عشق میں میر صاحب

میر صاحب کو اردو کا خدائے سخن کہا جاتا ہے اور بجا کہا جاتا ہے؛ یہ منتخب اشعار پڑھئے اور میر کو ایک عاشق کو طور پر دیکھنے کا لطف لیجئے

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

میر تقی میر

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

میر تقی میر

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

میر تقی میر

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

میر تقی میر

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

میر تقی میر

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

تشریح

’’ناکام‘‘ اور ’’کام لیا‘‘ میں رعایت ظاہر ہے۔ پہلے مصرع میں ’’سلیقے‘‘ کا لفظ بہت خوب ہے، کیوں کہ اگر کسی کم کار آمد چیز سے کوئی اہم کام نکال لیا جائے تو کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو کام کرنے کا سلیقہ ہے‘‘۔ ’’کام لیا‘‘ بھی بہت خوب ہے، کیوں کہ یہ واضح نہیں کیا کہ ناکامی ہی کو کامیابی سمجھ لیا، اور اس طرح کام نکال لیا، یا ناکامیوں پر صبر کر لیا۔ محبت میں نبھنا بھی خالی ازلطف نہیں، کیونکہ یہاں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ معشوق سے نبھی، یا محض زندگی نبھی، یا اپنے آپ سے نبھی۔ بہت بلیغ شعر ہے۔ لہجے میں وقار بھی ہے اور ایک طرح کی چالاکی بھی۔ محمد حسن عسکری نے اس شعر کے بارے میں خوب لکھا ہے کہ ’’میر نفی میں اثبات ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے یہاں شکست تو مل جائے گی، لیکن شکست خوردگی نہیں۔ ان کی افسردگی ایک نئی تلاش کا بہانہ بنتی ہے۔‘‘

’’سلیقہ‘‘ کے معنی ’’عادت، سرشت‘‘ بھی ہیں۔ یہ معنی بھی یہاں مناسب ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں لفظ ’’سلیقہ‘‘ میر نے ایک اور شعر میں خوبی سے استعمال کیا ہے؎

تمنائے دل کے لئے جان دی

سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

(دیوان اوّل)

شمس الرحمن فاروقی

تشریح

’’ناکام‘‘ اور ’’کام لیا‘‘ میں رعایت ظاہر ہے۔ پہلے مصرع میں ’’سلیقے‘‘ کا لفظ بہت خوب ہے، کیوں کہ اگر کسی کم کار آمد چیز سے کوئی اہم کام نکال لیا جائے تو کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو کام کرنے کا سلیقہ ہے‘‘۔ ’’کام لیا‘‘ بھی بہت خوب ہے، کیوں کہ یہ واضح نہیں کیا کہ ناکامی ہی کو کامیابی سمجھ لیا، اور اس طرح کام نکال لیا، یا ناکامیوں پر صبر کر لیا۔ محبت میں نبھنا بھی خالی ازلطف نہیں، کیونکہ یہاں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ معشوق سے نبھی، یا محض زندگی نبھی، یا اپنے آپ سے نبھی۔ بہت بلیغ شعر ہے۔ لہجے میں وقار بھی ہے اور ایک طرح کی چالاکی بھی۔ محمد حسن عسکری نے اس شعر کے بارے میں خوب لکھا ہے کہ ’’میر نفی میں اثبات ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے یہاں شکست تو مل جائے گی، لیکن شکست خوردگی نہیں۔ ان کی افسردگی ایک نئی تلاش کا بہانہ بنتی ہے۔‘‘

’’سلیقہ‘‘ کے معنی ’’عادت، سرشت‘‘ بھی ہیں۔ یہ معنی بھی یہاں مناسب ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں لفظ ’’سلیقہ‘‘ میر نے ایک اور شعر میں خوبی سے استعمال کیا ہے؎

تمنائے دل کے لئے جان دی

سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

(دیوان اوّل)

شمس الرحمن فاروقی

میر تقی میر

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

میر تقی میر

عشق کرتے ہیں اس پری رو سے

میرؔ صاحب بھی کیا دوانے ہیں

میر تقی میر

ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن

مرض عشق کا علاج نہیں

میر تقی میر

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

میر تقی میر

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے

جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

میر تقی میر

میرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہو

کیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق

میر تقی میر

مصائب اور تھے پر دل کا جانا

عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

میر تقی میر

لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے

ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا

تشریح

میر کی عشقیہ شاعری کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں عاشق اپنی روایتی، مبالغہ آمیز صفات (جفا کشی، وحشت، آوارہ گردی، اشک بازی، خستگی، بدنامی، زخم خوردگی مقتولی، وغیرہ) کے ساتھ تو نظر آتا ہی ہے، لیکن جگہ جگہ و روزمرہ کی زندگی کا انسان نظر آتا ہے، یعنی ایسا انسان جو شاعری کے روایتی، خیالی عاشق کے بجائے کسی ناول کا جیتا جاگتا کردار معلوم ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ عاشق کی شخصیت، یا اس کے حالات، یا اس کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرنے کے لئے کوئی اور شخص شعر کے متکلم کا کام کرتا ہے۔ اس طرح افسانوی کردار نگاری کا سب سے اعلیٰ مرتبہ، یعنی ڈرامائی کردار نگاری، حاصل ہوتا ہے۔ اس خصوصیت میں میر کا کوئی حریف نہیں، یہ ایسی انفرادیت ہے جس کا شائبہ بھی دوسروں میں نہیں۔ شعرِ زیر بحث میں یہ خوبی پوری طرح نمایاں ہے۔ منظر نامہ مذکور نہیں، لیکن شعر میں تمام اشارے موجود ہیں۔ وہ شخص آپس میں باتیں کر رہے ہیں، عاشق تھکا ہارا سو رہا ہے۔ اچانک گفتگو کے دوران معشوق کا نام کسی کی زبان پر آتا ہے، اور عاشق چونک کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ اس چونکنے پر جو ردعمل ہے وہ بھی انتہائی واقفیت کا حامل ہے۔ گفتگو کرنے والے سمجھتے ہیں (یا شاید تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں) کہ عاشق نے کوئی پریشان کن خواب دیکھا ہے۔ دوسرے مصرعے میں مکالمے کی برجستگی قابل داد ہے۔ پھر معنوی اشارے دیکھئے۔ عاشق کی نیند کچی ہے، نیند میں بھی اسے معشوق کا خیال رہتا ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ معشوق کا نام خود میر کی زبان پر عالم خواب میں آیا ہو، اور نام لیتے ہی اس کی نیند ٹوٹ گئی ہو۔ ایسی صورت میں مکالمے کی ایک نئی صورت پیدا ہوتی ہے کہ شاعر خود کو ایک شخصِ غیر فرض کرتا ہے اور میر کوئی دوسرا شخص ہے۔

شمس الرحمن فاروقی

تشریح

میر کی عشقیہ شاعری کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں عاشق اپنی روایتی، مبالغہ آمیز صفات (جفا کشی، وحشت، آوارہ گردی، اشک بازی، خستگی، بدنامی، زخم خوردگی مقتولی، وغیرہ) کے ساتھ تو نظر آتا ہی ہے، لیکن جگہ جگہ و روزمرہ کی زندگی کا انسان نظر آتا ہے، یعنی ایسا انسان جو شاعری کے روایتی، خیالی عاشق کے بجائے کسی ناول کا جیتا جاگتا کردار معلوم ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ عاشق کی شخصیت، یا اس کے حالات، یا اس کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرنے کے لئے کوئی اور شخص شعر کے متکلم کا کام کرتا ہے۔ اس طرح افسانوی کردار نگاری کا سب سے اعلیٰ مرتبہ، یعنی ڈرامائی کردار نگاری، حاصل ہوتا ہے۔ اس خصوصیت میں میر کا کوئی حریف نہیں، یہ ایسی انفرادیت ہے جس کا شائبہ بھی دوسروں میں نہیں۔ شعرِ زیر بحث میں یہ خوبی پوری طرح نمایاں ہے۔ منظر نامہ مذکور نہیں، لیکن شعر میں تمام اشارے موجود ہیں۔ وہ شخص آپس میں باتیں کر رہے ہیں، عاشق تھکا ہارا سو رہا ہے۔ اچانک گفتگو کے دوران معشوق کا نام کسی کی زبان پر آتا ہے، اور عاشق چونک کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ اس چونکنے پر جو ردعمل ہے وہ بھی انتہائی واقفیت کا حامل ہے۔ گفتگو کرنے والے سمجھتے ہیں (یا شاید تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں) کہ عاشق نے کوئی پریشان کن خواب دیکھا ہے۔ دوسرے مصرعے میں مکالمے کی برجستگی قابل داد ہے۔ پھر معنوی اشارے دیکھئے۔ عاشق کی نیند کچی ہے، نیند میں بھی اسے معشوق کا خیال رہتا ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ معشوق کا نام خود میر کی زبان پر عالم خواب میں آیا ہو، اور نام لیتے ہی اس کی نیند ٹوٹ گئی ہو۔ ایسی صورت میں مکالمے کی ایک نئی صورت پیدا ہوتی ہے کہ شاعر خود کو ایک شخصِ غیر فرض کرتا ہے اور میر کوئی دوسرا شخص ہے۔

شمس الرحمن فاروقی

میر تقی میر

عشق کا گھر ہے میرؔ سے آباد

ایسے پھر خانماں خراب کہاں

میر تقی میر

ہم طور‌ عشق سے تو واقف نہیں ہیں لیکن

سینے میں جیسے کوئی دل کو ملا کرے ہے

میر تقی میر

زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیسا

سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا

میر تقی میر

سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی

جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا

میر تقی میر

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

میر تقی میر

رہا تھا دیکھ اودھر میر چلتے

عجب اک ناامیدی تھی نظر میں

میر تقی میر

کہنا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منہ

کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا

میر تقی میر

جیسے بجلی کے چمکنے سے کسو کی سدھ جائے

بے خودی آئی اچانک ترے آ جانے سے

میر تقی میر

کیا جانئے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ

چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے

میر تقی میر

گر اس کے اور کوئی گرمی سے دیکھتا ہے

اک آگ لگ اٹھے ہے اپنے تو تن بدن میں

میر تقی میر

کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب

شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

تشریح

شعلے کا پرپیچ و تاب ہونا آگ کی تیزی کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو بھی کہ پروانے کے دل میں اس قدر گرمی تھی کہ اس کے جل اٹھنے پر جو شعلہ اٹھا وہ بھی بے چین اور بےقرار تھا۔ ’’پیچ و تاب‘‘ کا لفظ پروانے کے دل میں جذبات کے تلاطم کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ (پیچ و تاب کھانا‘‘ یعنی بے قرار ہونا، انگاروں پر لوٹنا۔‘‘) اگر شمع اور پروانہ کو معشوق اور عاشق کا استعارہ فرض کیا جائے تو مراد یہ ہوئی کہ معشوق کا سامنا ہوتے ہی عاشق کی ہستی مٹ کر صرف ایک شعلۂ جوالہ بن گئی۔ خوب شعر کہا ہے۔ بیان کا ڈرامائی انداز بھی بہت خوب ہے، کئی باتیں ان کہی چھوڑ دی ہیں (مثلاً منظر کا صرف ایک حصہ بیان کیا ہے، یا یہ ظاہر نہیں کیا کہ پروانہ شمع کے شعلے سے جل اٹھایا صرف نزدیک پہنچنے پر اس کا یہ حال ہوا۔) بیان کے اختصار نے شدت پیدا کردی ہے، یہاں تک کہ یہ بھی ظاہر نہیں کیا کہ پروانہ شمع کی طرف کیوں گیا تھا۔ جب کہ غالب نے بات واضح کردی ہے؎

کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ

کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہوگئے

شعرکا ڈرامائی لہجہ اس وجہ سے کچھ مزید پر اثر ہوگیا کہ جو واقعہ بعد میں پیش آیا (پروانے کا جل اٹھنا) اسے پہلے بیان کیا ہے، اور جو واقعہ پہلے پیش آیا (پروانے کا شمع کی طرف جانا) اسے بعد میں رکھا ہے۔ واقعے کو بیان کرنے کا انداز بھی میر کا اپنا ہے، گویا دو شخص آپس میں تبصرہ کر رہے ہوں، یا کوئی عینی شاہد کسی تیسرے شخص کو واقعے کی روداد سنا رہا ہو۔

قائم چاند پوری نے میر کا مضمون براہ راست باندھا ہے، لیکن وہ میر کے مصرع اولیٰ کا جواب نہ لاسکے۔ میر کے یہاں پیکر بہت متحرک اور بصری ہے، اور اسلوب بہت ڈرامائی۔ اس ڈرامائیت کو دوسرے مصرعے سے اور تقویت ملی ہے، مصرع ثانی میں لفظ ’’تو‘‘ انتہائی قوت رکھتا ہے۔ قائم نے مصرع اولیٰ میں یہ لفظ رکھا ہے، اور اس سے فائدہ اٹھایا ہے، لیکن ان کا شعر پیکر سے محروم ہے؎

شمع تک جاتے تو دیکھا تھا ہم اس کو قائم

پھر نہ معلوم ہوئی کچھ خبر پروانہ

سید محمد خان رند نے بھی اس مضمون کو نبھانے کی کوشش کی ہے؎

اور میں راز نیاز عشق سے واقف نہیں

یہ تو دیکھا ہے سرپروانہ تھا اور پائے شمع

رند کا دوسرا مصرع عمدہ ہے۔ لیکن مصرعے میں تصنع آ گیا ہے، اس لئے ان کا شعر قائم سے بھی کمتر رہ گیا۔ دوسرے مصرعے کا ڈرامائی اور مبہم انداز بہرحال بہت خوب ہے۔

شمس الرحمن فاروقی

تشریح

شعلے کا پرپیچ و تاب ہونا آگ کی تیزی کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو بھی کہ پروانے کے دل میں اس قدر گرمی تھی کہ اس کے جل اٹھنے پر جو شعلہ اٹھا وہ بھی بے چین اور بےقرار تھا۔ ’’پیچ و تاب‘‘ کا لفظ پروانے کے دل میں جذبات کے تلاطم کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ (پیچ و تاب کھانا‘‘ یعنی بے قرار ہونا، انگاروں پر لوٹنا۔‘‘) اگر شمع اور پروانہ کو معشوق اور عاشق کا استعارہ فرض کیا جائے تو مراد یہ ہوئی کہ معشوق کا سامنا ہوتے ہی عاشق کی ہستی مٹ کر صرف ایک شعلۂ جوالہ بن گئی۔ خوب شعر کہا ہے۔ بیان کا ڈرامائی انداز بھی بہت خوب ہے، کئی باتیں ان کہی چھوڑ دی ہیں (مثلاً منظر کا صرف ایک حصہ بیان کیا ہے، یا یہ ظاہر نہیں کیا کہ پروانہ شمع کے شعلے سے جل اٹھایا صرف نزدیک پہنچنے پر اس کا یہ حال ہوا۔) بیان کے اختصار نے شدت پیدا کردی ہے، یہاں تک کہ یہ بھی ظاہر نہیں کیا کہ پروانہ شمع کی طرف کیوں گیا تھا۔ جب کہ غالب نے بات واضح کردی ہے؎

کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ

کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہوگئے

شعرکا ڈرامائی لہجہ اس وجہ سے کچھ مزید پر اثر ہوگیا کہ جو واقعہ بعد میں پیش آیا (پروانے کا جل اٹھنا) اسے پہلے بیان کیا ہے، اور جو واقعہ پہلے پیش آیا (پروانے کا شمع کی طرف جانا) اسے بعد میں رکھا ہے۔ واقعے کو بیان کرنے کا انداز بھی میر کا اپنا ہے، گویا دو شخص آپس میں تبصرہ کر رہے ہوں، یا کوئی عینی شاہد کسی تیسرے شخص کو واقعے کی روداد سنا رہا ہو۔

قائم چاند پوری نے میر کا مضمون براہ راست باندھا ہے، لیکن وہ میر کے مصرع اولیٰ کا جواب نہ لاسکے۔ میر کے یہاں پیکر بہت متحرک اور بصری ہے، اور اسلوب بہت ڈرامائی۔ اس ڈرامائیت کو دوسرے مصرعے سے اور تقویت ملی ہے، مصرع ثانی میں لفظ ’’تو‘‘ انتہائی قوت رکھتا ہے۔ قائم نے مصرع اولیٰ میں یہ لفظ رکھا ہے، اور اس سے فائدہ اٹھایا ہے، لیکن ان کا شعر پیکر سے محروم ہے؎

شمع تک جاتے تو دیکھا تھا ہم اس کو قائم

پھر نہ معلوم ہوئی کچھ خبر پروانہ

سید محمد خان رند نے بھی اس مضمون کو نبھانے کی کوشش کی ہے؎

اور میں راز نیاز عشق سے واقف نہیں

یہ تو دیکھا ہے سرپروانہ تھا اور پائے شمع

رند کا دوسرا مصرع عمدہ ہے۔ لیکن مصرعے میں تصنع آ گیا ہے، اس لئے ان کا شعر قائم سے بھی کمتر رہ گیا۔ دوسرے مصرعے کا ڈرامائی اور مبہم انداز بہرحال بہت خوب ہے۔

شمس الرحمن فاروقی

میر تقی میر

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے