noImage

کیفی وجدانی

1932 | بریلی, ہندوستان

معروف شاعر/ ممتاز مابعد جدید شاعر شارق کیفی کے والد

معروف شاعر/ ممتاز مابعد جدید شاعر شارق کیفی کے والد

35
Favorite

باعتبار

تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتا

میں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتا

بچا لیا تری خوشبو کے فرق نے ورنہ

میں تیرے وہم میں تجھ سے لپٹنے والا تھا

بستی میں غریبوں کی جہاں آگ لگی تھی

سنتے ہیں وہاں ایک نیا شہر بسے گا

میرے رستے میں جو رونق تھی میرے فن کی تھی

میرے گھر میں جو اندھیرا تھا میرا اپنا تھا

صرف دروازے تلک جا کے ہی لوٹ آیا ہوں

ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کا سفر کر آیا

زمیں کے زخم سمندر تو بھر نہ پائے گا

یہ کام دیدۂ تر تجھ کو سونپنا ہوگا

خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوں

جب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوں