بانکپن شاعری

عاشق کا بانکپن نہ گیا بعد مرگ بھی

تختے پہ غسل کے جو لٹایا اکڑ گیا

امیر مینائی

کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

فیض احمد فیض

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ

اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

مجروح سلطانپوری

بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے

تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا

فہیم شناس کاظمی

ہماری گفتگو سب سے جدا ہے

ہمارے سب سخن ہیں بانکپن کے

شیخ ظہور الدین حاتم

کبھی نہ حسن و محبت میں بن سکی واحدؔ

وہ اپنے ناز میں ہم اپنے بانکپن میں رہے

واحد پریمی

سینہ فگار چاک گریباں کفن بہ دوش

آئے ہیں تیری بزم میں اس بانکپن سے ہم

سہیل عظیم آبادی

متعلقہ موضوعات