ارشد علی خان قلق کے 10 منتخب شعر

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ممتاز درباری ،آفتاب الدولہ شمس جنگ کے خطاب سے سرفرازشاعر

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

اپنے بیگانے سے اب مجھ کو شکایت نہ رہی

دشمنی کر کے مرے دوست نے مارا مجھ کو

ارشد علی خان قلق

آخر انسان ہوں پتھر کا تو رکھتا نہیں دل

اے بتو اتنا ستاؤ نہ خدارا مجھ کو

ارشد علی خان قلق

کریں گے ہم سے وہ کیوں کر نباہ دیکھتے ہیں

ہم ان کی تھوڑے دنوں اور چاہ دیکھتے ہیں

ارشد علی خان قلق

دست جنوں نے پھاڑ کے پھینکا ادھر ادھر

دامن ابد میں ہے تو گریباں ازل میں ہے

ارشد علی خان قلق

منزل ہے اپنی اپنی قلقؔ اپنی اپنی گور

کوئی نہیں شریک کسی کے گناہ میں

ارشد علی خان قلق

سندور اس کی مانگ میں دیتا ہے یوں بہار

جیسے دھنک نکلتی ہے ابر سیاہ میں

ارشد علی خان قلق

ستم وہ تم نے کیے بھولے ہم گلہ دل کا

ہوا تمہارے بگڑنے سے فیصلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

خوش قدوں سے کبھی عالم نہ رہے گا خالی

اس چمن سے جو گیا سرو تو شمشاد آیا

ارشد علی خان قلق

کھلنے سے ایک جسم کے سو عیب ڈھک گئے

عریاں تنی بھی جوش جنوں میں لباس ہے

ارشد علی خان قلق