Ghulam Murtaza Rahi's Photo'

غلام مرتضی راہی

1937 | فتح پور, ہندوستان

غزل 34

اشعار 48

اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں

مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے

چلے تھے جس کی طرف وہ نشان ختم ہوا

سفر ادھورا رہا آسمان ختم ہوا

  • شیئر کیجیے

کوئی اک ذائقہ نہیں ملتا

غم میں شامل خوشی سی رہتی ہے

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 23

الکلام

 

2000

حرف مکرر

 

1997

کلیات راہی

 

2012

لا مکان

 

1937

لا مکان

 

 

لا مکاں

 

 

لاریب

 

1973

لاریب

 

1973

لا شعور

 

2006

راہی کی سرگزشت

 

2009