- کتاب فہرست 180334
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
دیوندر اسر کے افسانے
مردہ گھر
مذہب کے نام پر ہونے والے قتل و غارت کو بنیاد بنا کر لکھی گئی یہ کہانی ایک لاش کے ذریعے انسانی فطرت کو بیان کرتی ہے۔ مردہ گھر میں ابھی ابھی کچھ لاشیں آئی ہیں۔ انہیں لاشوں میں وہ لاش بھی ہے۔ وہ لاش مردہ گھر کے پس منظر کو دیکھتی ہے اور آپ بیتی سنانے لگتی ہے۔ اس آپ بیتی میں وہ ان حادثات کا بھی ذکر کرتی ہے، جن میں دنیا کے ہزاروں لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور ان کی لاشوں کو سڑنے کے لیے لاوارث چھوڑ دیا گیا۔
بجلی کا کھمبا
چند روز ہوئے، ہوٹل کے مالک نے ایک شام مجھ سے کہا، ’’ہمیں جینیس نہیں چاہئے مسٹر اور تم تو سوپرجینیس ٹھہرے۔ شاعر اور کہانی کار۔ ہمیں تو وہ آدمی چاہئے جو مشین کی طرح تیز رفتاری سے کیلکولیٹر پر روپے پیسے کے بل بناسکے۔‘‘ پھر وہ مسکرایا، ’’اور تم ہینڈل پر
ریت اور سمندر
’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جسے نینیتال ٹور کے دوران ایک ساتھی پریش مل جاتا ہے۔ وہ اس کا روم میٹ ہے۔ پریش کو دنیا کی خوبصورتی میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ کمرے میں پڑا ہر وقت کتابوں میں غرق رہتا ہے۔ ایک شام جب اس کا ساتھی کلب سے لوٹا تو نندنی بھی اس کے ساتھ تھی۔ نندنی ایک چلبلی اور زندگی کی رنگینیوں سے لبریز لڑکی تھی۔ جب وہ پریش سے ملی تو اس کے سبھی خیالات یکبارگی بدل گئے اور وہ زندگی کی رنگینیوں کو چھوڑ کر اس کی تلاش میں نکل پڑی۔‘‘
کالے گلاب کی صلیب
سلویا کے کمرے میں جاتے ہوئے مجھے عجیب سی دہشت محسوس ہونے لگی۔ سلویا کو پہلی بار میں نے ایک پارٹی میں دیکھاتھا۔ پیلے پھولوں والی اسکرٹ اور سرخ بلاؤز میں وہ کتنی شوخ نظر آرہی تھی۔ ایک میز سے دوسری میز تک وہ خوشبو کی طرح تیر رہی تھی۔ عسرت کی لہروں پر
سیاہ تل
دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ باہر وہ کھڑا تھا، اسے میں نہیں جانتا تھا۔ ’’پہچانا مجھے۔۔۔‘‘ اس نے سوال کیا۔ ’’نہیں شاید!‘‘ مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ کون ہے، اسے کہاں دیکھا تھا۔ شاید اسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا
تین خاموش چیزیں اور ایک زرد پھول
’’سماوار میں اور کوئلے ڈال دوں۔‘‘ بوڑھے سرائے والے نے پوچھا۔ ہم نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ’’اس برس خوب سردی پڑے گی۔‘‘ ’’ہاں کچھ آثار تو ایسے ہیں، دسمبر کے دوسرے ہفتہ ہی میں برف گرنی شروع ہوگئی۔‘‘ ’’پچھلے سال تو کرسمس پر پہلے روز برف پڑی تھی۔‘‘ ’’تم
روح کا ایک لمحہ اور سولی پر پانچ برس
اوورکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور کالر اٹھائے میں پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔ میری جیب میں خط پڑا تھا، جسے بار بار میں انگلیوں سے چھو رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا کہ انگلیاں ایک ایک لفظ کو پڑھ رہی ہیں۔ ۲۲کو فرنٹیئر سے آرہی ہوں۔۔۔ نشی۔ آج دسمبر کی ۲۲تاریخ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
