- کتاب فہرست 179884
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح614 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
اشفاق شاہین کے اشعار
اشفاق شاہیناتنی زمیں ہی چاہیے بس مجھ کو گاؤں میں
جا کر پڑا رہوں میں جہاں ماں کے پاؤں میں
اشفاق شاہینہم ترے ہجر میں یوں زرد ہوئے جاتے ہیں
لوگ تکتے ہیں تو ہمدرد ہوئے جاتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اشفاق شاہینآتی کب ہے روز بلانا پڑتی ہے
نیند کی خاطر گولی کھانا پڑتی ہے
اشفاق شاہیناکیلا آ رہا ہے یا انہیں بھی ساتھ لاتا ہے
ذرا پوچھو خبر تو لو دسمبر کیا بتاتا ہے
اشفاق شاہینارادے گرچہ لہروں کے بڑے صدمات والے ہیں
یہ دریا کو بتا دینا کہ ہم گجرات والے ہیں
اشفاق شاہینمیں ادھ مرا گلاب سر شاخ نیم جاں
ہاتھوں سے تو نے مجھ کو سنوارا تو میں گیا
اشفاق شاہینمیں کچی روشنائی سے بنے اک شہر جیسا ہوں
کسی کا اشک کافی ہے مجھے مسمار کرنے کو
اشفاق شاہینعرصہ ہوا ہے ان سے ملاقات ہی نہیں
گجرات لگ رہا ہے کہ گجرات ہی نہیں
اشفاق شاہینکسی کرب مسلسل کے کھلے اظہار جیسے ہیں
یہاں لوگوں کے چہرے بھی کسی اخبار جیسے ہیں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
