- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4299 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6600افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
دیوندر اسر کے افسانے
مردہ گھر
مذہب کے نام پر ہونے والے قتل و غارت کو بنیاد بنا کر لکھی گئی یہ کہانی ایک لاش کے ذریعے انسانی فطرت کو بیان کرتی ہے۔ مردہ گھر میں ابھی ابھی کچھ لاشیں آئی ہیں۔ انہیں لاشوں میں وہ لاش بھی ہے۔ وہ لاش مردہ گھر کے پس منظر کو دیکھتی ہے اور آپ بیتی سنانے لگتی ہے۔ اس آپ بیتی میں وہ ان حادثات کا بھی ذکر کرتی ہے، جن میں دنیا کے ہزاروں لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور ان کی لاشوں کو سڑنے کے لیے لاوارث چھوڑ دیا گیا۔
بجلی کا کھمبا
چند روز ہوئے، ہوٹل کے مالک نے ایک شام مجھ سے کہا، ’’ہمیں جینیس نہیں چاہئے مسٹر اور تم تو سوپرجینیس ٹھہرے۔ شاعر اور کہانی کار۔ ہمیں تو وہ آدمی چاہئے جو مشین کی طرح تیز رفتاری سے کیلکولیٹر پر روپے پیسے کے بل بناسکے۔‘‘ پھر وہ مسکرایا، ’’اور تم ہینڈل پر
ریت اور سمندر
’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جسے نینیتال ٹور کے دوران ایک ساتھی پریش مل جاتا ہے۔ وہ اس کا روم میٹ ہے۔ پریش کو دنیا کی خوبصورتی میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ کمرے میں پڑا ہر وقت کتابوں میں غرق رہتا ہے۔ ایک شام جب اس کا ساتھی کلب سے لوٹا تو نندنی بھی اس کے ساتھ تھی۔ نندنی ایک چلبلی اور زندگی کی رنگینیوں سے لبریز لڑکی تھی۔ جب وہ پریش سے ملی تو اس کے سبھی خیالات یکبارگی بدل گئے اور وہ زندگی کی رنگینیوں کو چھوڑ کر اس کی تلاش میں نکل پڑی۔‘‘
کالے گلاب کی صلیب
سلویا کے کمرے میں جاتے ہوئے مجھے عجیب سی دہشت محسوس ہونے لگی۔ سلویا کو پہلی بار میں نے ایک پارٹی میں دیکھاتھا۔ پیلے پھولوں والی اسکرٹ اور سرخ بلاؤز میں وہ کتنی شوخ نظر آرہی تھی۔ ایک میز سے دوسری میز تک وہ خوشبو کی طرح تیر رہی تھی۔ عسرت کی لہروں پر
سیاہ تل
دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ باہر وہ کھڑا تھا، اسے میں نہیں جانتا تھا۔ ’’پہچانا مجھے۔۔۔‘‘ اس نے سوال کیا۔ ’’نہیں شاید!‘‘ مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ کون ہے، اسے کہاں دیکھا تھا۔ شاید اسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا
تین خاموش چیزیں اور ایک زرد پھول
’’سماوار میں اور کوئلے ڈال دوں۔‘‘ بوڑھے سرائے والے نے پوچھا۔ ہم نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ’’اس برس خوب سردی پڑے گی۔‘‘ ’’ہاں کچھ آثار تو ایسے ہیں، دسمبر کے دوسرے ہفتہ ہی میں برف گرنی شروع ہوگئی۔‘‘ ’’پچھلے سال تو کرسمس پر پہلے روز برف پڑی تھی۔‘‘ ’’تم
روح کا ایک لمحہ اور سولی پر پانچ برس
اوورکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور کالر اٹھائے میں پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔ میری جیب میں خط پڑا تھا، جسے بار بار میں انگلیوں سے چھو رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا کہ انگلیاں ایک ایک لفظ کو پڑھ رہی ہیں۔ ۲۲کو فرنٹیئر سے آرہی ہوں۔۔۔ نشی۔ آج دسمبر کی ۲۲تاریخ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
