Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ashfaq Shaheen's Photo'

اشفاق شاہین

1968 | گجرات, پاکستان

اشفاق شاہین کے اشعار

46
Favorite

باعتبار

اتنی زمیں ہی چاہیے بس مجھ کو گاؤں میں

جا کر پڑا رہوں میں جہاں ماں کے پاؤں میں

ہم ترے ہجر میں یوں زرد ہوئے جاتے ہیں

لوگ تکتے ہیں تو ہمدرد ہوئے جاتے ہیں

آتی کب ہے روز بلانا پڑتی ہے

نیند کی خاطر گولی کھانا پڑتی ہے

اکیلا آ رہا ہے یا انہیں بھی ساتھ لاتا ہے

ذرا پوچھو خبر تو لو دسمبر کیا بتاتا ہے

ارادے گرچہ لہروں کے بڑے صدمات والے ہیں

یہ دریا کو بتا دینا کہ ہم گجرات والے ہیں

صبح نو کے واسطے بے کار ہوں

میں گزشتہ روز کا اخبار ہوں

میں ادھ مرا گلاب سر شاخ نیم جاں

ہاتھوں سے تو نے مجھ کو سنوارا تو میں گیا

میں کچی روشنائی سے بنے اک شہر جیسا ہوں

کسی کا اشک کافی ہے مجھے مسمار کرنے کو

عرصہ ہوا ہے ان سے ملاقات ہی نہیں

گجرات لگ رہا ہے کہ گجرات ہی نہیں

کسی کرب مسلسل کے کھلے اظہار جیسے ہیں

یہاں لوگوں کے چہرے بھی کسی اخبار جیسے ہیں

Recitation

بولیے