Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Asar Sahbai's Photo'

اثر صہبائی

1901 - 1963 | سیالکوٹ, پاکستان

معروف شاعر، رومان اور سماجی شعورکی حامل نظمیں، غزلیں اور رباعیاں کہیں

معروف شاعر، رومان اور سماجی شعورکی حامل نظمیں، غزلیں اور رباعیاں کہیں

اثر صہبائی کے اشعار

993
Favorite

باعتبار

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوے

تمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوے

یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کا

گویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا

تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا

میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں

جس حسن کی ہے چشم تمنا کو جستجو

وہ آفتاب میں ہے نہ ہے ماہتاب میں

الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں

نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں

ساری دنیا سے بے نیازی ہے

واہ اے مست ناز کیا کہنا

آہ کیا کیا آرزوئیں نذر حرماں ہو گئیں

روئیے کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجئے

سجدہ کے داغ سے نہ ہوئی آشنا جبیں

بیگانہ وار گزرے ہر اک آستاں سے ہم

جہاں پہ چھایا سحاب مستی برس رہی ہے شراب مستی

غضب ہے رنگ شباب مستی کہ رند و زاہد بہک رہے ہیں

میں گردابوں میں گھوموں گا میں طوفانوں سے کھیلوں گا

لب دریا مجھے ڈر ڈر کے مر جانا نہیں آتا

اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر

میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا

صحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ

اڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا

دو عالم کو ابد تک اپنی خوشبو سے بساؤں گا

مجھے ٹہنی پہ مرجھا کر بکھر جانا نہیں آتا

Recitation

بولیے