ضبط انصاری کے اشعار
علاج دل کے لئے اور اب کہاں جائیں
تمہارے شہر میں سب کچھ ملا دوا کے سوا
بہت سے غم تو دیے ضبطؔ ایسے لوگوں نے
کہ جن سے کوئی توقع نہ تھی وفا کے سوا
تھے میری راہ میں لاکھوں بتان نخوت و ناز
کہیں بھی سر نہ جھکا تیرے نقش پا کے سوا
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere