Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohammad Iftikhar Shafi's Photo'

محمد افتخار شفیع

1973 | پاکستان

محمد افتخار شفیع کے اشعار

635
Favorite

باعتبار

سنا ہے ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ دنیا میں

کہ جن سے ملیے تو تنہائی ختم ہوتی ہے

ہجرت کی گھڑی ہم نے ترے خط کے علاوہ

بوسیدہ کتابوں کو بھی سامان میں رکھا

تھا کوئی وہاں جو ہے یہاں بھی ہے وہاں بھی

جو ہوں میں یہاں ہوں میں وہاں کوئی نہیں تھا

ہجرت کی گھڑی ہم نے ترے خط کے علاوہ

بوسیدہ کتابوں کو بھی سامان میں رکھا

بانسری بج رہی تھی دور کہیں

رات کس درجہ یاد آئے تم

بجھتے ہوئے دیے کو بچا تو لیا مگر

دیکھی گئی نہ ہم سے ہوا کی شکست بھی

اپنی باتوں کا جائزہ بھی لے

میرا لہجہ ہے کیوں کرخت نہ پوچھ

آؤ نکلیں شام کی ٹھنڈی سڑک پر افتخارؔ

زندگی سے کچھ تو اپنا رابطہ رہ جائے گا

روز کہتا ہوں کہ دیوار کو اونچا کر لیں

میرا ہمسایہ مری بات سمجھتا ہی نہیں

مجھے پکار کے دیکھو انہی اندھیروں سے

میں اپنے عہد کا روشن خیال آدمی ہوں

نہ جانے کون سی رت کی سفیر تھی وہ ہوا

درخت رو دئے جس کو سلام کرتے ہوئے

کمال اے دم وحشت کمال ہو گیا ہے

ہمارا خود سے تعلق بحال ہو گیا ہے

میں نکل آتا ہوں بازار کے سناٹے میں

گھر میں تو خوف کا احساس نہیں رہتا ہے

کچھ پیڑ بہت دیر سے خاموش کھڑے ہیں

بستی میں مسافر نہ مکاں کچھ بھی نہیں ہے

اک یاد شب رفتہ کے مرقد پہ چڑھی یاد

ورنہ یہ چراغوں کا دھواں کچھ بھی نہیں ہے

اسی زندگی میں پلٹ کے آنا ہے ایک دن

سو میں کوئی سانس ادھر ادھر نہیں کر رہا

حصار ریگ میں برسوں جلا تھا میرا وجود

سو ایک دشت مرا ہم خیال ہو گیا ہے

ذرا سی دیر کو مدھم ہوئی چراغ کی لو

پھر اس کے بعد کا منظر مجھے نہیں معلوم

قصہ گو تو نے فراموش کیا ہے ورنہ

اس کہانی میں ترے ساتھ کہیں تھے ہم بھی

مجھ کو یہ علم تھا کہ وہ منظر نہیں رہے

میں پھر بھی ساہیوال بڑی دیر تک رہا

بارش کی ایک بوند کا گرنا تھا اور پھر

موسم میں اعتدال بڑی دیر تک رہا

Recitation

بولیے