مسز گل

MORE BYسعادت حسن منٹو

    کہانی کی کہانی

    ایک ایسی عورت کی زندگی پر مبنی کہانی ہے جسے لوگوں کو تل تل کر مارنے میں لطف آتا ہے۔ مسز گل ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ اس کی تین شادیاں ہو چکی تھیں اور اب وہ چوتھی کی تیاریاں کر رہی تھی۔ اس کا ہونے والا شوہر ایک نوجوان تھا۔ لیکن اب وہ دن بہ دن پیلا پڑتا جا رہا تھا۔ اس کے یہاں کی نوکرانی بھی تھوڑا تھوڑا کرکے گھلتی جا رہی تھی۔ ان دونوں کے مرض سے جب پردہ اٹھا تو پتہ چلا کہ مسز گل انہیں ایک جان لیوا نشیلی دوا تھوڑا تھوڑا کرکے روز پلا رہی تھیں۔

    میں نے جب اس عورت کو پہلی مرتبہ دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے لیموں نچوڑ نے والا کھٹکا دیکھا ہے۔ بہت دبلی پتلی لیکن بلا کی تیز۔ اس کا سارا جسم سوائے آنکھوں کے انتہائی غیر نسوانی تھا۔

    یہ آنکھیں بڑی بڑی اور سرمئی تھیں جن میں شرارت، دغا بازی اور فریب کاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میری اس کی ملاقات اونچی سوسائٹی کی ایک خاتون کے گھر میں ہوئی جو پچپن برس کی عمر میں ایک جواں سال مرد سے شادی کے مرحلے طے کر رہی تھی۔

    اس خاتون سے جس کو میں اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر مسز گل کہوں گا، میرے بڑے بے تکلف مراسم تھے۔ مجھے ان کی ساری خامیوں کا علم تھا اور انھیں میری چند کا۔ بہر حال ہم دونوں ایک دوسرے سے ملتے اور گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔ مجھ سے انھیں صرف اتنی دلچسپی تھی کہ انھیں افسانے پڑھنے کا شوق تھا اور میرے لکھے ہوئے افسانے ان کو خاص طور پر پسند آتے تھے۔

    میں نے جب اس عورت کو جو صرف اپنی آنکھوں کی وجہ سے عورت کہلائے جانے کی مستحق تھی، مسز گل کے فلیٹ میں دیکھا تو مجھے یہ ڈر محسوس ہوا کہ وہ میری زندگی کا سارا رس ایک دو باتوں ہی میں نچوڑ لے گی لیکن تھوڑے عرصے کے بعد یہ خوف دور ہو گیا اور میں نے اس سے باتیں شروع کر دیں۔

    مسز گل کے متعلق میرے جو خیالات پہلے تھے ،سو اب بھی ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ تین شادیاں کرنے کے بعد چوتھی شادی ضرور کریں گی۔ اس کے بعد شاید پانچویں بھی کریں اگر عمر نے ان سے وفا کی۔ مگر مجھے اس عورت کا جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ان سے کوئی رشتہ سمجھ میں نہ آسکا۔

    میں اب اس عورت کا نام بھی آپ کو بتا دوں۔ مسز گل نے اسے رضیہ کہہ کر پکارا تھا۔ اس کا لباس عام نوکرانیوں کا سا نہیں تھا لیکن مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مسز گل کے مزارعوں کی کوئی بہو بیٹی ہے جو ان کی خدمت کے لیے کبھی کبھار آ جایا کرتی ہے۔ یہ خدمت کیا تھی، اس کے متعلق مجھے پہلے کوئی علم نہیں تھا۔

    رضیہ کی آمد سے پہلے مسز گل کے ہاں بارہ تیرہ برس کی ایک لڑکی جمیلہ رہتی تھی۔ ان دنوں انھوں نے ایک پروفیسر سے شادی کر رکھی تھی۔ یہ پروفیسر جوان تھا۔ کم از کم مسز گل سے عمر میں پچیس برس چھوٹا۔ وہ جمیلہ کو بٹیا کہتے تھے اور اس سے بڑا پیار کرتے تھے۔یہ لڑکی بڑی پیاری تھی۔ رضیہ کی طرح دبلی پتلی مگر اس کے جسم کا کوئی حصہ غیر نسوانی نہیں تھا۔ اس کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا کہ وہ بہت جلد۔۔معلوم نہیں اتنی جلد کیوں۔۔۔ جوان عورت میں تبدیل ہونے کی تیاریاں کررہی ہے۔

    پروفیسر صاحب اس کو اکثر اپنے پاس بلاتے اور دوسرے تیسرے کام پر انعام کے طور پر اس کی پیشانی چومتے اور شاباشیاں دیتے۔ مسز گل بہت خوش ہوتیں، اس لیے کہ یہ لڑکی ان کی پروردہ تھی۔

    میں بیمار ہوگیا۔ دو مہینے مری میں گزار کر جب واپس آیا تو معلوم ہوا کہ جمیلہ غائب ہے۔۔۔ شاید وہ مسز گل کی زمینوں پر واپس چلی گئی تھی لیکن دو برس کے بعد میں نے اسے ایک ہوٹل میں دیکھا جہاں وہ چند عیش پرستوں کے ساتھ شراب پی رہی تھی۔اس وقت اس کو دیکھ کر میں نے محسوس کیا کہ اس نے اپنی بلوغت (نیم بلوغت کہنا زیادہ بہتر ہوگا) کا زمانہ بڑی افرا تفری میں طے کیا ہے، جیسے کسی مہاجر نے فسادات کے دوران میں ہندوستان سے پاکستان کا سفر۔میں نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ اس لیے کہ جن کے ساتھ وہ بیٹھی تھی، میری جان پہچان کے نہیں تھے۔ نہ میں نے اس کا ذکر مسز گل سے کیا کیونکہ وہ جمیلہ کی اس حیرت ناک افتاد پر کوئی روشنی نہ ڈالتی۔

    بات رضیہ کی ہو رہی تھی لیکن جمیلہ کا ذکر ضمناً آگیا۔۔۔ شاید اس لیے کہ اس کے بغیر مسز گل کے کردار کا عقبی منظر پورا نہ ہوتا۔

    رضیہ سے جب میں نے باتیں شروع کیں تو اس کا لب و لہجہ، اس کی آنکھوں کے مانند تیز فریب کار اور بے سبب رنج آشنا دشمن تھا۔ مجھے بالکل کوفت نہ ہوئی اس لیے کہ ہر نئی چیز میرے لیے دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ عام طور پر میں کسی عورت سے بھی خواہ وہ کمترین تر ہو، بے تکلف نہیں ہوتا۔ لیکن رضیہ کی آنکھوں نے مجھے مجبو کر دیا کہ میں بھی اس سے چند شریر باتیں کہوں۔

    خدا معلوم میں نے اس سے کیا بات کہی کہ اس نے مجھے سے پوچھا، ’’آپ کون ہیں؟‘‘

    میں نے، جوکہ شرارت پر تلابیٹھا تھا، مسز گل کی موجودگی میں کہا، ’’آپ کا ہونے والا شوہر۔‘‘

    وہ ایک لحظے کے لیے بھنا گئی مگر فوراً سنبھل کر مجھ سے مخاطب ہوئی، ’’میرا کوئی شوہر اب تک زندہ نہیں رہا۔‘‘

    میں نے کہا، ’’کوئی ہرج نہیں۔۔۔ خاکسار کافی عرصے تک زندہ رہنے کا وعدہ کرتا ہے بشرطیکہ آپ کو کوئی عذر نہ ہو۔‘‘

    مسز گل نے یہ چوٹیں پسند کیں اور ایک جھریوں والا قہقہ بلند کیا، ’’سعادت تم کیسی باتیں کرتے ہو؟‘‘

    میں نے جواباً مسز گل سے کہا،’’مجھے آپ کی یہ خادمہ بھاگئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا قیمہ بنا کے کوفتے بناؤں جن میں کالی مرچ دھنیا اور پودینہ خوب رچا ہو۔‘‘

    میری بات کاٹ دی گئی۔ رضیہ اچک کر بولی،’’جناب!میں خود بڑی تیز مرچ ہوں۔۔۔ یہ کوفتے آپ کو ہضم نہیں ہوں گے۔ فساد مچادیں گے آپ کے معدے کے اندر۔‘‘

    مسزگل نے ایک اور جھریوں والا قہقہہ بلند کیا، ’’سعادت ،تم بڑے شریر ہو، لیکن یہ رضیہ بھی کسی طرح تم سے کم نہیں۔‘‘

    مجھے چونکہ رضیہ کی بات کا جواب دینا تھا ،اس لیے میں نے مسز گل کے اس جملے کی طرف توجہ نہ دی اور کہا، ’’رضیہ! میرا معدہ تم جیسی مرچوں کا بہت دیر کا عادی ہے۔‘‘

    یہ سن کر رضیہ خاموش ہوگئی۔ معلوم نہیں کیوں؟ اس نے مجھے دھوئی ہوئی مگر سرمگیں آنکھوں سے کچھ ایسے دیکھا کہ ایک لحظے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری ساری زندگی دھوبنوں کے ہاں چلی گئی ہے۔

    معلوم نہیں کیوں، لیکن اس کو پہلی مرتبہ دیکھتے ہی میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی کہ میں اسے سڑکیں کوٹنے والا انجن بن کر ایسا دباؤں کہ چکنا چور ہو جائے ۔۔۔بلکہ اس کا سفوف بن جائے۔ یا میں اس کے سارے وجود کو اس طرح توڑوں مروڑوں اور پھر اس بھونڈے طریقوں سے جوڑوں کہ وہ کسی قدر نسوانیت اختیار کر لے ،مگر یہ خواہش صرف اس وقت پیدا ہوتی جب میں اسے دیکھتا اس کے بعد یہ غائب ہو جاتی۔انسان کی خواہشات بالکل بلبلوں کے مانند ہوتی ہیں جو معلوم نہیں کیوں پیدا ہوتے ہیں اورکیوں پھٹ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔مجھے رضیہ پر ترس بھی آتا تھا۔ اس لیے کہ اس کی آنکھیں جوالا دہکتی رہتی تھی اور اس کے مقابلے میں اس کا جسم آتش فشاں پہاڑ نہیں تھا۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔ مگر ان ہڈیوں کو چبانے کے لیے کتوں کے دانتوں کی ضرورت تھی۔

    ایک دن اس سے میری ملاقات مسز گل کے فلیٹ کے باہر ہوئی جب کہ میں اندر جارہا تھا۔ وہ ہمارے محلے کی جوان بھنگن کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی تھی۔ میں جب وہاں سے گزرنے لگا تو شرارت کے طور پر میں نے اس کی شریر آنکھوں میں اپنی آنکھیں (معلوم نہیں میری آنکھیں کس قسم کی ہیں ) ڈال کر بڑے عاشقانہ انداز میں پوچھا، ’’کہو بادشاؤ کیا ہو رہا ہے؟‘‘

    بھنگن کی گود میں اس کا پلوٹھی کا لڑکا تھا۔ اس کی طرف دیکھ کر رضیہ نے مجھ سے کہا، ’’کوئی چیز کھانے کے لیے مانگتا ہے؟‘‘

    میں نے اس سے کہا، ’’چند بوٹیاں تمہارے جسم پر ابھی تک موجود ہیں۔۔۔ دے دو اسے۔‘‘

    میں نے پہلی بار اس کے دھوئے دیدوں میں عجیب و غریب قسم کی جھلک دیکھی جسے میں سمجھ نہ سکا۔

    مسز گل کے ہاں ان دنوں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں، ایک نئے نوجوان کی آمد و رفت تھی اس لیے کہ وہ پروفیسر سے طلاق لے چکی تھیں۔ یہ صاحب ریلوے میں ملازم تھے اور ان کا نام شفیق اللہ تھا۔ آپ کو دمے کی شکایت تھی اور مسز گل ہر وقت ان کے علاج و معالجے میں مصروف رہتیں۔ کبھی ان کو ٹکیاں دیتیں۔ کبھی انجکشن لگوانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے جاتیں۔ کبھی ان کے گلے میں دوائی لگائی جاتی۔

    جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ اس عارضے میں گرفتار نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس کو کبھی نزلہ زکام ہوا ہو یا شاید کھانسی بھی آئی ہولیکن یہ مسز گل کا کمال تھا کہ اس غریب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس کو دمے کا عارضہ ہے۔

    ایک دن میں نے اس سے کہا، ’’حضرت ، آپ کو یہ مرض تو بہت اچھا لگا۔۔۔ اس لیے کہ یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ کبھی مر نہیں سکتے۔‘‘

    یہ سن کر وہ حیران ہوگیا، ’’آپ کیسے کہتے ہیں کہ یہ مرض اچھا ہے؟‘‘

    میں نے جواب دیا، ’’ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کے دمے کا مریض مرنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔۔۔ میں نہیں بتا سکتا کیوں۔۔۔ آپ ڈاکٹروں سے مشورہ کرسکتے ہیں۔‘‘رضیہ موجود تھی، اس نے شریر کنکھیوں سے مجھے بہت گھور کے دیکھا۔ پھر اس کی نگاہیں اپنی مالکہ مسز گل کی طرف مڑیں اور اس سے کچھ بھی نہ کہہ سکیں۔

    شفیق اللہ نرا کھرا چغد بنا بیٹھا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ زخمی آنکھوں سے رضیہ کی طرف دیکھا اور وہ کڑک مرغی کی طرح ایک طرف دبک کے بیٹھ گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ دبلی ہوگئی ہے، لیکن اس کی آنکھیں بڑی متحرک تھیں۔۔۔ ان میں سرمے کی قدرتی تحریر زیادہ گہری ہوگئی تھی۔ شفیق اللہ دن بہ دن زرد ہوتا گیا۔ اس کو دمے کے علاج کے لیے دوائیں برابر مل رہی تھیں۔ ایک دن میں نے مسز گل کے ہاتھ سے گولیوں کی بوتل لی اور ایک کیپسول نکال کر اپنے پاس رکھ لی۔ شام کو اپنے جاننے والے ایک ڈاکٹر کو دکھائی تو اس نے ایک گھنٹے کے بعد کیمیاوی تجزیہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ دوا دمے ومے کے لیے نہیں ہے بلکہ نشہ آور ہے یعنی مارفیا ہے۔

    میں نے دوسرے روز شفیق اللہ سے اس وقت جب کہ وہ مسز گل سے یہی کیپسول لے کر پانی کے ساتھ نگل رہا تھا تو میں نے اس سے کہا، ’’یہ آپ کیا کھاتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’دمے کی دوا ہے۔‘‘

    ’’یہ تو مارفیا ہے۔‘‘

    مسز گل کے ہاتھ سے، پانی کا گلاس جو اس نے شفیق اللہ کے ہاتھ سے واپس لیا تھا، گرتے گرتے بچا۔ بڑے جھریوں آمیز غصے سے انھوں نے میری طرف دیکھ کر کہا، ’’کیا کہہ رہے ہو سعادت!‘‘

    میں ان سے مخاطب نہ ہوا اور شفیق اللہ سے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’جناب ، یہ مارفیا ہے ۔۔۔آپ کو اگر اس کی عادت ہوگئی تو مصیبت پڑ جائے گی‘‘۔

    شفیق اللہ نے بڑی حیرت سے پوچھا، ’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا؟‘‘

    مسز گل کے تیوروں سے مجھے معلوم ہوا کہ وہ ناراض ہوگئی ہیں اور میری یہ گفتگو پسند نہیں کرتیں۔ رضیہ خاموش ایک کونے میں مسز گل کے لیے حقہ تیار کررہی تھی، لیکن اس کے کان ہماری گفتگو کے ساتھ چپکے ہوئے تھے، ایسے کان جو بڑی ناخوشگوار موسیقی سننے کے لیے مجبور ہوں۔

    مسز گل نے اس دوران میں بڑی تیزی سے چار الائچیاں دانتوں کے نیچے یکے بعد دیگر دبائیں اور انھیں بڑی بے رحمی سے چباتے ہوئے مجھ سے کہا، ’’سعادت، تم بعض اوقات بڑی بے ہودہ باتیں کر دیتے ہو۔۔۔ یہ کیپسول مارفیا کے کیسے ہوسکتے ہیں؟‘‘

    میں خاموش ہو رہا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ مارفیا کا انجکشن دیا جاتا ہے۔ میرے ڈاکٹر دوست کا تجزیہ غلط تھا۔ وہ کوئی اور دوا تھی لیکن تھی نشہ آور۔

    میں پھر بیمار ہوا اور راولپنڈی کے ہسپتال میں داخل ہوگیا۔ جب مجھے ذرا افاقہ ہوا تو میں نے ادھر ادھر گھومنا شروع کیا۔ ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ ایک آدمی شفیق اللہ کی حالت بہت نازک ہے۔ میں اس کے وارڈ میں پہنچا مگر یہ وہ شفیق اللہ نہیں تھاجسے میں جانتا تھا۔ اس نے دھتورا کھایا ہوا تھا۔

    چند روز کے بعد اتفاقاً مجھے ایک اور وارڈ میں جانا پڑا جہاں میرا ایک دوست یرقان میں مبتلا تھا۔ میں جب اس وارڈ میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک بستر کے ارد گرد کئی ڈاکٹر جمع ہیں۔ قریب گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ قریب المرگ مریض شفیق اللہ ہے۔

    اس نے مجھے اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور بڑی نحیف آواز میں کہا، ’’سعادت صاحب ! ذرا میرے پاس آئیے۔۔۔ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘ میں نے اپنے قریب قریب بہرے کان اس کی آواز سننے کے لیے تیار کر دیے۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا، ’’میں۔۔۔ میں مر رہا ہوں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہر۔۔۔ ہر ایک کو خبر دار کردیجیے کہ وہ مسز گل سے بچا رہے۔۔۔ بڑی خطرناک عورت ہے۔‘‘

    اس کے بعد وہ چند لمحات کے لیے خاموش ہوگیا۔ ڈاکٹر نہیں چاہتے تھے کہ وہ کوئی بات کرے لیکن وہ معمر تھا چنانچہ اس نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے، ’’رضیہ مرگئی ہے۔۔۔ بے چاری رضیہ۔۔۔ اس غریب کے سپرد یہی کام تھا کہ وہ آہستہ آہستہ مرے۔۔۔ مسز۔۔۔ مسزگل، اس سے وہی کام لیتی تھی جو آدمی کوئلوں سے لیتا ہے۔۔۔ مگر وہ ان کی آگ سے دوسروں کو گرمی پہنچاتی تھی تاکہ۔۔۔‘‘

    وہ اپنا جملہ مکمل نہ کرسکا۔

    مأخذ :
    • کتاب : باقیات منٹو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے