اقبال ساجد کے 10 منتخب شعر

مقبول عوامی پاکستانی شاعر ، کم عمری میں وفات

وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

کردار خود ابھر کے کہانی میں آئے گا

اقبال ساجد

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

اقبال ساجد

اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی

جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی

اقبال ساجد

پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر

مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے

اقبال ساجد

میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر

آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

اقبال ساجد

ہوتے ہی شام جلنے لگا یاد کا الاؤ

آنسو سنانے دکھ کی کہانی نکل پڑے

اقبال ساجد

میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا

اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

اقبال ساجد

موم کی سیڑھی پہ چڑھ کر چھو رہے تھے آفتاب

پھول سے چہروں کو یہ کوشش بہت مہنگی پڑی

اقبال ساجد

ساجدؔ تو پھر سے خانۂ دل میں تلاش کر

ممکن ہے کوئی یاد پرانی نکل پڑے

اقبال ساجد

بڑھ گیا ہے اس قدر اب سرخ رو ہونے کا شوق

لوگ اپنے خون سے جسموں کو تر کرنے لگے

اقبال ساجد