- کتاب فہرست 181556
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اشفاق شاہین کے اشعار
اشفاق شاہیناتنی زمیں ہی چاہیے بس مجھ کو گاؤں میں
جا کر پڑا رہوں میں جہاں ماں کے پاؤں میں
اشفاق شاہینہم ترے ہجر میں یوں زرد ہوئے جاتے ہیں
لوگ تکتے ہیں تو ہمدرد ہوئے جاتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اشفاق شاہینآتی کب ہے روز بلانا پڑتی ہے
نیند کی خاطر گولی کھانا پڑتی ہے
اشفاق شاہیناکیلا آ رہا ہے یا انہیں بھی ساتھ لاتا ہے
ذرا پوچھو خبر تو لو دسمبر کیا بتاتا ہے
اشفاق شاہینارادے گرچہ لہروں کے بڑے صدمات والے ہیں
یہ دریا کو بتا دینا کہ ہم گجرات والے ہیں
اشفاق شاہینمیں ادھ مرا گلاب سر شاخ نیم جاں
ہاتھوں سے تو نے مجھ کو سنوارا تو میں گیا
اشفاق شاہینمیں کچی روشنائی سے بنے اک شہر جیسا ہوں
کسی کا اشک کافی ہے مجھے مسمار کرنے کو
اشفاق شاہینعرصہ ہوا ہے ان سے ملاقات ہی نہیں
گجرات لگ رہا ہے کہ گجرات ہی نہیں
اشفاق شاہینکسی کرب مسلسل کے کھلے اظہار جیسے ہیں
یہاں لوگوں کے چہرے بھی کسی اخبار جیسے ہیں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
