عزیز حامد مدنی کے 10 منتخب شعر

نئی اردو شاعری کی ممتاز شخصیت، ان کی کئی غزلیں گائی گئی ہیں

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی

خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا

خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ

عزیز حامد مدنی

میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

عزیز حامد مدنی

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

عزیز حامد مدنی

خدا کا شکر ہے تو نے بھی مان لی مری بات

رفو پرانے دکھوں پر نہیں کیا جاتا

عزیز حامد مدنی

کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے

تم سے تو کسی بات کا پردا بھی نہیں تھا

عزیز حامد مدنی

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے

گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے

عزیز حامد مدنی

بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں

دور دور سے آنے والے رستے کہیں کہیں ملتے ہیں

عزیز حامد مدنی

دلوں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے کہ نہیں

یہ آدمی کی خدائی کا وقت ہے کہ نہیں

عزیز حامد مدنی

شہر جن کے نام سے زندہ تھا وہ سب اٹھ گئے

اک اشارے سے طلب کرتا ہے ویرانہ مجھے

عزیز حامد مدنی