں اس کے پسینہ میں ڈوبے ہوئے بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک لوری گاتی ہوں جسے برسوں پہلے میں بھول چکی تھی، اور لوری ختم ہو جانے کے بعد دوبارا بھول جاتی ہوں۔

    اس رات گھر کا سکون زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔ سونے سے قبل گھر کی روشنیاں بجھتے ہی وہ جانور چینخنے لگتا ہے اور اپنی طوطے کی طرح کرکش آواز سے گھر سر پر اٹھا لیتا ہے۔

    ’’اسے تیرگی نہیں بھاتی۔‘‘ میرا شوہر بالکنی کا بلب جلا دیتا ہے جس کے ساتھ ہی جانور چپ ہو جاتا ہے۔ میں دیکھتی ہوں بالکنی سے ایک عجیب بدبو آ رہی ہے۔ چونکہ نوکرانی اس کے قریب جانے سے ڈرتی ہے مجھے ہی بالکنی کو صاف کرنی پڑتی ہے۔ اس کا پیشاب اور اس کی نجاست کسی انسان سے ملتی جلتی ہے جس کی مجھے عادت ہے۔ میں جب اپنے مخصوس برش اور گیلے کپڑے سے ہمیشہ کی طرح ناک پر کپڑا لپیٹ کر پیشہ ورانہ مہارت سے بالکنی صاف کرتی ہوں تو اس کا چہرا عجیب ڈھنگ سے میری طرف اٹھا ہوا ہے جیسے اس کی آنکھوں کے اندر سے میرا بچہ جھانک رہا ہو۔ اس کی چونچ کھلی ہوئی ہے جس کے کونے سے رطوبت فرش پر ٹپک رہی ہے۔ میں اس سے فاصلہ رکھتے ہوئے اپنا کام کرتی رہتی ہوں۔ بعد میں ہم اسے چھت میں ایک کھلی جگہ پر باندھ دیتے ہیں۔

    میں اس دن سے شدت کے ساتھ جانور کے مالک کا انتظار کرنے لگتی ہوں، مگر ایک ہفتہ گذر جانے کے بعد بھی وہ نمودار نہیں ہوتا اور اس کے بعد کئی ہفتے گذر جاتے ہیں اور ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اب ہم اس جانور کے ساتھ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ اسی درمیان نفیس کے ہات کا زخم ٹھیک ہو گیا ہے گرچہ کھرچنے کے نشان دائمی طور پر اس کی جلد پر رہ گئے ہیں۔

    ’’ہمیں اس کے لئے ایک پنجڑا بنانا چاہئے۔‘‘ ایک دن میرا شوہر کہتا ہے اور میں چونک پڑتی ہوں۔ پنجڑا؟ یہ بات اس کی فطرت سے مطابقت تونہیں رکھتی۔ ’’کون جانے اگر زنجیر اس کی گردن سے چھوٹ گئی تو وہ کسی کو بھی زخمی کر سکتا ہے۔‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا جواز پیش کیا۔

    ’’ہم اس طرح کے معاملات سے پہلے بھی گذر چکے ہیں نا؟‘‘ میں اس کا ڈھارس بندھانے کے لئے اشرف کا حوالہ دیتی ہوں جو اس جانور ہی کی طرح کبھی کبھار انتہا پسندی پر اتر آتا ہے۔ مگر مجھے اندر ہی اندر میرے شوہر کا مشورہ برا نہیں لگتا اور ہم ایک لوہار کے ذریعے چھت پر اس کے لئے ایک پنجڑا بنواتے ہیں۔ اب وہ پنجڑے کے اندر بیٹھا ہماری طرف تاکتا رہتا ہے۔ اس کے پنجڑے کو نجاست سے صاف رکھنے کے لئے ہر روز اسے پنجڑے سے باہر لانا پڑتا ہے اور یہ بہت ہی خطرناک لمحہ ہوتا ہے۔

    ’’جانور کی فطرت!‘‘ میرا شوہر کہتا ہے اور میں دیکھتی ہوں اس نے چمڑے کا ایک چابک خرید لایا ہے۔ پہلا چا بک پیٹھ پرپڑتے ہی جانور حیرت سے ہماری طرف تاکتا ہے جیسے اس کی اسے امید نہ تھی۔ وہ اپنی زنجیر توڑ کر نکلنا چاہتا ہے مگر پے در پے چابک پڑتے رہنے پر وہ بلبلا کرسپر ڈال دیتا ہے۔ بہت جلد میرا شوہر اس پر چابک مارنے میں اچھی خاصی مہارت حاصل کر لیتا ہے جیسے وہ اسی چابک کے ساتھ پیدا ہوا ہو۔ بلکہ اب تو اس نے اسے چابک مار مار کرپچھلے دونوں پیروں پرکھڑے ہوکر چلنا بھی سکھا دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے اسے اب اپنے اس کام میں لطف آنے لگا ہے کیونکہ اب بلا وجہ بھی اس نے اس پر چابک کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ شاید اس چابک کے سبب ہے کہ جانور اب ٹھیک سے کھانے پینے لگا ہے بلکہ اب کھانے پینے کی چیزوں میں وہ کوئی بھی تفریق نہیں کرتا۔ اس کے بالوں کے بیچ چابک کے نشانات صاف نظر آنے لگے ہیں۔ گاہے گاہے ہمیں اس کی مرحم پٹی بھی کرنی پڑتی ہے۔ مگر یہ عجیب واقعہ ہے کہ اس کے اندر جتنی وحشت کم ہوتی جا رہی ہے ہمارے بچے کے اندر اسی تناسب سے وہ بڑھنے لگی ہے۔ اسی دوران اس نے ٹی وی کو ڈھکیل کر نیچے گرا دیا ہے، بہت ساری کتابیں پھاڑ دی ہیں( گرچہ انھیں کھولے ہمیں عرصہ گذر چکا ہے)، تپائی کو سامانوں سمیت الٹ دیا ہے، اور اووین میں اپنا داہنا ہات ڈال کر اسے جلانے کی کوشش بھی کی ہے۔ میں اسے روکنے کے لئے اپنی انگلی پر اس کے دانتوں کے زخم کھا چکی ہوں۔ اس نے بستر کو پیشاب اور نجاست سے کچھ زیادہ ہی گندا کرنا شروع کر دیا ہے جیسے اس کے لاشعور میں اذیت کوشی کا کوئی جذبہ پل رہا ہو۔ مگرہمیشہ کی طرح میں اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اسے سنبھال لیتی ہوں۔

    ’’ماما پٹ، ماما پٹ۔‘‘ وہ چلّاتا رہتا ہے۔ آخر کار تھک کر ہم اسے اس عجیب الخلقت جانور کے پاس لے جاتے ہیں جس کی داہنی آنکھ چابک کی مار کھا کھا کر ٹیڑھی ہو گئی ہے۔ اس کا دل بہلانے کے لئے نفیس جانور کو پنجڑے سے نکال کر اس پر چابک برسانے لگتا ہے۔ ہمارا بچہ اسے چابک کھاتے دیکھ کر تالیاں بجانا شروع کر دیتا ہے اور ہم حیرانی سے دیکھتے ہیں کہ ان لمحوں میں وہ ایک بالکل نارمل انسان نظر آرہا ہے۔

    ’’پٹ ماما، پٹ، گھوڑا، ہپو، الیفنٹ۔۔۔‘‘ اشرف تالیاں بجاتے ہوئے چینخ رہا ہے۔

    ’’اور ڈک‘‘ میرا شوہر چابک سے جانور کی مقعد پر وار کرتا ہے۔ جانور کے بدن میں کپکپی دوڑ جاتی ہے۔ وہ پنجڑے کی تیلیوں کو پنجوں سے تھام کرپچھلے دونوں پیروں پر کھڑا ہے اور سماج کا ایک بہت ہی مظلوم انسان نظر آرہا ہے۔

    ’’منہ کھولو۔‘‘ میرا شوہر چابک اٹھا تا ہے۔ وہ اپنی چونچ کھول دیتا ہے جس کے اندر ہم گوشت کا ایک ٹکڑا ڈال دیتے ہیں۔ اسے وہ فورا نگل جاتا ہے۔ ان دنوں وہ بے چون وہ چرا سب کچھ نگلنے لگا ہے یہاں تک کہ ایک دن اشرف کے ہات سے وہ ایک ٹوتھ برش بھی کھا جاتا ہے۔ اس نے نجاست کے لئے ایک خاص وقت بھی مقرر کر لیا ہے اور رات کی تیرگی میں ہم اس کے منہ پر چمڑے کی ایک تھیلی کس دیتے ہیں جو اسی مقصد سے بنائی گئی ہے۔ اسے پہلے تو اس نے پنجڑے کی تیلیوں سے رگڑ رگڑ کر الگ کرنے کی کوشش کی تھی مگر پھرچابک کی مار کھا کھا کر اسے پہنے رہناقبول کر لیا تھا۔

    ’’اس رفتار سے وہ کچھ دن کے اندر بالکل تہذیب یافتہ ہو جائگا۔‘‘

    ’’ہم انسانوں کی طرح۔‘‘ میں مسکرا کر کہتی ہوں۔

    ’’بالکل، بلکہ انسانوں سے بھی زیادہ۔‘‘

    ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم نے اس جانور کو سدھا دیا ہے۔ اس جانور کے سبب ہمارا گھر ایک خاص گھر بن گیا ہے۔ پاس پڑوس کے لوگ اس جانور کو دیکھنا چاہتے ہیں، مگر ہم اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ہم تو اس قابل بھی ہو گئے ہیں کہ اسے ہماری ضرورت کے مطابق آواز نکالنے پر مجبور کریںیا یا کسی پالتو کتے کی طرح ’’ٹائگر سائلنس‘‘ کہہ کر یکلخت خاموش کر دیں۔ کل تک وہ جس کھانے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا آج اسے نفاست سے کھانا سیکھ گیا ہے۔ کاش، ہم سوچتے، اس کی طرح ہم اپنے بچے کو بھی ٹھیک کر پاتے جو پچھلے بیس برس میں ذرا بھی نہیں سدھرا۔ ایک دن ہم دیکھتے ہیں کہ جانور اور ہمارا بچہ ایک جیسی آوازیں نکال رہے ہیں۔

    ’’دونوں ایک دوسرے کو سمجھ پا رہے ہیں۔‘‘ میرا شوہر کہتا ہے مگر مجھے پتہ ہے وہ صرف جانور کی نقل کر رہا ہے۔ ایک باراشرف چابک اپنے باپ کے ہاتھ سے لے کر جانور کو مارنے لگتا ہے۔ زنجیر سے بندھا جانور اشرف کے طاقتور ہاتھوں سے چابک کی مار کھا کھا کر لہو لہان ہوجاتا ہے مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے تھک کر ہمارا بچہ اس رات گہری نیند سوجاتا ہے اور یہ ان چند نادر راتوں میں سے ایک ہے جب ہم دونوں بستر پر اپنی شہوانی بھوک بلا روک ٹوک کسی وحشی کی طرح مٹا پاتے ہیں۔

    ’’تم ان پچیس برسوں کے بعد بھی ایک حیرت انگیز عورت ہو۔‘‘ پسینے میں شرابور میرا شوہر میری گردن کو چومتے ہوئے کہتا ہے جہاں انزال کے وقت اس کے دانتوں کے کاٹنے کا نشان رہ گیا ہے۔ اپنی ٹانگوں کے بیچ کے گیلے پن کو محسوس کرتے ہوئے مجھے یاد آتا ہے کہ میں تو یہ بھول ہی چکی تھی کہ میں ایک عورت ہوں۔

    وہ خوبصورت رات گذر جاتی ہے مگر بہت ہی عجیب طور پر ہمارے اندر دبی ہوئی نفرت اور غصے کے سیفٹی والوو* کو بھی کھول دیتی ہے۔

    ’’اچھا ہوا کہ جانور کا مالک نہیں آیا۔‘‘ صبح ٹوتھ برش کرتے ہوئے میں نفیس سے کہتی ہوں۔ وہ گہری نیند سو کر اٹھا ہے اوردوسرے دنوں کے مقابلے بہت پر سکون نظر آ رہا ہے۔ ’’ہمیں شاید اسی جانور کی ضرورت تھی۔‘‘

    کیا یہ ہماری گفتگو کا نتیجہ تھا کہ دوسرے ہی دن جانور کا مالک آ دھمکتا ہے؟ وہ کافی خوش دکھائی دے رہا ہے۔ اس نے ایک نئی عینک لگا رکھی ہے جس کے کالے شیشوں پر بادل بنے ہوئے ہیں۔ ان بادلوں کے پیچھے اس کی آنکھیں کافی بڑی نظر آ رہی ہیں۔

    ’’ہم اس جانور کی قیمت دینے کے لئے تیار ہیں۔‘‘ میں نا خوشگوار ی سے کہتی ہوں۔ ہم اسے چائے کے لئے بھی نہیں پوچھتے۔ مگر وہ بہت ہی پر اسرار ڈھنگ سے مسکرارہا ہے۔

    ’’قیمت؟‘‘ وہ کہتا ہے اور اس کے لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں کے بیچ اس کے سفید دانت اس بری طرح چمک اٹھتے ہیں جیسے وہ نقلی ہوں۔ ’’قیمت کی بات آپ سے کس نے کی بی بی؟ میں تو اس سے زیادہ بہترآفر آپ کو دینے والا ہوں۔ وہ جسے Once in a lifetime آفر کہتے ہیں۔‘‘

    اور مجھے خاموش دیکھ کر وہ سامنے کی طرف جھک کر کہتا ہے۔

    ’’آپ کا بچہ!‘‘

    ’’شٹ اپ!‘‘ میں چینخ پڑتی ہوں۔ ’’کیا وہ کوئی جانور ہے جو میں تمہیں دونگی؟‘‘

    ’’یہ ہے نا حیرت انگیز، میں نے کہا صرف ’’آپ کا بچہ‘‘ اور آپ نے اسے معاضے کے طور پر سوچ لیا کیونکہ یہ آپ کے ذہن میں پہلے سے موجود تھا۔ ہاں میں یہی آفر دے رہا ہوں جسے آپ ٹھکرا بھی سکتی ہیں۔‘‘ اس کی خوش مزاجی میں ذرا سا بھی فرق نہیں آیا تھا بلکہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیاں بھی مسل رہا تھا جیسے اندر ہی اندر کسی بات پر نادم ہو۔ ’’میں جانتا ہوں آپ کا بچہ ایک انسان کا بچہ ہے مگر آپ کو یقیناًاس بات کا پتہ ہوگا کہ وہ اصل میں کیا ہے؟ آپ نے دیکھا ہوگا میرے جانور کو کتنی آسانی سے آپ نے بدل ڈالا ہے۔ مگر کیا اپنے بچے کو پچھلے بیس برس کی کوشش کے بعد بھی آپ بدل پائے؟ کیوں؟ کیونکہ آپ دونوں انسانی جذبات کے ہاتھوں مجبور تھے جومجبوری میرے جانور کے ساتھ آپ کو کبھی پیش نہیں آئی۔ اسی لئے میں یہ آفر آپ کو دے رہا ہوں۔ میں ایک مہینے کے بعد پھر آؤں گا اپنا جانور لینے، اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کون سا جانور دینا چاہیں گی۔‘‘

    وہ تیزی سے ہمارے ڈرائنگ روم سے نکل جاتا ہے۔ میں چھت کی چہار دیواری سے سر نکال کر دیکھتی ہوں وہ اسی وین میں جا کر بیٹھ رہا ہے جس میں طرح طرح کے جانور نما انسان اور انسان نما جانور بیٹھے ہوئے ہیں۔ وین کے گرد متجسس لوگوں کا ہجوم کھڑا ہے۔ اس دن میرے شوہر کے لوٹنے پر میں اس کے سینے سے لپٹ کر سسک سسک کر رونے لگتی ہوں۔

    ’’ہم اسے اس کا جانور واپس کر دیں گے۔‘‘ میرا شوہر میرے سر پر دلاسے کا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا ہے پھر وہ ڈاکٹر لانے چلا جاتا ہے کیونکہ اشرف نے اپنا جلا ہوا ہات پھر سے زخمی کر لیا ہے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ ایک آہ بھر کر اشرف کی طرف تاکتا ہے۔

    ’’بیس سال؟‘‘ وہ کہتا ہے۔ ہمیں پتہ ہے ہم دونوں ایک ہی چیز سوچ رہے ہیں، بیس سال، اشرف بیس برس کا ہو چکا تھا اوراتنے برس نہ ہم کہیں گھومنے گئے نہ ہم نے دوستوں رشتہ داروں کی تقریبات میں ٹھیک سے حصہ لیا بلکہ ہم نے تو کبھی کسی کو مدعو کرنے کی جرائت بھی نہیں کی۔ دوسری طرف مجھے اپنی نوکری چھوڑنی پڑی تھی کیونکہ اشرف کے لئے ہر پل گھر میں کسی نہ کسی آدمی کا رہنا ضروری تھا۔ وہ کوئی جانور تو نہ تھا کہ ہم اسے پنجڑے میں ڈالتے، اس پر چابک برساتے، اس کے منہ پر کپڑا باندھتے۔ ایک بار شروع کی طرف ہماری غیر موجودگی میں ایک نوکر (جسے ہم نے اس واقعے کے بعد کام سے نکال دیا تھا) اسے رسی سے باندھ کر سو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ کئی دنوں تک توڑ پھوڑ پر اتر آیا تھا۔ یہی وقت تھا جب ہم اسے Homeبھی لے گئے جہاں اس طرح کے مریض رکھے جاتے تھے۔ مگر ایک ہفتے کے بعد جب ہم اس سے ملنے گئے تو اس کی حالت پہلے سے بھی ابتر ہو چکی تھی۔

    ’’میں نے سنا ہے اس طرح کے بچے زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہتے۔‘‘ ایک دن میرے شوہر نے کہا تھا اور اس کے بعد ہم نے اپنی ساری محبت اس پر مرکوز کر دی تھی۔ مگر بیس برس کا ایک لمبا عرصہ گذر گیا تھا اور بیس برس کا عرصہ اور بھی لمبا ہو جاتا ہے خاص طور پر جب جنگ اتنی شدید ہو۔ اور اسی درمیان اشرف دن بدن زیادہ تندرست زیادہ لحیم شحیم ہوتا چلا گیا۔ شاید اس طرح کے بچوں کے ساتھ قدرت دوسری طرح سے ہر کمی پوری کر دیتی ہے۔

    ’’قدرت کے پاس کوئی انصاف نہیں۔‘‘ میرے شوہر نے رات کے حصّے میں کہا جب کہ جانور کرکش آواز نکال رہا تھا کیونکہ ہم اس کا منہ باندھنا بھول گئے تھے۔ مگر اس وقت ہمارے اندر اتنی سکت نہ تھی کہ اتنی رات گئے جب کہ چھت کہرے میں ڈوبی ہوئی تھی پنجڑا کھول کر یہ کام انجام دیتے۔ ’’اتنے برس گذر گئے، ہم نے اشرف کی خاطر دوسرے بچے کے بارے میں بھی نہیں سوچا۔‘‘

    کیا ہم شکایت کر رہے تھے؟ تو کس سے؟

    دوسرے دن دھوپ بہت دیر سے نکلی۔ مگر اس کے نکلتے ہی نفیس نے جانور پر رات بھر کے چلانے کا غصّہ اس طرح نکالا کہ وہ پنجڑے کے باہر فرش پر ڈھیر ہو گیا۔ ہم نے اسکے منہ پر پانی مار مار کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ اشرف اسے دیکھ دیکھ کر تالیا ں بجا رہا تھا، اس کی بھاری دم کھینچ رہا تھا۔ اس نے اس کے اوپر بیٹھ کر اس کی طرح کرکش آواز نکالنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن آج ہمیں اسے دیکھ کر کوئی خوشی نہیں ہو رہی تھی۔ اور گرچہ جانور دھیرے دھیرے ہوش میں آگیا اور ہمارے اشارے کا انتظار کئے بغیر چپ چاپ پنجڑے کے اندر چلا گیا بعد میں اس کی مرحم پٹی کرتے وقت ہم اس کی آنکھوں سے گریز کررہے تھے جیسے وہ کوئی جانور نہیں انسان ہو۔ چھت کے کونے میں اس کی چونچ سے نچی نچائی مرحم پٹیوں کا پہاڑ سا بن گیا تھا جس سے ایک عجیب بدبو آنے لگی تھی۔ ہم نے اس کے لئے کسی ڈاکٹر سے گریز کیا تھا۔ ہمیں لگا تھا اس کا علاج ہم کر سکتے ہیں۔ اس دن کے واقعے کے بعد میں نے محسوس کیا میرے شوہر کا سلوک اس جانور کے ساتھ بدل گیا تھا، وہ نہ صرف اس کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آنے لگا تھا بلکہ اسی تناسب سے اس نے اب اشرف کی طرف سرد مہری کا رویہ اختیار کر لیا تھا۔

    ’’تم اشرف سے نفرت کرنے لگے ہو۔‘‘ ایک دن میں نے اس سے شکایت کی۔

    ’’جھوٹ ہے یہ۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’میں اشرف سے جتنا پیار کرتا ہوں اس کا تم اندازہ نہیں لگا سکتی۔ مگر اس جانور کے اندر کی تبدیلی حیرت انگیز ہے۔ ہے نا؟‘‘

    مجھے پتہ تھا وہ جھوٹ کہہ رہا ہے، مگر میرے پاس اشرف کے دفاع کے لئے کوئی اسباب نہ تھے۔ پچھلے بیس برس کی تھکن نے مجھے بھی آ لیا تھا۔ اشرف کی نجاست سے اب مجھے بو آنے لگی تھی۔ اس کے تھوکے ہوئے کھانے میرے بدن میں کپکپاہٹ پیدا کرنے لگے تھے۔ اب نیند کے عالم میں اس کے بال اور ناخن کاٹنا، اس کی شیونگ کرنامجھے اچھا نہ لگتا تھا، کپڑا پہناتے وقت اس کے ننگے پن سے میں گھبرانے لگی تھی کیونکہ(شاید میرے ہاتھوں کے لمس سے) اب وجہ بے وجہ اسے Erectionبھی ہونے لگا تھا۔

    ’’ہم لوگ دنیا کے سب سے دکھی انسان ہیں۔‘‘ ایک دن میں نے اپنے شوہر کے سینے پر سر رکھ کر کہا۔ میرے گرم آنسو اس کی پسلیوں پر اگے بالوں کے اندر جذب ہو رہے تھے۔ ’’کیا ہمیں اور دوسرے لوگوں کی طرح خوش رہنے کا حق نہیں؟‘‘

    ’’بیس سال بعد یقیناًہم اتنا تو سوچ سکتے ہیں۔‘‘ اس نے جملہ ابھی پورا نہیں کیا تھا کہ ہمیں اشرف کی چینخ سنائی دی اور ہم دونوں اس کے کمرے کی طرف بھاگے۔ اندر ہم نے جو منظر دیکھا اس نے ہمیں کراہیت سے بھر دیا۔ اشرف پتلون گھٹنوں کے نیچے سرکائے کھڑا تھا اور مشت زنی میں مصروف تھا۔ تلذذکی انتہا پرپہنچ کر اس کی آنکھیں جل رہی تھیں، اس کے حلق سے چینخنے اور غرانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ یکایک اس نے ایک زور کی چینخ ماری اور اس کے بدن پتلون اور بستر پر مادہ منویہ کی برسات سی ہو گئی۔

    ’’میں اسے صاف نہیں کر سکتی۔‘‘ میں نے چینخ مار کر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے دبائے ہوئے باہر بھاگتے ہوئے کہا۔ ’’آخر میں ایک عورت ہوں۔ میں ایک عورت ہوں۔‘‘

    وہ اتوار کے دن نمودار ہواتھا، تاکہ، جیسا کہ اس نے ہمیں بتایا، ہم دونوں میاں بیوی گھر پر موجود رہیں۔

    ’’کہاں ہے میرا جانور؟‘‘ اس نے ایک ہات میں زنجیر اور دوسرے ہات میں چمڑے کا چابک تھام رکھا تھا۔ اس نے ہم دونوں کو سرے سے نظر انداز کر دیا تھا۔ ہم دونوں سر جھکائے بیٹھے رہے۔ وہ گھر کے اندر گیا اور ہمیں چابک کی آواز کے ساتھ ساتھ جانور کے چینخنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ پھر وہ شور فرد ہو گیا اور وہ آدمی نمودار ہوا۔ اشرف اس کے پیچھے تھا۔ اس کی کمر سے زنجیر بندھی تھی اور اشرف دھندلی آنکھوں سے اس آدمی کی طرف تاک رہا تھا جیسے اسے ہم لوگوں سے کوئی مطلب نہ ہو۔

    ’’یہ سودا مہنگا نہیں بی بی۔‘‘ اس آدمی نے ہم دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ وہ پسینے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ’’میں جو جانور لے جا رہا ہوں اس سے ہمارا کوئی جذباتی تعلق نہیں جس طرح جو جانور میں۔

    چھوڑے جا رہا ہوں اس سے آپ لوگوں کا کوئی جذباتی رشتہ نہیں۔ آ پ دیکھ سکتے ہیں سودا واقعی برا نہیں۔ آپ کو اچھی طرح پتہ ہے یہ انتظام سب سے بہتر ہے بلکہ اس انتظام کے تحت زندگی زیادہ بہتر طریقے سے گذاری جا سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی دن اگر اس جانور سے جسے میں چھوڑے جا رہا ہوں اکتا جائیں تو کسی جانور کے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر مہلک انجکشن کے ذریعے اسے ایک ابدی نیند سلا سکتے ہیں جس کی قانون کی طرف سے اجازت ہے، اور وہ اجازت نامہ بہت جلد بذریعہ ڈاک میں آپ کو بھجوا دوں گا یا اگر آپ بہت ہی کمزور ثابت ہوئے تو کسی بھی سڑک پر یا کسی پبلک پارک کے اندر اسے چھوڑ کر پیچھا چھڑاسکتے ہیں۔ اس طرح کے جانوروں کی ہمارے سماج کو ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔‘‘

    ہم چھت پر کھڑے انھیں نیچے سڑک سے گذرتے دیکھتے رہے۔ اشرف اس کے پیچھے پیچھے اپنی کمر سے بندھی زنجیرکو دونوں ہاتھوں سے تھامے، سر جھکائے وفاداری سے ننگے پاؤں چل رہا تھا۔ سڑک کے بیچوں بیچ ایک پل کے لئے وہ رک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا مگرپیٹھ پر چابک کی مار پڑتے ہی دوڑتا ہوا گاڑی تک گیا جس کا پیچھلا دروازہ ایک عجیب و غریب ہاتھ نے نمودار ہو کر کھول دیا۔

    اس وین کے اندر ہمیشہ کی طرح بہت سارے انسان نما جانور اور جانور نما انسان بیٹھے ہوئے تھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY