- کتاب فہرست 180360
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
اشفاق شاہین کے اشعار
اشفاق شاہیناتنی زمیں ہی چاہیے بس مجھ کو گاؤں میں
جا کر پڑا رہوں میں جہاں ماں کے پاؤں میں
اشفاق شاہینہم ترے ہجر میں یوں زرد ہوئے جاتے ہیں
لوگ تکتے ہیں تو ہمدرد ہوئے جاتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اشفاق شاہینآتی کب ہے روز بلانا پڑتی ہے
نیند کی خاطر گولی کھانا پڑتی ہے
اشفاق شاہیناکیلا آ رہا ہے یا انہیں بھی ساتھ لاتا ہے
ذرا پوچھو خبر تو لو دسمبر کیا بتاتا ہے
اشفاق شاہینارادے گرچہ لہروں کے بڑے صدمات والے ہیں
یہ دریا کو بتا دینا کہ ہم گجرات والے ہیں
اشفاق شاہینمیں ادھ مرا گلاب سر شاخ نیم جاں
ہاتھوں سے تو نے مجھ کو سنوارا تو میں گیا
اشفاق شاہینمیں کچی روشنائی سے بنے اک شہر جیسا ہوں
کسی کا اشک کافی ہے مجھے مسمار کرنے کو
اشفاق شاہینعرصہ ہوا ہے ان سے ملاقات ہی نہیں
گجرات لگ رہا ہے کہ گجرات ہی نہیں
اشفاق شاہینکسی کرب مسلسل کے کھلے اظہار جیسے ہیں
یہاں لوگوں کے چہرے بھی کسی اخبار جیسے ہیں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
