ساغر صدیقی کے 10 منتخب شعر

اردو اور پنجابی شاعر

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ

زندگی کی کوئی کڑی ہوگی

ساغر صدیقی

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

اے دل بے قرار چپ ہو جا

جا چکی ہے بہار چپ ہو جا

ساغر صدیقی

اب کہاں ایسی طبیعت والے

چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے

ساغر صدیقی

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

ساغر صدیقی

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

ساغر صدیقی

اب اپنی حقیقت بھی ساغرؔ بے ربط کہانی لگتی ہے

دنیا کی حقیقت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

ساغر صدیقی

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں

اک ہوش کی ساعت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

ساغر صدیقی

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں

ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں

ساغر صدیقی