اثر صہبائی کے اشعار
تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوے
تمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوے
یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کا
گویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا
تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا
میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں
-
موضوع : جوانی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جس حسن کی ہے چشم تمنا کو جستجو
وہ آفتاب میں ہے نہ ہے ماہتاب میں
الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں
نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ساری دنیا سے بے نیازی ہے
واہ اے مست ناز کیا کہنا
آہ کیا کیا آرزوئیں نذر حرماں ہو گئیں
روئیے کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجئے
سجدہ کے داغ سے نہ ہوئی آشنا جبیں
بیگانہ وار گزرے ہر اک آستاں سے ہم
جہاں پہ چھایا سحاب مستی برس رہی ہے شراب مستی
غضب ہے رنگ شباب مستی کہ رند و زاہد بہک رہے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں گردابوں میں گھوموں گا میں طوفانوں سے کھیلوں گا
لب دریا مجھے ڈر ڈر کے مر جانا نہیں آتا
اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر
میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا
صحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ
اڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا
دو عالم کو ابد تک اپنی خوشبو سے بساؤں گا
مجھے ٹہنی پہ مرجھا کر بکھر جانا نہیں آتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ