جون ایلیا کو غصہ کیوں آتا ہے؟

جون اپنے اظہار کی تیزی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے جذبات شدید ہیں، اس قدر کہ الفاظ چیختے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں جون کو جاننے کے لیےایسے اشعار کا ایک مجموعہ دیا جا رہا ہے، جن کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔

کیا تکلف کریں یہ کہنے میں

جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

جون ایلیا

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں

آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

جون ایلیا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

جون ایلیا

اپنے سبھی گلے بجا پر ہے یہی کہ دل ربا

میرا ترا معاملہ عشق کے بس کا تھا نہیں

جون ایلیا

اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر

کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

جون ایلیا

کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختوں

کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو

جون ایلیا

مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے

نہ تیرے آنے سے مطلب نہ تیرے جانے سے

جون ایلیا

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

جون ایلیا

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں

فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

جون ایلیا

تجھ کو خبر نہیں کہ ترا کرب دیکھ کر

اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں

جون ایلیا

سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے

وہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گے

جون ایلیا

ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں

شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

جون ایلیا

مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا

کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے

جون ایلیا

دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی

بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے

جون ایلیا

میرے تیور بجھ گئے میری نگاہیں جل گئی

اب کوئی آئینہ رو آئینہ دار آیا تو کیا

جون ایلیا

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے