رہبر پر شاعری

سفر میں رہبر کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے ۔ قافلے کے لٹنے کے پیچھے رہبر کی دغابازیاں تصور کی گئی ہیں ۔ شاعروں نے اس مضمون کو ایک وسیع تر استعاراتی سطح پر برتا ہے اور نئے نئے پہلو تلاش کئے ہیں ۔ یہ شاعری نئی حیرتوں کے ساتھ نئے حوصلے پیدا کرتی ہے ۔ ایک انتخاب حاضر ہے ۔

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

علامہ اقبال

مجھے اے رہنما اب چھوڑ تنہا

میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں

حیرت گونڈوی

دل کی راہیں جدا ہیں دنیا سے

کوئی بھی راہبر نہیں ہوتا

فرحت کانپوری

متعلقہ موضوعات